مصنف کی تحاریر : گلناز کوثر

ریکھاؤں سے باہر

"اچھا تو کیا دنیا سچ مچ بالکل خالی ہوجائے گی؟ کیا یہ ہنستے چہروں والے لوگ بھی باقی نہیں رہیں گے؟ اور کیا میں بھی!! ۔۔۔ دھول اڑاتے دن کی راکھ میں کھو جائوں گا؟” بوڑھی آنکھوں سے اس نے تب دور خلا میں گھورتے گھورتے خشک گھاس کا تنکا ...

مزید پڑھیں »

ڈی کلاس کلب کا ممبر’’ جانان‘‘

سائیں کمال خان شیرانی نے جب سیاست میں شخصیت پرستی اور زربردستی جیسی برائیوں کو بڑھتے دیکھاتو ڈی کلاس کلب کے نام سے کچھ نظریاتی لوگوں کی ایک غیر رسمی انجمن قائم کرلی۔اس انجمن کے افراد کے قومی افکار کی سچائی اور اخلاص سائیں مرحوم کے ذہنی کرب کو کچھ ...

مزید پڑھیں »

ذرا سی حرارت ملے تو۔۔۔۔

ذرا سی حرارت ملے تو چمکتا ہوا دھوپ کا ایک ٹکڑا بنائوں ٹھٹھرتی فضائوں کی یخ بستہ آنکھوں میں کرنیں کھلائوں بہت منجمد آسمانوں کو چھوتی ہوئی چوٹیوں پر کھنکتے ، سبک ، مست جھرنے دھروں اور تخیل کے بیکار،ساکت پرندوں کو اڑنا سکھائوں ذرا سی محبت ملے تو سیہ ...

مزید پڑھیں »

نوشین قمبرانی کی شاعری کا مختصر انتخاب

نخلِ دل کے برگ و باراں کو مُیسّر، تُو نہ تھا بج رہے تھے ساز تیرے چارسُو پر، تُو نہ تھا جنگلوں کی نیند پہلو میں مِرے جاگی رہی نیم بیداری کی شِریانوں میں شب بھر، تُو نہ تھا چاپ سے تیری تَھرک جاتیں زماں کی وُسعتیں آگہی کا رقصِ ...

مزید پڑھیں »

پہاڑوں کے نام ایک نظم

(شاہ محمد مری کی ایک کتاب پڑھ کر) روایت ہے پہاڑوں نے کبھی ہجرت نہیں کی یہ بارش برف طوفاں سے نہیں ڈرتے یہ خیمے چھوڑ کر اپنے نہیں جاتے کبھی نامہرباں افلاک پانی بند کردیں تو نہ بارش کے خدا کا بت بناکر پوجتے ہیں اور نہ سبزہ زار ...

مزید پڑھیں »

قطبی ستارہ

(نوٹ: موسٰی عصمتی نابینا ہیں اور نابینا بچوں کے اسکول میں بطور استاد فرائض انجام دے رہے ہیں)۔ اگر کسی دن آگ لائی جائے اور میری ٹوٹی ہوئی لالٹینیں دوبارہ روشن کردی جائیں میں تب تک دیکھوں گا جب تک آسمان بے رنگ نہیں ہوجاتا جب تک پہاڑوں کی برف ...

مزید پڑھیں »

شئیر

گہے روش روشن پہ اے روزگار گہے شپ کہ وفسی جہاں برقرار گہے سیل وشادی گوں دوستاں اوار گہے روث وفسی مں قبرے تہار گہے گوئہروساڑتی زمستاں اوار گہے سبزگلزارعجب خوش بہار یکے میوہ شیریں یکے زہردار زمیں یک نمونہ و میوہ ہزار کبھی دن ہے روشن کہ چلے کاروبار ...

مزید پڑھیں »

سنگت ماہ ستمبر کا ادارتی نوٹ: قہر ٹوٹا حیات بلوچ کی ماں پہ

کراچی یورنیورسٹی کا سٹوڈنٹ حیات بلوچ ،فریاد کرتی گڑگڑاتی ماں کے سامنے مین روڈ پر گھسیٹا گیا۔ اور اُس کے بھرپور جواں بدن پہ آٹھ گولیاں ماری گئیں۔ بغیر وکیل وعدالت کے ، بغیر گناہ کے ، بغیر ثبوت کے ۔ اور یہ قیامت عام گلی کے غنڈوں کے ہاتھوں ...

مزید پڑھیں »

اداریہ سنگت ماہ ستمبر۔ نئی دنیا

نئی دنیا پچھلے برس نومبر سے پھیلنے والی کورونا وبا ابھی تک زوروں پہ ہے۔ اس کا غصہ، دہشت اور قہر بالخصوص یورپ اور امریکہ پہ ہے ۔ وہاں بیماری اور اموات تصور سے بھی بڑھ کر ہیں۔ چونکہ امریکہ اور یورپ پوری دنیا کو چلا رہے ہیں۔ اس لیے ...

مزید پڑھیں »

ثمینہ رئیس نشیب ۔۔۔ فیصل آباد کے نسائی ادب کی ایک معتبر آواز

 فیصل آباد سے متعلق ثمینہ  رئیس نشیب ۔۔نسائی ادب میں ایک معتبر حوالہ  کی حثییت رکھتی ہیں ۔۔ان کا تعلق شعبہ درس و تدریس سے ہے ۔۔ثمینہ رئیس نشیب کا شمار ایسی شاعرات میں ہوتا ہے جسے بھاری بھر کم الفاظ اور بوجھل تراکیب سے دامن چھڑا کر اپنے محسوسات ...

مزید پڑھیں »