Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نظم     ۔۔۔     دانش داغ بلوچ

نظم     ۔۔۔     دانش داغ بلوچ

خوابوں کا نو حہ

 

میں جو خوابوں کا نو حہ لیے

آسمانوں کو سر کرنے چلا

دور پہنچا افق پر تو دیکھا

زمین میرے قدموں تلے

بچھا خواب ہو گئی

خواب۔ جو میرا تھا لیکن مجھے برہم سا لگا

دوریوں کا پیامبر جو مجھ سے ملا

تو پتہ چلا

جنت آسمانوں پہ نہیں تھی

وہ وہاں تھی جہاں

ریگزاروں کے چمکتے شیشے

تتلیاں، باغ، خوشبو، چرند پرند

آبشاروں کے نغمے، پہاڑ اور بن

بارشیں، آندھیاں، بادِ صبا

سبھی کچھ میرا تھا

میں نے یونہی سرابوں کا پیچھا کیا

کس نگر آ گیا میں

خواب لے کر اڑا، خواب ہو گیا

اب شکستہ پروں کو لیے کب تلک

آسمانوں کی جانب اڑانیں بھروں

وہ بہشتِ بریں تو وہیں رہ گئی

وہ مِرا جانِ من، وہ مِرا گل زمیں!!۔

Spread the love

Check Also

پہاڑوں کے نام ایک نظم ۔۔۔  قمر ساجد

(شاہ محمد مری کی ایک کتاب پڑھ کر)   روایت ہے پہاڑوں نے کبھی ہجرت ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *