Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » دیہات کے غریب ۔۔۔ لینن/عبداللہ جان جمالدینی

دیہات کے غریب ۔۔۔ لینن/عبداللہ جان جمالدینی

روسی سوشل ڈیموکریٹس (انقلابیوں) کا پہلا اور بڑا مقصد تو سیاسی آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ انہیں سیاسی آزادی کی اس لیے ضرورت ہے کہ وہ ایک نئے اور بہتر سوشلسٹ نظام زندگی کے قیام کی جدوجہد میں تمام روسی مزدوروں کو وسیع پیمانے پر آزادی سے متحد کرسکیں۔

سیاسی آزادی کا مطلب کیا ہے؟

اس بات کو سمجھنے کے لیے کسان کو پہلے پہل اپنی آزادی کی موجودہ صورت حال کا مقابلہ زرعی غلامی کے دور سے کرنا چاہیے۔ زرعی غلامی کے دور میں کسان زمیندارکی اجازت کے بغیر شادی نہیں کرسکتا تھا۔ آج کسی سے اجازت لیے بغیر کسان شادی کرنے کے معاملے میں خود مختار ہے۔ زرعی غلامی کے دور میں کسان کو زمیندار کے مختار کار کے مقرر کردہ ایام پر ہر حال میں کام کرنا پڑتا تھا۔ آج کسان اس بات کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے کہ کیا معاوضہ لے؟ زرعی غلامی کے دور میں کسان زمیندار کی اجازت کے بغیر اپنا گاؤں نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ آج وہ اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق جہاں بھی جانا چاہے جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ:

۔۔۔۔۔دیہی پنچایت (Mir) اسے جانے کی اجازت دے،

۔۔۔۔ اس کے ذمے ٹیکسوں کے بقایاجات نہ ہوں،

۔۔۔۔۔۔ گورنر یا پولیس کا سربراہ اسے نقل مکانی سے منع نہ کرے ۔

مطلب یہ کہ آج بھی کسان کو اپنی منشاء کے مطابق کہیں جانے کی کلیتہ آزادی حاصل نہیں۔وہ نقل و حرکت کی مکمل آزادی سے محروم ہے۔ بعد میں ہم تفصیل سے اس امر کی وضاحت کریں گے کہ روسی کسان کس طرح نیم زرعی غلام ہے اور اس صورت حال سے چھٹکارا پانے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے۔

زرعی غلامی کے مروجہ قوانین کے تحت کسان کو زمیندار کی اجازت کے بغیر جائیداد حاصل کرنے کا کوئی حق حاصل نہ تھا۔ اُسے زمین خریدنے کی اجازت نہ تھی۔ آج کسان کسی قسم کی بھی جائیداد خریدنے کے سلسلے میں آزاد ہے (لیکن آج بھی وہ دیہی پنچایت سے الگ ہونے اور اپنی منشاء کے مطابق اپنی اراضی کو فروخت کرنے میں کلیتہ آزاد نہیں)۔

زرعی غلامی کے دو رمیں زمیندار کے حکم کے تحت کسان کو کوڑے مارے جاسکتے تھے۔ لیکن آج زمیندار کے حکم کے تحت کسان کو کوڑے نہیں لگائے  جاسکتے۔ اگر چہ وہ اب بھی جسمانی سزا کا مستوجب قرار پاتا ہے۔

اس قسم کی آزادی شہری آزادی کہلاتی ہے جس کے تحت خاندانی، نجی اور جائیداد سے متعلق معاملات کو سلجھانے کی آزادی ہوتی ہے۔ کسان اور مزدور اپنے خاندانی اور نجی معاملات کو ترتیب دینے، اپنی محنت کو فروخت کرنے (اپنی منشاء کے مطابق آجر کو پسند کرنے میں) اور اپنی جائیداد کے معاملات میں آزاد ہیں۔ (اگر چہ یہ آزادی کلیتہ نہیں)۔

لیکن صحیح صورت حال یہ ہے کہ بہ حیثیت مجموعی ابھی تک نہ تو روسی مزدور اپنے عوامی معاملات کو سلجھانے میں آزاد ہیں اور نہ ہی روسی عوام۔ جس طرح کسان زمینداروں کے زرعی غلام تھے، عوام بحیثیت مجموعی سرکاری حکام کے غلام ہیں۔ روسی عوام کو نہ تو اپنے حکام اور نہ ہی سارے ملک کے لیے آئین سازی کی خاطر نمائندوں کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔ روسی عوام کو تو یہ حق بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ ریاستی امور پر بحث و تمحیص کے لیے میٹنگ منعقد کرسکیں۔ ہم نہ تو اخبارات یا کتابیں چھاپنے کی جرات کرسکتے ہیں اور نہ ہی ریاستی امور پر عوام کے مفاد کی خاطر ان حکام سے اجازت لیے بغیر عوام سے خطاب کرسکتے ہیں۔ جنہیں اسی طرح ہماری مرضی معلوم کیے بغیر ہم پر مسلط کیا گیا ہے جس طرح زمیندار کسانوں کی مرضی معلوم کیے بغیر اپنا مختار کار مقرر کرتا تھا۔

روسی عوام اب تک حکام کے اُسی طرح غلام ہیں جس طرح کسان زمینداروں کے غلام تھے، جس طرح زرعی غلامی کے دور میں کسانوں کو شہری آزادی حاصل نہیں تھی۔ اسی طرح روسی عوام سیاسی آزادی سے اب تک محروم ہیں۔

سیاسی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو عوامی اور ریاستی معاملات میں دخل دینے کی آزادی حاصل ہو۔

سیاسی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو پارلیمنٹ کے  لیے نمائندوں کے انتخاب کا حق ہو۔ تمام قوانین پر بحث وتمحیص کی جائے اور پھر ان کی منظوری دی جائے۔ تمام ٹیکس اُس پارلیمنٹ کے ذریعے لاگو کیے جائیں جسے عوام نے خود منتخب کیا ہو۔

سیاسی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو حکام سے اجازت کی بھیک مانگے بغیر ہی حکام کا انتخاب کرنے، تمام ریاستی مسائل پر بحث وتمحیص کے لیے ہر قسم کے جلسے منعقد کرنے، عوامی منشاء کے مطابق اخبارات اور کتابیں شائع کرنے کا حق حاصل ہو۔

دوسری تمام یورپین اقوام نے بہت پہلے اس قسم کی سیاسی آزادی حاصل کر لی، صرف ترکی اور روس میں عوام اب تک سلطان کی حکومت اور زار ؔبادشاہ کی مطلق العنان اور جابر حکومت کے حلقہ بگوش ہیں۔ زارؔ بادشاہ کی مطلق العنان حکومت سے مُراد زارؔ کے لامحدود اختیارات ہیں۔ ریاست کے انتظامی ڈھانچہ کی تشکیل یا اس کے کاروبار کو چلانے میں عوام کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ صرف زارؔ اور اس کے لامحدود ذاتی جابرانہ اور مطلق العنان منصب کے ذریعے تمام قوانین وضع کیے جاتے ہیں، تمام حکام کی تقرری کے احکام جاری کیے جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ زارؔ کو نہ تو تمام روسی قوانین سے واقفیت ہے اور نہ ہی وہ تمام روسی حکام کو جانتا ہے۔ زارؔ کو تو یہ بھی علم نہیں کہ ملک میں کیا کچھ ہورہا ہے۔ زار ؔتو محض چند امیر ترین افراد اور اعلیٰ ترین طبقہ سے تعلق رکھنے والے حکام کی مرضی اور منشاء کے تابع ہے۔ ایک فرد روس  جیسے وسیع ملک پر حکمرانی نہیں کرسکتا خواہ ایسا کرنے کے لیے اس کی خواہش کتنی ہی شندید کیوں نہ ہو۔  یہ زارؔ کی ذات نہیں جو روس پر حکومت کر رہی ہے۔ مطلق العنانی یا ایک فرد کی حکومت کا تذکرہ کرنا محض ایک اندازِ بیان ہے۔ دراصل روس پر اعلیٰ ترین طبقہ سے تعلق رکھنے والے مٹھی بھر حکام اور امیر ترین طبقہ سے متعلق افراد حکومت کر رہے ہیں۔ یہ مٹھی بھر لوگ جو بات زار ؔ کو بتانا پسند کرتے ہیں وہ صرف اسے ہی ازبر کرلیتا ہے۔ زارؔ کسی بھی صورت میں ان مٹھی بھر بلند مرتبہ شرفاء کی مرضی کے خلاف نہیں جاسکتا۔ زارؔ خود ایک زمیندار ہے اور شرافیہ کے طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ بچپن ہی سے اس کی زندگی صرف مراعات یافتہ طبقہ کے ان ہی افراد کے درمیان گزری ہے۔ ان ہی افراد نے اس کی پرورش کی اور اسے تعلیم دی۔ زارؔ بحیثیت مجموعی روسی عوام کے متعلق اتنا ہی جانتا ہے  جتنا اشرافیہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے یہ افراد۔ یہ دولت مند زمیندار اور کچھ بڑے امیر تاجر جانتے ہیں جنہیں زار ؔ کے دربار میں رسائی حاصل ہے۔

والوسٹ قبل از انقلاب کے نچلی سطح پر ملکی نظم و نسق کے یونٹ (والوسٹ) کے ہر دفترمیں آپ کو دیوار پر لٹکی ہوئی ایک ہی تصویر نظر آئے گی۔ جو زارؔ (الیگز نڈر سوم موجود زارؔ کے والد) کی ترجمانی کرتی ہے۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصویر والو سٹ کے سربراہوں سے مخاطب ہے جو زارؔ کی رسم تاجپوشی میں شرکت کرنے آئے تھے۔ تصویر سے ایسا ظاہر ہوتا ہے جیسے زارؔ ان سربراہوں کو حکم دے رہا ہو کہ ”اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے اپنے نمائندوں کی اطاعت کرو۔“ اور موجودہ زارؔ نکولس دوم نے بھی انہی الفاظ کو دہرایا ہے۔ اس طرح زارؔ خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ صرف اشرافیہ کی مدد سے اور اشرافیہ کی وساطت سے ملک پر حکومت کرسکتے ہیں۔ ہمیں زارؔ  کے ان الفاظ کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے جن میں کسانوں کو اشرافیہ کی اطاعت کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ جو لوگ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زارؔ کی سرکار حکومت کی بہترین صورت ہے‘ ہمیں واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ وہ عوام کے سامنے بہت بڑا جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس قسم کے لوگ کہتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں حکومت منتخب ہوتی ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ صرف امیر لوگ ہی منتخب ہوتے۔ جو عدم و انصاف کا گلا گھونٹ کر حکومت کرتے اور غریبوں پر ظلم کرتے ہیں۔ روس میں منتخب حکومت نہیں۔ بلکہ سارے ملک پر ایک مطلق العنان زارؔ حکومت ہے۔ زارؔ ہر شخص سے خواہ وہ امیر ہو یا غریب بلند اور بالاتر ہے۔ کچھ لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ زارؔ ہر شخص سے خواہ وہ امیر ہو یا غریب یکساں طور پرانصاف کرتا ہے۔

اس قسم کی باتیں سرا سر مکاری پر مبنی ہیں۔ ہماری حکومت جس قسم کا انصاف دے رہی ہے اس سے ہر روسی واقف ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے ملک کا ایک سیدھا سادہ مزدور یا زرعی مزدور اسمبلی کا ممبر نہیں بن سکتا۔ تاہم دوسرے یوپین ممالک میں کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور اور کھیتوں میں مشقت کرنے والے افراد پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوچکے ہیں۔ اس لیے وہ نہ صرف آزادی سے مزدوروں کی دکھ بھری زندگی کے بارے میں عوام کو روشناس کرانے بلکہ مزدوروں کو متحد ہونے اور ایک بہتر زندگی کے لیے جدوجہد کرنے کا نعرہ بلند کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور کسی کو بھی عوام کے ان نمائندوں کی تقریروں کو روکنے کی جرات نہیں ہوسکی۔ حتیٰ کہ پولیس بھی ان کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت نہ کرسکی۔

روس میں کوئی منتخب حکومت موجود نہیں۔ اس ملک میں نہ صرف اُمراء اور اعلی طبقہ سے تعلق رکھنے والے  افراد بلکہ ان سے بھی بدترین قسم کے افراد حکومت کی کرسیوں پر براجمان ہیں۔ اس ملک پر زارؔ کے دربار کے ماہر ترین سازشی اور ہوشیار ترین مکار اور دغا باز عناصر حکومت کر رہے ہیں۔ اس حکومت میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو زارؔ کے سامنے جھوٹ کا انبار لگاتے ہیں  اور بہتان لگا تے ہیں، وہ زارؔ کی خوشامد کرتے ہیں اور ذلت آمیز چاپلوسی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ وہ خفیہ طور پر حکومت کرتے ہیں،  عوام نہیں جانتے اور نہ یہ جاننے کے قابل ہوسکتے ہیں کہ کون سے نئے قوانین کے خاکے بنائے جارہے ہیں،کن جنگوں کے نقشے مرتب کیے جارہے ہیں، کن سرکاری حکام کو کن خدمت کی بناء پر انعامات سے نوازا جارہا ہے؟۔کسی ملک میں سرکاری افسروں کی اتنی بڑی فوج نہیں جتنی کہ روس میں ہے۔ حکام بے زبان عوام پر ایک سیاہ جنگل کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔ایک مزدور نہ تو اس جنگل میں کبھی اپنا راستہ تلاش کرسکتا ہے اور نہ ہی کبھی انصاف حاصل کرسکتا ہے۔ حکام کی رشوت ستانی، لوٹ مار یا اخبارات سے ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی ایک بھی شکایت سامنے نہیں آسکتی۔ سرکاری سرخ فیتے کے نیچے ہر شکایت کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ ہر فرد کی آواز تمام عوام تک کبھی نہیں پہنچتی بلکہ اس تاریک جنگل میں کھو جاتی ہے، یا یہ آواز پولیس والوں کے ایذار سانی کے کمرے کے اندر دب کر رہ جاتی ہے۔ سرکاری حکام کی فوج نے،جسے عوام نے کبھی منتخب نہیں کیا اور جو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ایک گہرا جال بُن رکھا ہے۔ اور مرد اور عورتیں اس جال میں مکھیوں کی طرح آزاد ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں۔

زارؔ کی مطلق العنانی افسروں کی مطلق العنانی ہے، زارؔ کی مطلق العنانی کا مطلب یہ ہے کہ عوام کے مقابلے میں جاگیرداروں کا تکیہ افسروں اور خصوصاً پولیس پر ہے۔ زارؔ کی حکومت کی مطلق العنانی پولیس کی مطلق العنانی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مزدور ہاتھوں میں جھنڈے لیے گلیوں میں نکل آئے ہیں۔ ان کے بیزوں پر ”مطلق العنانی مُردہ باد“

”سیاسی آزادی زندہ باد“ کے نعرے درج ہوتے ہیں۔ اس صورت میں دیہات کے لاکھوں غریبوں کو بھی ان کی مدد کرنا چاہیے اور جدوجہد کے میدان میں شہری مزدوروں کے نعروں کو اپنانا چاہیے۔ ان کی مانند زرعی مزدوروں اور غریب کسانوں کو بھی جبر و تشدد سے بے خوف دشمن کی دھمکیوں اور ظلم سے نڈر اور پہلی ناکامیوں سے بے نیاز ہوکر تمام روسی عوام کی آزادی کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کے لیے میدان میں نکل آنا چاہیے۔ سب سے پہلے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ عوام کے نمائندوں کا اجتماع منعقد کیا جائے۔ تمام روس میں عوام کو اپنے نمائندوں کے انتخاب کا حق دیا جائے، ان نمائندوں کو اسمبلی کی تشکیل کا حق دیا جائے جو روس میں منتخب حکومت قائم کرے جو افسروں اور پولیس کے جاگیردارانہ انحصار کے شکنجہ سے عوام کو آزادی دلائے اور جو عوام کو آزادانہ میل جول، آزادانہ گفتگو اور ایک آزاد پریس کے قیام کے حقوق دلوائے۔

یہ ہے وہ مطالبہ جو کمیونسٹوں (سوشل ڈیموکرٹیس) کا سب سے پہلا مطالبہ ہے۔ ان کے اس سیاسی آزادی کے مطالبے کا یہی مفہوم ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ سیاسی آزادی پارلیمنٹ کے لیے آزادانہ انتخابات، اجتماع کی آزادی اور پریس کی آزادی محنت کش عوام کو فوری طور پر غربت اور جبر و استبداد سے نجات نہ دلوائے گی کیونکہ کوئی ایسا ذریعہ نہیں جو فوری طورپر شہروں اور دیہاتوں کے غریبوں کو امیروں کے لیے محنت کرنے کے بوجھ سے چھٹکارا دلواسکے، محنت کشوں کے لیے کوئی ایسی ذات نہیں جسے وہ اپنی امیدوں کا مرکز بنا سکیں۔ یا اس پر اعتماد کرسکیں۔ محنت کشوں کو اپنی ذات کو امیدوں کا مرکز بنانا ہوگا۔ اور اسی پر اعتماد کرنا ہوگا۔ اگر محنت کش غربت سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد نہیں کریں گے تو کوئی اور انہیں نجات دلوانے کے لیے نہیں آئے گا۔ غربت سے آزادی حاصل کرنے کے لیے پورے ملک کے مزدوروں کو ایک یونین اور ایک تنظیم (سیاسی پارٹی) کے جھنڈے تلے متحد ہونا ہوگا۔ لیکن اگر مطلق العنان پولیس راج تمام جلسوں، مزدوروں کے تمام اخبارات اور مزدوروں کے نمائندوں کے انتخابات پر پابندی لگادے تو لاکھوں مزدوران حالات کے تحت متحد نہیں ہوسکتے۔

متحد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ہر قسم کی تنطیمیں بنانے کا حق حاصل ہو۔ انہیں متحد ہونے کی آزادی اور سیاسی آزادی سے بہرہ ور ہونے کا حق حاصل ہو۔

سیاسی آزادی فوری طور پر محنت کش عوام کو غربت سے نجات نہیں دلوائے گی بلکہ یہ (سیاسی آزادی)مزدوروں کو ایک ایسا سیاسی ہتھیار مہیا کرے گی جس سے وہ غربت کے خلاف جنگ کرسکیں گے۔

مزدوروں کی اپنی صفوں میں اتحاد کے سوا نہ تو کوئی ایسا ذریعہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ذریعہ ہوسکتا ہے جس سے غربت کے خلاف جنگ کی جاسکے۔لیکن جب تک سیاسی آزادی حاصل نہ ہو لاکھوں افراد متحد نہیں ہوسکتے۔

تمام یورپین ممالک میں جہاں عوام نے سیاسی آزادی کی جنگ جیت لی ہے، مزدور بہت پہلے متحد ہوچکے ہیں۔ پورے یورپ میں وہ مزدور جن کے پاس نہ تو زمینیں ہیں، اور نہ کارخانے اور جو زندگی بھر اجرت پر دوسروں کے لیے کام کرتے ہیں پرولتاری کہلاتے ہیں۔ پچاس سال سے کچھ زیادہ عرصہ قبل محنت کشوں کے اتحاد کے لیے یہ نعرہ بلند کیا گیا تھا۔ ”دنیا بھر کے محنت کشو! متحد ہوجاؤ۔“ گزشتہ پچاس سالوں کے دوران ان الفاظ نے پورے کرہ ارض کو اپنے احاطے میں لے لیا ہے۔ یہ الفاظ سینکڑوں ہزاروں مزدوروں کے اجلاسوں میں دہرائے جارہے ہیں۔ اور سوشل ڈیموکریٹس(انقلابیوں) کے مختلف زبانوں میں چھپنے والے لاکھوں کتا بچوں اور اخبارات میں پڑھے جاسکتے ہیں بلاشبہ۔ لاکھوں مزدوروں کو ایک یونین اور ایک پارٹی کے جھنڈے تلے متحد کرنا بے انتہا مشکل کام ہے۔ اس کے لیے وقت، استقلال،عزم اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ مزدور غربت اور افلاس کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے لیے ختم نہ ہونے والی محنت و مشقت انہیں سُن کر دیتی ہے۔ بسا اوقات انہیں اتنا وقت بھی نہیں ملتا کہ وہ اپنے دائمی افلاس اور اُس سے نجات پانے  کے طریقے پر کچھ سوچ سکیں۔ مزدوروں کو متحد ہونے سے روکنے کے لیے یا تو براہ راست بہیمانہ تشدد سے کام لیا جاتا، جیسا کہ روس جیسے ممالک میں جہاں سیاسی آزادی کا فقدان ہے،ہورہا ہے۔ یا پھر سوشلزم کے اصولوں کا پرچار کرنے والے مزدوروں کو ملازمت مہیا کرنے سے انکار کیا جاتا ہے یا پھر آخری حربے کے طور پر فریب اور رشوت کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن جبر و استبداد اور جو روستم پرولتاری مزدوروں کو تمام محنت کش عوام کو غربت اور ظلم و ستم سے نجات دلانے کے عظیم مقصد کے لیے جدوجہد کرنے سے نہیں روک سکتے۔ سوشل ڈیموکریٹک (انقلابی) کا رکنوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

ہمارے ہمسایہ ملک جرمنی کی مثال لیجئے جہاں ایک منتخب حکومت قائم ہے۔ اس سے قبل جرمنی میں بھی غیر لامحدود مطلق العنان شاہی حکومت قائم تھی لیکن آج سے پچاس برس قبل جرمن عوام نے مطلق العنانیت کو تباہ و برباد کر کے طاقت کے بل بوتے پر شہری آزادی حاصل کر لی۔ روس کی طرح جرمنی میں قوانین مٹھی بھر افسر نہیں بناتے بلکہ یہ فریضہ عوامی نمائندگان کی ایک اسمبلی یعنی پارلیمنٹ جسے جرمن ریشتاغ کہتے ہیں، سرانجام دیتی ہے۔ تمام بالغ مرد اس اسمبلی کے لیے نمائندگان کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس طریق کار سے اس امر کا اندازہ لگانا ممکن ہوجاتا ہے کہ سوشل ڈیموکریٹوں کے حق میں کتنے ووٹ ڈالے گئے۔ 1887کے انتخابات میں تمام ووٹوں کا 1/10حصہ سوشل ڈیموکریٹوں کے حق میں ڈالا گیا۔ 1898ء جب (جب ریشتاغ کے حالیہ انتخابات منعقد ہوئے تھے)سوشل ڈیموکریٹوں کے حاصل کردہ دونوں کی تعداد میں تقریباً تین گناہ اضافہ ہوا۔ اس مرتبہ تمام ووٹوں کی 1/4سے زائد تعداد سوشل ڈیموکریٹوں کے لیے ڈالی گئی۔ پارلیمنٹ کے لیے سوشل ڈیموکریٹ امیدواروں کے لیے بیس لاکھ سے زائد بالغ مردوں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ جرمنی کے کھیت مزدوروں کے درمیان سوشلزم اب تک پوری طرح نہیں پھیل سکی ہے۔ لیکن اب یہ ان کی صفوں میں تیزی سے اثر نفوذ حاصل کر رہی ہے۔ اور جب دیہات کے زرعی اور اجرتی مزدور، غریب اور مفلس کسانوں کا ابنوہ عظیم شہر سے تعلق رکھنے والے اپنے بھائیوں کے ساتھ متحد ہوجائے گا۔ تو جرمنی کے مزدور میدان مارلیں گے۔ اور ایک ایسا نظام قائم کریں گے جس میں محنت کش عوام نہ تو غربت کا شکار ہوں گے اور نہ ہی ظلم و تشدد کا۔

سوشل ڈیموکریٹک کارکن کن ذرائع سے عوام کو غربت سے نجات دلوانا چاہتے ہیں؟

یہ جاننے کے لیے موجودہ سماجی نظام کے تحت عوام کے ابنوہ عظیم کی غربت کی وجہ کو واضح طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امیر شہروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ شاندار دکانیں اور مکانات تعمیر کیے جارہے ہیں۔ ریلوں کی پٹڑیاں بچھائی جارہی ہیں۔ صنعت وزراعت کے میدان میں ہر قسم کی مشینوں اور اصلاحات کو رواج دیا جارہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود لاکھوں افراد غربت کی چکی میں پسنے اور اپنے اہل خاندان کو دو وقت کی روٹی مہیا کرنے کے لیے زندگی بھر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ عوام کی اکثریت بے روزگاری کا شکار ہورہی ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد ایسی ہے جسے تلاش کے باوجود کوئی کام نہیں مل سکتا۔ دیہات میں یہ لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوتے ہیں۔ جب کہ شہروں میں یہ آوارہ گردوں اور تباہی اور تنزل کی حالت میں زندگی گزارنے والوں کی صنوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ انہیں شہر سے باہر درندوں کی طرح خندقوں میں یا،ماسکو میں ”ختروف مارکیٹ“ جیسے مقامات کی مانند بھیانک،غلیظ اور تاریک گلیوں اور گوداموں میں سر چھپانے کی جگہ تلاش کرنا پڑتی ہے۔

ایسا کیوں ہورہا ہے؟ دولت اور عیش و آرام کے اسباب میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن اس کے وجود لاکھوں کروڑوں انسان جو اپنی محنت سے اس دولت کو جنم دیتے ہیں۔ وہ روزگاری کے باعث آوارہ گردی کر رہے ہیں۔ مگر تاجر روس سے لاکھوں من غلہ غیر ممالک کو برآمد کر رہے ہیں۔ کارخانے بند ہیں۔ کیونکہ اشیاء فروخت نہیں ہوسکتیں۔ اس لیے کہ ان اشیاء کے لیے کوئی منڈی نہیں ہے۔

محنت کشوں کی تیرہ بختیوں کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اراضیات کے بیشتر حصوں کارخانوں، کارگہوں، مشینوں، عمارتوں، جہازوں وغیرہ پر امیروں کی ایک قلیل تعداد کا قبضہ ہے۔ لاکھوں کروڑوں افراد ان زمینوں پر اور ان کارخانوں اور کارگہوں میں کام کرتے ہیں جن پر چند امیروں، جاگیرداروں، تاجروں اور کارخانہ داروں کا تصرف ہے۔ لوگ ان امیروں کے لیے کرایہ اور معاوضہ کے بطور صرف خشک روٹی کے لیے کام کرتے ہیں۔ تمام اشیاء کی پیداوار کا فائدہ امیروں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ مشینوں کے استعمال اور پیداوار کے طریقوں میں ترقی اور بہتری سے ظاہر ہونے والے فائدوں سے جاگیردار اور سرمایہ دار ہی فیض یاب ہوتے ہیں، جو بے حساب دولت جمع کرتے ہیں۔ جب کہ مزدوروں کو محض ایک حقیر اجرت ملتی ہے۔ مزدوروں کو اجتماعی صورت میں کام کے لیے لایا جاتا ہے۔  بڑی جاگیروں پر اور بڑے کارخانوں میں سینکڑوں اور بعض اوقات ہزاروں کی تعداد میں مزدور غلام رکھے جاتے ہیں جب اس طریقے سے انسانی محنت متحد ہوجاتی ہے اور جب رنگا رنگ مشینیں استعمال میں لائی جاتی ہیں تو محنت زیادہ منفعت بھی بن جاتی ہے۔ ایک مزدوران بیسیوں مزدوروں کی نسبت جو مشینوں کے بغیر انفرادی حیثیت میں کام کرتے ہیں بہت زیادہ پیداوار میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ لیکن اس کثیر تخلیقی محنت کا فائدہ تمام محنت کشوں کو نہیں ملتا بلکہ یہ منافع بڑے جاگیرداروں تاجروں اور کارخانہ داروں کی ایک قلیل تعداد کی جیب میں چلاجاتا ہے۔

کبھی کبھار یہ سننے میں آتا ہے کہ جاگیردار اور تاجر عوام کے لیے کام اور غریبوں کے لیے روزی مہیا کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں قریبی کارخانہ دار یا فلاں پڑوسی جاگیردار مقامی کسانوں کی پرورش کررہا ہے۔ مگر حقیقت  یہ ہے کہ مزدور نہ صرف اپنی محنت سے اپنی پروش کر رہے ہیں بلکہ ان تمام لوگوں کو بھی پال رہے ہیں جو خود کام نہیں کرتے۔ جاگیردار کی زمین پر،کسی کارخانے یا کسی ریلوے پر کام کرنے کی اجازت مل جانے کے عوض مزدور اپنی محنت سے پیدا کی ہوئی ہر شے مالک کو مفت میں پیش کردیتا ہے۔ جبکہ مزدور کو محض اور برائے نام پیٹ بھرنے کو روٹی ملتی ہے۔ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ جاگیردار اور تاجر جو مزدوروں کو ملازمت بہم پہنچاتے ہیں عوام کو روزی مہیا نہیں کرتے بلکہ یہ مزدور ہیں جو اپنی محنت کے باعث ہر شخص کی پرورش کا ذمہ اٹھائے ہوئے ہیں اور اپنی محنت کا بہت بڑا حصہ بلامعاوضہ جاگیرداروں اور تاجروں کے حوالے کردیتے ہیں۔

علاوہ ازیں موجود ہ دور کی تمام ریاستوں میں اس حقیقت کے باوجود کہ مزدور منڈیوں میں فروخت کے لیے ہر قسم کی اشیاء پیدا کررہے ہیں عوام غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کارخانہ دار اور صناع۔۔ جاگیر دار اور امیر نہ صرف روپیہ حاصل کرنے کے لیے مختلف اشیاء پیدا کرتے ہیں۔ ڈھورڈنگر پالتے ہیں۔ فروخت کے لیے غلہ اگاتے ہیں۔ اور فصل کاٹتے ہیں۔ روپیہ ہر جگہ حکومت کرنے والی قوت بن چکا ہے۔ انسانی محنت کے بل بوتے پر جو اشیاء پیدا کی جاتی ہیں۔ روپے سے ان کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ روپیہ ہو تو آپ ہرشے خرید سکتے ہیں۔ یعنی آپ ایک نادر اور مفلس و قلاش شخص کو کسی دوسرے شخص کے لیے جس کے پاس روپیہ ہے کام کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ایک دور ایسا تھا جب زمین حکومت کرنے والی قوت تھی۔ یہ وہ دور تھا جب زرعی غلاموں کی ملکیت کا سسٹم قائم تھا۔ جو زمین کا مالک ہوتا تھا وہ قوت اور اختیار کا منبع بھی سمجھا جاتاتھا۔ تاہم آج روپیہ یا سرمایہ،حکومت کرنے والی قوت بن چکا ہے۔ اگر روپیہ ہو تو آپ جتنی زمین چاہیں خرید سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس زمین ہو اور روپیہ نہ ہو تو آپ کچھ بھی نہ کرسکیں گے۔ ہل اور دوسرے اوزار خریدنے کے لیے، کپڑے اور شہر کی بنی ہوئی دوسری اشیاء خریدنے کے لیے،مویشی خریدنے کے لیے اور مالیہ ادا کرنے کے لیے  آپ کے پاس روپیہ ہونا چاہیے۔ روپے کے حصول کی خاطر تقریباً تمام جاگیرداروں نے اپنی جاگیریں رہن کردی ہیں۔ روپیہ حاصل کرنے کے لیے حکومت سرمایہ داروں اور دنیا بھر کے بنک کاروں سے قرضے حاصل کرتی ہے اور ان قرضوں پر سالانہ لاکھوں کروڑوں روبل (روسی سکہ) سود ادا کرتی ہے۔

روپیہ کی خاطر آج ہر شخص دوسرے کے خلاف ایک خوفناک جنگ میں مصروف ہے۔ ہر شخص سستا خرید کر گراں قیمت پر فروخت کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ہر شخص زیادہ سے زیادہ اشیاء فروخت کر کے دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ہے۔ ہر شخص دوسرے کو نقصان پہنچانے اور اس سے منفعت بخش منڈی یا ٹھیکے کو خفیہ اور پوشیدہ رکھنے کے لیے سرگرداں ہے۔ روپیہ کے حصول کے لیے اس عام کشمکش میں چھوٹا آدمی، چھوٹے صناع یا چھوٹے کسانوں کی حالت دوسروں کی نسبت ناگفتہ بہ ہوتی ہے۔ روپیہ کے حصول کی اس دوڑ میں امیر تاجر اور امیر کسان انہیں ہمیشہ پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ چھوٹے آدمی کے پاس کبھی اندوختہ نہیں ہوتا۔ وہ جو کماتا ہے  پیٹ کی نذر کر دیتا ہے۔ کوئی مشکل آن پڑے یا کوئی حادثہ رونما ہوجائے تو وہ اپنی بچی کھچی اشیاء کو گروی رکھنے یا مویشی کو برائے نام قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بدنصیبی سے اگر وہ ایک دفعہ کسی امیر کسان یا کسی سود خور کے پنجوں میں پھنس جاتا ہے تو وہ بمشکل ہی ان کے جال سے نکل پاتا ہے۔ اور اکثر و بیشتر وہ مکمل طور پر تباہ ہوجاتا ہے۔ ہر سال سینکڑوں ہزاروں چھوٹے کسان اپنے مکانوں کو مقفل کردیتے ہیں۔ اور سرکار کی جانب سے الاٹ شدہ زمین کوئی معاوضہ لیے بغیر دیہی پنچایت کے حوالے کردیتے ہیں۔ اور پھر وہ دہاڑی پر کام کرنے والے مزدور یعنی  زرعی مزدور، غیر ماہر مزدور اور پرولتاری بن جاتے ہیں۔  لیکن دوسری جانب روپے کے حصول کی اس تگ و دو میں امیر زیادہ امیر بن جاتا ہے۔ وہ بنکوں میں لاکھوں، کروڑوں روبل کا ڈھیر لگا دیتے ہیں۔ اور پھر وہ نہ صرف اپنی دولت سے بلکہ بنکوں میں دوسروں کی جمع کرائی گئی رقومات کراتے ہیں۔ انہیں روبل کے عوض تین یا چار کوپک بطور سود ادا کیے جاتے ہیں۔ لیکن امیر چھوٹے آدمیوں کی جمع کردہ رقومات سے لاکھوں کماتے اور ان لاکھوں روبل کو اپنی دولت کے مزید اضافے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور اس طرح انہیں ایک روبل پر دس سے بیس کو پک تک کا منافع حاصل ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سوشل ڈیموکریٹک کارکن اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عوام کی غربت کا قلع قمع کرنے کے لیے ملک بھر میں اس نظام کو او پر سے نیچے تک تبدیل کرنا ہوگا۔ اور ایک سوشلسٹ نظام کی بنیاد رکھنا ہوگی۔ سیدھے سادھے الفاظ میں ہم اس کی تشریح یوں کریں گے کہ بڑے زمینداروں سے ان کی جاگیریں، کارخانہ داروں سے ان کے کار خانے اور بنک کاروں سے ان کا سرمایہ چھین لیا جائے۔ اور ان کی نجی جائیدادیں ختم کردی جائیں۔اور پھر ان کو ملک بھر کے محنت کشوں کے مفاد میں استعمال کیا جائے۔ جب یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا تو امیر لوگ جو دوسروں کی محنت کا استحصال کرتے آئے ہیں محنت کشوں کی محنت سے فائدہ حاصل نہ کرسکیں گے۔ بلکہ مزدوروں کی محنت کے پھل سے خود مزدور فیض یاب ہوں گے۔ اس وقت مشترکہ محنت کے ثمرات اور تمام ترقی اور مشینوں کے فائدے تمام محنت کشوں، تمام مزدوروں کے لیے ہوں گے۔

پھر دولت میں زیادہ تیز رفتاری سے اضافہ ہوگا۔ کیونکہ مزدور سرمایہ داروں کے لیے کام کرنے کی بہ نسبت اپنے لیے زیادہ تند ہی اور محنت سے کام کریں گے۔ اور پھر مزدوروں کے کام کے اوقات میں کمی ہوجائے گی۔ مزدوروں کی زندگی کا معیار بلند ہوجائے گا۔ اور ان کی زندگی کے حالات مکمل طور پر تبدیل ہوجائیں گے۔

لیکن ملک بھر میں موجودہ نظام کوتبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ ایسا کرنے کے لیے بڑی تگ و دو اور ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے طویل جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام امراء تمام جاگیردار اور تمام بورژوازی اپنی دولت اور اپنی جاگیروں کو بچانے کے لیے پوری قوت سے مدافعت کریں گے۔ حکام اور فوج امیر طبقہ کی حفاظت کے لیے اٹھ کھڑی ہوگی کیونکہ حکومت خود امیر طبقہ کے ہاتھوں میں ہے۔ مزدوروں کو ایک آواز ہو کر ان لوگوں کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے جو دوسروں کی محنت کا استحصال کر رہے ہیں۔ مزدوروں کو متحد ہونا چاہیے  اور تمام غریبوں کو ایک مزدور طبقہ اور ایک پرولتاری طبقہ میں متحد ہ کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ یہ جدوجہد محنت کش طبقہ کے لیے آسان نہ ہوگی۔ لیکن یہ یقینا مزدوروں کی فتح پرمنتج ہوگی۔ کیونکہ بورژوازی یا وہ لوگ جو دوسروں کے استحصال پر زندہ ہیں آبادی کی ایک غیر اہم اور معمولی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ محنت کش طبقہ بھاری اکثریت میں ہے۔ سرمایہ داروں کے خلاف مزدوروں کے کھڑے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لاکھوں افراد ہزاروں افراد کے مقابلے میں صف آراء ہوگئے ہیں۔

روس کے مزدور، مزدوروں کی سوشل ڈیموکریٹک تنظیم میں اس عظیم جدوجہد،کے لیے متحد ہوتے جارہے ہیں۔ پولیس کی نظروں سے بچ کر اور خفیہ حالات کے تحت متحد ہونا اگر چہ مشکل ہے لیکن اس کے باجود تنظیم پھل پھول رہی ہے اور طاقت ور بن رہی ہے۔ جب روسی عوام سیاسی آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو محنت کشوں کو متحد کرنے اور سوشلزم کے مقصد کو جرمن مزدوروں کی بہ نسبت زیادہ سرعت سے آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔

Spread the love

Check Also

 سٹیٹ ۔۔۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری

سٹیٹ اتھارٹی کی ایک تنظیم ہے۔ یہ سماج کی طبقاتی تقسیم سے وابستہ ہے۔سٹیٹ معاشی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *