Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ سانی سید

غزل ۔۔۔ سانی سید

اے جانِ طلسمات کوئی جاگ رہا ہے
آہستہ کرو بات کوئی جاگ رہا ہے

پوروں سے جلاتا ہے ستارے وہ فلک پر
کرتا ہے کرامات کوئی جاگ رہا ہے

کس غم میں اُسے نیند نہ آئی نہ کبھی اونگھ
کیوں ہیں یہ روایات کوئی جاگ رہا ہے

اس درد کی حدت کو ذرا اور بڑھا دے
اے سرد سیاہ رات کوئی جاگ رہا ہے

شیشہ نہ پٹخ شور نہ کرسانی گلی میں
اے رندِ خرابات کوئی جاگ رہا ہے

Check Also

نثری نظم ۔۔۔ نور محمد شیخ

خود کو خوش اَسلُوبی کے ساتھ زندہ رکھو جینا بہت اہم جیے جاؤ حصولِ منزل ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *