مصنف کی تحاریر : طاہرہ کاظمی

میں نے اپنی ماں کو قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھا!

امی بہت شاندار عورت تھیں، زندگی کی حرارت سے بھرپور، بہت شوقین مزاج۔ انھوں نے زندگی کو بھرپور جیا اور کیا خوب جیا۔ اور میں نے ایسی خوب صورت شخصیت کو قطرہ قطرہ پگھل کر تحلیل ہوتے دیکھا، ان کی طبعی موت تو جنوری میں ہوئی مگر اصل میں وہ ...

مزید پڑھیں »

بھوک کے راستے حملہ کرتی محبت

کیا تم پہچانتے ہو رات کے آخری پہر عورت کے چہرے کی تھکن کو شطرنج کے آخری پیادے کی خوشی کو جب وہ دشمن کے پہلے خانے پہ قابض ہو جاتا ہے کیا تم نے کبھی سنی ہے حوصلے کی ٹوٹتی کڑیوں کی کراہ جس کے بعد دھڑکنیں زنجیر میں ...

مزید پڑھیں »

سائیں کمال خان شیرانی

باوجود اس کے کہ سائیں کمال خان شیرانی پختونخوا ملی پارٹی کا بنیاد گزار تھا اور میں ایک ٹھیٹ پنجابی۔ مجھے پختونستان سے کوئی ہمدردی ہے نہ دلچسپی۔۔۔ باوجود اس کے کہ وہ ایک سوشلسٹ تھا اور میں پکی عقیدے والی۔مجھے کارل مارکس کی بہت سی باتیں پسند ہیں لیکن ...

مزید پڑھیں »

حیات بلوچ

پیری میں لُٹ گئی عمر بھر کی کمائی خاک میں مل گئیں اُمیدیں لہو ہو کر وہ علم کا سودا ئی تھا خواب تھے آ نکھوں میں بھروسہ تھا قوت بازو پر آ خری لمحوں تک درانتی ہاتھوں میں تھی اپنی محنت پر ناز تھا جس کو وہ شہر یار ...

مزید پڑھیں »

فیصل آباد کی تاریخ اور ادبی پس منظر

"ساندل بار "پنجاب کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی سی حیثیت رکھتا ہے اس کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی پنجاب کی ،قیام پاکستان سے پہلے دوسرے شہروں کی نسبت فیصل آباد کا خطہ کچھ زیادہ ہی بنجر اور ویران کہلاتا تھا ۔۔یہ علاقہ ” ساندل بار ...

مزید پڑھیں »

ریکھاؤں سے باہر

"اچھا تو کیا دنیا سچ مچ بالکل خالی ہوجائے گی؟ کیا یہ ہنستے چہروں والے لوگ بھی باقی نہیں رہیں گے؟ اور کیا میں بھی!! ۔۔۔ دھول اڑاتے دن کی راکھ میں کھو جائوں گا؟” بوڑھی آنکھوں سے اس نے تب دور خلا میں گھورتے گھورتے خشک گھاس کا تنکا ...

مزید پڑھیں »

ڈی کلاس کلب کا ممبر’’ جانان‘‘

سائیں کمال خان شیرانی نے جب سیاست میں شخصیت پرستی اور زربردستی جیسی برائیوں کو بڑھتے دیکھاتو ڈی کلاس کلب کے نام سے کچھ نظریاتی لوگوں کی ایک غیر رسمی انجمن قائم کرلی۔اس انجمن کے افراد کے قومی افکار کی سچائی اور اخلاص سائیں مرحوم کے ذہنی کرب کو کچھ ...

مزید پڑھیں »

ذرا سی حرارت ملے تو۔۔۔۔

ذرا سی حرارت ملے تو چمکتا ہوا دھوپ کا ایک ٹکڑا بنائوں ٹھٹھرتی فضائوں کی یخ بستہ آنکھوں میں کرنیں کھلائوں بہت منجمد آسمانوں کو چھوتی ہوئی چوٹیوں پر کھنکتے ، سبک ، مست جھرنے دھروں اور تخیل کے بیکار،ساکت پرندوں کو اڑنا سکھائوں ذرا سی محبت ملے تو سیہ ...

مزید پڑھیں »

نوشین قمبرانی کی شاعری کا مختصر انتخاب

نخلِ دل کے برگ و باراں کو مُیسّر، تُو نہ تھا بج رہے تھے ساز تیرے چارسُو پر، تُو نہ تھا جنگلوں کی نیند پہلو میں مِرے جاگی رہی نیم بیداری کی شِریانوں میں شب بھر، تُو نہ تھا چاپ سے تیری تَھرک جاتیں زماں کی وُسعتیں آگہی کا رقصِ ...

مزید پڑھیں »

پہاڑوں کے نام ایک نظم

(شاہ محمد مری کی ایک کتاب پڑھ کر) روایت ہے پہاڑوں نے کبھی ہجرت نہیں کی یہ بارش برف طوفاں سے نہیں ڈرتے یہ خیمے چھوڑ کر اپنے نہیں جاتے کبھی نامہرباں افلاک پانی بند کردیں تو نہ بارش کے خدا کا بت بناکر پوجتے ہیں اور نہ سبزہ زار ...

مزید پڑھیں »