*

یک لمحہ سہی عمر کا ارمان ہی رہ جائے

اس خلوت یخ میں کوئی مہمان ہی رہ جائے

 

قربت میں شب گرم کا موسم ہے ترا جسم

یہ خطۂ جاں وقف زمستان ہی رہ جائے

 

مجھ شاخ برہنہ پہ سجا برف کی کلیاں

پت جھڑ پہ ترے حسن کا احسان ہی رہ جائے

 

برفاب کے آشوب میں جم جاتی ہیں سوچیں

اس کرب قیامت میں ترا دھیان ہی رہ جائے

 

تجھ بن تو سنائی نہ دے سورج کی صدا بھی

دل دشت ہوا بستہ ہے سنسان ہی رہ جائے

 

مرمر کی سلوں میں تو گھٹے آگے کا دم بھی

یہ قریۂ جاناں ہے یہاں جان ہی رہ جائے

 

سوچوں تو شعاعوں سے تراشوں ترا پیکر

چھو لوں تو وہی برف کا انسان ہی رہ جائے

 

یہ شام یہ چاندی کا برستا ہوا جھرنا

کوئی تری زلفوں میں پریشان ہی رہ جائے

 

صورت سے وہ ‘گل برف’ سہی پھر بھی عطاؔ شاد

تاثیر میں وہ مشک کی پہچان ہی رہ جائے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*