مصنف کی تحاریر : احمد شہریار

فوسل

یاد ہے؟ جب میں نے ایک بچے کی طرح تمہاری طرف ہاتھ پھیلائے تو تم نے کچھ کہا اور میں اچانک ہزاروں سال بوڑھا ہوگیا اس فوسل کی طرح جسے یاد بھی نہیں کہ وہ کہاں جیا اور کیسے مرا؟!

مزید پڑھیں »

عورت

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے قلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آج حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج آبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج جس میں جلتا ہوں اسی آگ ...

مزید پڑھیں »

اندھا خواب

لفظوں کا ایک دوسرے سے ملنا محبت ہے ۔ نہیں! دل دھڑکنے کانام محبت ہے نہیں! پانی بہہ جانے کا نام محبت ہے نہیں! بھوک مٹ جانے کا نام محبت ہے نہیں! رات بھر نیند سے بیداری کا نام محبت ہے نہیں! ستاروں کی چمکتی کرن کانام محبت ہے نہیں! ...

مزید پڑھیں »

جلتی کُڑھتی نظم

میرے پاؤں دوکمروں کے درمیان رات دِن مسلسل چکراتے رہتے ہیں تمہارا کمرہ اور میرا کمرہ خیال اُس خیال سے چِڑتا ہے جھگڑتا ہے جب وہ خود کو تمہارے کمرے میں کہیں نہیں پاتا ماتھے کی شکنوں میں اضافہ چُپکے سے کہتا ہے وقت کے ساتھ بہت کُچھ بدلتا ہے ...

مزید پڑھیں »

آکٹوپس

ماحول میں عجیب سے بو رچی تھی ،نئی قسم کی جراثیم کش ادویہ کا چھڑکاؤ کیا جا رہا تھا انہیں امید تھی کہ وہ جلد ہی اسے سدھا لیں گے وہ سب اکھٹا ہو کر دعاؤں میں مصروف ہو گئے گروہ در گروہ اپنے اپنے انداز میں اندیکھے دشمن سے ...

مزید پڑھیں »

نروان

جیسے چٹیا میں گندھے بال بل در بل اک دوجے سے لپٹے ہوتے ہیں،ریشم اور ریشماں کی تندیں بھی آپس میں ایسے ہی گندھی تھیں۔ سروقد ،بولڈ ،سٹریٹ فارورڈ ، دلکش، سنہری ریشم۔ سہمی ،بولائی ،بوکھلائی،کم گو ، ادھورے کام،ادھ وچولے مرے موئے تعلق نبھاتی ریشماں۔ کالج واپسی پہ گنجے ...

مزید پڑھیں »

یہ شہر شہرِ نا رسا ہے

یہ شہر بھی شہرِ نا رسا ہے کہ اس کے اطراف خواہشوں کا مہیب جنگل سُلگ رہا ہے کہ اس کی گلیوں میں ہر صداقت بریدہ پا ہے کہ نوحہ گر ہیں یہاں کے باسی محبتوں کے کٹھن سفر میں وجود انکے بکھر چکے ہیں یہ لوگ وہ ہیں جو ...

مزید پڑھیں »

گھڑی کی ٹوٹی ہوئی سوئی

اس کی ساری کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔ الماریاں، درازوں، کمرے اور برآمدے میں حتیٰ کہ صحن کے کونے کونے میں تلاش کرنے کے باوجود گھڑی کی ٹوٹی ہوئی سوئی نہیں ملی۔ وال کلاک کے ٹِک ٹِک کے باوجود وہ وقت دیکھنے او رسمجھنے سے قاصر تھا۔ اسے ایسے محسوس ...

مزید پڑھیں »

شاہ مرید منظر در منظر

( پہلا منظر ) حانی زرّیں دور تھا وہ حانی اب جب یاد کروں تو روتا ہوں ڈاڈر ارض ِ پاک تھا گویا سیوی جنّت کا نقشہ تیر اندازی کی مشقیں تھیں گُھڑ تاچی کے میلے تھے اُونٹوں کی نا ختم قطاریں آگے آگے چلتی تھیں تیغوں کی بَجتی شہنائی ...

مزید پڑھیں »

گرندئے شاعر

نوکیں بلوچی شائری ئے سروغان ، مزن نامیں شاعر و رائٹر ، دپترزانت ، دیمروی پسندیں سیاستکار و کواس ، شوھاز کار میر گل خان نصیر ؔ مروچی گوں مانیست ایں۔ بل آئی ئے یلہ داتگیں میر ات و مڈی گوں وتی پیلویں تواناں گوں ما موجودیں۔ گل خان نصیرؔ ...

مزید پڑھیں »