مصنف کی تحاریر : راشدہ قاضی

ایک کاغذ

  وہ ایک کاغذ ہی تو تھا کہ جس پر حقوق ِملکیت بدل گئے تھے وہ ایک کاغذ ہی تو تھا جس نے وراثت کی سند عطا کی تھی وہ ایک کاغذ ہی تو تھا جس نے تعارف ہی تبدیل کر دیا تھا اور تبدیلی ِنام سے تبدیلی پہچان تک ...

مزید پڑھیں »

گل پھینکے ہیں

  یکا یک چاروں طرف سے فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں۔ راہ گیر چلتے چلتے منجمد ہوگیا۔ سب لوگ پناہ لینے کو ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ سڑک پل بھر میں سُنسان ہوگئی۔ ہم وطن ایک دوسرے پر گولیاں برسارہے تھے۔ ایک گروپ اُن لوگوں کا تھا جو پاکستان میں رہائش ...

مزید پڑھیں »

ناہید صدِیقی کا رقص

  انفرادی رقص بالخصوص ِ برصغیر کے کلچرل ماتھے کا جھومر بن گیا۔ شمالی ہندوستان میں کتھک نامی رقص یک نفری ہوتا ہے۔ کتھک ، کتھایعنی کہانی پر مبنی ہوتا ہے۔ اجتماعی بلوچی رقص کی طرح اِس کتھک رقص میں بھی ناظرین کے علاوہ سامعین بھی شامل ہوتے ہیں۔ میں ...

مزید پڑھیں »

غزل

کون کہتا ہے فقیروں کو خزانے دیجے دُور ہٹ جائیے، بس دھوپ کو آنے دیجے وقت کی شاخ سے ٹوٹے ہوئے گل برگ ہیں ہم دُور تک دوشِ ہوا پر ہمیں جانے دیجے سنگ بستہ تو نہیں منزلِ ماضی پہ یہ دل اور غم دیجے اسے اور زمانے دیجے دائمی ...

مزید پڑھیں »

غزل

کون کہتا ہے فقیروں کو خزانے دیجے دُور ہٹ جائیے، بس دھوپ کو آنے دیجے وقت کی شاخ سے ٹوٹے ہوئے گل برگ ہیں ہم دُور تک دوشِ ہوا پر ہمیں جانے دیجے سنگ بستہ تو نہیں منزلِ ماضی پہ یہ دل اور غم دیجے اسے اور زمانے دیجے دائمی ...

مزید پڑھیں »

اک بدصورت نظم

  لال سوہا جوڑا اسکے تن پہ تھا ماتھے کو سستے پیتل سے داغا گیا تو دھواں اٹھا آنسو بہہ رہے تھے حیرانی بھری انکھوں سے کومل گلے سے نکلتے تھے خوف میں لتھڑے ہوئے سُر نہ وہ کوی مہ وش تھی نہ اک حسین اپسرا ابھی تو وہ عورت ...

مزید پڑھیں »

لفظ رخصت ہوئے

(الزائمر سے لڑتے مریضوں کے نام)   خامشی ۔۔۔۔ خامشی۔۔۔۔ اب کسی لفظ کی نوک چبھتی نہیں اور کوئی بات ریشم سی لگتی نہیں توابھی تم نے جو بھی کہا ہے وہ مجھ تک پہنچتے پہنچتے ہواؤں میں گم ہو گیا ہے یہ حرفوں کی پیچیدہ قوسیں یہ تیس اور ...

مزید پڑھیں »

مصنوعی ذہانت کی ذہانت

        قریب سہ پہر کا وقت تھا جب اچانک کمپیوٹر سائنس ڈویڑن کا دروازہ کھلا اور ایک لمبا اور قدرے فربہ جسامت کا آدمی، جلدی میں اندر داخل ہوا۔ یہ پروفیسر مارک کنگ تھا جو آج پھر اپنی چابیاں بھول گیا تھا۔ اس  کے ساتھ کام کرنے ...

مزید پڑھیں »

سرمدی آگ تھی

  سرمدی آگ تھی یا ابد کاکوئی استعارہ تھی، چکھی تھی جو کیسی لوتھی!۔ خنک سی تپک تھی تذبذب کے جتنے بھی چھینٹے دئے اوربڑھتی گئی دھڑکنوں میں دھڑکتی ہوئی سانس میں راگ اورسرْ سی بہتی ہوئی پھول سے جیسے جلتے توے پرہنسیں ننھے ننھے ستاروں کے وہ گل کھلا ...

مزید پڑھیں »

ہڑپہ

  ہڑپہ کے آثارِ قدیمہ بہت مشہور ہیں۔ آثار قدیمہ (آرکیالوجیکل سائیٹ)کو بلوچی میں ”دَمب“ کہتے ہیں۔میں حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ ہڑپہ کا دمب کئی میل پر پھیلا ہوا ہے۔ظاہر ہے کہ سارے رقبے کی کھدائی توبہت پیسہ اور بہت مہارت مانگتی ہے۔ اس لیے اِن آثار کی ...

مزید پڑھیں »