Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » دیوانے لوگ ۔۔۔ مہر غلام فرید کاٹھیا

دیوانے لوگ ۔۔۔ مہر غلام فرید کاٹھیا

شام ہونے کی وجہ سے گنتی بند ہونے والی تھی۔ جانو کا بخار بڑھتا ہی جارہا تھا۔وہ اپنے کھڈے پر لیٹا تھاکراہ رہا تھا۔ اس کی نظر دروازے پر لگی ہوئی تھی۔آج بھی دوائی نہ ملی تو مرجاؤں گا۔ آج جس طرح بھی ہو ہسپتال جانا چاہیے خواہ اپنی آخری پونجی سگریٹ کے پانچ پیکٹ اور دس روپے کسی کو دینا ہی کیوں نہ پڑیں۔ دروازہ کھلا تو جانور میں جیسے صحت لوٹ آئی ہو۔ لال ٹوپی والا عابو احاطے میں داخل ہوا اور ایک دم تالے کی چابی ہاتھ میں لہراتا ہوا سیدھا بیرک میں جانو کے پاس آگیا۔ عابو خدا تجھے خود رکھے تیرے بچے جئیں تو غریب ترسی کرتا ہے اللہ تجھے اس کا اجر دے گا۔

عمر قید پانے والا عابو بچوں کا نام سنتے ہی دس سال پیچھے جانکلا جب اُسے سزا ہوئی تھی۔ وہ بھی جانو کی طرح ایک غریب آدمی تھا۔ اسے ٹھیکیداروں کے ذریعے یہ روزگار حاصل تھا۔ عمارت کا مالک ٹھیکے پر کام کروارہا تھا۔ ٹھیکے دار تمام مزدوروں سے کم قیمت پر محنت لیتا تھا۔ مزدوری چار روپے تھی لیکن وہ انہیں تین روپے دیتا تھا  تمام مزدور اس لیے مطمئن تھے۔ دیہاڑی بیکار تو نہیں جاتی۔ مگر اس دن جب ٹھیکیدار نے مزودروں کو آٹھ آنے مزید کٹوتی کا حکم سنایا تو تمام مزدور جیسے مرگئے۔ جسم میں خون نہ رہا، بے جان سے ٹھیکیدار کوتکتے رہے۔ ٹھیکیدار نے تحکمانہ لہجے میں کہا ”جاؤ کام شروع کرو میرا منہ کیوں تکتے ہو“۔ تو عابو نے دبے لفظوں میں احتجاج کیا تھا۔ ”ایک روپیہ تو پہلے ہی کم لیتے ہیں، اب آٹھ آنے مزید کم ملیں گے۔ چوہدری صاحب ہم بھی انسان ہیں۔ ہمارے بھی پیٹ لگا ہے“۔ اور بس عابو کو جواب مل گیا تھا۔ ٹھیکیدار نے اُسی وقت پچھلے ہفتے حساب چکا کر عابو کو کام سے نکالا باہر کیا تھا۔

عابو اپنے حساب کے دس روپے لیتے وقت ڈر رہا تھا۔اس کے سامنے اپنی بیمار بیوی اور ایک سالہ معصوم بچی کے چہرے گھوم گئے۔ یہ دس روپے کب تک چلیں گے۔ بچی دودھ پیتی ہے۔اس کی ماں بیمار ہے۔ اس کی دوائی روزانہ آتی ہے۔ عابو یہ سوچ کر کانپ گیا۔ اگر اسے کہیں دھاڑی نہ ملی اگر اس کی ایک دھاڑی بھی ٹوٹ گئی تو کیا ہوگا۔ اس کی بیوی بیماری سے مر جائے گی اور اس کی بچی بھوکی۔۔۔ عابو کے دونوں ہاتھ جڑ گئے۔ دس کا نوٹ جڑتے ہاتھوں سے نصف باہر نکلا عابو کی تندرست محنت کا مذاق اُڑا رہا تھا۔ عابو ہاتھ باندھے ٹھیکیدار کے سامنے منتیں کر رہا تھا۔ ”جناب معافی دے دیں غلطی ہوگئی۔ مجھے نہ نکالیں۔ میں قسم کھاتا ہوں میں کبھی نہیں بولوں گا۔ اس بار معاف کردیں۔ یہ دس روپے آپ رکھ لیں ”اور اس نے دس روپے کا نوٹ ٹھیکیدار کے قدموں میں ڈال دیا۔ ٹھیکیدار نے جیسے دشمن کا قلعہ فتح کر لیا ہو۔ فاتحانہ انداز میں مسکرایا  اور بڑے فخر سے دوسرے مزدوروں کی طرف نظر دوڑائی جو چوری آنکھوں سے تمام معاملہ دیکھ رہے تھے۔ اس نے عابو کو ڈانٹتے ہوئے کہا ”جاؤ کام کرو اگر آئندہ بولا تو کبھی معاف نہیں کروں گا“۔ اور دس کا نوٹ قدموں سے اٹھا کر جیب میں رکھ لیا۔ عابو شکست خوردہ چال چلتے اینٹیں اُٹھانے میں مصروف ہوگیا اور یہی مجبوری، یہی شکست اس کی عمر قید کا سبب بنی۔ ٹھیکیدار اپنے مزدوروں کی مجبوری سے  ہر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑتا تھا۔اس دن بھی ٹھیکیدار نے عابو اور اس کے دو ساتھیوں کو جو عابو ہی کی طرح  کے صحت مند نوجوان تھے کو کام ختم کرنے کے بعد اپنے پاس ہی روک لیا تھا اور بتایا تھا کہ انہیں سامان لانے کے لیے بھیجنا ہے ۔

عابو ہمیشہ اپنی بیمار بیوی اور معصوم بچوں کے پاس کام ختم ہونے کے فوراً بعد پہنچ جاتا تھا کیونکہ اس کی بیوی کی تیمارداری کرنے والا اور کوئی نہ تھا، وہ گاؤں سے محنت مزدوری کے لیے اپنی بیوی کے ساتھ اکیلا شہر آیا تھا۔ اس کے رشتے دار عزیز سب گاؤں میں رہتے تھے۔ جب وہ کام پر آتا تھا تو اس کی بیمار بیوی بچی کے ساتھ اکیلی ہوتی تھی۔ پہلے تو اسے کوئی زیادہ فکر نہ ہوتی تھی مگر جب سے وہ بیمار ہوئی تھی عابو کام ختم کرتے ہی فوراً بیوی اور بچی کے پاس پہنچ جاتا تھا۔ آج جب ٹھیکیدار نے اسے کام ختم کرنے کے بعد روکا تواس میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ اس کو اپنے گھر اور بچوں کی حالت بتا سکتا۔ مبادا آج پھر اسے ہمیشہ کے لیے کام سے جواب مل جاتا۔ وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ چپ چاپ ٹھیکیدار کے پاس ٹھہر گیا۔ کچھ دیر بعد ٹھیکیدار تینوں کو ساتھ لے کر اپنے گھر پہنچا۔

آج ٹھیکیدار نے انہیں غیر متوقع طور پر اپنے گھر پر ہی کھانا کھلایا اور کہا کہ تھوڑا سا سامان لانا ہے اور متعلقہ آدمی چونکہ ابھی سٹور میں نہیں آیا اس لیے وہ یہیں پر ٹھہریں اور کھانا وانا کھالیں۔ بس ابھی سٹور کیپر کا پیغام آنے والا ہی ہے ۔

رات کے دس بجے ہوں گے کہ ایک ٹریکٹر ٹرالی ٹھیکیدار کے دروازے پر آکر رکی۔ ٹھیکیدار نے عابو اور اس کے ساتھیوں کو ٹریکٹر ٹرالی والوں کے ساتھ جانے کو کہا اور کہ جس طرح ٹریکٹر ٹرالی والا کہے اسی طرح کرنا، دیر مت لگا اور کل اپنے کسی مزدور ساتھی سے بات نہ کرنا کہ وہ رات ٹھیکیدار کے ساتھ تھے ”سمجھے؟۔ور نہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا“۔ عابو کی سمجھ میں کچھ نہ آیا، سامان لانا ہے، رات کے دس بجے تک انتظار، دوسرے مزدوروں کو کچھ نہیں بتانا۔ آخر کیا معاملہ ہے؟۔ عابو یہ سوچتا ہوا دوسرے دونوں ساتھیوں سمیت ٹرالی میں سوار ہوگیا۔ سڑک پر چلتی ہوئی ٹرالی کے جھٹکے عابو کو اپنے دماغ میں محسوس ہوتے رہے۔ اسے لگتا تھا جیسے اس کا ذہن جھٹکے کھا رہا ہو۔ آمنہ، اس کی بچی، شریفاں اس کی بیمار بیوی۔۔۔ ٹھیکیدار کا سامان۔۔۔ ٹھیکیدار کی ہدایت۔۔۔ رات کے دس بجے۔۔۔۔سٹور کیپر کا پیغام۔۔۔۔یہ سب جھٹکے وہ اپنے ذہن پر برداشت کرتا رہا حتیٰ کہ ٹرالی ایک بہت بڑی عمارت کے سامنے جارکی۔ ڈرائیور نے مزدوروں کو اُترنے کا حکم دیا۔ وہ تینوں ٹرالی سے اُتر آئے۔ ایک بہت بڑا پھاٹک کھلا اور ڈرائیور ٹرالی کو اس کے اندر لے گیا۔ تینوں مزدور بھی ٹرالی کے پیچھے اس پھاٹک کے اندر جانے لگے تو ایک صاحب ٹائپ آدمی نے انہیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔

تینوں ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے مگر خاموش اس کے پیچھے چلتے رہے۔ بڑے پھاٹک کے اندر قریب ہی ایک طرف لک کے ڈرموں کا ڈھیر پڑا ہوا تھا۔ ساتھ ہی ایک ڈھیر سر یے اور دوسر ا ڈھیر بجری کا بھی لگا ہوا تھا۔ صاحب تینوں کو قریب ہی ایک چھوٹے کمرے میں لے گیا اور تین ٹوکریاں اور تین کسیاں ان کے حوالے کرتا ہوا انہیں سب سے پہلے بجری کے سینکڑے ٹرالی میں بھرنے کا حکم دیا۔ تینوں خاموشی سے اپنے کام میں لگ گئے۔ عابد کے ساتھی نے بُڑ بڑاتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہا ٹھیکیدار نے ہماری رات بھی ضائع کرادی اب یہ کام تو ساری رات ختم نہیں ہوتا۔ اتنا سامان تو فوراً نہیں اُٹھایا جاسکتا تمام رات سمجھو گئی۔ وہ پھر کل ہمیں کام پر بھی رکھے گا۔ رات بھی جاگنے کے بعد کل پھر کام کرنا ہوگا۔ آخر یہ کام شام کو بھی تو ہوسکتا تھا۔ اب تک فارغ ہوچکے ہوتے۔وہ تینوں ساتھی انہیں باتوں میں بجری ٹرالی پر چڑھا ئے جارہے تھے کہ ٹرالی ڈرائیور اور صاحب ٹائپ آدمی کی ٹریکٹر کے پاس کھسر پھسر عابد کے کانوں میں پڑ گئی۔

عابد بجری کی ٹوکری ٹرالی میں پھینک کر ان کی طرف متوجہ ہوا اور ٹرالی کے اگلے حصے میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ صاحب ٹائپ آدمی ڈرائیور سے کہہ رہا تھا۔ ”دیکھو ٹھیکیدار سے کہنا کہ ایس ڈی او صاحب اتنی رقم پر نہیں مانتے اور چیف انجینئر صاحب کو دے دلا کر ان کے پاس تو کچھ نہیں بچے گا۔ یہ رقم کم ہے اور وہ بھی انہوں نے پوری نہیں بھیجی۔ یہ سامان اپنی ذمہ داری پر دے رہا ہوں کل تک کم از کم تین ہزار روپیہ اور پہنچ جانا چاہیے۔ یہ سات ہزار جو اس نے بھیجا ہے صرف چیف انجینئر صاحب ہی لے گا۔ تین ہزار ایس ڈی او صاحب مانگ رہے ہیں پھر آخر میرے بھی تو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ پھر یہاں کا سٹور کیپر اور چوکیدار بھی غریب آدمی ہیں۔ ہزار دو ہزار روپے تو ان کو بھی ملنے چاہئیں۔ سامان کم از کم تیس ہزار روپے کا ہوگا۔ انہیں کہنا بارہ ہزار روپے میں کیا مہنگا ہے۔

عابو کا دماغ جیسے سن ہوگیا، ٹھیکیدار، دوسرا انجینئر یہ سب صاحب ٹائپ لوگ اُسے گندی نالیوں کے حقیر کیڑے نظر آنے لگے۔ اسے یہ اونچی اونچی عمارتیں اور بڑے بڑے بنگلے مٹی کا ڈھیر دکھائی دینے لگے۔ لمبی لمبی کاریں کمیٹی کے گندے چھکڑوں سے بھی بد تر نظر آنے لگیں۔اسے یہ سب لوگ اور ان سے متعلقہ دنیا نیچ دکھائی دینے لگی۔ عابد کو اپنی شخصیت ایک دم ان سب لوگوں کے مقابلے میں بلند وارفع نظر آنے لگی۔ اس کی بیمار بیوی جیسے ایک دم تندرست ہوگئی۔ اس کی کُٹیا جیسے ہزاروں محلوں سے بھی عالی شان ہوگئی ہو۔

اسے اپنے اندر وہ عظیم قوت محسوس ہونے لگی جس کے سامنے دشمنوں کے ہزاروں لشکر مات کھا جائیں۔ ”ٹوکریاں پھینک دو”عابد نے یک دم اپنے دونوں ساتھیوں پر ٹوکریاں پھینک دینے کا اس طرح حکم صادر کیا جیسے وہ کسی لشکر کی کمان کرتے ہوئے انہیں فائر کھولنے کا حکم دے رہا ہو۔ اس کے دونوں ساتھی عابد کی آواز پر رک گئے۔ ابھی ان کی حیرانی بھی دورنہ ہوئی تھی کہ صاحب ٹائپ آدمی اور ڈرائیور چوکنے ہو کر بجری کی ڈھیر پر آگئے۔ صاحب ٹائپ آدمی نے چلاتے ہوئے عابد سے کہا ”بکواس بند کرو اور اپنا کام جاری رکھو“ مگر عابد نے گرجتی ہوئی آواز میں جواب دیا ”تم چور، لیٹرے ڈاکو ہم پر حکم نہیں چلاسکتے۔ ہم ایسانہیں ہونے دیں گے“۔ اور پھر تمام معاملہ عابد کے دوسرے دونوں ساتھیوں پر بھی ظاہر ہوچکا تھا۔ تینوں ساتھیوں نے ٹوکریاں اور کسیاں پھینک کر پھاٹک سے نکلنا چاہا مگر چوکیدار نے پھاٹک جھٹ بند کردیا۔

صاحب ٹائپ آدمی نے ڈرائیور اور چوکیدرا کو حکم دیا کہ مزدور یہاں سے جانہ پائیں ورنہ سارا معاملہ چوپٹ ہوجائے گا۔ جھپٹ کر ایک کسی اٹھالی۔ چوکیدار کے ہاتھ میں پہلے ہی لاٹھی موجود تھی جس کے دونوں سروں پر لوہے کے پترے جڑے ہوئے تھے۔صاحب ٹائپ آدمی نے بھی بڑھ کر ایک کسی  اٹھالی مگر اس کے باوجود تینوں مزدور پھاٹک پر آگئے اور چوکیدار سے پھاٹک کھولنے کا مطالبہ کیا۔ مگر چوکیدار نے صاحب ٹائپ آدمی کے حکم پر پھاٹک کھولنے کی بجائے لاٹھی عابد کے ایک ساتھی کے سرپر ماری۔ عابد کا ساتھی لاٹھی کی ضرب سے چکرا کرگرا تو عابد چوکیدار پر جھپٹ پڑا۔لاٹھی اس کے ہاتھ سے چھین لی اور اسے اس زور سے دھکا دیا کہ وہ پھاٹک کے انگلارن پر جاگرا۔ عابد نے دیکھا کہ صاحب ٹائپ آدمی اور ڈرائیور اس کے دوسرے ساتھیوں پر کستیوں کا وار کرنے والے ہیں تو اس نے بڑھ کر لاٹھی صاحب ٹائپ آدمی کے سر پر دے ماری جس سے وہ وہاں ڈھیر ہوگیا۔ ڈرائیور نے یہ صورت حال دیکھی تو کسی پھینک کر بھاگ نکلا۔ لوہے کا پھاٹک پھلانگ کر سڑک پر غائب ہوگیا۔

چوکیدر پھاٹک کے ساتھ گرا کانپ رہا تھا۔ عابد نے بڑھ کر اپنے مضروب ساتھی کو سہارا دیا۔ وہ ہوش میں تھا۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ عابد نے فوراً قیمص اتاری اور اس کو پھاڑ کر اپنے ساتھی کے زخمی سر پر ابتدا ئی طبی امداد کے طور پر باندھ دی۔ اس نے چوکیدار کو بھی پکڑ کر اٹھایا اور پھاٹک کھولنے کا حکم دیا۔ چوکیدار پر رعشہ طاری تھا۔

وہ صاحب ٹائپ آدمی کی لاش دیکھ کر بہت زیادہ خوف زدہ ہوچکا تھا۔ وہ پھاٹک کے پاس سے اٹھ کر عابد کے قدموں میں گرا اور منت سماجت کرنے لگا۔ ”میں ایک غریب آدمی ہوں میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ مجھے معاف کردو۔ بھائی مجھے کچھ نہ کہنا۔ میں بھی تمہاری طرح ایک مزدور ہوں مجھے معاف کردو“۔ عابد نے ایک لمحے کے لیے بوڑھے چوکیدار کی طرف دیکھا جو اس کے پاؤں پر گرا تھا۔ پھر اس نے بوڑھے کو بالوں سے پکڑ کر زور سے اوپر اٹھایا۔ بوڑھا بالوں کے کھنچنے کی تکلیف سے بلبلا کر اٹھ کھڑا ہوا اور عابد کو چابیوں کا گچھا پکڑا دیا۔ عابد نے پھاٹک کھولا۔ دونوں نے اپنی زخمی ساتھی کو سہارا دے کر اٹھایا اور باہر نکل گئے۔

پھر وہ دن بھی عابد کو کل کا دن نظر آنے لگا جب اسے اور اس کے زخمی ساتھی کو عدالت نے اوورسیئر کے قتل کے الزام میں 14 سال قید کی سزائیں دی تھیں۔ ان کا تیسرا ساتھی ان کے جرم میں اعانت کے پانچ سال بھگت کر جاچکا تھا۔ ان تینوں کے خلاف اور سیئر سے سات ہزار روپے چھیننے کے لیے قتل کرنے کا الزام لگا۔ مدعی وہی پھاٹک والا چوکیدار بنا۔ ٹھیکیدار اور ٹریکٹر ڈرائیور  اُن کے خلاف چشم دید گواہ تھے جنہوں نے ملزموں کو شناخت پریڈ میں کمال مہارت سے شناخت کرلیا تھا اور جب عدالت نے عابو اور اس کے ساتھی کو 14سال قید کی سزا سنائی تھی تو عابد کی بیوی شریفاں کے چہرے پر کتنی رونق آگئی تھی۔ اس نے تشکر سے کہا تھا کہ چودہ سال تو کوئی بات نہیں میں انتظار میں گزار دوں گی۔ اگر موت کی سزا ہوتی تو۔۔۔ شریفاں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے مگر چہرے پر متانت تھی عزم تھا۔ غریب مزدور کے ساتھ  اس معزز سماج کے انصاف پر مزدور کی بیوی بہت خوش تھی۔ معاشرے کی سنگینیوں کا مردانہ وار مقابلہ وار کروں گی۔ اپنا تحفظ کروں گی۔ تمہاری بچی کا تحفظ کروں گی۔ سماجی بھیڑیوں کے لیے میں قہربن کے رہوں گی تو فکر نہ کرنا۔

چودہ سال تو کوئی بات نہیں تمہاری زندگی بچ گئی۔ میں انتظار کر لوں گی۔ عابو فکر مت کرنا۔ ایک بدعنوان اوور سیئر کو اس کی لالچ نے موت کے منہ میں پھینک دیا اور ایک ٹھیکیدار نے ناجائز دولت کی خاطر ہماری غربت سے، ہماری کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں تمہیں جیل بھجوادیا۔

”اب جیل کاٹنا یقینا آسان ہوگا“۔ عابد نے دل ہی دل میں کہا اور آج عابو سزا کاٹ چکا تھا۔ اس کا کردار جیل میں بہت اچھا تھا۔ اس پر حکمران قوتیں بہت خوش تھیں۔ جیل کے دورے پر آنے والی ہر اتھارٹی نے اس پر چند ماہ کی معافی کا احسان ضرور فرمایا تھا۔ جب اس کے محض چند ماہ باقی تھے تو جانو نے ہی اس کے بچوں کو دعا دی تھی۔ عابو کے لیے جانو کا اس سے بڑا تحفہ اور کوئی نہ تھا۔ عابو جانو کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر بھی ہسپتال پہنچا دینا چاہتا تھا۔ اس نے جانو کوجلدی سے اپنے ہاتھوں کا سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش کی مگر جانو بخار کی شدت سے تڑپ رہا تھا۔ اس نے کراہتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی مگر بڑی مشکل کے ساتھ عابو کے بازؤں کے ذریعے وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوا۔ اور چلنے کی کوشش کی۔ عابو نے اس کے تپتے ہوئے جسم کو مضبوطی سے اپنے بازوؤں میں سنبھال رکھا تھا اور اس کوشش میں تھا کہ جانو کا وزن اُس کے پیروں پر کم سے کم پڑے۔ ایک دو اور قیدی بھی عابو کی مدد کے لیے بڑھے اور انہوں نے مل کر جانو کو سہارا دیا جس سے وہ قدم قدم چلنے کے قابل ہوگیا۔

تینوں قیدی جانو کو لے کر نکلے اور پھر احاطے کا دروازہ کھول کر باہر گلی میں آگئے۔ ہسپتال کی جانب ابھی چند ہی قدم چلے تھے کہ پیچھے سے ہیڈ وارڈر کی گرج ان کے کانوں سے ٹکرائی۔ عابو کے  ساتھ جانو کو لے جانے والے دوسرے دونوں قیدی تو آواز سنتے ہی جانو کو چھوڑ کر واپس پیرک میں بھاگ گھسے مگر عابو جانو کو سہارا دیئے کھڑا رہا۔ وارڈر نے قریب پہنچتے ہی بیمار جانو کی پیٹھ پر اپنے ڈنڈے کی دھپ لگائی جسے عابو نے اپنے بازو پر روک لیا۔ وارڈ نے سیخ پا ہوتے ہوئے عابو کو ڈانٹا ”یہ اپنے باپ کو اس وقت کہاں لیے جارہے ہو؟“ عابو نے کہا ”جی جانو کو بہت زیادہ بخار ہے۔ یہ بخار اس کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے اسے ہسپتال پہنچانے جارہے تھے تاکہ رات کو دوائی کھا کر سوئے اور شاید کچھ افاقہ ہوجائے“۔ اوئے تجھے پتہ نہیں کہ گنتی بند ہونے والی ہے۔ تم نے لال ٹوپی اُتروانی ہے۔ بڈھے کو واپس لے جاؤ۔ کل ہسپتال پہنچانا“۔

عابو نے جیل کی زندگی میں پہلی بار اپنے میں غصے کی لہر اُٹھتی محسوس کی۔ مگر کمال ضبط سے اس نے وارڈر کو بتایا کہ وہ اسے ہسپتال ضرور لے جائے گا چاہے کچھ بھی ہو اور وہ جانو کو ہسپتال کی جانب لے کر چل پڑا۔ وارڈر اور تو کچھ نہ کرسکا فوراً گھنٹی گھر کی طرف بھاگا اور ہیڈ وارڈر کو ساتھ لے کر عابو اور جانو کو چند قدموں پر ہی جالیا۔ ہیڈ وارڈر  نے آتے ہی عابو کو تھپڑ رسید کیا اور جانو کو اس کے بازؤں سے چھین کر واپس بیرک کی طرف گھسیٹنے لگا۔

تین چار وارڈر اور کچھ قیدی وہاں پر جمع تھے۔ وارڈر نے قیدیوں کو اپنی اپنی بارکوں میں جانے کا حکم دیا اور وارڈروں کو کہا کہ وہ جانو کو واپس بیرک پھینک آئیں اور عابو کو حکم دیا  کہ وہ بیرک کی چابیاں فوراً واپس کرے۔ عابو نے چپ چاپ نالے سے چابیاں کھول کر ہیڈ وارڈر کے حوالے کردیں۔ وارڈر نے چابیاں واپس لیتے ہوئے عابو کو دھمکی دی کہ وہ کل صبح تمہیں صاحب کے سامنے پیش کریں گے۔ تمہاری لال ٹوپی اور تمام معافیاں اتار دی جائیں گی۔ اپنے آپ کو بہت پھنے خاں سمجھنے لگے ہو۔ عملے کے ساتھ گستاخی پر اتر آئے ہو۔ معافیوں نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے۔ عابو گم سم کھڑا ہیڈ وارڈر کی دھمکیاں سنتا رہا۔ اس کا جی تو چاہا کہ بیمار جانو کو ان سے چھین لے اور ہیڈوارڈر کے گالیاں بکتے ہوئے جبڑوں کو ایک گھونسے سے چور چور کردے۔ مگر وہ ایسا نہ کرسکا۔ دس سال کی منتظر شریفاں اور آمنہ کے صبر نے اس کے ارادے کو ٹھنڈا کردیا۔ وہ بڑی عاجزی سے ہیڈوارڈر کے سامنے گردن جھکائے کھڑا رہا اور کچھ نہ بولا۔

ْ               گنتی بند ہو رہی تھی۔ چابیاں وارڈر کے پاس تھیں۔ عابو بھی بیرک میں ڈیوٹی پر موجود تھا۔ ابھی تک تو وہ نمبردار تھا اور اس کی ڈیوٹی اسی بیرک پر تھی۔ وہ متفکر اور غمگین آرہا تھا۔ تمام قیدی اس کی طرف بار بار تجسس کی نظروں سے دیکھ رہے تھے مگرعابو تو جیسے ہر نظر سے بے نیاز اپنے آپ میں گم تھا۔ بیرک کے قیدیوں میں جانو بھی کھڈے پر پڑے پڑے عابو کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ جانو نے ہیڈوارڈر کی تمام دھمکیاں جو اس نے عابو کو دی تھیں سن لی تھیں۔ جانو کو بار بار خیال آرہا تھا کہ صبح عابو کی ٹوپی اتر جائے گی۔ اس کی تمام معافیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔

یہ سب صرف جانو کی خاطر ہورہا تھا۔ صرف اس لیے کہ عابو نے بوڑھے جانو کو بیماری کا علاج کروانا چاہا تھا۔ عابو عمرقید کا قیدی، جو قید کاٹ کر جیل میں صرف چند ماہ کا رہائشی تھا اب اس کو پھر سالوں تک جیل کی بھٹی میں سڑنا پڑے گا۔ جانو نے اپنے اندر ایک نئی قوت محسوس کی۔ جیسے عابو کی خاموشی اس کے بخار کا علاج بن گئی ہو۔ جیسے عابو کے تردد نے اسے ریسو چین کا ٹھیکہ لگا دیا ہو۔ جانو بڑے عزم کے ساتھ اٹھ بیٹھا۔ عابو کو اپنے قریب بلایا اور پھر اس نے اس کے کان میں کچھ کہہ کر کھڈے کے ساتھ والے کونے میں رکھے ہوئے کونے میں رکھے ہوئے ٹینے کی چابی اس کے ہاتھ میں دے دی۔ عابو نے چابی لینے سے انکار کیا تو جانو جیسے طیش میں آگیا۔ وہ اپنی بیماری بھول گیا۔ اُس نے تندرست انسان کی سی تیزی کے ساتھ کھڈے کے کونے میں رکھے ہوئے ٹینے کی چابی لگائی اور اس میں سے ایک چھوٹی سی پوٹلی نکالی اور عابو کا ہاتھ پکڑ کر اس کی ہتھیلی پردے ماری۔ پھر بڑے پیارے کہا عابو بیٹا اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر میں بیمار ہوجاؤں گا۔

عابو نے پوٹلی لیتے ہوئے جانو کے ہاتھ کو چھوا تو اس کا بخار اور بھی تیز تھا۔ جانو صرف قوت ارادہ کے ذریعے اٹھ گیا تھا۔ عابو نے جانو کو کھڈے پر لٹا دیا اور بیرک سے باہر احاطے میں آگیا۔ عابو نے دیوار کی طرف منہ کر کے پوٹلی کھولی تو اس میں دس روپے کا ایک نوٹ اور سگریٹ کے پانچ پیکٹ تھے۔ کیا گنتی بند ہوگئی۔ ہیڈ وارڈر نے بیرک کو تالا لگاتے ہوئے وارڈر سے پوچھا۔

عابد نے گھبرا کر پوٹلی پیٹھ کے کے پیچھے کر لی۔ وارڈر نے تالا لگایا اور چابی احاطے کے دروازے پر کھڑے ہوئے ہیڈوارڈر کو دے دی۔ ہیڈ وارڈر دروازے پر کھڑا عابو کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔ عابو نے ایک نظر اس کو دیکھا وہ بدستور خاموش رہا۔ عابو ہمت کر کے اس کی طرف بڑھا۔ ہاتھ اٹھا کر بڑی عاجزی کے ساتھ سلام کیا۔ تھوڑی دیر پہلے کے واقعے پر معافی مانگی۔ پھر دروازے کے کواڑ کی اوٹ کی پوٹلی ہیڈوارڈر کی طرف بڑھا دی۔”صاحب غلطی ہوگئی تھی آپ کا خادم ہوں کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا۔ آج غلطی معاف کردیں“۔اور پھر ہیڈوارڈر کے قدموں پر گرپڑا۔ پہلے وارڈر نے دو قدم پیچھے ہٹ کر واپس جاتے ہوئے وارڈر کو دیکھا جو ڈیوڑھی کی طرف کافی فاصلہ کر چکا تھا۔

ہیڈوارڈر نے ہاتھ بڑھا کر پوٹلی لے لی اور اس کے ہاتھ سے دبا کر پوٹلی کے اندر کے مال کا اندازہ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ عابو نے کہا ”حضور اس میں دس کا نوٹ اور پانچ پیکٹ سگریٹ ہیں“۔ ”ہوں“ ہیڈوارڈر جیسے مطمئن ہوگیا ہو۔ ”یہ لو چابیاں۔ کل تمہاری پیشی نہیں کروں گا۔ بڈھے کو کل ہسپتال لے جانا اور آئندہ کسی ملازم سے گستاخی نہ کرنا۔ عابو کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ شریفاں جیسے اس کے شریر میں نشہ بن کر چھا گئی۔ آمنہ جیسے اس کے چوڑے چکلے سینے سے آچمٹی ہو۔ جانو تندرست وتوانا جیسے اس کے سامنے آموجود ہو۔

عابو دیر تک ڈیوڑھی کی طرف جاتے ہوئے ہیڈوارڈر کو دیکھتا رہا اور پھر بھاگ کر بیرک کی سلاخوں سے جالگا۔ جانو کو خوشی سے چلا کر آواز دی۔ بابا میری پیشی نہیں ہوگی۔ میں اس بارک کا نمبردار ہوں گا اور کل صبح ہوتے ہی سب سے پہلے تمہیں ہسپتال لے چلو ں گا۔“

Spread the love

Check Also

امریکی بھیڑیا اورغیر ملکی دشمن ۔۔۔ تھامس کنگ / نسیم سید

اچھی کہانی بھلا کس کو پسند نہیں ہوتی؟ بلکہ کہانی سننے کے شوق کوتو ہمار ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *