Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » امریکی بھیڑیا اورغیر ملکی دشمن ۔۔۔ تھامس کنگ / نسیم سید

امریکی بھیڑیا اورغیر ملکی دشمن ۔۔۔ تھامس کنگ / نسیم سید

اچھی کہانی بھلا کس کو پسند نہیں ہوتی؟ بلکہ کہانی سننے کے شوق کوتو ہمار ے بچپن میں ہی داد یاں  اور نا نیاں ایسا ہم میں رچا بسا دیتی ہیں کہ پھر یہ شو ق عمر کے سا تھ ساتھ اور بڑھتا جاتا ہے۔۔ مجھے جو کہانیا ں میری دا دی یا نانی نے سنا ئیں وہ ا کثر تنہا راتوں میں میرے اندربلک بلک کے روتی ہیں اور پھرانکے آنسو میری کہانیوں میں الفاظ بن جا تے ہیں۔۔۔ میں کہانیوں  میں اپنی لاش کندھے پر دھرے کہاں کہاں سے گزرا ہوں۔اپنے دوست ناپاوا کو آج تک نہیں سمجھا پایا۔وہ تو جب آتا ہے ایک ہی تقاضہ کرتا ہے ” یار کوئی اچھی سی کہانی سنادے”    اچھی سی کہانی؟ میرے وجود کوتو نہ جانے کتنی کہانیوں نے اتھل پتھل کرکے رکھا ہوا تھا۔۔۔ میں نے سوچا کیوں نہ ان میں سے ہی کوئی  کہانی سنا ئی جا ئے۔ یہ کہانی مجھے میرے والد نے سنا ئی تھی۔  دوسری جنگ عظیم کے دوران انیس سو بیا لیس میں کینڈا نے امریکہ کی دیکھا دیکھی اپنے ملک میں رہنے والے نوے فیصد جا پا نیوں کو جوکہ کینڈا کے شہری بھی تھے اوربیشتریہیں پیدا ہوئے تھے بلا کسی قصورکے راتوں رات حراست میں لے کے انکے گھروں سے بے دخل کردیا تھا۔ان کے گھر اورکاروبارحکومت نے ان کی نظربندی کی ادا ئیگی کے لئے فروخت کردیے۔ گوکہ اس کہانی کوسنے ہوئے عرصہ گزرگیا تھا لیکن اس نے جب تک خود کو لکھوا نہیں لیا مجھے چین  نہیں لینے دیا۔۔ میں نے سوچا آج اسے کیوں نہ وہی کہانی سنا دوں۔ لہذا میں نے نا پا وا سے کہا ”چلو تم کھانا کھاؤ، چا ئے پیو پھر آرام سے بیٹھوگے تو تم کو امریکی بھیڑئیے کی کہانی سنا ؤں  گا”۔۔۔’امریکی بھیٹریا؟  کیا بھیڑیوں کو بھی انکی شہریت سے پہچانا جا نے لگا ہے؟“۔

نہیں۔بھیڑیے اپنی خصلت سے ہی پہچانے جاتے ہیں لیکن  اس بھیڑئیے کو حکومت نے اہم عہدہ پر تعینات کیا تھا۔ اس کی کہانی بہت دلچسپ ہے یہ کویوٹی کی کہانی ہے۔اب میں کیا خاک کھا نا کھا ؤں گا۔ بھوک  ہی اڑا دی تم نے تو۔

یاریہ کہانی تم خالی پیٹ نہیں سن سکتے، تازہ دم ہوجاؤپھرآرام سے آتش دان کے سامنے گاؤتکیہ کے سہارے بیٹھنا اورکہانی سننا۔ اورہاں اگر میں کہیں کہیں جذباتی ہونے لگوں تو مجھے ٹوک دینا۔

”کیا مطلب؟ بھیڑئے کی کہانی کیا اتنی درد ناک ہے؟“۔

نہیں یار۔۔ کسی بھیڑئے کا درد سے کیا واسطہ؟

اچھا تو “کویوٹی” کا کوئی نیا روپ؟

ہاں یہ امریکن بھیڑیا یا کویوٹی تم جانتے ہوجب چاہے بھیڑ کی کھال پہن لے جب چاہے بھیڑئیے کی۔

”ہاں۔۔۔۔مجھے تجربہ ہے اس کا۔۔“میرے دوست کی آواز میں آنسوؤں کی نمی تھی۔

خیر۔۔۔ تو ہم نے کھانا کھایا اور بچوں کے سوجانے تک آتش دان کے قریب بیٹھے گپ شپ کرتے رہے کیونکہ میں بچوں کے سامنے کویوٹی یا امریکن بھیڑیے کی کہانی سنا نا نہیں چاہ رہا تھا۔ سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تو میرے دوست نے بے چینی سے پہلوبدلا

چلو اب کسی بہانے کی کوئی گنجا ئش نہیں ہے، کہانی شروع کرو

”یہ میری نئی کہانی ہے ””امریکی بھیڑیا اورغیرملکی دشمن”

”کویوٹی یعنی امریکن بھیڑیا؟”میرے دوست نے اونچا سا  قہقہہ لگایا۔۔  ہم ایبوریجنل لوگوں نے اس امریکن بھیڑئے کو کیسا لاجواب اسا تیری روپ دے دیا ہے اور اپنی کہانیوں کا ایک ایسا کردار بنا دیا ہے جو کسی بھی وقت کوئی بھی روپ دھار سکتا ہے، کبھی دیوتا تو کبھی شیطان، کبھی انتہائی ہمدرد تو کبھی کھال کھینچ کے اس میں بھوسہ بھروادینے والا بھیڑیا۔ اب یہ تمہاری کہانی میں  دیکھتا ہوں کس روپ میں جلوہ گرہے اس بار۔

تم اپنا تجزیہ بند کرواور اب بس چپ ہوکے کہانی سنو:

یہ قصہ انیس سو بیالیس کا ہے۔ ایک کویوٹی نے گزشتہ چند سالوں سے مجھ سے خوب دوستی گانٹھ لی تھی لہذا وہ جب جب میرے گھر کے قریب سے گزرتا تو ایک دودن ضرورقیام کرتا اورمجھے اپنی فتوحات کے قصے سنا تا  اورطرح طرح کے کھانوں کی فرما ئش بھی کرتا۔ کویوٹی اس بار  آیا توہمیشہ سے کچھ زیادہ ہی خوش نظر آرہا تھا۔۔۔۔ اس نے گھر میں داخل ہوتے ہی کہا میں نے اپنا ٹرک سڑک کی سا ئیڈ پر کھڑا کردیا ہے۔

سڑک کے کنارے؟ ٹکٹ مل سکتا

کویوٹی نے قہقہہ لگایا۔

“میرے ٹرک کو ٹکٹ نہیں ملے گا دوست۔ہا ں تمغہ مل سکتا ہے۔ یہ سرکار کا دیا ہوا ٹرک ہے پیارے ”

”آج تم کچھ زیا دہ نشہ میں ہو شاید”

ہاں۔۔۔نشہ تو ہے، بڑھیا سی نوکری کا نشہ۔

بڑھیا سی سرکاری نوکری؟۔ واقعی تم نے زیادہ پی لی ہے۔

ارے اس قدر حیران کیوں ہو؟ گورنمنٹ کی نوکری ملی ہے اس کے ساتھ یہ اتنا بڑا سا ٹرک ملا ہے۔۔۔ (اس نے اتنا بڑا کو کھینچ کے جتنا بڑا کرسکتا تھا کیا)

اب میں پہلے سے بھی زیادہ حیران تھا۔ کس قسم کی نوکری کویوٹی؟

کویوٹی نے قہقہہ لگا یا۔۔۔۔ بہت ڈراؤنا سا قہقہہ۔

”میں نے حکومت کی طرف سے اشتہاردیکھا تھاایک اخبار میں ”غیرملکی دشمن اشیا کی ضبطی کے لئے  ایک بھیڑیے کی ضرورت ہے“

”غیر ملکی دشمن اشیا؟“ بھلا اشیا ملک دشمن کب سے ہونے لگیں“؟

اب تم بس سوال پہ سوال کرتے رہوگے یا مجھے کھانا بھی کھلا ؤگے۔ مجھے سخت بھوک لگی ہے۔ کویوٹی کے آگے میں کتنا ہی کھانا سجا دوں مگر اس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا تھا۔ میں پریشان تھا کہ ہم سب گھروالے تو کھانا کھا چکے تھے اورمیری بیوی کو کویوٹی سے سخت چڑتھی۔ اس وقت تو ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ اٹھ کے جلدی سے کچھ ایسا تیار کردیتی کہ کویوٹی کی بھوک کو کچھ سہارا مل جاتا۔۔۔ خیرمیں نے جو کچھ مل سکا میز کو بھردیا اس سے۔ کویوٹی نے ایک نظر کھانے پرڈا لی، منہ بنا یا لیکن ٹوٹ پڑا کھانے پر۔ میری مہینے بھرکی شراب کھانے کے ساتھ انڈیل لی اس نے خود میں۔اب اسے آتش دان کے سامنے تکیہ اور کمبل چا ہئے تھا۔۔۔۔۔  اس دوران میرے اندر ایک ہی سوال چکرا رہا تھا کہ اس نوکری کی نوعیت کیا ہے جو اسے ملی ہے۔ میرا ذہن بار بار سوال کررہا تھا بھلا اشیا کیسے ملک دشمن ہوسکتی ہیں؟۔  وہ کا رپٹ پر دراز ہوچکا تھا۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے پوچھا ”ہاں تو اب بتا ؤ اپنی شاندار نوکری کی تفصیل تاکہ میں بھی تمہاری خوشی کو سیلیبریٹ کرسکوں“۔ کویوٹی سیدھا ہوکے بیٹھ گیا۔

”میرا کام یہ ہے کہ مجھے تمام غیرملکی جاپانیوں کے گھرڈھونڈنے ہوں گے۔۔۔ اورتما م غیر ملکی دشمن اشیا فروخت کرنی ہوں گی“۔

غیرملکی جا پا نیوں کے گھر؟ مگرجن جا پانیوں کو حکومت نے راتوں رات گھروں سے گھسیٹ کے نکالا اورانہیں گرفتارکرکے قید خانوں میں ڈال دیا وہ ہزاروں اورلاکھوں افراد تو وفا دارشہری ہیں اورشہریت رکھتے ہیں یہاں کی۔بلکہ ان میں سے اکثرتوپیدا بھی یہیں ہوئے ہیں۔۔ انہوں نے کب اورکیا دشمنی کی ہے؟“   مجھے اندازہ تھا کہ میرا لہجہ بہت تلخ ہورہاتھا

”ہاں مگر اب بھی کچھ جا پانی کہیں نہ کہیں چھپے ہوئے ہیں۔تو میرا کام یہ ہے کہ میں سب سے پہلے تما م غیر ملکی دشمن ڈھونڈتا ہوں، پھر ان کی جا ئیداد ضبط کرکے اس جا ئیداد کو بیچتا ہوں۔ میرے بہت سے ساتھی امریکہ میں بھی اسی کام پر تعینات ہیں اور کینڈا میں پہلا کویوٹی ہوں جو چنا گیا ہوں اس اہم کام کے لیے“۔

میں نے دیکھا کہ کویوٹی کی گردن یہ بتا تے ہوئے کچھ اور لمبی ہو گئی تھی، سینہ کچھ اورچوڑا ہوگیا تھا اور میں اپنے لہجے کی تلخی کو تلوا ر کی دھار ہونے سے بچا نے کی بھرپورکوشش کررہا تھا کہ گھرآ یا مہمان بھی تھا اور اکثر ایسی ہی ڈینگیں بھی مارا کرتا تھا۔ میں حالانکہ اس کو خوب جا نتا تھا مگر انجان بن کے پوچھا:

”یہ جو بچے کھچے جا پانی تم ڈھونڈ رہے ہو یہ مل گئے تو ان کا کیا کروگے“؟۔

”مجھے ان کو اسی جگہ بھیجنا ہوگا جہاں سا رے جا پانی بھیج دئے گئے ہیں یعنی”Japanese Canadian  detention camp”

”اورانکی زندگی بھرکی جوڑی ہوئی اشیا، ان کا سامان، گھرکا فرنیچر، گاڑیا ں، ماہی گیروں کی کشتیاں؟ کیا وہ بھی ملک دشمن ہیں؟ ”

”ہاں، تم نہیں جانتے ان سے بھی دشمنی اوربغا وت کی بو آتی ہے یہ کسی بھی وقت آواز اٹھا سکتی ہیں۔ میرا ٹرک ایک غیرملکی دشمن کا ہے۔ یہ اپنے اوپرکوئی بھی نعرہ تحریرکرسکتا ہے کسی بھی وقت اورسڑکوں پردوڑلگا کے بغاوت پھیلا سکتا ہے۔اس لیے حکومت  نے اسے خرید کے اپنا غلام بنا لیاہے۔ مجھے نوکری دیتے وقت اچھی طرح سمجھایا گیا تھا کہ آوازیں چا ہے انسانوں کی ہوں یا اشیا کی انہیں خرید لینا کتنا ضروری ہے۔ تم سمجھ رہے ہونا؟”

”ہاں سمجھ رہا ہوں، مجھ سے زیادہ کون سمجھے گا اس خرید وفروخت کو“

میری آواز اونچی اور انتہائی تلخ ہوگئی تھی یہ کہتے ہوئے۔ نہ جانے وہ کیا جواب دیتا کہ ماں نے برابرکے کمرے سے آواز دی مجھے۔ میں اس کے کمرے میں گیا تو اسے ٹہلتا ہوا پایا:

”ارے آ پ جا گ رہی ہیں، خیریت؟” ”ہاں میں جاگ رہی ہوں اورتمہاری گفتگو سن رہی ہوں میری نیند اڑ گئی ہے خوف سے“

”کیسا خوف ماں؟“۔

”وہ خوف جوتین نسلوں کو ہمیں کھا گیا، وہ خوف جو تمہارے بچوں کو ملک دشمن ثابت کرسکتا ہے کسی بھی وقت۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تم جس کو دوست کہہ کے مہمانداری کرتے ہواس کے پنجوں میں وہ ناخون چھپے ہوئے ہیں جو اچانک تمہاری گردن میں دھنس کے تمہارا خون بھی پی سکتے ہیں۔ اس سے کوئی سوال جواب مت کرو۔ تمہارے افسانے، تمہاری کتابیں، تمہاری فلمیں کویوٹی ملک دشمن کہہ کے ضبط کرلے گا۔ تم بخوبی واقف ہو۔  تمہارے لہجے میں جوچیخ ہیمیں اس سے واقف ہوں۔ قسم کھاؤمیری کہ اب اس سے کوئی سوال نہیں کروگے، کھا ؤقسم“۔ ماں کا لہجہ گریہ میں بدل گیا تھا۔ وہ گریہ، وہ اپنی پرسہ داری جو وہ تین نسلوں سے کررہی ہے۔ میں نے قسم کھا ئی۔۔ کچن سے جاکے ٹھنڈا پانی گھونٹ گھونٹ خود میں اتارا اورخود کوسمجھایا ”یہ کو یو ٹی ہے اس کی توخصلت ہی بھیڑیوں کی ہے۔ماں ٹھیک کہتی ہے مجھے محتاط رہنا چا ہئے“۔۔

میرے واپس آنے تک کویوٹی پرشراب کا نشہ کچھ اوراثرکرچکا تھا اس نے خمار آلود لہجے میں کہا ”صبح میں تمہیں اپنے ساتھ اپنے کام پر لے جا ؤں گا۔ تم کو ہر طرح کا سامان مل جائے گا بہت سستا، کوڑیوں  کے مول۔۔

مگر تمہیں کس علاقے میں جانا ہے؟

برٹش کولمبیا کی طرف۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ملک دشمن اشیا سب سے ذیادہ وہیں ہیں۔

یعنی جاپانیوں کا گنجان آباد علاقہ؟ مگروہا ں تو اب بے آواز روتے ویراں گھروں کے علاوہ کچھ نہیں؟

(۔ دوسری جنگ عظیم مجھ میں اپنے اوراق الٹنے لگی۔۔۔ امریکہ اورکینڈا میں آباد ان بے گنا ہ جا پانیوں کو جوکئی نسلوں سے یہاں آباد تھے ا ور جنکا کوئی قصورہی نہیں تھا راتوں رات انکے گھروں سے گھسیٹ کے ٹرکوں میں بھرکے دوردراز مغربی ساحلوں کی طرف قید کردیا گیا تھا۔پھر انکے ساتھ کیا ہوا ایک لمبی داستان تھی جومیرے لہومیں بھنورڈال رہی تھی اس وقت)۔

کویوٹی نے پھرحسب عادت  خوفناک سا قہقہہ لگایا۔۔ ” اف! احمق انسان، ان گھروں میں ان کی اشیا ہیں اوریہ اشیا غیر ملکی دشمن ہیں ” کویوٹی نے میرے چہرے پر پھیلی طنزیہ مسکراہٹ کو دیکھ کے پھرایک بھیا نک سا قہقہہ لگایا اور سمجھا نے کے انداز میں بولا ”مجھے انکی دشمنی کی تمام تفصیلات  سمجھا دی گئی ہیں، یہ اشیا انکے رہن سہن، انکے طورطریقوں کومحفوط رکھتی ہیں اور کچھ نہ کہتے ہوئے سارا کچھ تفصیل سے بتا تی  ہیں، ان کی کتابیں، انکی شاعری انکا ادب انہیں مرنے نہیں دیتے۔ یہ بہت خاموشی سے اپنا کام کرجاتی ہیں۔ یہ غیر ملکی دشمن اشیا بغیر ا سلحہ اوربارود کے انتقام لیتی ہیں اورہمیں انکوجڑسے مٹا نا ضروری ہے۔۔

اب میری باری تھی قہقہہ لگانے کی۔۔۔ ہم تو غیر ملکی بھی نہیں تھے بلکہ غیرملکیوں نے ہمارے گھروں سے بے دخل کرکے ہمیں ہمارے وجود سے بے دخل کردیا تھا۔۔۔۔مگرہم تو زندہ ہیں اورپورے قامت سے زندہ ہیں سو میں نے ایک فلک شگا ف قہقہہ لگایا۔

”ہمارے جد کی برف میں اکٹری ہوئی لاشوں کے بد ن سے تو ا نہوں نے کپڑے تک اتارلئے تھے ایک اجتماعی قبرمیں پھینکنے سے پہلے۔ اورپھران کے لباس ان کے جوتوں ان کے برتن غرض ہرچیز کو نیلا م کردیا گیا تھا۔۔ اشیا تک قید کردی گئی تھیں مگر ہم تو زندہ ہیں ”میں کویوٹی سے مخاطب تھا لیکن وہ یوں مسکرارہا تھا جیسے میں اسے کوئی دلچسپ کہانی سنا رہا ہوں۔

میرے اندرایک ہوک خوفناک سی لہر کی صورت اٹھی تھی جو نہ جانے کیا کرجاتی لیکن کویوٹی اسوقت تک بے خبر سوچکا تھا۔  ماں ابھی تک جاگ رہی تھی،اس نے مجھے دھیرے سے آواز دی۔ اس کا چہرہ خوف سے پیلا تھا، وہ خوف جو اس کی شخصیت کا حصہ بن گیا تھا اور اب بھی اکثررات کو اچانک چیخنے لگتی ”رحم کرو،ر حم کرو۔۔۔مجھے ننگا مت کرو”ماں نے مجھے سینے سے لگا لیا ”تم اس بھیڑئے کے سامنے کبھی کچھ مت کہنا کبھی آواز اونچی مت کرنا۔۔۔ تم  جانتے، بہت اچھی طرح جانتے ہو یہ کیا کچھ کرسکتا ہے۔ صبح اس کو اچھا سا ناشتہ کراکے رخصت کرو“۔ ٹھیک ہے ایسا ہی کروں گا۔ ”میں نے ماں سے کہہ تو دیا مگر میں اس کے ساتھ جانے کا د ل میں تہیہ کرچکا تھا ”شا ید کوئی جاپانی اب بھی کہیں چھپا اورمیں اس کی کچھ مدد کرسکوں“۔

کویوٹی نے سفرپرنکلنے سے پہلے مجھے سمجھایا ”میرا ٹرک گواب خریدا جا چکا ہے لیکن ان خریدے ہوؤں کے اندردشمنی چھپی ہوتی ہے جیسے یہ غیرت وغیرہ کا نام دیتے ہیں۔ اس پرسواری سے پہلے اسے دوچار ٹھوکر زورکی لگا نا۔۔ پھریہ تیز تیز دوڑے گا ورنہ کمبخت کہیں پربھی رک کے کھڑا ہوسکتا ہے”میراجی چاہا کویوٹی کو زورکی ایک ٹھوکرلگا کے دورپھینک دوں مگر ماں کی آنسوؤں بھری نصیحت یاد تھی مجھے، سو چپ رہا۔ ہم  بہت سویرے گھرسے نکل گئے۔ راستے میں وہ مجھے ان غیر ملکی دشمن اشیا کی تفصیلات گنا تا رہا جو اس کے پاس نیلامی کے لئے موجود تھیں۔یہ فہرست بہت طویل تھی اس نے مجھے بتایا ”میرے پاس ریڈیواور سلائی کی مشینوں  کے ڈھیرہیں، کرسیاں ہیں میزیں ہیں، سائیکلیں ہیں ہرقسم کی گھڑیاہیں کاریں ہیں،  تم بس گھرکی کسی بھی بھی چیزکا نام لو میں تمہیں دے دوں گا، تم نے مجھے درجنوں مرتبہ بہترین کھانا کھلا یا ہے۔ بہترین شراب پلا ئی ہے، آرام دہ بستر دیا ہے۔ میں کیا تمہارے لئے اتنا بھی نہیں کرسکتا؟۔ میرے دوست۔ ضرورت کی ہر چیز ہے میرے پاس بس تم بتا دو کہ کیا چاہیے تمہیں ”میں نے جل کے کہا ”ہاں جب لوگوں کو راتوں رات ان کے گھروں سے خالی ہاتھ ہکا کے لے جایا جائے گا توہرطرح کی ضرورت کی چیز موجود ہوگی ”وہ میرے طنزکو بھلا کیا سمجھتا۔ سو اس نے خوشی سے سرہلا یا ”وہی تو کہہ رہا ہوں دوست۔ مانگ لوجو مانگنا ہے۔ ارے ہاں میرے پاس ماہی گیری کی اٹھارہ سو چار کشتیاں بھی ہیں۔اورہاں ہزاروں کی تعداد میں کمیونو(جاپانی لباس) بھی ہیں۔ کیا پتہ تمہاری بیوی کویہ لباس پسند آئے۔بلا  قیمت پر لے لینا تحفہ کے طور“۔ میں نے اپنے غصہ کوحلق سے نیچے اتارا اورخاموش رہا

کویوٹی کچھ دورسفرکرتا اورپھرجہاں بھی اسے کوئی ایسی جگہ نظرآتی جہاں سے وہ فون کرسکے تو اسے فون ملا کے اپنے بوس کو یا تو شاید کچھ بتا نا ہوتا تھا یا کچھ احکامات لینے ہوتے تھے۔ اس بار اس نے بتا یاکہ اشیا کی نیلامی کے بجائے اسے دوسرا اہم کام کرنا ہے۔

”کیسا دوسرا کام؟“ میں نے پوچھا

”وہ تمہیں ابھی نہیں بتا سکتا۔ بس یہ کہ ہمیں ہیسٹنگز پارک چلنا ہے“۔

ہیسٹنگز پارک ایک بڑی جگہ ہے۔ بڑی بڑی عمارات ہیں۔ کویوٹی نے ان عمارات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”یہ تما م عمارات غیرملکی دشمن ہیں انہیں ضبط کرلیا گیا ہے ” میں نے خون کے گھونٹ پیتی اپنی کئی کہانیوں کے ساتھ اس کہانی کوبھی محفوظ کرلیا۔ میں اپنے بہت اندردیرسے دھاڑیں مارکے رورہا تھا، بلکہ  بہت دیر سے کیا برسوں سے ہم تو ایسے ہی روتے ہیں کیا فرق پڑتا ہے سو حسب عادت میں بظاہر لا تعلق اورپرسکون تھا۔ ایک سنسان اور لق ودق میدان میں ایک عمارت کے سامنے کویوٹی نے اپنا ٹرک روک دیا تھا۔اس عمارت پرایک بڑے سے  سائن بورڈ پر لکھا تھا”مویشیوں کی عمارت”

”مویشیوں کی عمارت؟۔ توکیا گھوڑے، گائیں، بھیڑیں،مرغیاں یہ بھی غیرملکی دشمن ہیں؟“۔

”نہیں انکا نام تو میری فہرست میں نہیں ہے“۔کویوٹی نے جواب دیا۔۔”تو اس عمارت کے سامنے گاڑی کیوں روکی؟ ”میں حیران تھا۔بھیڑیئے نے کہا ”یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم غیر ملکی دشمن رکھتے ہیں“۔ میرا دل  لرز گیا: ”خدا یا! مویشیوں کی عمارت میں بے چارے نہتے جاپانی، وہ غیر ملکی دشمن جو سالہا سال سے یہاں کی  شہریت رکھتے ہیں، ان میں سے بہت سے تو پیدا بھی یہیں ہوئے، ایک شہری ہونے کی ہرطرح کی ذمہ داری اوروفاداری نبھاتے ہیں۔۔ وہ اچانک بلا کسی قصورکسی  جرم کے مویشیوں کے باڑے میں قید کردیے گئے۔  خیر۔۔۔۔ تو کویوٹی یا امریکی بھیڑیا مجھے مویشیوں کی عمارت میں لے گیا۔ عمارت میں داخل ہونے سے پہلے شدید بدبو سے میرا جی متلانے لگا۔”یہ بدبو کیسی ہے”میں نے بھیڑیئے سے پوچھا۔ ”یاد ہے یہ مویشیوں کا باڑا ہے سو بدبوتو ہوگی“۔ مگر۔۔۔۔ یہاں رکھا گیا ہے جاپانیوں کو، اسقدربدبودارجگہ پر؟“۔

”دشمن غیر ملکیوں کو یہ بدبو بری نہیں لگتی۔ وہ آپ کے اور میرے جیسے نہیں ہوتے۔”

خدایا، میں  نے بھیڑیئے سے کہا۔ ”ایسا لگتا ہے کہ تم لوگوں نے تو انسانیت نا م کے ہر احساس کو  ضبط کرلیا ہے”کویوٹی میری بات کو سمجھے بغیر بولا۔

”ہاں،  گوروں  نے مجھے میرے کام پر ایک تحسینی  سندپیش کی ہے جسے میں اپنی دیوار پر لٹکا سکتا ہوں۔”

مویشیوں کے اس باڑے میں انسان بالکل جانوروں کی طرح قید تھے۔ یہ سردیوں کا زمانہ تھا اورباڑے میں کسی طرح کے ہیٹرکا انتظام نہیں تھا۔شاید راتوں رات گھروں سے اٹھا لینے کے سبب قیدیوں کے جسم پرگرم جیکٹ بھی نہیں تھی۔ ماؤں نے اپنے بچوں کو اپنے آپ سے چمٹایا ہوا تھا۔ مردوں کے ہاتھ پشت پربندھے تھے. ایسا عبرت ناک منظرجوشاید میں بھولے نہ بھلا سکوں۔ خیر۔۔۔۔۔ تو کویوٹی  تمام غیر ملکی دشمن خواتین،غیر ملکی دشمن بچوں اورمردوں کو جنکی  پشت پرہاتھ بندھے تھے   مویشیوں کی اس بد بودارعمارت  سے باہر لے گیا اور حکم دیا کہ سب ٹرک میں سوارہوجائیں۔ میں نے پریشان ہوکے کہا ”اتنی بڑی تعداد میں یہ سب ٹرک میں کیسے سمائیں گے؟“۔ اس نے میری بات سنی ان سنی کردی اورانکو ٹھونستا گیا ایک کے بعد ایک ٹرک میں۔ ”خدا کے واسطے سنو، یہ گھٹ کے مرجائیں گے ”میں نے کویوٹی سے گڑگڑا کے کہا۔ ”تم خاموش رہو اورمجھے اپنا کام کرنے دو“۔ اس کے لہجے میں ہلکی سی غراہٹ تھی۔ ”تم ان لوگوں کو کہاں لے جارہے ہو؟“

”مجھے دشمن  غیر ملکیوں کو ان کے نئے گھروں تک لے جاناہے-ان کا نیا گھر شوگربیٹ فارمز ہیں ہم انہیں نوکریاں دینے جا رہے ہیں“۔

کویوٹی نے جواب دیا۔ میں نے نوکریوں کا سن کے اطمینان کا سانس لیا۔

”یہ توبہت اچھی خبرہے، شوگر بیٹ فارموں میں کام کرنے کی  بہت اچھی آمدنی ہے۔”

بھیڑیئے نے اپنا مخصوص ہیبت ناک قہقہہ لگایا  ”ہم انہیں تنخواہ  نہیں دیں گے۔ ان دشمن غیر ملکیوں کو مفت میں کام کرنا ہوگا، تاکہ وہ ہمیں دکھا سکیں کہ وہ وفادار شہری ہیں“۔

”بیشک، بیشک اس رحم دلی پرتمہیں ایک سند اور تمہاری سرکار کو عطا کرنی چا ہئے کویوٹی! بھیڑیا اصول کے ہیروہوتم“۔

کویوٹی نے ایک بار پھر سینہ چوڑا کرکے بھرپورقہقہہ لگایا  ”بس دوست! اپنا کام بہت وفا داری سے کرتا ہوں“۔

ٹرک تیزی سے دوڑ رہا تھا۔ ایک موڑلیتے ہوئے کویوٹی نے مجھے سے کہا چلوتم کودشمن کشتیاں دکھاؤں تم میرے دوست ہو تم کو بہت معمولی قیمت پر دے دوں گا۔۔۔ اس نے ایک ساحل کے کنارے ٹرک روک دیا جہاں حد نظر کشتیاں ہی کشتیاں تھیں۔ ہم نیچے اترے اور اچانک مجھے کچھ فاصلہ پراپنا دوست بلی جین نظرآیا۔۔ بلی جین میرا بچپن کا دوست تھا اس کی اورمیری دادی کوایک ساتھ ان کے والدین سے تین سال کی عمر میں چھین لیا گیا تھا۔ وہ  کیونکہ ماہی گیروں کے حقوق کی تنظیم کا صدرتھا اس لئے اس جگہ اس کی موجودگی نے مجھے حیران نہیں کیا۔ نیچے اترکے میں نے اسے آواز دی اس نے پلٹ کے دیکھا اور دوڑکے میرے گلے لگ گیا ”تم یہاں کیسے؟؟ اوریہ؟۔۔ اس کے ساتھ؟“۔ مجھے کویوٹی کے ساتھ دیکھ کے  اس کے لہجے میں بے پناہ حیرت بھی تھی اوردکھ بھی۔۔کویوٹی ہم دونوں کی گفتگو دھیان سے سن رہا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا مجھے ایک ضروری فون کرنا ہے میں اس سامنے والی عمارت میں جارہاہوں۔ تم دونوں اسی جگہ رہنا۔

بھیڑیا واپس آیا تو اس کے پنجوں سے نوکیلے ناخون باہر نکلے ہوئے تھے۔آنکھوں میں مخصوص بھیڑیوں والی وہ چمک تھی جو کسی شکارپر نظریں جمانے  والے بھیڑیوں کی ہوتی ہے۔  اس نے غراتے ہوئے کہا۔۔ ”مجھے تم دونوں کو گرفتارکرنا ہے اورپھرجھپٹ کے بلی جین کو دبوچ لیا۔۔ اس کے نوکیلے دانت بلی جین کے گردن میں گڑے ہوئے تھے۔ میں اسے چھڑانے کو کوشش کرتے ہوئے غصہ سے چلایا ”چھوڑو میرے دوست کوکمینے یہ میرا دوست ہے“۔

کویوٹی غرایا ”تمہارا دوست غدار ہے۔ یہ ملاحوں کی یونین کا صدرہے۔ یہ ملک دشمن کشتیوں سے یہاں کھڑا ساز باز کررہا تھا،  تمہاری اس غدا ر سے دوستی ہے؟تم دونوں  کی  دوستی سے ملک دشمنی کی بو آرہی ہے”۔۔ کویوٹی اب ایک خوفناک بھیڑئے کی طاقت اورجون میں تھا۔  میرے دوست کی گردن میں اس نے اپنے دانت گاڑے ہوئے تھے اورایک ہاتھ سے مجھے دبوچا ہوا تھا۔۔ اتنے میں ایک گاڑی تیزی سے ہمارے قریب آ کے رکی۔اس میں سے  چھلا نگ لگا کے تین وردی والے اترے۔ ایک نے جھپٹ کے میرے دونوں ہاتھ پشت پرگھسٹ کے ان میں ہتھکڑی ڈال دی۔  باقی دوبلی جین کو اپنے بوٹوں اورگھونسوں بے تحا شہ ماررہے تھے، بلی جین کے ہاتھ بھی اب ہتھکڑی میں جکڑے ہوئے تھے وہ ہم دونوں کو گھسیٹ کے پولیس کی کارکی طرف لے گئے اوربے تحاشہ گالیاں دیتے ہوئے ہمیں اندردھکیل دیا۔۔۔ بھیڑئے نے مجھے حلق کی پوری طاقت سے پکارا۔میں نے پلٹ کے دیکھا تو اس نے اپنے سینے پہ سجے ایک چمک دار تمغہ کی طرف اشارہ کیا اور اپنا بھیا نک مخصوص  قہقہہ لگایا۔۔۔۔میرے ہا تھ زنجیر تھے اور میرا ذہن اپنا قومی ترانہ دہرا ر ہا تھا۔۔۔۔۔۔..

O, Canada! Our home and native land, True patriot love thou dost in us command.

Spread the love

Check Also

چھبیس مزدور اور ایک دوشیزہ ۔۔۔ گورکی / سعادت حسن منٹو

ہم تعداد میں چھبیس تھے۔ چھبیس متحرک مشینیں، ایک مرطوب کو ٹھڑی میں مقید، جہاں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *