Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » کتابِ دل ۔۔۔ تبصرہ: ارشد خانم

کتابِ دل ۔۔۔ تبصرہ: ارشد خانم

شاعری اظہار و ابلاغ کا وہ موثر ترین ذریعہ ہے جس کے ذریعے شاعر بالعوم رمز میں بہت سی باتیں کہہ دیتے ہیں ایسی باتیں جن پر معاشرے میں قد غن ہوتی ہے اور جن کو عموی حالات میں پسند نہیں کیا جاتالیکن شعر کے حسین پیرائے میں انہی باتوں کو سن کر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں۔ بہر حال ان تمام باتوں سے قطع نظراس وقت میرے پیش نظر مختار عزمی کاپہلا شعری مجموعہ” کتا ب دل “ہے  جو ۸۱۰۲ میں چھپ کر منظر عام پر آیا۔

۔۸۲۱ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ہمیں گلہائے رنگا رنگ اپنی بہار دکھاتے نظرآتے ہیں۔ اس میں حمدیہ اور نعتیہ اشعاربھی ہیں اور غزل،قطعات اور گیت بھی اپنا رنگ جمائے ہو ئے ہیں ۔ان تمام حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر میں یہ کہوں کہ .انہوں نے تھوڑا لکھا اور خوب لکھا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔

سادہ اور موثر شعریقینادل پر وہ اثر کرتا ہے جو چونکا دینے کے جنون میں مبتلا جدت پسند شاعروں کو نصیب نہیں ہوتا۔الفا ظ کا چناؤ، موضوع کی آفاقی سچائی اور تخیل کی بلندی  اشعار کو اس مقام  پہ پہنچا دیتے ہیں، جہاں لوگوں کو شاعر تو یاد نہیں رہتا  البتہ شعر ضرور یاد  رہ جاتے ہیں َجیسے عزمی کی مختصر سی نظم۔۔۔۔”لکی سیون“

تیرا میرا لکی نمبر سات۔۔۔۔۔ سات دنوں کا چکر ایسا۔۔۔۔۔۔آئے کبھی نہ رات۔۔۔۔۔۔جو ہو شب برات

حقیقت پسندی بعض اوقات ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔انسان مصائب سے فرار کی خاطر ہی تو شعر وادب میں پناہ لیتا ہے  ایسے میں شاعر بھی ببانگ دہل یہ کہنے لگے کہ۔۔

دوری کا رومان ہے عزمی       ورنہ چاند میں کیا رکھا ہے

یہ شعر عرصہ پہلے پہل جب فیس بک کی زینت بنا تو پڑھ کے شاعر کے نکتہ نظر  سے اختلاف کے باوجودشعر کے اچھوتے رنگ نے متاثر کیا۔با ت صاف ظاہر ہے کہ اگر ہر شاعر یہی کہنے لگے تو چاند چہرے کہاں جائینگے جن کے تصور میں لوگ زندگیاں  بتا دیتے ہیں َ۔ بہر حال اپنے نظریات کابے خوفی سے پر چار،مافی الضمیر،مشاہدہ،تجربہ اور نظریہ بے خوفی کے ساتھ پیش کرنا آج کی با شعور دنیا کے لئے ضروری ہے۔شاعری میں زندگی کے تلخ حقائق بیان کرنے کے تجربے نے اردو شاعری کے دامن کو وسعت عطا کی ہے۔اس سے تخلیقی کارگزاری کا عمل نمایاں نطر آنے لگتا ہے۔بقول شاعر۔۔۔۔

شعر میں لفظ نہیں رنگ سخن بولتا ہے           دیکھ لینا میرے شعروں  کی لطا فت اب کے

کسی مو ہوم سی امید پہ کیا حاصل ؟         شوق کی حد سے نکل  کر کرو ہمت اب کے

کہتے ہیں جہاں شعر وادب اور سماج کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے وہاں شاعر کی ذاتی زندگی کے  واقعات  وحوادث اس کی شاعری کے لئے خصوصی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس ماحول میں پنپنے والی شاعر کی منفرد فکری صلاحیت۔انفرادی رویہ اور ذاتی تجربہ اورمشاہدہ اس کی تخلیق کو عظمت بخش دیتا ہے۔۔زندگی حادثات سے عبارت ہے خوشی اورغم،دکھ اورسکھ،آس اوریاس لازم  و ملزوم ہیں، عزمی کی شا عر ی میں ہمیں زندگی،موت، محبت،سماج،سیاست اور تاریخ سے جڑے حقائق کا عکس بدرجہ اتم نظر آتا ہے

شام ڈھلی اور سورج ڈوبا  ۔۔۔    رین اندھیری آئی  ۔۔۔۔ لیکن وہ نہ لوٹا

من کی چھتری سونی سونی  ۔۔۔۔تن کا دڑبہ خالی ۔۔۔۔۔اب تو میرے لا ل کبوتر  ۔۔۔لوٹ کے آجا۔۔۔۔آجا

اسے بھلائے ہوئے اک  زمانہ بیت گیا            مگر یہ دل پھرسے اسے ڈھونڈ لا یا ہے

زمانہ  لا کھ  بھلائے، بھلا  نہیں سکتا

وہ ایک گیت جسے بے خودی میں گایا ہے

یہاں مجھے ٹیولپ کا پھول یادآرہا ہے ہالنیڈ کی زندگی میں اسے گہرا دخل حاصل ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ یہ اصلاََہالنیڈ کا پھول نہیں  بلکہ دو تین صدیاں پہلے ترکی سے امپورٹ کیا گیا تھا۔البتہ ہا لینڈ میں اس کی کاشت کو بہت فروغ دیا گیا۔اس پر تحقیق اور تجربے کر کے پھو ل کاسائز بھی بڑا کیا گیا۔مشہور فرانسیسی ناول نگار الیگز نڈر ڈوما  نے اس پھول کی پیوند کاری اور اس کا رنگ تبدیل کر کے سیاہ ٹیولپ کا جو تجربہ ہوا تھا اس پر اپنے ناو ل  (دی بلیک ٹیولپ)  کی کہانی لکھ ڈالی۔اس ناول کو موضوع اور تیکنیک کے لحاظ سے بڑا ناول تسلیم کیا جا تا ہے۔ اس کا ایک خوبصورت اقتباس۔۔۔

”تما م انسانی دانش کا خلاصہ ان دو لفظوں مو جود ہے۔۔۔انتظار اور امید“

انتظاراور امید لازم و ملزوم ہیں، ایک کے بغیر دوسرے کا وجود نا مکمل ہے۔زندگی بتانے کے لئے انسان دو نوں کی راہ تکتا ہے۔اس کیفیت کو لفظوں کے سانچے میں ڈھال دیا جا ئے تو شعر معرض  وجود میں آتا ہے، جس سے زندگی میں  روشنی کی کرنیں پھوٹتی نظرآتی ہیں

پھو ل کا لر پہ لگا تا کوئی                   ورنہ جوڑے میں سجا تا کوئی

دل میں کیوں ایسے خیال آتے ہیں        ان کے معنی بھی سجھاتا کوئی

عورت کو احترام اور اعتماد دیتے ہوئے شاعر کہتا ہے

اس کے نام جو خط لکھا تھا اپنے نام پہ ڈالا       پڑھنے والے لوگ کہیں ِ ہے عزمی بھولا بھالا

ایک ذرا سی بات پہ یارو کیوں ہوتے ہو حیران    وہ ہے میری گھر والی اور میں اس کا گھر والا

Check Also

چلتے رہو  !۔۔۔۔عابدہ رحمان

کتاب:  منتخب سوویت افسانے مصنف:             ڈاکٹر شاہ محمد مری صفحا ت:           350 قیمت250             روپے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *