Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » دشتِ بے دولت کی ارب پتی  ۔۔۔۔ شاہ محمد مری

دشتِ بے دولت کی ارب پتی  ۔۔۔۔ شاہ محمد مری

تاریخ بظاہر جس قدر بھی ممتاز افراد کی ترجمانی کے تحت چلتی نظرآئے ، یہ دراصل لاکھوں کروڑوں انسانوں کی اجتماعی قولنجی کروٹوں سے ہی چلتی رہی ہے ۔
بلوچستان کی حالیہ تاریخ وصلِ انقلاب کوبے تاب، رہی ہے۔مگریہ اتنا ہی حبسِ بے پایاں کی قید کی تاریخ بھی رہی ہے ۔یہ حبس اب وہ روایتی یک طرفہ والا نہیں ہے۔ بلوچستان دیکھ کر اب یہ نیا نظریہ پیش کیا جاسکتاہے کہ حبس بھی ارتقا کرتا جاتاہے۔پیچیدہ تر، گھمبیر تر۔ چنانچہ ہمارے ہاں کے حبس نے بے شمار انڈے دیے ہیں ۔اُن انڈوں کو ہمیشہ کی طرح اپنے خالق بڑے ’’اسلحہ ڈپو ‘‘میں ہی نہ رکھا۔ بلکہ اب ہر باڈی گارڈ والے کے پاس حبس کشید کرنے کا تنورموجودہے، اور اُسے باہر مسلط کرنے کا اپریٹس بھی ۔ دایاں حبس ، بایاں حبس ، لبرل حبس ، انقلابی حبس، قاعدہ حبس بغدادی حبس، اخلاقی حبس، نظریاتی حبس، فیس بکی حبس، واٹس ایپی حبس۔۔۔میرادیس حبس خانہ ہے ۔ پورا ماحول روشن فکری کا مخالف ہے ۔
اُن لوگوں پر لکھتے رہناکتنا اہم ہے جو ہماری حالیہ صدیوں کی خونچکاں تاریخ کو بنانے میں شامل رہے ،اور اس کی چشم دید گواہیاں لکھتے رہے ۔ اِن تاریخ ساز رپورٹروں میں بیورغ اور شہہ مرید سے لے کر توکلی مست اور عبداللہ جان تک شامل ہیں۔ ہماری تاریخ کی کراہوں اور دھاڑوں میں خود موجود یہ لوگ، اپنے ساتھ جُہداں ہزاروں لاکھوں انسانوں کے نمائندہ لوگ رہے ہیں۔ یہ لوگ میرے وطن کی نحوستیں دھونے والے لوگ تھے۔جتنا اُن سے بن سکا وہ اِس کی نیستیاں بدبختیاں چُنتے رہے ۔ وہ بلوچ اِستان میں موجود سختیاں شور مچا مچا کر اپنی طرف بلاتے رہے ۔ یوسف ، کمال ،نادر زندگی کے خواب کی لَوتھے ۔طعنے سہتے رہے مگر کرب زدہ چہروں میں مسکان ڈالتے رہے ۔عثمان وعبداللہ جان خود شاہی قلعے میں بند، مگر عوام الناس کے راستوں کے رنگ و آہنگ بناتے رہنے کی ترکیبیں ہی سوچتے رہے۔ یہ لعل ہائے بلوچستان رہے۔ اندھیرمیں’’ گلیں ڈیو اشمالانی‘‘ لوگ۔ شیشہ،شفاف لوگ ۔ تصور تخیل لوگ ، نظریہ لوگ ۔ جن کا مادی وجود روحانی تقدس کی صورت میں ڈھل چکا تھا۔ جو رومانس تھے، روما نٹسزم تھے۔
آ پ بلوچستان سے بلوچستان جتنی بڑی مایوسی کا شکار کیوں نہ ہوں مگر اُس سارے ’’مایوسستان‘‘ کے لیے ایک گل خان کی ایک ’’دعا ‘‘ ہی حتمی ملک الموت ہے ۔
آپ جب بھی ان لوگوں پہ کام کریں تو خود کو شانت محسوس کرتے جائیں گے۔جیسے آپ کاکوئی ارمان بر آیا ہو۔ جیسے کوئی قرض ادا ہو جائے ، جیسے کوئی گلہ دور ہوجائے ۔آپ مخمورو،مسرور‘خود کی تکمیل ہوتے محسوس کریں گے۔اِن پر لکھتے جائیے، اِن کے خیالات سے مزید،اور مزید انفیکٹ ہوتے جائیے۔ amazingلوگ، amuzingلوگ۔
فن و علم کی خادمہ نوشین کمبرانڑیں کے کائناتی میٹھے والد پروفیسر نادرکمبرانڑیں پر بہت لوگ بہت کچھ لکھ اور بول چکے ہیں اور بولتے رہیں گے۔ اس لیے بھی کہ وہ ابھی حال تک ہمارے ساتھ زندگی گزارتا رہا۔ اور یوں شکستہ لشکروں کی یاس کی دلجوئی کرنے والی ہماری زندگیوں کے کچھ سالوں کا اٹوٹ حصہ رہا۔
لیکن یہاں میں اگر نوشین کی وساطت سے نادر صاحب کا تذکرہ کروں گا تو بیٹی کی شخصیت صحراؤں کے ساحل پہ موجودباپ کے گہرے ٹھنڈے سائے میں مبہم پڑجائے گی ۔ بڑے پہاڑ کی اوٹ میں لالہ کہاں نظر آئیں گے؟۔یقین ہے کہ اللہ نوشین کو طویل وصحت مندو شادماں بقا کے زینوں میں ناچتی گاتی زندگی عطا کرے گا اوروہ شاعری کرتی رہے گی ۔ یوں ایک روزوہ خود نادر جان کی شناخت بن جائے گی،ہماری شناخت بن جائے گی، بلوچستان کی شناخت بن جائے گی۔ ۔اسی لیے میں اس کے والد کا تذکرہ یہاں کم کررہا ہوں۔
میں نوشین کی توانا دانش کا تذکرہ کر رہا ہوں اور ایک ایسی سرزمین سے ایسا کر رہا ہوں جو دوسرے کا وجود ہی تسلیم نہیں کرتی ۔ ہمارے جیسے پس ماندہ فیوڈل معاشروں میں ’’ انا‘‘ کی حتمی بادشاہی ہوتی ہے۔بلوچستان ’’انااِستان ‘‘ ہے ۔اور ’’انا پرستی ‘‘ کی سب سے بڑی خاصیت ہوتی ہے کہ وہ اہلِ بصیرت اور دوراندیش لوگوں کو تسلیم نہیں کرتی۔
ہمارے سماج کے اندر ’’میں ‘‘ہی ’’میں ‘‘ٹُھساہوتا ہے۔ ’’میں ‘‘ سے باہر کوئی وجود نہیں۔ اور اگر ہے بھی تو نظر انداز کیے جانے کے لیے ہے۔ اسے تسلیم و توصیف تو کیا کرنا ، الٹا اُسے نیست و نابود کرنا زندگیوں کا سب سے بڑا مشن ہوتا ہے۔
ایک ٹکڑا پتہ نہیں کہاں پڑھا تھا، مگر اتنا دلچسپ تھا کہ الفاظ تو یاد نہیں رہے مگر مفہوم ابھی تک ذہن میں موجود ہے ۔ وہ تھا ’’تم ‘‘ کے وجود کو تسلیم کرنے سے متعلق ۔
انسان اور انسانیت کے لیے ’’میں ‘‘اور’’ تم‘‘کا رشتہ جمہوری ترین رشتہ ہے۔ اس لیے کہ جب میں لفظ ’’ تم ‘‘بولتا ہوں تو میں اپنے علاوہ بھی ایک اشرف المخلوقات کے وجود کو تسلیم کررہا ہوتا ہوں۔ اور یوں دراصل ’’ میں‘‘ کے وجود کو تسلیم کررہا ہوتاہوں۔ اس طرح دیکھیے تو لگے کہ وجود ’’ تم‘‘ نے’’میں‘‘کو اہم بنادیا ہے ۔ لہذا’’ میں‘‘ اہم ہوں اس لیے کہ ’’تم ‘‘اہم ہو۔ اگر میں ’’تم‘‘کو ناقدر کروں تو اصل میں ’’میں‘‘ کو،خود کو نا قدر کر رہا ہوتا ہوں ۔
لہذا لفظ ’’تم‘‘ ہی سے تہذیب ہے ۔ تمدن ہے ، ہست ہے۔ اس لیے کہ صرف’’تم ‘‘ کے واسطے سے میرا بولنے والا آ لہ یعنی زبان، بتیسی کی فصیل کے اندر تیز ونازک اور ہنر کار رقص کرتی رہتی ہے۔ سوچیے کہ اگر ’’ تم‘‘ نہ ہو توہم بولتے کس سے؟،تو پھر زبان کا رقص اس قدر سپیشلائزڈ اور متنوع کیوں ہوتا؟۔پھر تو زبان بس خوراک کو اندر دھکیلنے والا ایک بے کار آلہ ہو گی جس کا صوت و نطق سے ٹکے کا تعلق نہ رہے ہو ۔لہذا’’ تم‘‘ کے سبب زبان کی ،بولنے کی سپیشلٹی ممکن ہوگئی ہے۔
آج میں جس ’’تم ‘‘کی صلاحیتوں ،لگن ، محنت اور کمٹ منٹ کو تسلیم کر کے اُن کے بارے میں لکھ رہا ہوں وہ ’’تم‘‘ نوشین کمبرانڑیں ہے۔نوشین،3جنوری 1976کوچلتن ومہردار کی بانہوں میں بچھی ابریشم وادی ، یعنی کوئٹہ کی آغوش میں آئی ۔
نادر کمبرانڑیں اُس کے اچھے والد کا نام تھا۔ اور صبیحہ بھابھی اُس کی ’’مکہیں ‘‘ماں۔وہ نادر جان جس نے اپنی زندگی میں بھی ، اور مرنے کے بعد بھی خود کو دیوتا بننے نہ دیا۔ (اس لیے کہ اسے پتہ تھا کہ ہمیں مزید دیوتاؤں کی ضرورت نہیں) ۔۔۔لیکن یہ ضرور سوچو کہ کمال خان وخدائیداد ونادرجان نہ ہوتے تو تاریکی ہمارے سماج کو مکمل طور پر نگل جاتی ۔ ہم جسم وروح ہر طرح سے قدامت ورجعت میں ڈوب جاتے ۔ سماج تیرا شکریہ کہ تم نے اپنی جدوجہد کے اندر سے اچھے بیٹے اور بیٹیاں ہمیں بطور دانشور ، اوربطور لیڈرعطا کردیں۔
اگر نوشین کا باپ کچھ اور دَہائیاں زندہ رہتا، یا نوشین خوداُس وقت اپنی طبعی عمر کے تناسب سے بڑھ کر فکری ارتقا کر جاتی، اور اُسی زمانے میں اِس قدر اچھی شاعر ہوتی تو میں اُس کے باپ سے اُس کے بارے میں بہت کچھ پوچھتا۔ مثلاً اُس سے پوچھتا کہ بیٹی جب دنیا میں آئی تو اُس نے اُس کا استقبال کیسے کیا تھا ؟۔ کیا وہ غمگین ہوگیا تھا (ہمارے معاشرے میں تو نرینہ اولاد کی پیدائش پہ خوشی اور افتخار ہوتی ہے ۔جبکہ بیٹی کی پیدائش غم سے بھری گھڑی ہوتی ہے )؟۔ کیا باپ کواندازہ تھا کہ آسمانوں نے اس بچی کو پیدا کرنے کے لیے کیا طے کر رکھا تھا ؟۔ کیا اُسے شائبہ تک تھا کہ نوشین بوئے سنجد کی طلسماتی فضاؤں کو ایک مغموم ونشاط بھرا دوام دینے کواس دنیا میں بھیجی گئی تھی؟۔
پھر یہ بھی پوچھتاکہ اُس نے بلوچ سماج میں اس نوزائیدہ بچی پہ یہ نام ’’نوشین ‘‘کیوں تھونپاتھا۔ یہ نام تو بلوچ سماج میں ایک انجانا سانام ہے ؟۔کسی نوشین سے متاثر ہوکر ؟۔یاپھر نوشین لفظ کے معانی اس قدر دلکش تھے کہ اولاد پہ وہ نام رکھ دیا۔( کتنی بے علمی کی بات ہے کہ بہت سے لوگ جب مجھے 2018میں بھی لفظ ’’نوشین‘‘ کا مطلب نہ بتا سکے تومیں نے افشین سے پوچھا۔ بولی :’’نوشین اور افشین فارسی الفاظ ہیں۔ نوشین کا مطلب ہے Pleasant،خوبصورت ،پیاری اور شیرین جبکہ افشین کا مطلب ہے ’’ستارے کی طرح روشن‘‘)۔

Check Also

مشتاق احمد یوسفی ۔۔۔ طارق محمود مرزا۔ آسٹریلیا

ہم عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں۔یوسفی صاحب کے بارے میں یہ بات انشاء جی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *