مصنف کی تحاریر : شاہ محمد مری

بلوچ مائتھالوجی

  اور یوں، آپ اچانک اُس گیٹ پر پہنچتے ہیں جس پر لکھا ہے : نانی مندر ،ہنگلاج کا مندر ۔اور آس پاس سرخ، نارنجی جھنڈے ہیں، بینرزپوسٹرز ہیں۔ یہ مندر ہے ، مزار ہے ،یا عبادت گاہ ،تاریخ ابھی تک فیصلہ نہ کر پائی ۔ شاید انگلش کا Shrine ...

مزید پڑھیں »

عزیز بگٹی

کچھ ماہ قبل ایک بہت بڑی ہستی صحافی ، دانشور ، استاد اور انسانی حقوق کی تحریک کے روح رواں آئی اے رحمان رحلت کر گئے تھے مجھ ناچیز کو خوش قسمتی سے برسوں تک مرحوم آئی اے رحمان صاحب کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تھا اس لیے ...

مزید پڑھیں »

زبان دراز عورت

فتح مندی کے نشے میں سرشار وہ بولا اب تُم میری ملکیت ہو! تمہارے شناختی کارڈ پر اب میرا نام ہو گا میرے نام سے پہچانی جاؤ گی وہ بولی کوئی کاغذ کوئی پتّر کوئی لکھت پڑھت یہ ملکیت کس دستاویز کی رُو سے ہے؟ دکھا دو مان لوں گی ...

مزید پڑھیں »

سیاہ ترین رجعت کا دور

1908سے لے کر 1911تک کے برس روس کے رجعت کی حتمی درندگی کے سال تھے ۔ بادشاہ نے انقلابیوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کی حد کردی ۔ انہیں سٹری ہوئی جیلوں میں اُن کی Capacityسے کئی گنا بڑی تعداد میں ٹھونس دیا گیا تھا ۔ موت کی سزاﺅں کی طویل ...

مزید پڑھیں »

جُھوٹے بہانے چھوڑ جاؤ

میں جانتی ہوں کہ وقت بہت آگے نکل گیا ہے اور میں بہت پیچھے رہ گئی ہوں مجھے اس بات کا کوئی بھی شکوہ نہیں ہے کہ تُم کُچھ بھی کہے سُنے بغیر جا چُکے ہو پر یہاں بہت کُچھ چھوڑ گئے ہو وہ بھی اپنے ساتھ لے جاتے تو ...

مزید پڑھیں »

ماہنامہ سنگت جولائی کا اداریہ

جھوٹ موٹ کی رونق پسماندہ ممالک میں بجٹ بھی دیگر بہت سی بے کرامت اور بے اثر رسومات میںسے ایک ہے ۔ گوکہ کپٹلزم اُسے ایک بڑا ایونٹ بنانے کے لیے پروپیگنڈہ کے سارے دروازے کھول دیتا ہے ۔ پری بجٹ سیمنار کرائے جاتے ہیں، خزانے کے آئی ایم ایفی ...

مزید پڑھیں »

جام درک Jam Durrak

جام کے کلام میں عنایت ، تغزل اور نغمگی تو ہے ہی ۔ مگر وہ امیجری بھی غضب کی کرتا ہے ۔ اُس کی شاعری میں بجلیاں کڑکتی نہیں ہنستی ہیں۔ اُس کا دل دُھند میں ماہ پری مانگتا ہے ۔ اس کی گھوڑی کی دم زامر کے پودے کی ...

مزید پڑھیں »

”دم گھٹ رہا ہے ، ماں“

اداریہ سنگت جولائی 2020 کورونا نے دنیا میں تباہی مچارکھی ہے۔ روزانہ بے شمار لوگ مرنے لگے، خاندان برباد ہوئے ۔پسماندگان کی چیخوں نے دھرتی ہلا کر رکھ دی ۔ موبائل فون تعزیتوں کا لاﺅڈ سپیکر بنے ۔اور تازہ قبروں سے قبرستانوں کے پیٹ نو مہینے جتنے ہوتے گئے ۔ ...

مزید پڑھیں »

فرحت پروین کی کہانیاں

”منجمد“ سے ”کانچ کی چٹان“ تک بچپن میں بزرگوں نے کہانیاں سنا سنا کر ایسی عادت ڈالی کہ آج تک سوتے وقت کہانی کی کتاب ہاتھ میں نہ ہو تو نیند آنکھوں سے روٹھی رہتی ہے۔ ایسی راتوں میں کہانی کی طلب شبِ فراق کے معنی سمجھا دیتی ہے کہ ...

مزید پڑھیں »

عربی ادب میں الف لیلہ، ایک مطالعہ

الف لیلہ، تعارف و پس منظر: الف لیلہ کا عربی ادب میں وہی مقام ہے جو عالمی ادب میں ہومر کی ’اوڈیسی‘ کا ہے۔ اسے عربی کا کلاسیکی شاہکار کہا جاتا ہے۔ اس کا پورا نام ’الف لیلة و لیلة‘ ہے۔ عربی میں الف‘ ہزار کو کہتے ہیں اور لیلة‘ ...

مزید پڑھیں »