Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » خس کم جہاں پاک ۔۔۔ علی زیوف

خس کم جہاں پاک ۔۔۔ علی زیوف

محبت کی بھیک مانگتے ہوئے

تمہیں چار سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔

پھر بھی سلیقہِ گدائی نے تمہارا ہاتھ نہیں تھاما

اس خوف سے کہ

تمہیں لاج کی پاج رکھنا نہیں آتی۔

تم بھیک میں ملی خوشیاں

اک سگریٹ کے پیکٹ یا چائے کی پیالی کے عوض

بیچ دیتے ہو۔

رات  پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیے

تم نے اک ننھی گڑیا کے خواب ہنکارے ہیں۔

بلا کے احمق، اکھڑ ہو

تمہاری معصومانہ دستک پہ

اب دلوں کے در نہیں کھلتے ہیں۔

ہر بار ناک کی کھانے پر بھی

کشکولِ منّت اٹھائے دربدر بھٹکتے ہو۔

بخیہ گری کی چاہ میں

نئے زخم خریدنا تمہارا شیوہ بن چکا ہے۔

کیا نہیں جانتے

کہ تمناؤں کے گدھ

دل کا ماس نم آنکھیں شوق سے نوچ کر

نجس ہڈیوں کو تحقیر کیلئے چھوڑ دیتے ہیں۔

زخموں پر پھاہا نہیں رکھتے،  نہ پرسہ دیتے ہیں۔

مشقت نہ کرنا تمہارے خمیر میں رچا بسا ہے۔

 

” تمہارے سوا اس کارِ جہاں میں کوئی چیز بھی

ایسی نہیں کہ جسے خس کم جہاں پاک کہا جا سکے”

Spread the love

Check Also

کاکا صنوبر حسین/شان گل

تہ خوشحال ءَ گھولئے خوشحال افغان اث کہ خان تاں محمودءَ ہاغہ کنئے ہماں مسلمان ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *