Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » رسول حمزہ توف کی ایک مشہور نظم

رسول حمزہ توف کی ایک مشہور نظم

کتاب میرا داغستان۔

مترجم۔اجمل اجملی

 

سفر پر نکلے تو کوئی کیا ساتھ لے کے چلے؟

شراب، گھر میں پکی ہوئی روٹیوں کے کچھ ٹکڑے؟

مگر ہمارے یہاں آنے والے مہمان کو،

نہیں ہے اس کی ضرورت کہ کوئی فکر کرے،

 

ہم اس کو گھر پہ ہر چیز سے نوازیں گے،

نہ ساتھ لائے وہ روٹی، نہ ساتھ لائے شراب،

ہماری بیویاں روٹی پکا کے لائیں گی،

وہ مے پلائیں گے ہم خود،نہیں ہے جس کا جواب،

 

سفر پر نکلے تو کوئی کیا ساتھ لے کے چلے؟

دفاعِ جاں کے لئے، تیز دھار کا خنجر؟

مگر ہمارے یہاں آنے والے مہمان کو،

نہ راہزنوں کا خطر ہے نہ فکرِ تیغ و تبر،

پہاڑ اٹھیں گے ایک ساتھ پیشوائی کو۔

بھلا مجال کہ آنکھیں دکھا سکے رہزن،

کوئی جو راہ میں ٹیڑھی نظر سے بھی دیکھے،

تو میزبان کا خنجر، اتار لے گردن،

 

سفر پہ نکلے تو کوئی کیا ساتھ لے کے چلے؟

حسیں،رس بھرے گیتوں کا دلنشین تحفہ؟

قدیم گیت جنہیں گنگنا کے راہ کٹے،

جو اس کے دیس کی دولت ہوں، قوم کا ورثہ،

ہمارے پاس بھی ہیں گیت، مہمانِ عزیز!

ہمیں یقین ہے تم نے انہیں سنا ہوگا،

مگر یہ گیت کوئی بوجھ تو نہیں ہوتے،

تو اپنے گیت بھی لاؤ، تو کیا مزہ ہو گا۔۔۔۔۔!

Spread the love

Check Also

پہاڑوں کے نام ایک نظم ۔۔۔  قمر ساجد

(شاہ محمد مری کی ایک کتاب پڑھ کر)   روایت ہے پہاڑوں نے کبھی ہجرت ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *