Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » قدرتی آفات اور حکمران طبقات ۔۔۔ جمیل بزدار

قدرتی آفات اور حکمران طبقات ۔۔۔ جمیل بزدار

وہ ندی کے کنارے ایک کچے مکان میں رہتا تھا۔  ندی کا پانی وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے لگاتا اور کھیتوں سے جو کچھ بن پاتا اس میں سے آدھا مالک لے جاتا، باقی بچے کھچے سے وہ اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتا۔ ماڈرن ورلڈ سے کہیں دور وہ آج بھی پتھر کے زمانے میں رہتا تھا۔

اس بار کافی عرصہ بارشیں نہ ہوئیں۔ ندی کا پانی سوکھ گیا تو اس کا چہرہ بھی بنجر زمین کی طرح مرجھا سا گیا تھا۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ بارشیں اگر نہ ہوئیں تو اس بار اسے اور اس کے خاندان کو فاقے کرنے پڑیں گے کیوں کہ بازار میں اناج کی قیمت اتنی تھی کہ وہ خرید نہ سکتا تھا اور وہیں ضمیر اسے کسی کی مدد لینے کے لیے نہ دیتا۔ اس کے بچے کم زور سے، نحیف سے غذائی قلت کا شکار تھے۔ بیمار ہونے پر کئی دن کھانستے رہتے اور پھر کہیں جا کر خود صحت یاب ہوتے۔ سرکاری ہسپتال تھا اور نہ کوئی دوائی۔ ان کے پاس تو سر درد کی گولی تک بمشکل ہوتی تھی۔

ساون کے شروع ہوتے ہی اس کے چہرے پر تب رونق لوٹ آنے لگی تھی جب پہلی بارش نے زمین کو سیراب کیا۔ اب اسے امید تھی کہ اس کی فصل اگے گی اور مویشیوں کے لیے چراگاہ بھی ہو گی۔ اس نے اپنی جمع پونجی سے بیج خرید کر زمین میں کاشت کر لیے۔ وہ ہر روز اٹھ کر زمین میں اپنی کاشت کی ہوئی نئی فصل دیکھتا جو ابھی ابھی بیجوں سے نکلنے کو تھی۔ وہ فصل کو دیکھ کر سکون کا سانسں لیتا کہ اگر بارشیں زیادہ نہ ہوئیں اور فصل خراب نہ ہوئی تو یہ زمین اس بار  پہلے سے کہیں زیادہ فصل پیدا کرے گی۔

وہ آج صبح گھر سے دور پہاڑ پر کسی کام سے گیا تھا کہ اس نے دیکھا آج بادل پہلے کی نسبت زیادہ گھنے ہیں وہ چوں کہ بادلوں اور ان کی ساخت کا خوب تجربہ رکھتا تھا، اس لیے پہلے سے اس نے پیشن گوئی کر رکھی تھی کہ آج زور کی بارش ہو گی۔ وہ جلد ہی کام سے لوٹنے لگا۔ دور پہاڑ پر بادل جم کر برس رہے تھے۔ ان پہاڑی چوٹیوں سے پانی بہہ کر اسی ندی میں آ جایا کرتا تھا جس کے کنارے اس کا گھر آباد تھا۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ تیز اور مسلسل بارش اس کی فصل کو تباہ کر دے گی۔ وہ بھاگتا ہوا گھر پہنچا تو ندی اپنے عروج پر تھی۔ ندی اس کے گھیت کے بیچوں پیچ چل رہی تھی جب کہ بارش ابھی اور بھی تیز ہوتی جارہی تھی۔ اس تیز بارش میں وہ نہ جانے کتنا رویا ہو گا اور دل میں شکر ادا کرتا ہو گا کہ اس کے بیوی بچے بارش کی وجہ سے اس کے آنسو نہ دیکھ سکے۔ ندی کا پانی مسلسل بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ اس کے گھر کے بالکل قریب آن پہنچا تھا۔ اس کا گھر ندی سے کافی اونچا ضرور تھا تاہم اب وہ ندی کی شدید طغیانی سے محفوظ نہیں تھا۔ اس نے اپنے بچوں کو لیا اور انہیں پہاڑ کی چوٹی تک پہنچا دیا۔ جہاں اب وہ محفوظ تھے۔ پھر وہ خود برستی بارش میں واپس گھر سے ضرورت کا سامان لانے کے لیے لوٹ گیا۔

لوٹتے ہوئے وہ بوجھل قدموں کے ساتھ جا رہا تھا۔ کیوں کہ اس کا پورا سرمایہ لٹ چکا تھا۔ فصل مکمل تباہ ہو چکی تھی اور مال مویشی ندی بہا کر لے گئی تھی۔ اس کا ادھ ادھورا بدن اب غم سے نڈھال تھا۔ وہ ابھی کمرے کے پاس ہی پہنچا تھا کہ پانی کی رفتار تیز ہو گئی۔اس کے نحیف جسم نے خود کو سنبھالنے کی پوری کوشش کی لیکن پانی کا زور زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے پاؤں زمین سے اکھڑ گئے۔ اس نے ایک امید کی نگاہ اپنی بچوں پر ڈالی اور پھر آسمان کی طرف دیکھا۔ وہ پانی کے ساتھ بہتا جا رہا تھا۔ اس کے نتھنوں میں پانی جا چکا تھا۔ وہ تقریباً بے ہوش ہو چکا تھا کہ اسے ایک درخت کا سہارا ملا اس نے روز سے اس درخت کو پکڑا جیسے خدا نے اس کی غیبی مدد کی ہو۔ وہ اس درخت پر چڑھ بیٹھا۔ ابھی موت اور زندگی کی کشمکش میں تھا کہ بے رحم لہروں نے درخت کو جڑوں سے اکھاڑ دیا۔ایک بار پھر وہ پانی کے اندر مکمل طور پر ڈوب گیا۔ اس کے بچے پہاڑ کے اوپر سے بابا بابا بلا رہے تھے۔ اس کی بیوی خدا سے ہاتھ جوڑ کر دعا مانگ رہی تھی۔

اس کے کپڑے جو پہلے پانی کے اوپر نظر آتے اور اس کے ہاتھ پاؤں مارنے کی کبھی ایک جھلک آتی، سب غائب ہو چکے تھے۔ صرف مایوسی رہ گئی تھی۔ گدلا پانی ٹھاٹھیں مارتا ہوا گزر رہا تھا۔ ظالم ندی اسے اپنے ساتھ بہا لے گئی۔

چھ دن گزنے کے بعد بھی اس کا جسم کہیں نہیں ملا۔ نہ گورنمنٹ کے امدادی جہاز آئے اور نہ کوہِ سلیمان کے اس اسد علی سد پارہ کو ڈھونڈنے کے لیے کوئی آئی ایس پی آر کا بیان جاری ہوا۔ کہتے ہیں غریب کی موت موت نہیں ہوتی۔ وہیں چھٹے دن دریائے سندھ کے مغربی کنارے دائرہ دین پناہ میں زمین سے جڑے اس کے ہاتھ کسی نے دیکھ لیے۔ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت میر خان بنگانڑیں کی لاش مٹی سے نکالی۔

چند ایک افراد انسان کے تمام وسائل پر قابض ہیں اور میر خان جیسے سیکڑوں انسان روز زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے مر جاتے ہیں۔ تاہم وہ اپنے پیچھے باقی ماندہ انسانوں کے لیے ایک سبق ضرور چھوڑ کر گیا ہے کہ اگر جینا ہے تو لڑنا سیکھو؛ سامراج سے، اس ظالم نظام سے جو ناانصافی پر مبنی ہے اور ایک ایسے نظام کے لیے جہد کریں جس میں تمام انسان برابر ہوں۔

Spread the love

Check Also

آف ئے رَند ۔۔۔ مہتاب جکھرانی

گوش انت کہ آف ئے رَند کلیں رنداں شہ جوان این، پچے کہ آف ئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *