Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » امریکی قرضے ۔۔۔ فیڈل کاسٹرو/شاہ محمد مری

امریکی قرضے ۔۔۔ فیڈل کاسٹرو/شاہ محمد مری

جیفری ایلیٹ: لاطینی امریکہ کے موجودہ معاشی بحران کی بے پناہ اہمیت کے باوجود بین الاقوامی برادری نے اس مسئلے کی طرف زیادہ توجہ کیوں نہیں دی ہے؟۔

فیڈل کاسٹرو: اس کی کئی وجوہات ہیں۔ میرا خیال ہے کہ بین الاقوامی برادری سے آپ کا مطلب صنعتی، ترقی یافتہ ممالک اور خصوصاً مغربی ممالک ہیں جن کے لاطینی امریکہ اور کیربیئن ممالک سے قریبی رشتے ہیں۔

اول: یہ کہ تیسری دنیا کے ممالک آج کل جن معاشی، سماجی اور انسانی المیوں سے گزر رہے ہیں ان کی طرف وہ سردمہری اور لاتعلقی کا رویہ رکھتے ہیں اور ان کی پروا نہیں کرتے۔

دوئم: یہ کہ وہ کم باخبر ہیں، غیر ذمہ دار ہیں اور ان میں موجودہ شدید سیاسی مسائل خصوصاً وہ جو جلدیا نسبتاً بہ دیر اٹھیں گے، کی پیش بینی کی کمی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ جب مسائل بحران کی شکل اختیار کریں جو کہ یقینا آئے گا۔ تب انہیں احساس ہوگا اور تبھی وہ ان مسائل کی طرف سے پریشان ہونا شروع ہوں گے۔

سوئم۔ خود غرضی کی وجہ سے۔تیسری دنیا کے ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات میں وہ مراعات یافتہ ہیں۔ وہ خام مال سستا خریدتے ہیں، باہر کی چیزیں سستی خریدتے ہیں۔ اور روز بروز کم سے کم قیمتیں دیتے ہیں اور اپنا تیار شدہ مال بہت زیادہ مہنگا بیچتے ہیں۔

چہارم۔ وہ مراعات کے ایک نظام کے عادی ہوچکے ہیں جس پر نظرثانی کرنے کے لے وہ گز تیار نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر محض ایک سال یعنی 1984میں لاطینی امریکہ نے کس طرح 70بلین  ڈالر کے معاشی وسائل ان صنعتی  ممالک کو منتقل کیے۔ تفصیل مندرجہ ذیل ہے: قرضے اور سود کے طور پر 37.3بلین ڈالر، تجارت کی شرائط میں خرابی سے 20بلین ڈالر۔اس کا مطلب کیا ہوا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر لاطینی امریکہ نے 1980 میں برآمدکردہ ایک خاص مقدار سے ترقی یافتہ ممالک سے سو کے قریب چیزیں خریدی تھیں تو مال کی اسی مقدار کے بدلے میں اسے 1984میں 3.78کے برابر مال حاصل ہوا۔اگر 95بلین امریکی ڈالر کے برآمدات یا تجارت پر غور کیا جائے تو اس مد میں نقصان 20بلین ڈالر سے زیادہ ہوگا۔یعنی لاطینی امریکہ نے 20بلین ڈالر مالیت کی معاشی قدر اور سامان تجارت بغیر کسی معاوضے کے منتقل کیے ہیں۔

ان دو مدوں کے علاوہ ہمیں غیر ملکی کرنسی کے فرار کے لیے دس بلین ڈالر کا اضافہ کرنا ہوگا۔ اور یہ اعداد و شمار محدود النظر ہیں۔ یہ پیسہ صنعتی ممالک خصوصاً امریکہ بھیجا گیا اور پھر ڈالر کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے 5بلین ڈالر مزید۔ اس مد میں نقصانات کو سمجھنے کے لیے آئیے ہم ایک مثال لیتے ہیں اور قدیم ترین  روایتی کرنسی سونے کولے لیتے ہیں تاکہ اس سے چیزوں کی قدر نا پیں۔ فرض کریں کہ آپ کو ایک کلو گرام سونا چھ فیصد سود کے حساب سے قرض دیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر شرح سود بہت اونچی نہ تھی۔ اور کچھ مذاہب مثلاً اسلام میں سود کی مذمت کرتے ہیں اور یہاں تک کہتے ہیں کہ سود  ڈاکے کے مترادف ہے۔ مگر اخلاقی تصورات اور مذہبی احکامات کو ایک طرف رکھ کر اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ جس شخص کو قرض دیا گیا تھا اُسے اس قرض کے علاوہ کچھ اضافی رقم واپس کرنی چاہیے۔ اب اگر آپ کو ایک کلو گرام سونا قرض دیا گیا تھا اور یہ توقع رکھی گئی تھی کہ آپ سال کے آخر میں ایک کلو گرام سونا معہ 6 فیصد اضافی سونے کے واپس کریں گے۔ مگر قرض دینے والا شخص اچانک یہ مطالبہ کرے کہ مقروض اسے سونا مزید 36سو فیصد ادا کرے جو کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہے ۔ تب آپ نے جو ایک کلو گرام سونا حاصل کیا ہے اور قرض دہندہ مطالبہ کرتا ہے کہ آپ اسے 1.35کلو گرام سونا اور چھ فی صد سود لوٹادیں۔ اگر اس کے علاوہ ادائیگی کے وقت قرضخواہ سود چھ فی صد کی بجائے دس فیصد ادا کرے اور مقروض سے مطالبہ کرے کہ وہ 1.35کلو گرام سونا جمع دس فی صد مزید ادا کریں۔ مختصر یہ کہ آپ نے ایک خاص مقدار میں ایک خاص شرح سود پر قرض حاصل کیا تھا مگر اب آپ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ زیادہ مقدار زائد سود کے ساتھ لوٹائیں۔ مطلب یہ ہوا کہ آپ کو لوٹا جارہا ہے جس کی اجازت کوئی بھی مذہب نہیں دیتا۔

یہ رقم کتنی بنتی ہے؟ میں صحیح اعداد و شمار پیش کرتا ہوں کہ اس قرض کا کونسا حصہ ڈالر میں تھا اور ہر ایک سودے میں کتنا سود طے ہوا تھا تاکہ صحیح طور پرمعلوم ہوسکے کہ قرض دار کو ہر سال یہ قرضہ، اس پر سود اور ڈالر کی قیمت میں 30فی صد اضافے کے بعد کتنے میں پڑا؟۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ لاطینی امریکہ کے قرض کا کم از کم دو تہائی امریکی وسائل پر طے پاتا ہے جو  200بلین ڈالر ہے۔ہم فرض کرلیتے ہیں کہ وہ ہندسہ حقیقی قرض کو بتاتا ہے۔۔۔ جو کہ حقیقت سے بعید ہے کیونکہ اس کرنسی کے ساتھ ساتھ دوسرے کریڈیٹ کے وسائل بھی آپریٹ کرتے ہیں۔ اور یہ کہ ڈالر کی قیمت 10فی صدی چڑھ گئی ہے تو آپ اپنا حقیقی قرضہ معروضی طور پر 20بلین ڈالر بڑھا دیتے ہیں، جمع مذکورہ سود کے۔ اگر ڈالر کی قیمت 30فیصد چڑھ جائے، تو آپ کا ڈالروں میں حقیقی قرضہ 60بلین ڈالر بڑھ جاتا ہے۔ ڈالروں کی مقدار تو تبدیل نہیں ہوتی مگر ہر ڈالر مہنگا ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے میں نے محدود النظر حساب کتاب کیا ہے کہ 1984میں کم از کم پانچ بلین ڈالر اس چڑھتی ہوئی قیمتوں والے ڈالروں پر سود کے طورپر ادا کیے گئے۔

خلاصہ یہ کہ مذکورہ بالا اسباب کے لیے لاطینی امریکہ نے ایک واحد سال میں پیسے یا سامانِ تجارت کی صورت میں 70بلین ڈالر سے زیادہ منتقل کیا جس کے بدلے میں اسے کچھ نہ ملا۔

اب ایک اور تجزیہ: اس انتقال کی کتنی مقدار ناجائز تھی؟۔ آئیے ہم قرض پر نارمل سود کو تسلیم کریں۔ ہم اسے ناجائز نہ کہیں، نہ ہی اسے لوٹ مار کہیں۔ بلکہ نارمل سود۔ ہم اسلامی تصور کو نہ لیں بلکہ ہم مغربی عیسائیت کے تصور کو لیں کہ ایک مقررہ رقم پر ایک جائز سود ادا کیا جائے یعنی 8فی صد شرح سود۔ جس میں کرنسی کی قیمت گرجانا شامل ہے جو کہ اصل میں ڈالر کے معاملہ میں نہیں ہوتا۔ تو پھر70بلین ڈالر کا کونسا حصہ ناجائز ہے جو لاطینی امریکہ سے لے جایا جارہا ہے؟۔تجارت کی شرائط میں خرابی 20بلین ڈالر، سود کے 8فی صدی سے 12فی صد تک بڑھ جانے سے 10بلین ڈالر۔ اندازہ یہ لگایا گیا ہے کہ شرح سود کے ہرنکتہ کے لیے جتنی رقم لاطینی امریکہ کو ادا کرنا پڑے گی اس میں ایک سال میں 3.5بلین ڈالر کا اضافہ ہوتا رہے گا۔ پھر اس میں سرمائے کے فرار کے دس ملین ڈالر مزید جمع کردیجئے۔۔۔یہ وہ رقم ہے جو اس ملک نے برآمدات سے مہیا کردہ سہولتوں سے یہاں تک کہ قرضے سے حاصل کی، یہ وہ رقم ہے جس کی اس ملک کو سرمایہ کاری کرنے اور ترقیاتی کاموں پر صرف کرنے کے لیے ضرورت ہے جسے بیرونِ ملک بھیج دیا گیا ہے۔ پھر ڈالر کی قیمت چڑھ جانے کے 5بلین ڈالر مزید ہوئے۔ چنانچہ1984میں لاطینی امریکہ کی معیشت کو جعل سازی اور ظلم و ستم سے کل 45بلین ڈالر سے محروم کردیا گیا۔ دنیا کے اس حصے کو جس کی آبادی ہر25سال کے بعد دوگنی ہوجاتی ہے۔ اور جس میں خطرناک حد تک سماجی، تعلیمی، رہائشی، صحت عامہ اور روزگار کے مسائل موجود ہیں۔ اس حصے کو 45بلین ڈالر سے جعل سازی کے ذریعے محروم رکھا جارہا ہے۔ یعنی اگر عام سود شامل کردیا جائے تو اسے برآمد کردہ وسائل کے 70بلین ڈالر سے محروم کیا جارہا ہے۔

ان ممالک کی معیشتیں یہ سب کچھ سہہ نہیں سکتیں۔ پہلے ہی ان کی پوزیشن بہت کمزور ہے۔ انہیں اس مسئلے کا احساس ہوتا جارہا ہے اور وہ اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کررہے ہیں۔ ایک سخت بحران کی کیفیت بنتی جارہی ہے۔ اگر مغربی ممالک لوٹ کے اس نظام کو برقرار رکھنے پر اصرار کرتے رہیں گے  اور اگر کوئی حل دریافت نہ کیا گیا تو میرے خیال میں لاطینی امریکہ میں ایک عمومی سماجی دھماکہ ہوگا۔ ہم اس مسئلے کو جامع انداز میں بیان کرتے آرہے ہیں تاکہ ہر شخص کو مسئلے کی سنگینی کا احساس ہوجائے۔ مجھ سے پوچھا گیا ہے۔”آپ کیا چاہتے ہیں؟۔کیا آپ لاطینی امریکہ میں ایک دھماکہ چاہتے ہیں؟“۔ میں نے جواب دیا۔ ”نہیں! ہم ان مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ صرف ایک دھماکہ ان مشکلات کو حل نہیں کرسکے گا“۔

ہم نے واضح کردیا کہ اس معاشی بحران اور قرض کے مسئلے کو حل کرنے اور نئے عالمی اقتصادی نظام کے لیے جدوجہد کرنا چاہیے۔ جسے دس سال قبل اقوام متحدہ نے تقریباً متفقہ رائے سے منظور کیا تھا تاکہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان معاشی رشتوں میں بین الاقوامی تعاون کو بڑھایا جاسکے اور کمزورممالک کی معیشتوں اور ترقیاتی سرگرمیوں کی حفاظت کی جاسکے

دوسرے یہ کہ ڈاکہ زنی کی کارروائیوں کے علاوہ ان مسائل کو حل کیا جائے جن کا میں نے ذکر کیا ہے، یعنی تجارت کی شرائط کی روز بروز ابتری اور نا انصافی،تکلیف وہ مالیاتی ہتھکنڈے مثلاً مصنوعی سود کا پھیلاؤ اور امیر ملکوں کی کرنسیوں کی قیمتوں میں اضافے کی کارروائیاں ختم کی جائیں۔ ان باتوں کے علاوہ یورپی اقتصادی برادری، امریکہ اور دوسرے صنعتی ممالک کی خود غرضانہ اور حریصانہ تجارتی کارروائیاں مثلاً بہت ضروری استعمال کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرنا اور درآمدی تحفظات کے ہتھکنڈوں کا متواتر استعمال کر کے اس مسئلے کو جس طرح مزید گھمبیر بنارہے ہیں ان کا خاتمہ کیا جائے۔

میں اب حالیہ رائج شدہ تحفظاتی پالیسی کی طرف آتا ہوں جو گھر یلو استعمال کی چیزوں کے ساتھ وابستہ ہے اور جس نے لاطینی امریکہ اور کریبین کے کئی ممالک کو سخت متاثر کر رکھا ہے۔ 1981میں امریکہ نے 5ملین ٹن چینی در آمد کی تھی جس کا زیادہ تر حصہ تیسری دنیا کے ممالک سے آتا تھا۔ 1984میں اس نے صرف 2.7ملین ٹن درآمد کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چینی کی درآمد بہت کم ہوتی جارہی ہے۔ حساب لگایا گیا ہے کہ آنے والے زمانے میں وہ1.7ملین ٹن سے بھی کم شکر درآمد کرنے لگے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ چقندر کی شکر اور مکئی کے شیرے کو تحفظ دے رہا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ ٹیکس دہندگان کو گھریلو استعمال کی چیزوں کے لیے رقم ادا کرنا پڑتی ہے، صارفین کو شکر کے لیے زیادہ پیسے دینے پڑتے ہیں کیونکہ قیمتوں کا تعین رسد اور مانگ کا قانون نہیں کرتا جس کی سرمایہ داری نظام بلند آواز سے چیمپئن بنتا ہے اور نہ ہی چیخ چیخ کر چیمپئن بننے والے اپنے مارکیٹ کے نظام کی عزت کرتے ہیں۔اور استعمال کی چیزوں اور قیمتوں کا ایک عارضی طریقہِ کار بنا دیا گیا ہے۔

ان ممالک کا کیا بن رہا ہے جو امریکہ کو چینی برآمد کیا کرتے تھے؟۔ان کی برآمدات نصف یا دو تہائی تک کم ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک کسٹم ڈیوٹی بھی ہے۔ ڈومینکن ری پبلک،جمیکا، کولمبیا، پیرو، ایکوا ڈور اور دوسرے کئی ممالک کا کیا بنے گا؟۔میں کیوبا کا ذکر نہیں کرتا۔ کیونکہ ہمارا کوٹہ تو بہت عرصے پہلے ہم سے چھین لیا گیا تھا تاکہ ہمارے ملک کی معاشی طور پر ناکہ بندی کی جا سکے اور سماجی تبدیلی کا گلا گھونٹا جاسکے۔ یہ کوٹہ ان ممالک میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ اب یہ ان سے بھی چھینا جارہا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کس جرم کی پاداش میں کیونکہ وہ کوئی انقلاب تو نہیں لائے اور نہ ہی سرمایہ داری سے دور ہوگئے۔ وہ اپنے مزدوروں کا کیا کریں گے؟۔

وہ اپنی فصلوں اور اپنی صنعتوں کا کیا کریں گے؟۔وہ اپنے قرضوں کا کیا کریں گے؟۔ وہ اپنے بڑے بڑے قرضوں پر واجب الادا سود کا کیا کریں گے؟۔ یہ عمل فطری طور پر بحران کو مزید بڑھائے گا۔

امریکہ ٹیکسٹائل کے ساتھ بھی یہی کچھ کر رہا ہے۔ لاطینی امریکہ سے ٹیکسٹائل کی درآمد پر اور برازیل، ارجنٹینا اور میکسیکو سے فولاد کی درآمد پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ اور کوٹا مقرر کیے جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ آزاد مقابلے، مانگ ورسد،اور مارکیٹ کے اصول جس کا وہ سب سے بڑا چیمپئن بنتا ہے ،کے خلاف ہے۔ لاطینی امریکہ کی ابھرتی ہوئی صنعت کی دوسری مصنوعات کے لیے تو اور بھی بہت کم امکانات ہیں۔

یورپ کی حالت تو مزید پتلی ہے۔ وہ زیادہ قیمت پر چینی خریدتا ہے اور زائد پر برآمدکرتا ہے۔ ایک زمانے میں وہ چینی کے ملینوں ٹن درآمد کرتا تھا، اب وہ عالمی مارکیٹ میں 5ملین ٹن کے کوٹا کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان تمام اقدامات سے چینی کی قیمتیں کم ہوتی جارہی ہیں کیونکہ اگر امریکہ 5ملین ٹن کی درآمد روک دے، اگر وہ اپنی درآمد کو نصف کردے، اور اگر یورپ بھی شکر در آمد کرنا بند کردے اور خود ایک وسیع برآمد کنندہ حق بن جائے، تو زائد چینی عالمی مارکیٹ میں جائے گی اور قیمتیں گر جائیں گی۔ تب جاپان، کینیڈا چینی خریدیں گے اور دوسرے تمام صنعتی امیر ممالک سستی چینی خریدیں گے۔ اور اس کے لیے کم قیمتیں ادا کریں گے۔ حالانکہ دوسرے ملکوں کو تو چینی اور دیگر خوردنی چیزوں کی بہت ضرورت ہوتی ہے مگر ان کے پاس قوتِ خرید نہیں ہوتی۔

یورپ ماضی میں گوشت درآمد کرتا تھا لیکن اب یہ گوشت برآمد کرتا ہے۔ یورپی اقتصادی برادری کے گوشت پیدا کرنے والوں کو 2500ڈالر فی ٹن دیا جاتا ہے۔ اور پھر گوشت کو 800ڈالر فی ٹن کے حساب سے برآمد کیا جاتا ہے۔ اس طرح ارجنٹینا، یورو گوائے، کولمبیا، برازیل، کو سٹاریکا، پناما اور لاطینی امریکہ کے دیگر مالک کے گوشت کو عالمی منڈی میں 150ڈالر فی ٹن کی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چینی کی طرح تیسری دنیا کے ممالک کو گوشت کی بھی ضرورت ہے مگر ان کے پاس ضروری قوت خرید نہیں ہوتی۔ ان کی اپنی برآمدت کم ہوتی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خریدار یعنی صنعتی دنیا انہیں ایسی قیمتیں ادا کرتی ہے جس پر ہنسی آتی ہے۔

ایک بڑی آبادی کی ضروریات کے مطابق خوراک پیدا کرنے کے لیے آپ کو ٹیکنالوجی چاہیے ہوتی ہے۔ فرٹلائزر چاہئیں، کرم کش ادویات، مشینری اور توانائی چاہیے۔ اور آپ کو یہ چیزیں صنعتی دنیا سے حاصل کرنی پڑتی ہیں یا پھر مہنگے داموں ایندھن برآمد کرنے والے ممالک سے لینی پڑتی ہیں۔ سرمایہ کاری، ٹیکنیکی ثقافت اور سائنسی مہارت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی چیز رسائی میں نہیں ہے۔ وہ انہیں پیدا نہیں کرسکتے اور نہ ہی انہیں خرید سکتے ہیں۔ یہ ہے سارا المیہ۔

نیا عالمی اقتصادی نظام،امیرو صنعتی ممالک کی طرف سے اس طرح کی تجارتی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے جنہیں یقینا ہتک آمیزی اور نا انصافی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لاطینی امریکہ کے ممالک سے ترقی کرنے کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے جبکہ ان کی برآمدات کو کم قیمت پر خریدنے اور درآمدات پر زیادہ پیسے لینے کے علاوہ ان کی کرنسیوں کو سرمائے کے فرار کے طریقوں سے چوسا جائے۔ ان کی برآمدات کو محدود کیا جائے۔ انہیں ناجائز مقابلوں کی تباہ کن اقسام کا شکار کیا جائے۔ ڈالر کی قیمتیں بڑھا دی جائیں۔ اور ان سے بھاری قرضوں پر ناجائز طور پر اونچی شرح سود وصول کی جائے؟۔

اس سارے عمل میں صنعتی ممالک کے مراعات یافتہ اقتصادی تعلقات کا نظام موجود ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ وہ ان مراعات کو چھوڑنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک جو کہ صدیوں سے نوآبادیاں رہے۔ اور خام مال، سستے ایندھن اور باہر بھیجنے والی چیزوں کے سپلائر رہے۔ انہیں ان کی معاشی پس ماندگی کا الزام نہیں دیا جاسکتا۔

مجھے نہیں معلوم کہ یہ وضاحت کافی ہے یا نہیں۔ میں نے مثالیں دینے اور اعددوشمار دینے کی کوشش کی۔ یہ اعداد و شمار بالکل صحیح ہیں۔ کیونکہ ہمارے پاس لاطینی امریکہ کے پچھلے چند سالوں کی معیشت کے تنزل کے بارے میں تازہ ترین اطلاعات موجود ہیں۔ لاطینی امریکہ کے ممالک کی فی کس پیداوار مجموعی طور پر کم ہوگئی ہے۔ انہیں اور صنعتی ممالک کو جدا کرنے والی خلیج روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ یہ ایک مہلک اور مسلسل صورت حال ہے جسے ہر صورت میں تبدیل کرنا چاہیے۔

Spread the love

Check Also

 سٹیٹ ۔۔۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری

سٹیٹ اتھارٹی کی ایک تنظیم ہے۔ یہ سماج کی طبقاتی تقسیم سے وابستہ ہے۔سٹیٹ معاشی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *