Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » گیدڑ ۔۔۔  امر جلیل/ محمد رفیق مغیری

گیدڑ ۔۔۔  امر جلیل/ محمد رفیق مغیری

شام کے وقت ایک قبرستان سے گزرتے ہوئے  آواز سنائی دی۔”گیدڑ، السلام علیکم!“۔میں رک گیا، میری جگہ پہ کوئی اور ہوتا قبرستان سے اس طرح آواز سنتا تو خوف سے کانپ جاتا۔لیکن خوف محسوس کرنے کے بجائے مجھے غصہ آیا۔میں نے چیخ کر کہا۔”بات سنو جن۔میں گیدڑ نہیں ہوں۔میں انسان ہوں۔“

آواز آئی۔”انسانوں میں کوئی انسان شیر ہوتا ہے،تو کچھ پھر گیدڑ۔“

”لگتا ہے تم کوئی فلسفی جن ہو۔“

میں نے جن کو ڈانٹے ہوئے کہا۔

”بات سنو، مجھے جب بھی کوئی گیدڑ کہتا ہے تو مجھے سخت غصہ آتا ہے“۔

”میں جن نہیں ہوں،“ آواز آئی ہے۔

”اگرجن نہیں ہو تو پھر کیسے پتہ چلا کہ لوگ مجھے گیدڑ کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔؟“ میں نے سخت غصے میں کہا۔

ایک گیدڑ میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔گیدڑ نے کہا،”میں اصلی یعنی سچ مچ گیدڑ ہوں۔

میں انسانوں میں گیدڑ پہچان جاتا ہوں۔“

گیدڑ کو اس طرح بات کرتے ہوئے دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔نہ اپنے کانوں پہ اعتبار آ رہا تھا اور نہ ہی اپنی آنکھوں پہ۔گیدڑ باقاعدہ بات کر رہا تھا

گیدڑ نے کہا۔”آج کل انسانوں میں گیدڑوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔“

میں نے گیدڑ سے پوچھا۔” تُو دیکھنے میں تو  سچ مچ کا گیدڑ لگ رہا ہے۔لیکن تم بات کیسے کر رہے ہو۔؟“۔

جواب دینے کے بجائے گیدڑ نے مجھ سے پوچھا۔”کیا تم نے پہلے کسی گیدڑ کو بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔؟“۔

”نہیں۔کبھی بھی نہیں۔“ میں نے جواب دیا۔

”اس میں نہ تیرا اور نہ ہی تیرے کانوں کا قصور ہے۔“گیدڑ نے کہا ہے۔

”چاروں سمیت تمہارے مشاہدے میں ہے کہ روزانہ ہزاروں گیدڑ بات کرتے ہیں۔اور ٹیکنالوجی سے لیکر بیالوجی تک  دنیا کے ہر موضوع پر بات کرتے رہتے ہیں۔“

”یہ انسانوں کی بہادری اور دلیری پر سراسر الزام ہے۔“میں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا۔”تم کو کوئی بھی قانونی اور آئینی حق حاصل نہیں ہے گیدڑ۔کہ تم ہم انسانوں کو بدنام کرتے پھرو۔“

گیدڑ نے کہا۔”انسانوں نے بھی ہم گیدڑوں کو خوب بدنام کیا ہے۔“

میں نے کہا۔”یہ بھی ہم انسانوں پر ایک اور الزام ہے۔“

”الزام ہے؟“ گیدڑ نے غصے میں کہا،”انسانوں نے اپنے ہاتھ کی بنائی کتابوں میں کہاوتیں ہمارے حوالے سے زبان ِزد عام کر دیے ہیں۔ان میں ایک کہاوت تو عام ہے کہ۔

”گیدڑ انگوروں تک پہنچ نہیں پاتا کہتا ہے انگور کھٹے ہیں“۔

”کیا یہ جھوٹ ہے؟“ میں نے گیدڑ سے پوچھا۔

”ہاں“ گیدڑ نے جواباً کہا۔”یہ سراسر جھوٹ ہے۔یہ کہاوت گیدڑوں کی عظمت کے خلاف پروپگینڈا ہے۔ہم گیدڑ باقاعدہ انگوروں کے گچھوں تک آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔اور انگور کھاتے بھی ہیں۔“

”وہ کیسے۔؟“ گیدڑ سے میں نے پوچھا۔

گیدڑ نے کہا۔”گیدڑوں نے سیڑھیاں خرید کر رکھی ہیں۔“

Spread the love

Check Also

کہانی والی خالہ ۔۔۔ جاوید صدیقی

ماگھ کی پہلی مہاوٹ گری تو جلدی جلدی سارے گدے لحاف نکالے گئے۔اُنھیں دھوپ دی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *