Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » سیکرٹری جنرل رپورٹ۔۔۔ جاوید اختر

سیکرٹری جنرل رپورٹ۔۔۔ جاوید اختر

۔1سیاسی رپورٹ.۔ 

 

                عالمی صورتِ حال

روس اور مشرقی یورپ میں کمیونسٹ حکومتوں کے خاتمے کو کپٹلزم کے محافظ پیٹی بورژوااوربورژوا دانشورڈھنڈور چیوں نے تاریخ کے خاتمے سے موسوم کیا۔ یہ واقعہ یقینا عالمی محنت کش تحریک کے لیے بہت بڑادھچکا تھا۔ اس نے  ایک طرف تو عالمی قوتوں کا توازن ون پولر کیپٹلسٹ دنیا کے حق میں کردیا اور دوسری طرف عالمی محنت کش تحریک کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔ یہ ردِ انقلاب یہیں تک نہیں تھا بلکہ افغانستان میں بھی سوشلزم کا قلعہ گر گیا تھا اور کمیونسٹ چین میں بھی کپٹلزم کی مکھیوں مچھروں کی آمد کا دروازہ کھل گیا۔ کپٹلسٹ دنیا میں مزدوروں کے حاصل شدہ حقوق کو غصب کرنے کا سلسلہ مزید تیز ہوا اور استحصال کی مزید ظالمانہ شکلیں اور طریقے سامنے آئے۔ مزدوروں کی تحریکیں جزوی طور پر ابھرتی رہیں، دبتی رہیں۔

کپٹلزم میں معاشی و سیاسی بحرن آتے رہے۔ ان پر مصنوعی طور پر قابو پایا جاتا رہا اور اس کے گورکن یعنی پرولتاریہ کو اس کے مسائل اور استحصالی حالات میں الجھا دیا جاتا رہا۔ اس کی پارٹیاں بنتی رہیں اور ٹوٹتی رہیں۔

کپٹلزم کے بحران کو حالیہ برسوں میں پھوٹنے والی وبا کورونا نے اس قدر تیز کردیا کہ اس سے پہلے کپٹلزم نے اتنے بڑے بحران کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ لاک ڈاؤن نے کپٹلزم کے سارے کارخانے اور کاروبار بند کردیے۔ محنت کشوں کے لیے بھی یہ سال کسی قیامت سے کم نہیں تھے۔ وہ بے روز گاروں کی فوج میں بھرتی ہوتے گئے۔ غربت، بیماری اور موت ایسے عفریت مزید طاقت ور ہوئے اور ان کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا۔

اس بحران نے مزدوروں کے فلسفے کو پہلے سے زیادہ مقبول کردیا۔ سٹڈی سرکلز، تنظیم سازی، ٹرید یونین ازم اور مارکسی تصانیف کی نشرواشاعت اور تراجم میں اضافہ ہوا۔ یونیورسٹیوں میں مارکسزم، مارکسسٹ تھیوری اور مارکسسٹ ادب  نصابوں میں شامل ہوئے اور ان موضوعات پر ریسر چ ورک میں بہت ہی اضافہ ہوا۔ سوشل میڈیا پر بھی مارکسزم ایک غالب حیثیت میں چھایا رہا۔

۔2021میں چین میں کمیونسٹ پارٹی کا صد سالہ جشن منایا گیا۔  پوری دنیا کی کمیونسٹ پارٹیوں نے  اپنے وفد بھیجے اور چینی کمیونسٹ پارٹی کو تہنیت کے پیغامات بھیجے۔چین میں معیشت و سیاست پر آج بھی کمیونسٹ پارٹی کا کنٹرول ہے۔ہرچند کہ اس نے اپنی توسیع پسندی کے تحت مشرقِ بعید کے ممالک اور بلوچستان میں ریکوڈک اور گوادر سی پیک میں ایک ساہوکارانہ کردار ادا کیا ہے۔ چین کے اندر بھی کپٹلزم اس قدر وسیع پیمانے پر اختیار کیا گیاہے کہ ایک ملک میں دو نظام یعنی کپٹلزم اور سوشلزم جو باہم متضاد ہیں، کا ایک ملا جلا مظہر پیدا کردیا ہے۔ چین نے اپنی سستی مصنوعات کے ذریعے دنیا بھر کی کپٹلسٹ مارکیٹ پر اپنی مضبوط گرفت قائم کر لی ہے، جو مغربی اور امریکی کپٹلسٹوں کی آنکھ کا کانٹا ہے۔ اس سے چین اور امریکہ کی زیر قیادت کپٹلسٹ ممالک کے درمیان ایک بہت بڑا کاروباری تضاد پیدا ہوگیا ہے، جوقلیل مدت تک ایک سرد جنگ اور طویل مدت تک تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

اس صورت حال میں پوری دنیا میں محنت کش عوام کے اند ر کپٹلزم کے خلاف زبردست احتجاج اور غصہ پایا جاتا ہے۔ لیکن وہ ٹریڈ یونین بیوروکریسی کی موقع پرستی کی وجہ سے کوئی بڑی تحریک کی شکل اختیار نہیں کرپاتا۔ اور کمیونسٹ پارٹیوں کے نہ ہونے یا ان کی کمزور حالت کی وجہ سے کوئی تحریک انقلاب کی سمت اختیار نہیں کرتی ہے۔

تیسری دنیا میں سیاست بورژوا پاپولسٹ اور سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں سے وابستہ ہے۔ ان میں کچھ قوم پرست ہیں کچھ مذہبی تنظیموں کے پناہ گزین۔ ان میں کچھ ایسے بھی ہیں، جو این جی اوز میں گھس کر عالمی کپٹلسٹ اداروں کی خیرات پر گزر بسر کر رہے ہیں۔ اور کچھ چھوٹے چھوٹے  ٹراٹسکائیٹ دھڑے پاکستان پیپلز پارٹی ایسی بورژوا اور پاپولسٹ پارٹیوں میں محنت کشوں کو جاگیردار اشرافیہ اور بورژوازی کے پلوسے باندھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔یہ سب کے سب موقع پرست عناصر طبقاتی جدوجہد اور انقلاب مخالف ہیں اور کپٹلزم کے اندر انصاف اور مساوات پر مبنی اصلاحات کے خواہاں ہیں،جو سوشلسٹ انقلاب کے بغیر ناممکن ہیں۔

کہیں کہیں تو اس قسم کے عناصر اپنے نظریاتی اختلافات کے باوجود بھی اتحاد و انضمام کے ڈرامے رچاتے ہیں۔ مثلاً کچھ پارٹیاں اس ڈرامے کی مثال ہیں جن میں ٹراٹسکائیٹ اور گرامچین عناصر سے لے کر لبرل، سوشل ڈیموکریٹ اور پاپولسٹ سبھی شامل کیے گئے۔ اس میں مختلف سیاسی رجحانات کا تصادم مختلف شکلیں اختیار کرتا رہا اور ان سب مختلف الفطرت عناصر کو ایک نہ بنا سکا۔ ان دونوں دھڑوں کا مقصد محنت کشوں کو بنتی ہوئی تحریک اور اپنی الٹرالیفٹ انقلابی لفاظی کے پردے میں مارکسزم پر حملہ تھا۔

افغانستان گزشتہ صدی میں قرون وسطیٰ کے عہد سے سوشلزم کے عہد میں جست لگا کر پہنچا تھا۔ اب دوبارہ اپنی معکوس رفتار میں دورِ ظلمت میں دھکیلا گیا ہے۔ اس دوران اسے ایک خون اور آگ کا دریا پار کرنا پڑا۔ 1978میں افغان ثور انقلاب برپا ہوا۔ جس کے بعد وہاں سوشلزم کی تعمیر کا عمل ابھی شروع ہی ہو ا تھا کہ کپٹلسٹ قوتوں نے وہاں ردِ انقلاب کا عمل شروع کردیا۔ آخر کار افغان ثور انقلاب ردِ انقلاب کا شکار ہوا اور وہاں ظلم وبربریت نازل ہوئی جو افغانستان کو ٹرائبلزم کے اند ھیروں میں لے گئی، اس ٹرائبلزم کا کینسر اڑوس پڑوس کے ممالک تک پھیلنے لگا۔ بعد ازاں امریکہ کے پٹھو مسلط کیے گئے۔ 15اگست 2021کو اعلانیہ معاہدے کے بعد امریکہ نکلا۔اور 21صدی کا تعلیم یافتہ کابل قرون وسطیٰ کی  قندھار ذہنیت کے حوالے ہوگیا۔

حکومت بنیاد پرست دہشت گرد ملاؤں اور طالبان کے حوالے ہوگئی۔ کپٹلسٹ نظام افغانستان میں جوں کا توں رہا۔ البتہ ایشیا میں ایک اور بنیاد پرست ملک کا اضافہ ضرور ہوگیا۔ کپٹلزم چونکہ زائد المعیاد ہوگیا ہے، اس لیے اس میں ترقی پسندی اور روشن فکری کے آخری نشانات بھی مٹ گئے ہیں۔ اب اس نے انتہائی بھیانک رجعت پسندی اور فاشزم کا روپ دھار لیا ہے۔لہذا افغانستان میں موجود ہ انتہا پسند فاشسٹ عناصر پر مشتمل حکومت طبقاتی نظام بحال رکھنے کے لیے بہت بہتر کام کرے گی۔ یہ سیٹ اپ جمہوری آزادی، خواتین کے حقوق، تہذیب وثقافت اور ترقی پسندی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ یہ ایک ایسا مرض ہے، جس کا انفیکشن محض افغانستان تک نہیں بلکہ ہمسایہ ممالک عموماً پاکستان کو اور خصوصاًبلوچستان اور خیبر پختونخواہ کو کینسر کی طرح اپنی لپیٹ میں لے گا۔

 

پاکستان

پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت ہر لحاظ سے ناکام اور ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔ جو عالمی و ملکی کپٹلزم کی نمائندہ ہے۔ یہ ملک کے ساحل اوروسائل کو گروی رکھ کر آئی ایم ایف اور چین سے بھاری شرائط پر قرضے لے کر اپنے دفاعی وعسکری اخراجات، وزراء اور سینیٹرز کی عیاشیوں اور بیوروکریسی کی خرمستیوں کے بوجھ تلے روز بروز دبتی جارہی ہے۔ اس کا بجٹ اس کی کھوکھلی معیشت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عوام کوٹیکس، مہنگائی اور غربت وبے روزگاری کے تحفے دیے جارہی ہے،جس کے نتیجے میں معاشی و سماجی اور سیاسی بحران بڑھتا جارہا ہے اور تمام ریاستی ادارے عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ زوال پذیری کی طرف تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں۔ چوری،ڈکیتی اور جنسی جرائم میں ریکارڈ اضافہ حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے حکمران طبقات کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری ہے۔ عوام انتہائی کسمپرسی، معاشی بدحالی اور ذلت کی زندگی جی رہے ہیں۔ ان کی نمائند ہ سیاسی پارٹی نہ ہونے کی وجہ سے وہ عوام دشمن پارٹیوں کو ووٹ دینے پر مجبور ہیں۔ محنت کشوں کی ٹریڈ یونین تحریک ٹریڈ یونین قیادت کی افسر شاہی کے ہاتھوں یر غمال ہے، جو ہر عوامی تحریک، ہڑتال اور دھرنے کے ذریعے سرمایہ داروں سے محنت کشوں کی تقدیر کا سودا کرتی ہے۔ اور انہیں انقلابی تحریک بننے سے روک دیتی ہے۔ اسی طرح کسانوں کی حالت بھی بہت ناگفتہ بہ ہے۔ ان کی کسان تنظیمیں برائے نام ہیں۔ لہذا کئی دہائیوں سے کوئی کسان تحریک ابھرنے نہیں پائی ہے۔ طلباء کی فیسوں میں اضافے، کتابوں کی گرانی، آن لائن ٹیسٹوں میں دھاندلی نے طلباء تحریک کو پورے ملک میں منظم کر دیا ہے  لیکن یہاں بھی روایتی قسم کی طلباء تنظیمیں طلباء تحریک کے فروغ میں رکاوٹ ہیں۔

پاکستان میں عسکریت زدہ جمہوریت ہمیشہ گھٹن کے ماحول میں رہی ہے۔ اس پرسب سے منظم سیاسی جماعت یعنی فوج کی بالادستی ہے۔ تاریخی طور پر اس کی بنیادیں برطانوی سامراجیت کے عہد میں پیوست ہیں۔  اس کی تربیت قومی انداز میں نہیں بلکہ سامراجی پالیسیوں کے تسلسل کے نتیجہ میں ہوئی۔ اس لیے اس کا عالمی بورژوازی سے کوئی تضاد نہیں بلکہ یہ سامراجی حکمت عملیوں کا حصہ رہی ہے۔

جدید نو آبادیاتی نظام کی واحد قوت سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ، جوبراہ راست امریکی سامراج کے ساتھ ساتھ عالمی سامراجی دفاعی اداروں کے ساتھ نتھی ہے۔ گزشتہ ستر سالوں میں سول اورملٹری بیوروکریسی اقتدار پر براجمان ہے اور جونیئر پارٹیز کے بطور مختلف سیاسی جماعتیں گھڑ کر انہیں اقتدار میں لاتی ہے، یا پھرگھر بھیجتی ہے۔

 

 بلوچستان

بلوچستان بہت محکوم ہے۔ اس کے ساحل اور وسائل پر بلوچ عوام کا کوئی حق تسلیم نہیں کیا گیا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک جنگی صورتحال چل رہی ہے۔ ہزاروں لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ سینکڑوں لوگوں کو ماورائے قانون مسخ کر کے قتل کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بلوچستان کے دیہی علاقے تباہ وبرباد ہوکر رہ گئے ہیں اور قصبے اور شہر ار بنائزیشن میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔

بلوچستان کی آبادی اپنے آبائی دیہاتوں کو چھوڑ کر شہروں کوئٹہ، ڈیرہ غازیخان، حب، گوادر اور خضدار وغیرہ میں منتقل ہونے پر مجبور ہوئی ہے۔ یہ مائیگریشن غریب طبقے کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس اور اشرافیہ طبقے پر بھی مشتمل ہے۔ اس کی وجوہ میں روز گار کا حصول، تعلیم،صحت،تحفظ اور شہری سہولتوں کی فراہمی ہیں۔ لیکن شہری ماحول انہیں ایڈجسٹ نہیں کر رہا ہے۔ سرکاری نوکریاں ناپید ہیں، صنعت نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر بھی نہیں ابھرا ہے۔ لہذا اس دیہاتی آبادی کا شہر مین Proletarianisation کا عمل بھی ابھی تک ایک عبور سے گزر رہا ہے۔ یہاں پرولتاریہ تو وجود میں نہیں آیا ہے لیکن لمپن پرولتاریہ اور نیم پرولتاریہ یک بڑی تعداد میں ابھر آیا ہے ۔یہ طبقہ شہروں میں بھی ایڈجسٹ نہیں ہوپارہا ہے۔ اس کی بے چینی بھی سماجی انتشار کا سبب بن رہی ہے۔

دیہی بلوچستان میں خصوصاً کچھی نصیر آباد میں کسانوں، کھیت مزدوروں اور موروثی بزگروں کی حالت بھی جوں کی توں ہے اور صدیوں سے ان کی زندگی میں کوئی بہتری پیدا نہیں ہوئی ہے۔ یہاں بھی جاگیرداروں نے کسی کسان تحریک کو ابھرنے نہیں دیا ہے۔ اور کسانوں کے معمولی احتجاجی مظاہروں کو طاقت کے ذریعے دبائے رکھا ہے۔

بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ملاحوں اور ماہی گیروں کی ان کے علاقوں سے بے دخلی اور marginalisationکا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اور ان کی معاشی حالت روز افزوں تباہی کا شکار ہورہی ہے۔

بلوچستان میں مال بانی اور لائیوسٹاک کی روایتی صنعت تباہ وبرباد  اور ناکافی ہوتی جارہی ہے۔ حکومت نے شیپ فارمنگ، پولٹری فارمنگ، اور لائیوسٹاک کی دیگر صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا ہے۔ لہذا غریب مال دار، بارانی زراعت کار، اور چرواہے نان شبینہ سے ہاتھ دھوتے جارہے ہیں۔

بلوچستان میں سکولوں کی حالت ابتر ہے۔ سڑکیں برائے نام ہیں۔گیس، بجلی اور پانی کی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں،ہسپتال اور ہیلتھ سنٹرز دور دور تک ناپید ہیں اگر کہیں ہیں بھی تو نہ ان میں عملہ ہے، نہ دوائی اور نہ دیگر علاج معالجے کی سہولتیں۔

 

۔2۔ سنگت تنظیمی رپورٹ

 

سنگت اکیڈمی آف سائنسز نے مشکل صورتِ حال میں بھی باقاعدگی سے پوہ زانت، سنٹرل کمیٹی اور جنرل باڈی کے اجلاسوں کا انعقاد کیا۔ فیکلٹیز کا کام بھی بہت آگے گیا۔ لیکن ان سب کے دو تین اجلاسوں کے بعد 2020کے اوائل میں دنیا بھر میں کرونا کووڈ 19کے پھیلاؤ نے جہاں زندگی کے دیگر شعبوں کو متاثر کیا وہاں علمی، اور سائنسی اور سیاسی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ اس بحرانی کیفیت میں سنگت کی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ لہذا اس دوران سنگت نے اپنی سرگرمیوں کو آن لائن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں سنگت کے تین پوہ زانت اجلاس آن لائن منعقد ہوئے۔

جب لاک ڈاؤن میں قدرے نرمی ہوئی تو سنگت نے آن لائن کے بجائے دوبارہ کھلے عام اپنی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔اس سلسلے میں سنگت پوہ زانت اجلاسوں میں خواتین کے عالمی روز کی مناسبت سے ایک نشست مختص کی گئی۔ عطا شاد کی زندگی، شاعری اور کام پر بھی ایک یاد گار مذاکرہ کیا گیا۔ قومی زبانوں کے عالمی دن پر بھی ایک پوہ زانت منعقد کیا گیا۔ علاوہ ازیں شاعری اور افسانہ کی کچھ تنقیدی نشستیں بھی منعقد کی گئیں۔

آہستہ آہستہ پوہ زانت اجلاس کو محض شعرو ادب، کہانی اور افسانہ کے دائرے سے باہر نکال کر سوشل اور نیچرل سائنسز کی لامحدود دنیا تک پھیلانے کی کاوشیں کی گئیں، جو بہت قابلِ ذکر کامیابی سے ہم کنار ہوئیں۔

یہاں سائنس (خصوصاً فزکس) پر لیکچرز کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا۔ سنگت سنٹرل کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے ہوتے رہے،جن کی کل تعداد آٹھ رہی۔ ان میں اہم فیصلے کیے گئے۔ ستمبر2021ء میں منعقدہ اجلاس میں سنگت آئین میں رکنیت کی شرائط اور ذمہ داریوں کے سلسلے میں اہم ترامیم کی منظوری دی گئی۔ ایک اور اجلاس میں فیکلٹیز کے بارے میں بھی فیصلے کیے گئے

اسی طرح جنرل باڈی اجلاس بھی باقاعدگی سے منعقد ہوئے، جن کی تعداد آٹھ رہی۔ان میں سنٹرل کمیٹی کے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ پوہ زانت کے انعقاد، معیار اور کوالٹی کے بارے میں بحث و مباحثہ ہمیشہ جاری رہا اور اہم فیصلے کیے گئے،

۔1۔ کلچر، لٹریچراور آرٹس فیکلٹی

۔2۔ ہیلتھ فیکلٹی

۔3۔ ایجوکیشن فیکلٹی

۔4۔ میڈیا فیکلٹی

۔5۔پوہ زانت فیکلٹی

ہیلتھ فیکلٹی نے 2020میں کرونا وبا سے نمٹنے اور اس سے بچنے کے سلسلے میں بہت اہم کردار سرانجام دیا اور اس نے اپنے اجلاس میں سنگتوں اور عوام کو اس وبا کے بارے میں آگہی فراہم کی۔ اس کے کل چار اجلاس ہوئے۔لیکن وہ آہستہ آہستہ غیر فعال ہوگئی اور پیپلز ہیلتھ پالیسی مرتب کرنے میں ناکام رہی۔

ایجوکیشن فیکلٹی، جو سب سے پہلے قائم ہوئی اس نے شروع میں بہت فعال کردار ادا کیا اور پیپلز ایجوکیشن پالیسی مرتب کر کے شائع کی اور اس کی کاپیاں بڑے پیمانے پر تقسیم کی گئیں۔ لیکن یہ بھی آہستہ آہستہ غیر فعال ہو کر رک گئی۔

کلچر، لٹریچر اور آرٹس فیکلٹی بھی کوئی موثر کردار ادا نہیں کرسکی اور دو تین رسمی اجلاس کر کے ساکت ہوگئی۔ میڈیا فیکلٹی ایک اجلاس کے بعد  ہی غیر فعال ہوگئی۔

تب فیصلہ کیا گیا کہ، ان ساری غیر فعال فیکلٹیز کو سنگت کی نئی قیادت دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کرے گی۔ ان کا از سر نو جائزہ لے کر انہیں دوبارہ منظم کرے گی، جس کی اشد ضرورت ہے۔

 

قراردادیں

قرارداروں کے سلسلے میں سنگت نے ہرپوہ زانت میں عوامی مسائل اور ان کے حل کے سلسلے میں قرار دادیں مرتب کر کے انہیں منظور کیا، جو ایک بہت موثر اور فکر انگیز اقدام ہے۔ اور یہ سلسلہ آنے والی سنگت قیادت بھی جاری رکھے گی۔

ممبرشپ:۔

سنگت اکیڈمی کی ممبر شپ میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوا ۔ جس میں بہت سے نئے نوجوان شامل ہوئے ہیں۔ اور ممبر شپ کوانٹٹی کے ساتھ ساتھ کوالٹی بھی بہتر ہوئی۔ اگر چہ ارکان کی نظریاتی اور عملی صلاحیتوں کو مزید بہتر کرنے کی اب بھی اور نئی ممبر شپ کرنے کی بھی ضرورت ہوئی۔

سنگت میگزین گزشتہ ایک سال سے سرکاری اشتہارات کے بغیر اپنی مدد آپ کے تحت باقاعدگی سے شائع ہوتارہا ہے۔ وہ کرونا لاک ڈاؤن کے زمانے میں بھی تعطلی کا شکار نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں اس کی سالانہ ممبر شپ فیس کے لیے ایک لائحہِ عمل مرتب کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی ابھی تک وہ مالی مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔ اس کے باوجود بھی سنگت میگزین کا نظریاتی کانٹنٹ اور اداریہ روز بروز نکھرتے جارہے ہیں۔ اس کے ہر شمارے میں نظریاتی مضامین، اداریہ اور تنظیمی رپورٹیں اس کے معیار کو زیادہ سے زیادہ بہتر اور بلند کرتے جارہے ہیں۔ فکشن اور شاعری کا پورشن بھی زیادہ سے زیادہ نظریاتی کنٹنٹ پر مبنی ہے، جس میں ادبی و جمالیاتی چاشنی کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جارہا ہے۔ جیسا کہ سنگت آئین میں درج ہے کہ” ہر سنگت رکن کا فریضہ ہے کہ اسے پڑھے، اس میں لکھے، اس پر رائے دے اور اس کی تشہیر و فروغ کر کے اس کے نئے نئے ممبر بنائے۔تاکہ  اسے زیادہ سے زیادہ آزاد، خود مختار اور خود کفیل بنایا جاسکے۔”

سنگت مطبوعات کی اشاعت بھی باقاعدگی سے جاری رہی۔اس میں عشاق کے قافلے، تراجم، پیپلز ہسٹری آف بلوچستان سیریز، اور کچھ کتابوں کی دوبارہ اشاعت ہوئی ہے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اس سلسلے میں تازہ کتابوں میں سے پری ہسٹاریکل بلوچستان، قبائلی وفیوڈل بلوچستان، نو آبادیاتی بلوچستان، تراجم میں سوویت ادب، سپارٹیکس اور ٹام پین منظر عام پر آچکی ہیں۔ مست تؤکلی، امین کھوسہ زیرِ اشاعت ہیں۔ سنگت اکیڈمی آف سائنسز کے تحت بلوچستان کے زبان و ادب اور کلچر پر ریسرچ کا کام جاری ہے۔ اس نے پہلی بار پیپلز  ہسٹری آف بلوچستان کی سلسلہ وار اشاعت کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ نیز پیپلز ہسٹری کا ایک بہت ہی اہم پورشن پیپلز بائیو گرافی ہے، جسے عشاق کے قافلے کے زیرِ عنوان ایک لامتناہی سلسلے کے طور پر سب سے پہلے سنگت اکیڈمی آف سائنسز نے شروع کیا ہے، جس کی بے شمار جلدیں شائع ہوچکی ہیں اور بہت سی جلدیں ابھی تک اشاعت کے انتظار میں ایک لمبی قطار میں کھڑی ہیں۔

بلوچستان سنڈے پارٹی، جو کہ گزشتہ تین دہائیوں سے ایک نظریاتی پلیٹ فارم کی حیثیت سے سنگت اکیڈمی آف سائنسز سے آزاد اور خود مختار تنظیم کے طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، اس کی مزید فعالی اور خود مختاری کے پیش نظر اس کا انتظام و انصرام جمیل بزدار، کلثوم بلوچ، جاوید اختر، سمیع ساحل اور شاہد عمرانڑیں پرمشتمل آرگنائزنگ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے اور وہ اس کی سرگرمیوں کو نہایت ہی شدومد سے جاری رکھے ہوئے ہے۔

سنگت اکیڈمی آف سائنسز نہ صرف بلوچستان کی ایک نظریاتی تنظیم ہے بلکہ وہ تھنک ٹینک اور بحث و مباحثہ کا پلیٹ فارم ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی ایک قومی و عوامی تنظیم اور ادارہ بھی ہے۔ وہ بلوچستان میں ہونے والے عوامی مظاہروں، ہڑتالوں، دھرنوں اور دیگر سرگرمیوں میں شریک رہی ہے۔ اس کے ارکان پر مشتمل ایک وفد نے پیرامیڈیکل کی ہڑتال اور دھرنے میں شریک ہو کر ہڑتالیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ ہزارہ برادری کے دھرنوں میں بھی ہمیشہ شریک ہو کر سنگت ارکان نے اسے اظہار یجہتی کیا۔ بلوچستان گرینڈ ایمپلائز کی تیرہ دنوں کی طویل ہڑتال میں بھی سنگت وفد نے شرکت کر کے اس سے اظہار یکجہتی کیا۔ جھٹ پٹ میں ہاریوں اور کسانوں کے ایک پر امن مظاہرے میں سنگت ارکان نے شرکت کی۔ عوامی ورکرز پارٹی سندھ کے رہنما سنگار نوناری کی گم شدگی کے خلاف سانگھڑ کے ایک مظاہرے میں سنگت کے رہنماؤں نے شرکت کر کے مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا۔ اسی طرح عثمان کاکڑ کی شہادت کے موقع پر چلڈرن ہسپتال کوئٹہ جا کر اس کا آخری دیدار کیا اور مسلم باغ جا کر اس کی فاتحہ خوانی میں شرکت بھی کی۔

سنگت اکیڈمی آف سائنسز اپنے ارد گرد ہونے والی سیاسی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہے۔ کیوں کہ وہ ایک عوامی محاذ بھی ہے اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں نظریاتی اور عملی طور پر شریک ہے۔ اور عوام کے شانہ بہ شانہ طبقاتی، قومی، جمہوری اور صنفی حقوق کی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔ اس کی منزل ایک ایسے سماج کو قائم کرنا ہے، جس میں انفرادی، قومی، صنفی اور طبقاتی استحصال نہ ہو۔

 

۔3۔۔فنانشل رپورٹ

 

گذشتہ کابینہ نے موجودہ قیادت کو 8900روپے حوالے کیے تھے۔بعد میں موجودہ کابینہ نے 36650روپے جمع کیے،جو سابقہ رقم کے ساتھ 45550روپے ہوگئے۔اس رقم میں 11200روپے خرچ ہوئے اور باقی 25450روپے موجودہ کابینہ نے آنے والی کابینہ کے حوالے کردیے ہیں۔

Spread the love

Check Also

قدرتی آفات اور حکمران طبقات ۔۔۔ جمیل بزدار

وہ ندی کے کنارے ایک کچے مکان میں رہتا تھا۔  ندی کا پانی وہ اپنے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *