Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » چچڑی اور چیونٹی ۔۔۔ گوہر ملک/شاہ محمد مری

چچڑی اور چیونٹی ۔۔۔ گوہر ملک/شاہ محمد مری

ایک چیونٹی تھی اور ایک تھی چچڑی۔ یہ دونوں آپس میں بہت قریبی دوست تھیں۔ ایک روز چچڑی نے کہا، آؤ آج ایک دعوت کرتے ہیں۔چچڑی جا کر گائے کی تھنوں سے ایک گوشت کا ٹکڑا  توڑ لائی اور چونٹی ایک بوری سے آٹا لائی۔ دونوں نے آٹا گوندھا اور روٹی  پکائی۔گوشت چڑھایا۔ چچڑی نے کہا ”میں جا کر ندی سے پانی لاؤں گی۔ لیکن سنو، آگ کے قریب ہر گز نہ جانا اور دیگچی کا ڈھکنا نہ کھولنا۔ وگر نہ بھاپ تمہیں جلا ڈالے گا“۔

چچڑی گئی ۔کچھ وقت گزرا۔ چیونٹی سے صبر نہ ہوسکا۔ اس نے دیگچی کا ڈھکنا کھولا۔ بھاپ ابل کر باہر نکل آیا۔ چیونٹی جان بچانے لگی مگر زمین پہ گرنے کے بجائے دیگچی میں گر کر مرگئی۔

چچڑی لوٹی تو دیکھا دیگچی کا ڈھکنا کھلا ہوا ہے اور چیونٹی مر کر شور بہ کے اوپر تیر رہی ہے ۔اس نے آہ و فریاد کی، سالن گرادیا، روٹیاں باہر پھینک دیں۔ باہر گئی اور دیوار کے ساتھ بیٹھ کر اپنا سر پیٹنے لگی۔ زمین سے مٹی اٹھا اٹھا کر سر پہ ڈالنے لگی۔ ماتم کرنے لگی رونے پیٹنے لگی۔

دیوار حیران ہوگئی۔ اس نے پوچھا ”کیوں رو رہی  ہو؟“ چچڑی نے جواب دیا ”تمہیں نہیں معلوم؟“۔

چیونٹی مر گئی جانان چیونٹی مرگئی

چچڑی نے اپنے سر پہ مٹی ڈال دی

یہ سن کر دیوار پہ لرزہ طاری ہوگیا اور وہ کانپنے لگی۔ ایک کبوتر اڑتاآیا اور دیوار پہ بیٹھ گیا۔ اس نے دیکھا دیوار لر ز رہی ہے۔ اس نے دیوار سے پوچھا ”دیوار خیر ہے، تم کیوں لرز رہی ہو؟“۔ دیوار نے جواب دیا،  ”تمہیں نہیں معلوم؟“۔

چیونٹی مر گئی، جاناں چیونٹی مرگئی

چچڑی نے اپنے سر پہ مٹی ڈال دی

دیوار پر لرزہ  طاری ہوگیا

کبوتر وہاں سے اُڑا اور جاکر توت کے بڑے درخت پر بیٹھ گیا۔ درخت نے پوچھا ”کبوتر تمہیں کیا ہوگیا کہ تم بغیر دُم،بدصورت اور غمگین ہو؟“ کبوتر نے جواب دیا ”تمہیں پتہ نہیں؟“

چیونٹی مری جاناں چیونٹی مری

چچڑی نے اپنے سر پہ مٹی ڈال دی

دیوار پہ لرزہ طاری ہوگیا

کبوتر دکھی اور غمگین ہوا

یہ سن کر توت نے خود کو جھنجوڑنا شروع کیا اور اپنے سارے پتے گرادیے۔ کچھ بکریاں چرتے چرتے توت کے نیچے آئیں اور پتوں کو چرنے لگیں۔ کھایا کھایا،پیٹ بھرلیا۔ اب انہوں نے سر اٹھایا اور اوپر دیکھا۔ ارے تو ت تو خزاں کے موسم کے درختوں کی طرح ننگا ہوگیا تھا۔ بکریاں حیران ہوگئیں، بولیں ”توت تمہیں کیا ہوگیا؟۔ کل ہم آئیں تھیں تو تمہارے نیچے ایک پتہ بھی نہیں تھا۔ آج تم نے اپنے سارے پتے گرادیے“۔

توت نے کہا ”تم لوگوں کو نہیں معلوم؟“

چیونٹی مر گئی جاناں چیونٹی مری

چچڑی نے اپنے سر پہ مٹی ڈال دی

دیوار پہ لرزہ طاری ہوا

کبوتر دکھی اور غمگین ہوا

توت نے اپنے پتے گرا دیے

ساری بکریوں نے اپنی داڑھی اکھاڑ پھینکی۔ اور پانی پینے ندی گئیں۔ ندی نے جب انہیں دیکھا تو کہا”تم لوگوں کو کیا ہوگیا؟۔ابھی یہاں سے گزری تھیں تو تم لوگوں کی داڑھیاں  تھیں، اب تمہاری داڑھی نہیں؟“۔

بکریوں نے کہا ”تمہیں نہیں معلوم؟“

چیونٹی مر گئی جاناں چیونٹی مری

چچڑی  نے اپنے سر پہ مٹی ڈال دی

دیوار پہ لرزہ طاری ہوا

کبوتر دکھی اور غمگین ہوا

توت نے اپنے پتے گرا دیے

بکریوں نے اپنی داڑھیاں نوچ پھینکیں

یہ سنتے ہی ندی کا پانی گدلا ہوگیا اور کھیتوں کی طرف بہنے لگا۔ کھیت نے جب پانی کو گدلا پایا تو کہا”ارے ندی تمہیں کیا ہوگیا؟۔ ہر وقت تمہارا پانی شیشے کی طرح صاف رہا۔ آج کیوں اتنا گدلا ہوا؟“۔ ندی نے پوچھا تمہیں نہیں معلوم؟

چیونٹی مر گئی جاناں چیونٹی مری

چچڑی  نے اپنے سر پہ مٹی ڈال دی

دیوار پہ لرزہ طاری ہوا

کبوتر دکھی اور غمگین ہوا

توت نے اپنی داڑھیاں نوچ پھینکیں

بکریوں نے اپنے بال نوچ پھینکے

ندی گدلی ہوگئی

کھیت بہت غمگین ہوا۔ وہ درد سے دوہری ہوگیا۔ اس نے گندم کی فصل ایک طرف جھکادی۔ کسان آیا۔دیکھا تو ساری فصل ایک طرف کو جھکی ہوئی ہے۔ کہا“کھیت تمہیں کیا ہوگیا۔ ابھی چند لمحے پہلے تمہارے خوشوں کو ہوا لہلہا رہی تھی اور اب وہ ایک طرف جھکے پڑے ہیں“۔ اس نے کہا ”تمہیں نہیں معلوم؟“

چیونٹی مر گئی جاناں چیونٹی مری

چچڑی نے اپنے سر پہ مٹی ڈال دی

دیوار پہ لرزہ طاری ہوا

کبوتر دکھی اور غمگین ہوا

توت نے اپنے پتے گرا دیے

بکریوں نے اپنی داڑھیاں نوچ پھینکیں

ندی گدلی ہوگئی

کھیت کو درد ہوگیا

کسان پاگل ہوگیا۔ دوہتھڑ مارتے، بال نوچتے، روتے پیٹتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ کسان کی بیوی بیٹھی تو ا پہ روٹیاں پکا رہی تھی۔ اس نے کسان کو دیکھا،پوچھا ”تمہیں کیا ہوگیا، پاگل تونہیں ہوئے؟“۔ اس نے کہا ”شوم تمہیں نہیں معلوم“:

چیونٹی مر گئی جاناں چیونٹی مری

چچڑی نے اپنے سر پہ مٹی ڈال دی

دیوار پہ لرزہ طاری ہوا

کبوتر دکھی اور غمگین ہوا

توت نے اپنے پتے گرا دیے

بکریوں نے اپنی داڑھیاں نوچ پھینکیں

ندی گدلی ہوگئی

کھیت کو درد ہوگیا

کسان پاگل ہوا

کسان کی بیوی اٹھی اور گرم توا پر بیٹھ گئی۔ وہ جل کر کباب ہوگئی۔۔۔۔اچھی بات یہ ہوئی کہ کسی کو پتہ نہ چلا کہ چیونٹی کون ہے۔

Spread the love

Check Also

کہانی والی خالہ ۔۔۔ جاوید صدیقی

ماگھ کی پہلی مہاوٹ گری تو جلدی جلدی سارے گدے لحاف نکالے گئے۔اُنھیں دھوپ دی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *