Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » کہیں ٹوٹتے ہیں ۔۔۔ ابرار احمد

کہیں ٹوٹتے ہیں ۔۔۔ ابرار احمد

بہت دور تک یہ جو ویران سی رہگزر ہے
جہاں دھول اڑتی ہے
صدیوں کی بے اعتنائی میں کھوے ہوے
قافلوں کی صدائیں ، بھٹکتی ہوئی
پھر رہی ہیں درختوں میں ۔۔۔۔۔۔

آنسو ہیں
صحراؤں کی خامشی ہے
ادھڑتے ہوے خواب ہیں
اور ہواؤں میں اڑتے ہوے خشک پتے

کہیں ٹھوکریں ہیں
صدائیں ہیں
افسوں ہے سمتوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حد نظر تک یہ تاریک سا جو کرہ ہے
افق تا افق جو گھنیری ردا ہے
جہاں آنکھ میں تیرتے ہیں زمانے
کہ ہم ڈوبتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

تو اس میں تعلق ہی وہ روشنی ہے
جو جینے کا رستہ دکھاتی ہے ہم کو
سو ، کاندھوں پہ ہاتھوں کا لمس گریزاں ہی
ہونے کا مفہوم ہے غالبن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وگرنہ وہی رات ہے چار سو
جس میں ، ہم تم بھٹکتے ہیں
اور لڑکھڑاتے ہیں ، گرتے ہیں
اور آسماں ، ہاتھ اپنے بڑھا کر
کہیں ٹانک دیتا ہے ہم کو
کہیں پھر چمکتے
کہیں ٹوٹتے ہیں ۔۔۔

Check Also

نثری نظم ۔۔۔ نور محمد شیخ

خود کو خوش اَسلُوبی کے ساتھ زندہ رکھو جینا بہت اہم جیے جاؤ حصولِ منزل ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *