Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » خلافت کا مجاور ۔۔۔ جاوید صدیقی

خلافت کا مجاور ۔۔۔ جاوید صدیقی

روز نامہ خلافت کا دفتر دو کمروں پر مشتمل تھا۔ ایک کمرہ جس میں ایڈیٹر،سب ایڈیٹر اور مترجم بیٹھا کرتے تھے۔ اور دوسرا چھوٹا کمرہ جس میں سات آٹھ کاتب اونچے تخت پر رنگ اترے ہوئے چمڑے کی پرانی گدّیوں پر دیوار سے کمر لگائے اِس طرح رکھے ہوتے تھے جیسے کارڈ بورڈ کے ڈبّے میں آم چُن دیئے جاتے ہیں۔ ایک گھُٹنا کھڑا ہوا جس پر زیر مشق رکھا ہوتا تھا۔ زیر مشق وہ موٹا سا مگر قدرے نرم PADہوتا تھا جس پر پیلے رنگ کا مسطر (کتابت کا کاغذ) پھیلا ہوتا تھا اور اُس پر میلے گندے چپکتے ہوئے قلموں سے حرفوں کے ہیرے تراشے جاتے تھے۔ اِن تمام کاتبوں میں سوائے اس کے کہ وہ کاتب تھے کوئی چیز مشترک نہیں تھی،سب کے سب اپنا نمونہ آپ ہی تھے۔ دروازے کے پاس تخت کے پہلے کونے پر رؤف ارسلان بیٹھا کرتا تھا،پتلا،دُبلا، لمبا چہرے پر گوشت کا نام و نشان نہیں،سر پر چھوٹے چھوٹے بال جو ہر وقت کھڑے رہتے تھے۔ اس کی آنکھیں دیکھ کر لگتا تھا کہ بے حد غصّے میں ہے اور اگر کسی نے بات کی تو مار بیٹھے گا۔ دیکھتا بھی اس طرح تھا جیسے گھور رہا ہو۔ بہت کم بولتا تھا مگر جب بھی بولتا تھا تو آواز کی تیزی اور لہجے کی تُندی ڈنک مارتی تھی۔ پتہ نہیں وہ ایسا کیوں تھا۔ میری اس کی دوستی کبھی نہ ہو سکی ورنہ ضرور پوچھتا کہ اُس پرکیا گزری ہے جس نے اس کے وجود میں کڑواہٹ بھر دی ہے۔

رؤف کے برابر اعظم گڑھ کارہنے والا رفیق بیٹھا کرتا تھا۔ بہت معصوم صورت شکل کا صاف ستھرا لڑکا تھا۔ پانچوں وقت کی نماز پڑھتا تھا اور نماز کے بعد انگلیوں پر گن کر کوئی وظیفہ بھی پڑھا کرتا تھا۔ اس کی تمنا تھی کہ وہ کسی دن بڑی سرخی لگائے۔ مگر بڑی سرخی کی کتابت ابو بکر کیا کرتا تھا۔ بڑی سُرخی لگانا آسان نہیں ہوتا۔ ایک ایک حرف ڈیڑھ سے دو انچ بڑا ہوتا تھا اور بانس کے موٹے قلم سے لکھا جاتا تھا۔ لفظوں کو اس طرح ناپ تول کر بیٹھا یا جاتا تھا کہ سرخی پورے آٹھ کالم پر پھیل جائے اور ایک بھی حرف نہ کٹے اور نہ باہر جائے۔ یہ ایک مشکل فن تھا جس کے لیے خطاطی کی لمبی ٹریننگ کی ضرورت ہوتی تھی۔ اب تو یہ کام کمپیوٹر کی مدد سے بہت آسانی سے ہو جاتا ہے مگر اُس زمانے میں اچھے اچھوں کے ہاتھ لرز جایا کرتے تھے۔

کاتبوں کے اس انبوہ میں اور بھی کئی دلچسپ شخصیات تھیں، جن میں موٹا ابو بکر تھا اُس کو اگر کوئی چھوٹی خبر کتابت کے لیے دی جاتی تو دینے والے کو اِس طرح دیکھتا جیسے دل میں گالی دے رہا ہو، اُس کا خیال تھا کہ وہ بہترین خوش نویس ہے اور اس کو چھوٹے موٹے کام نہیں دئیے جانے چاہئیں وہ صرف بڑے کاموں کے لیے ہے جیسے کہ آٹھ کالم یا پانچ کالم کی ہیڈ لائن یا پھر کوئی بڑا سا اشتہار جس میں وہ اپنے ہنر کا مظا ہرہ کر سکے۔ایک منحنی بوڑھے سیّد اختر حسین تھے جو کتابت کم کرتے تھے اپنا چشمہ زیادہ صاف کرتے تھے مگر اُن کا خط بڑا صاف اور روشن تھا، پڑھتے وقت آنکھوں کو بھلا لگتا تھا۔ایک لطیف صاحب بھی تھے جو بچپن میں پولیوکا شکار ہو گئے تھے اس لیے لنگڑا کے چلتے تھے، کاتب تو اچھے نہیں تھے مگر محنتی بہت تھے اور کافی تیز لکھا کرتے تھے اِس لیے اندر کے صفحات کے لیے جو لمبے لمبے مضامین ہوا کرتے تھے اُن کے سپرد کر دیے جاتے۔اور بھی کئی لوگ تھے مگر میں جس شخصیت کا آپ سے تعارف کرانا چاہتا ہوں وہ تھے عبدالحمید سنبل،کمرے کا کونا اُن کی جاگیر تھا ایک میلا سا تکیہ دوہرا کر کے کمر اور دیوار کے بیچ میں پھنسا لیا کرتے تھے اورنہایت خاموشی سے کتابت کرتے رہتے تھے اور اگر کتابت کے لیے کچھ نہ ہوتا تو خطّا طی کی مشق کیا کرتے،بانس کا ایک بڑا سا قلم جس کا قط دو انچ سے کم نہ ہوگا پانی سے بھرے پیالے میں ڈبو کر لکڑی کی تختی پر حروف بنایا کرتے تھے پانی سے بنا حرف پل بھر میں سوکھ کر غائب ہو جاتا۔ تختی خالی ہو جاتی اور وہ پھر دائرے بنانے لگتے۔ سین،صاد اور نون کے دائرے اس قدر مکمل اور یکساں ہوتے کہ پرکار سے ناپو تو بھی فرق نہ ملے،کہتے تھے کہ تمام حروف میں سب سے مشکل الف کا لکھنا ہوتا ہے۔ الف کی نوک اور دُم یکساں ہونی چاہیے اور جسم اتنا سڈول ہو کہ نظر پھسل جائے۔

کہتے بھی تھے اور لگتے بھی تھے کہ ایرانی النسل ہیں، بادامی آنکھیں،وقت کی دھوپ میں جھُلسا ہوا رنگ جو کبھی سرخ و سفید رہا ہوگا، سر پر چھوٹے چھوٹے بال جنھیں دیکھ کر لگتا تھا کہ سونے کا رنگ اڑ گیا ہے، زیر مشق پر جھکے جھکے کندھے بھی جھک گئے تھے جس کا احساس خود ان کو بھی تھا اس لیے جب چلتے تو تن کر چلتے تھے، سنائی بہت کم دیتا تھا،کان کے پاس منہ لے جا کر کچھ کہا جائے تو سن لیا کرتے تھے، مگر انھیں اپنے بہرے پن پر کوئی افسوس نہیں تھا اکثر کہا کرتے تھے

”میں فالتو باتیں نہیں سنتا۔!“

ان کی نجی زندگی کے بارے میں کبھی کسی کو کچھ بھی معلوم نہ ہو سکا۔وہ کہاں پیدا ہوئے،تعلیم کہاں پائی، خطاطی کہاں سیکھی،یہاں تک کیسے پہونچے،کوئی نہیں جانتا۔بس اُتنا ہی معلوم ہے جتنا انھوں نے بتایا۔

ایک بار میں نے پوچھا۔

”آپ شعر بھی کہتے ہیں۔؟“

جواب ملا ”شعر پڑھتا بھی نہیں ہوں۔!“

”تو پھر یہ سنبل کیا ہے؟ کیا تخلص نہیں ہے۔؟“

فرمایا ”پورا نام عبد الحمید سنبل زادہ ہے مگر بمبئی کی مرطوب اَب و ہوا میں سکڑ کر صرف سنبل رہ گیا ہے۔!“

چھڑے چھانٹ آدمی تھے کبھی گھر بنانے یا بسانے کی کوشش نہیں کی۔اُن کی دنیا چمڑے کا ایک پرانا سوٹ کیس اور لپٹے ہوئے بستر پر مشتمل تھی۔ یہ دونوں چیزیں خلافت پریس کے ایک کونے میں رکھی رہتی تھیں۔ سوٹ کیس سویرے کھلتا اور بستر صرف رات کو کھلتا تھا۔ سوٹ کیس میں دو تین ہاتھ کے دھلے ہوئے کپڑے رہتے تھے ایک جوڑاذرا اچھے کپڑوں کا ہمیشہ لانڈری میں رہتا تھا جس کو پہننے کا نمبر اتوار کے اتوار آیا کرتا تھا۔

سنبل صاحب عیسائی نہیں تھے مگر اتوار کے دن ان کی تیاری ایسی ہو تی تھی جیسی نیک عیسائی چرچ جانے کے لیے کرتے ہیں۔ سویرے ہی ایک ٹوٹے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر چھ دن کی بڑھی ہوئی داڑھی کو صاف کرتے،پورے جسم کو صابن سے رگڑ رگڑ کے چمکاتے،سر پر تیل لگاتے،لانڈری سے لایا ہوا استری اور اسٹارچ والا جوڑاپہنتے اور روانہ ہو جاتے۔ اُن کا چرچ مہا لکشمی ریس کورس تھا اور گھوڑوں کی ریس اُن کی عبادت۔ ریس میں جانے سے پہلے وہ ایک چھوٹا سا کتابچہ لے کے بیٹھ جا تے جس میں گھوڑ دوڑ کی تفصیل درج ہوتی تھی۔ کس ریس میں کون کون سے گھوڑے دوڑ رہے ہیں۔ ان کے ریکارڈز کیاہیں۔ پچھلی ریس میں انھوں نے کیا بھاؤ دیا تھا اور اس بار کس کے جیتنے کے امکا نات زیادہ ہیں یہ سب انھیں زبانی یاد رہتا تھا۔ یہی نہیں گھوڑوں کے شجرے بھی اِس طرح بیان کرتے کہ لوگ اپنے خاندان کے بزرگوں کا ذکر بھی کیا کریں گے۔کسی بھی گھوڑے کا نام لیجیے،سنبل صاحب فوراً بتا دیں گے کہ اُس کی ماں کون تھی باپ کون تھا ٹرینر کون ہے اور مالک کون ہے۔کتنی بار میدان میں اتر چکا ہے۔ اور کتنے کپ جیت چکا ہے۔

خلافت چوں کہ روز نامہ تھا اس لیے سارے کاتبوں کی چھٹی ایک ساتھ نہیں ہوتی تھی بلکہ ان کے دن بانٹ دیے گئے تھے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ بزرگ

خوش نویس اختر حسین نے منیجر سے اتوار کو چھٹی دینے کی درخواست کی۔ منیجر نے سنبل صاحب کو بلا کر کہا۔

”آپ اپنا اتوار اختر صاحب کو دے دیجیے اوراِن کی جگہ جمعہ کو چھٹی کر لیجیے۔“

جب کئی کوششوں کے بعد مسئلہ ان کے کانوں سے گزر کر دماغ تک پہونچا تو فرمایا۔

”نوکری چھوڑ سکتا ہوں اتوار نہیں چھوڑ سکتا۔!“

مجھے یاد نہیں کہ ان کو گھوڑوں سے محبت کا کوئی معقول صلہ کبھی ملا ہو۔ بس ایک بار ایسا ہوا تھا کہ سنبل صاحب بالکل نئے کپڑوں اورنئے چپّل میں دکھائی دیئے تو میں نے پوچھا۔

”کیا بات ہے سنبل صاحب۔آج تو بڑے چمک رہے ہیں؟“

کچھ شرماکر بولے ”گھوڑی دوڑ گئی تھی۔“

میں ایک زمانے تک یہی سمجھتا رہا کہ ریس ان کا واحد شوق ہے مگر ایسا نہیں تھا،موصوف کو اور بھی کئی بیماریاں تھیں۔روز شام کو یہ کہہ کر غائب ہو جاتے کہ

”چائے پی کر آتا ہوں۔“

ایک دن دیر تک نہیں آئے اور پہلی کاپی پریس بھیجنے کا وقت ہو چکا تھا تو میں نے پوچھا۔

”ارے یہ سنبل صاحب کہاں چلے گئے ایک اشتہار اب بھی باقی ہے۔“

رؤف ارسلان جو ہمیشہ دنیا سے بیزار بیٹھا رہتا تھا جھلّا کر بولا۔

”مٹکا لگانے گیا ہوگا۔ اور کہاں جائے گا!“

اس دن مجھے پتہ چلا کہ مٹکا بمبئی کے جواریوں کی زبان میں سٹّا کھیلنے کو کہتے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا کہ کہیں کوئی صاحب ہیں جو ایک مٹکے میں تاش کی گڈی ڈال دیتے ہیں اور پھر تین پتّے نکالتے ہیں۔ لوگ اُن تین پتّوں کے نمبروں پر کروڑوں روپے لگاتے ہیں اگر اندازہ صحیح بیٹھ جائے تو دوگنا چوگنا بلکہ کبھی کبھی ۹ گنا زیادہ ملتا ہے۔

سنبل صاحب واپس آئے تو میں نے پوچھا۔

”کیا لگایا؟“

مسکراکے آنکھیں چمکائیں اور آواز دبا کر بولے

”مِنڈی (زیرو) سے پنجا لگا یا ہے، دعا کیجیے کہ آجائے۔“

ایک دن میں نے دیکھا کہ وہ کمپاؤنڈ میں کھیلتی ہوئی میری چار سال کی بچی سے باتیں کر رہے ہیں۔میں نے پوچھا تو بچی نے بتا یا

”سنبل انکل پوچھ رہے تھے تمہیں گنتی آتی ہے؟میں نے کہا جی آتی ہے تو کہنے لگے کوئی نمبر بتاؤ میں نے بتا دیا تووہ چلے گئے۔“

میں بہت ہنسا۔ یہ جواری بھی بے چارے اندھیرے میں تیر مارنے والے ہوتے ہیں اس لیے نشانہ کبھی کبھار ہی لگتا ہے۔

میرا مشاہدہ ہے کہ جوا کھیلنے والے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو محنت کے بغیر دولت کمانا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو THRILLSکے لیے شوقیہ کھیلتے ہیں۔ سنبل صاحب شاید دوسری قسم کے جواری تھے کیونکہ دولت کی لالچ کرتے کبھی نہیں دیکھا۔اگر وہ چاہتے تو اپنے ہنر سے ہی لاکھوں کما سکتے تھے مگر پتہ نہیں کیوں انھوں نے خطاطی جیسے عظیم فن کو اپنے شوق تک ہی محدود رکھا۔

ایک بار میں نے انھیں عالمگیر کے زمانے کے مشہور خطاط الماس رقم کی ایک وصلی دکھائی(خوشخط لکھا ہوا شعر یا قطعہ) جو ایک انگریزی رسالے میں شائع ہوئی تھی۔ سنبل صاحب نے وہ رسالہ دیکھنے کے لیے مانگ لیا اور جب آٹھ دن بعد واپس کیا تو اُ س کے اندر اُن کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک وصلی تھی جو کسی طرح بھی الماس رقم سے کم نہیں تھی،اتنی صلاحیت کے با وجود پتہ نہیں کیوں وہ خلافت ہاؤس کے محدود دائرے میں کسی پرانے پیڑ کی طرح جمے ہوئے تھے اور خوش نظر آتے تھے۔ بولتے کم تھے شاید اس لیے کہ سنتے بھی کم تھے مگر جب بولتے تھے تو ان کی ذہانت اور ظرافت کے جوہر کھل جا تے تھے۔

یہ اس زمانے کی بات ہے جب فلم ”کوہ نور“ ریلیز ہونے والی تھی۔زور دار پبلسٹی ہو رہی تھی۔ سارا شہر HOARDINGSسے اور اخبا رات اشتہاروں سے بھرے پڑے تھے۔ خلافت کو بھی پورے ایک صفحے کا اشتہار ملا تھا۔ اشتہار سنبل صاحب کے سپرد کیا گیا اور ہدایت دی گئی کہ اپنے فن کا کمال دکھا دیں۔ مگر دوسرے دن صبح جب اخبار آیا تو خلافت ہاؤس میں تہلکہ مچ گیا۔ اشتہار میں کوہ نور کی جگہ لکھا تھا ”کوہ لوز“خلافت کمیٹی کے سکریٹری اور خلافت اخبار کے اعزازی مدیر زاہد شوکت علی صاحب کو خبر ہوئی تو وہ نیچے آئے اور کتابت خانے میں جا کر سنبل صاحب کو گالیاں دینے لگے۔ اور بات بھی گالیاں دینے والی ہی تھی کیوں کہ کئی ہزار روپے کا اشتہار تھا اور غلطی ایسی تھی کہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی کی طرف سے ایک روپیہ ملنے کا بھی امکان نہ تھا۔ خلافت جیسے چھوٹے اخبار کے لیے نقصان بہت بڑا تھا اس لیے زاہد صاحب کا غصّہ حق بجانب تھا۔ جتنی دیر تک زاہد صاحب سنبل صاحب کی سات پشت کو نوازتے رہے وہ چپ چاپ آنکھیں جھپکاتے رہے اورزاہد صاحب کی شکل دیکھتے رہے۔ جب ایک چیختے چلاتے منہ سے جھاگ اڑاتے زاہد صاحب چلے گئے تو سنبل صاحب نے جھک کر ابو بکر سے پوچھا۔

”یہ زاہد صاحب زور زور سے ہاتھ ہلا کر کیا بول رہے تھے۔؟“

ابو بکر نے اپنا منہ ان کے کان میں گھسا دیا اور چیخ کر بولا۔

”گالیاں دے رہے تھے آ پ کو… یہ کیا لکھا ہے آپ نے۔؟“

اس نے اخبار کھول کر سامنے رکھ دیا۔ سنبل صاحب نے اشتہار دیکھا اور سر ہلا کر بولے۔

”بس اتنی سی بات!“

”یہ اتنی سی بات ہے۔؟“ ابو بکر نے جھلّا کر کہا

سنبل صاحب نے بہت افسوس کے ساتھ کہا

”ایک نقطے کے لیے اتنی بے نقط سنانے کی کیا ضرورت تھی۔ ٹھیک کر دیا جا ئے گا۔!“

دوسرے دن اشتہاروں والے صفحے پر ایک چو کھٹا نظر آیا جس کے بیچ میں ایک بہت بڑا سا نقطہ بنا ہوا تھا اور نیچے لکھا تھا۔

”یہ وہ نقطہ ہے جو کل کی اشاعت میں غلط جگہ لگ گیا تھا۔ قارئین تصحیح کر لیں فلم کا نام ”کوہ نور“ ہے۔“

سنبل صاحب کی قسمت یاور تھی یا پبلسٹی دینے والے کی حسِّ مزاح کا طفیل تھا کہ اشتہار کے پیسے نہیں کاٹے گئے۔

جملے بازی کرنے اورفقرے کَسنے میں استاد تھے۔کبھی کبھی جملہ بہت اچھا ہوتا تھا مگر ابتذال کی حدوں کو چھو لیتا تھا۔ایک با راُ ن سے کسی نے پوچھا

”سنبل صاحب آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟۔“

سنبل صاحب نے بہت سنجیدگی سے فرمایا

”کاتبِ تقدیر کے کھیل ہیں،قلم پر قط تو بچپن ہی میں لگ گیاتھا لیکن زیر مشق آج تک نہیں ملا۔“

وہ ایک اور فن میں بھی ماہر تھے جسے خطِ معکوس کہا جاتا ہے۔اُس زمانے کے چھاپا خانوں میں چھَپائی کے لیے سفیدپتھر کی ایک سِل استعمال کی جا تی تھی۔یہ ایک خاص قسم کا پتھر ہو تا تھا جس کی خوبی یہ تھی کہ جب مسطر پر کتابت شدہ مواد اُس کے اوپر رکھ کے دَباؤ دیا جاتا تو سارے حروف پتھر پر منتقل ہو جاتے اور مسطر سادہ رہ جاتا۔ اس کے بعد کچھ کمیکل لگاکر اُن حروف کو اُبھارا جاتا اور داغ دھبّوں کوکوکم اور پانی کی مدد سے صاف کر دیا جاتا۔کبھی کبھی کتابت کی سیاہی کمزور ہونے کی وجہ سے یا دَباؤ کم پڑ نے پر الفاظ مٹ جاتے یا بگڑ جاتے،ایسے موقعوں پر کسی ماہر خوش نویس کی ضرورت ہوتی جو اُن دھندلے یا مٹے ہوئے الفاظ کو پتھر پر لکھ سکے،یہ کام آسان نہیں ہوتا تھا کیوں کہ تمام الفاظ اُلٹے ہوتے تھے لیکن سنبل صاحب بڑی آسانی سے پتھر کے اوپر اُلٹی کتابت اس طرح کیا کرتے تھے جیسے سیدھی کتابت کرتے تھے۔ ایک بار انھوں نے مجھے خطِ معکوس کے ذریعے طغریٰ بنانے کی ترکیب بتائی تھی۔انھوں نے ایک موٹے کاغذ کو بیچ میں سے دوہر اکیا اوراس کی ایک سائیڈ پر پنسیل سے میرا نام اس طرح لکھا کہ وہ کاغذ کے موڑ تک آگیا پھر انھوں نے کاغذ کو دوہرا کیا اورانگوٹھے سے زور زور سے دَبانا اور گھسنا شروع کیا جب انھوں نے کاغذ کھولا تو میرا نام کاغذ کی دوسری سائیڈ پر بھی آچکا تھا اور ایک خوبصورت ڈیزائن معلوم ہو رہاتھا۔آ ج بھی جب کبھی کسی بچے کو خوش کرنے کے لیے میں اِس طرح اُ س کے نام کا ڈیزائن بنا کر دیتا ہوں تو وہ بہت یا د آتے ہیں۔

سنبل صاحب اپنی تمام مشق اور مہارت کے باوجود کبھی کبھی ایسی غلطیاں کر بیٹھتے تھے کہ ہنگامے کھڑے ہو جاتے تھے۔ ایک بار تو وہ بہت بُری طرح پھنس گئے تھے۔

ہوا یوں کہ ایک حکیم صاحب تھے،بڑے ٹھسّے والے بزرگ تھے۔ بڑھاپے میں بھی چہرے کا رنگ شہابی تھا۔ ہمیشہ ڈھیلی ڈھالی ریشمی شیروانی اور بڑے بر کا پاجامہ پہنتے تھے۔ خاص خاص موقعوں پر انگرکھے اور چوڑی دار میں بھی نظر آجا یاکرتے تھے۔ اپنا رشتہ بہادر شاہ ظفر کے وزیر اعظم اور حکیم احسان اللہ خاں سے جوڑا کرتے تھے اور خود کو شمس الحکما اور فخر الاطبّا لکھوانا پسند کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی معجونِ شباب آور اور کشتہئ فولاد کھاکر ستّر برس کا بوڑھا سترہ برس کی لڑکی سے شادی کر سکتا تھا بلکہ بچے بھی پیدا کر سکتا تھا۔ موصوف شاعری بھی کیا کرتے تھے جو عنّاب اور گاؤزباں کی طرح بے مزہ ہوتی تھی اس لیے مشاعروں میں اکثر ہو ٹنگ کا شکار ہو جایا کرتے تھے۔ مگر وہ ایسی باتوں کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اور غزل مکمل کیے بغیر میدان نہیں چھوڑتے تھے۔ اِن حکیم صاحب کا اشتہار ہفتے میں دو دن روز نامہ خلافت کے صفحہ اوّل پر شائع ہو تا تھا۔ اشتہار میں حکیم صاحب کی کچھ خاص دواؤں کا تعارف ہوتا اور اُن جادو اثر دواؤں کے تیر بہ ہدف ہونے کی گارنٹی دی جاتی تھی۔ اولاد کے خواہش مندوں کی سال بھر کے اندر والد اور والدہ بن جانے کی بشارت دی جاتی اوراِس سب کے نیچے ایک سطر ہو تی۔

”خواتین کے لیے زنانہ کا معقول انتظام ہے۔!“

اشتہار برسوں سے شائع ہو رہا تھا اور کبھی کسی کو کوئی شکایت نہیں ہوئی تھی مگر ایک دن وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔

مولانا زاہد علی کی عادت تھی کہ شام کو خلافت ہاؤس کے کمپاؤنڈ میں چھڑکاؤ کراتے،لکڑی کے بڑے بڑے بنچ صاف کرکے لگائے جاتے اور زاہد صاحب کے دوستوں کی محفل سج جاتی جو دیر گئے تک جاری رہتی۔ زاہد صاحب کے احباب کا حلقہ بہت وسیع تھا اس لیے کافی لوگ جمع ہو جاتے اور جم کر بحث مباحثے اور شعرو شاعری ہوتی۔ آنے والوں میں حکیم صاحب بھی تھے جو اکثر آ جایا کرتے تھے۔ ایسی ہی ایک شام تھی، بزم یاراں شباب پر تھی کہ حکیم صاحب کی بڑی سی امپورٹڈ گاڑی آکر رُکی،وہ دندناتے ہوئے سیدھے زاہد صاحب کے پاس پہونچے اور سلام کا جواب دیے بغیر گرج کر بولے۔

”یہ کیا ہے۔؟“

اور اس دن کا خلافت زاہد صاحب کے منہ پر پھینک دیا۔ حاضرین حیران تھے کہ ماجرا کیا ہے اور حکیم صاحب چیخ رہے تھے۔

”سارا شہر ہنس رہا ہے ہمارے اوپر۔ لوگ فون کر رہے ہیں اور مذاق اڑارہے ہیں۔ یہ صلہ دیا ہے آپ نے ہماری دوستی کا؟“

تھوڑی دیر میں جب گرج چمک کم ہوئی تو حکیم صاحب نے دکھایا اور سب نے دیکھا کہ اشتہار کی آخری سطر میں لکھا تھا۔

”خواتین کے لیے زنا کا معقول انتظام ہے۔“

زاہد صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا وہ دانت پیس کر اُٹھے اور سیدھے کاتبوں کے شعبے میں گھس گئے۔ انھوں نے سنبل صاحب کی طرف انگلی اٹھائی اور دہاڑ کے بولے۔

”نکل… ابھی نکل یہاں سے۔ کمینے۔بد ذات، جان بوجھ کر حرامی پن کرتا ہے… چل نکل… اگر دوبارہ دفتر میں دکھائی دیا تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔“

انھوں نے اپنے نوکر کو آواز لگائی۔

”لالہ۔ اس حرامزادے کا سامان اٹھا کر باہر پھینک۔“

سنبل صاحب چپ چاپ سنتے اور آنکھیں جھپکاتے رہے۔پھر اٹھے، اُس اخبار کو دیکھا جو زاہد صاحب نے ان کے منہ پر مارا تھا۔پھراطمینان سے اپنا تھیلا جھولا اٹھا یا اور باہر نکلتے نکلتے بولے

”پہلی بار قلم نے سچ بولا تو آگ لگ گئی!“

زاہد صاحب مارنے کے لیے لپکے مگر وہ تیزی سے باہرنکل گئے۔

ا س واقعہ کے بعد تین چار دن تک سنبل صاحب غائب رہے مگر ایک دن سویرے سب نے ایک عجیب منظر دیکھا۔

خلافت ہاؤس کے کونے میں آم کے پیڑ کے نیچے بیگم محمد علی کی قبر پر پھول پڑے ہیں اگربتیاں سلگ رہی ہیں اور قبر کے پاس پلاسٹک شیٹ سے بنائی گئی ایک جھونپڑی میں سنبل صاحب چٹائی پر بیٹھے ہیں۔زاہد صاحب کو خبر دی گئی تو وہ غصّے میں تلملا تے ہوئے نیچے آئے اور پوری طاقت سے چیخ کو پوچھا۔

”سنبل…یہ کیا ہو رہا ہے۔؟“

سنبل صاحب نے ایک ادائے بے نیازی کے ساتھ زاہد صاحب کو دیکھا اور بولے

”بیگم محمد علی کے مزار مبارک کا مجاور ہوں۔ اگر چڑھا وا لائے ہیں تو ڈبّے میں ڈال دیجیے۔“

تھوڑی دیر زاہد صاحب اس طرح ساکت کھڑے رہے جیسے ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہو کہ کیا کریں۔ پھر اچانک اتنی زور سے کھِل کھلا کر ہنسے کہ آنکھوں میں پانی آگیا۔بڑی مشکل سے ہنسی روک کر بولے۔

”تجھ سے بڑا بد معاش میں نے آج تک نہیں دیکھا… چل ابھی یہ ڈھونگ ختم کر خبیث اور کام کر!“

وہ جانے کے لیے مڑے مگر کچھ سوچ کر رُکے۔ مزار پر فاتحہ پڑھی اور سنبل صاحب سے کہا۔

”ہر جمعرات کو اگربتی اور پھول چڑھا دیا کرو۔ پیسے عالم (منیجر) سے لے لینا۔“

یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلے گئے اور سنبل صاحب اپنے کونے میں۔ خلافت کی گاڑی پھر اُسی طرح ہچکولے کھاتی چلنے لگی جیسے پہلے چل رہی تھی۔

تو ایسے تھے ہمارے سنبل صاحب جو پانی کے حرف کی طرح زندگی کی تختی پر تھوڑی دیر کے لیے چمکے اور پھر نہ جانے کہاں غائب ہو گئے۔

امجدی بیگم کے مزار پر اگربتی اور پھولوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک زاہد صاحب زندہ رہے۔ اب نہ پھول ہیں نہ اگربتی اور نہ مزار۔

خلافت ہاؤس میں ایک کالج بنا دیا گیا ہے جس میں لڑکیاں بی ایڈ اورایم ایڈ کرتی ہیں۔کالج کے میدان کو وسیع کرنے کی کوشش میں اُس عظیم عورت کے مزار کو بھی توڑ دیا گیا ہے جو ساری زندگی قوم کی بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم کی خواہش مند رہی۔ اب مزار کی جگہ ایک گملا سا بنا ہوا ہے جس کے چاروں طرف لوہے کا ایک مکروہ سیاہ پنجرہ لگا دیا گیا ہے۔ کوئی نہیں پہچانتا کہ پنجرے میں کون قید ہے کیونکہ وہاں کوئی پتھر یا تختی بھی نہیں ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ جن لوگوں کو اخلاقیات کا پہلا سبق بھی یا د نہیں وہ دوسروں کو کیا تعلیم دیں گے۔

”گر ہمی مکتب و ہمی ملّا

کار طفلاں تمام خواہد شد“

Spread the love

Check Also

قدرتی آفات اور حکمران طبقات ۔۔۔ جمیل بزدار

وہ ندی کے کنارے ایک کچے مکان میں رہتا تھا۔  ندی کا پانی وہ اپنے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *