Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » لومڑی اور کوا ۔۔۔ گوہر ملک/شاہ محمد مری

لومڑی اور کوا ۔۔۔ گوہر ملک/شاہ محمد مری

ایک لومڑی، ایک کوا اور ایک ہرن تینوں دُور ایک جنگل گئے۔ کوے نے اپنے لیے ایک کھجور کاشت کیا، ہرن نے اپنے لیے جوار کاشت کی اور لومڑی نے اپنے لیے ایک ہڈی کاشت کی اور چلے گئے۔

وقت گزرتا گیا۔ ایک دن ایک قافلہ آیا۔ تینوں نے پوچھا۔ کوے نے پوچھا میر ا کھجور کیسا ہے۔ قافلہ والوں نے بتایا کہ وہ اُگ کر بڑا ہوگیا ہے۔ ہرن نے اپنے جوار کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اچھا خاصا اُگ گیا ہے اور خوب سبز ہے۔ لومڑی نے پوچھا میری ہڈی؟۔ ان میں سے ایک نے بتایا کہ ہڈی تو ہڈی ہے جنگل کے کھڈے میں۔

کچھ عرصہ بعد ایک قافلہ یہ خبر لایا کہ کجھور پہ پھل لگ گئے، جوار بھی خوب اونچا ہوگیا ہے۔ لومڑی نے پوچھا میری ہڈی کی خبر سنا ؤکہ وہ کیسی ہے۔ انہوں نے بتا یا ہڈی تو ہڈی ہے جنگل کے کھڈے میں۔

کوا  اڑتے ہوئے اور ہرن چوکڑیاں بھرتے ہوئے جنگل کی طرف گئے۔ لومڑی بھی اپنی دُم گھسیٹتے ہوئے اُن کے پیچھے پیچھے چل دی۔

ہرن اپنے جوار کی طرف گئی۔ کوا کھجور پہ بیٹھ گیا  اور خرما کھانے لگا۔ لومڑی کجھور کے نیچے ہڈی کے سامنے بیٹھ گیا۔ اُس کی نگاہیں اوپر کوے پہ ٹکی ہوئی تھیں۔ کوا کھجور کھاتا جاتا ہے  اور گٹھلیاں نیچے پھینکتا جاتا ہے۔ لومڑی چُن کر کھاتا جاتا ہے اور کہتا ہے:”واہ واہ کس قدر میٹھے ہیں“۔ ایک روز لومڑی نے جلے ہوئے دل سے کہا: ”لالا، ایک اچھا دانہ پھینک دو“۔ کوے نے کہا”سر اونچا کر لو، آنکھیں بند کر لو اور منہ کھولو“۔ لومڑی نے منہ کھولا۔ کوے نے اُس کے کھلے منہ میں بیٹ کردی۔ لومڑی نے دل میں کہا: ”اچھا بچو، میرا نام بھی ملّا روباہ ہے۔ یہ انتقام تو تم سے ضرور لوں گی“۔

ایک روز لومڑی نے کوے کی بہت تعریف کی۔ اُس کی شکل وصورت کی، اس کے طور طریقوں کی تعریف کی اور کہا ”بہت عرصے سے میں نے تمہاری میٹھی آواز نہیں سنی اور تمہاری مستانی چال نہیں دیکھی۔ نیچے اترو میں تمہیں دیکھ لوں۔ لومڑی کی چرب زبانی نے کوے کا دل جیت لیا۔ کوا نیچے آیا اور لومڑی کے سامنے پھدکنے لگا۔ لومڑی واہ واہ کرنے لگی۔ اسی لمحے لومڑی نے آہ و فریاد شروع کر دی کہ ”ہائے، میری آنکھ میں کوئی چیز گر گئی۔ ہائے میں اندھی ہو رہی ہوں۔ میں تمہاری الھڑ چال نہیں دیکھ پارہی۔ آجا، میری آنکھ سے تنکا نکال دے“۔ کوے کو رحم آگیا، کہا کیسے تنکا نکالوں۔ جواب دیا اپنی چونچ سے۔کوا اپنا سر قریب لایا، کہا آنکھ کھول دو۔لومڑی نے جھپٹ کر کوے کی گردن پکڑلی اور سر سے جدا کر لی۔ کوا  مرگیا۔

لومڑی نے کہا۔”اے آندھی۔ آجا اور مجھے کھجور کے درخت پہ رکھ دے“۔ تیز آندھی نے اُسے اڑا کر کھجور پر بٹھا دیا۔ لومڑی نے کھجور کے پتوں سے ایک ٹوکری بنالی۔ وہ کھجور کھاتی جاتی اورٹوکری میں پاخانہ کرتی جاتی۔ درخت کے سارے کھجور ختم کیے۔ اس کے بعد کھجور کے پندرہ بیس دانے  ٹوکری کے اندر پاخانے کے اوپر ڈال  دیے اور ٹوکری کا منہ سی لیا۔ پھر کہنے لگی۔”اے جنوں کا بادشاہ، اے جنوں کا بادشاہ، تیز ہوا کو کہو مجھے نیچے اتار دے“۔ تیز ہوا آئی اور اسے ٹوکری سمیت نیچے اتار دیا۔

اُس نے ٹوکری اٹھائی اور دوڑنے لگی۔ گئی، گئی۔ دیکھاکہ ایک بچے نے ایک لاغر لیلا اٹھا رکھا ہے۔ لومڑی بولی”لیلا مجھے دیدو اور میں کھجور بھری ٹوکری سارا تمہیں دوں گی“۔بچہ راضی ہوگیا۔ اس نے کھجوروں کی ٹوکری اٹھائی اور لیلا لومڑی کو دے دیا۔ وہ کھجور کی ٹوکری گھر لے گیا۔ اُس کی ماں بہت خوش ہوئی کہ بچے نے اچھی تجارت کی۔ا س نے ہاتھ ٹوکری میں ڈال دیا۔ اُس کا ہاتھ پاخانے میں لت پت ہوگیا۔ جان گئی کہ لومڑی نے بچے کو دھوکا دیا۔

لومڑی نے لیلا ساتھ لیا اور ہرن ساتھ لیا اور انہیں چَرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ کچھ وقت بعد لیلا موٹا ہوگیا۔ لومڑی نے اسے اٹھا لیا کہ لے جا کر اسے کھالوں گی۔ راستے میں اس نے ایک ریوڑ دیکھا۔ اس نے چرواہے کو کہا ”تم اپنا مینڈھا (گرانڈ) میرے لیلے (گٹور) سے لڑاؤ گے؟“۔ چروہا بولا ”میرا مینڈھا بہت طاقتور ہے تمہارے گٹور کو مارڈالے  گا“ لومڑی بولی ”اگر تمہارا گرانڈ زور ہوا تو یہ گٹور تمہارا۔ اور اگر میا گٹورجیت گیا تو تیرا سارا ریوڑ میرا“۔ چرواہا بولا ”ٹھیک ہے“۔

گرانڈ اور گٹور آمنے سامنے ہوئے۔ لومڑی نے کہا ”گٹور گٹور“ اُس کی گردن دبوچ لو اور زمین پر پٹخ دو۔ گٹور نے اُس لحیم شحیم گرانڈ کی گردن دبوچ لی اور اسے زمین پر پٹخ دیا۔ چرواہا ہکا بکا رہ گیا۔ لومڑی ریوڑ کو ہانکتے ہوئے چلی گئی۔ ایک بڑی جھگی میں ریوڑ کو ڈال دیا۔

بھیڑیا نے دیکھا کہ لومڑی ایک ریوڑ لائی اور ریوڑ جھونپڑی میں ہے۔ وہ گیا اور ایک دنبہ کھا لیا۔ ملّا روباہ (لومڑی) بھی بہت ہوشیار تھی۔ اس نے دیکھا کہ بھیڑیا نے ریوڑ دیکھ لیا۔ اب یہ ہروز ایک دنبہ کھائے گا۔ کسی نہ کسی طرح بھیڑیا کا خاتمہ کروں گی۔

اُس نے یوں کیا کہ زرد، سرخ اور سبز رنگ لائی۔ اس نے اپنی دم سبز رنگ میں رنگ دی۔ جسم زرد رنگ سے اور سر کو سرخ کردیا۔ وہ گئی گھاس خریدی، اٹھائی اور جان بوجھ کر بھیڑیا کے سامنے سے گزری۔  بھیڑیا کی نظر پڑی تو اس نے پکارا ”ملّا روباہ، گھاس اٹھائے کس کے لیے لے جارہی ہو؟“ اس نے کہا ”واجہ، اپنی بھیڑوں کے لیے“ اس نے پوچھا ”یہ بھیڑیں تمہیں کس نے دیں؟“۔ لومڑی ہنسی اور کہا ”واجہ، میں نے خود کو رنگ لگایا، بھیڑیں خود بخود میرے پیچھے دوڑ تی آئیں“۔ بھیڑیا بولی ”مجھے بھی ایسا رنگ لگا دو“۔ لومڑی بولی ”ٹھیک ہے واجہ۔ سرآنکھوں پہ۔ آپ رنگ لائیں، تیل کا ایک ڈبہ لائیں، چار بڑی بڑی میخیں لائیں، ایک رسی لائیں۔ میں اپنے واجہ کو رنگ دوں گا“۔

اگلے دن بھیڑیا یہ سب چیزیں لایا۔ لومڑی نے بھیڑیا کے چاروں پیروں کے گر د رسی باندھی اور میخیں زمین میں ٹھونک  دیں اور رسی اُن سے باندھ لی۔ بھیریا نے پوچھا”مجھے یوں کیوں باندھ رہی ہو؟“۔ لومڑی بولی ”واجہ میں رنگ تیل میں ڈالوں گی اور آپ پر انڈیل دوں گی۔ ایسا  نہ ہو آپ کو غصہ آئے اور آپ مجھے کھا جائیں“۔ میں نے ڈر سے ایسا کیا“۔

اب اس نے تیل اور رنگ ملا دیے اور اُس کے سرپر انڈیل دیے۔ اور پھر اُسے آگ لگا دی۔ بھیڑیا آہ و فریاد کرتے کرتے وہیں جل کر مرگیا۔

یوں لومڑی مکرو فریب کے ساتھ ریوڑ کا مالک بنی۔

Spread the love

Check Also

کہانی والی خالہ ۔۔۔ جاوید صدیقی

ماگھ کی پہلی مہاوٹ گری تو جلدی جلدی سارے گدے لحاف نکالے گئے۔اُنھیں دھوپ دی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *