Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » کشتی سازی کی صنعت ۔۔۔ ماوث

کشتی سازی کی صنعت ۔۔۔ ماوث

پدی زرمیں بخشی ہوٹل سے نکل کر شہر کی طرف جاتے تو ساحل پر ایک”اوپن ایر فیکٹری“ نظر آتی جہاں ماہی گیری کی کشتیاں بنتی اور مرمت ہوتی تھی………… یکدار بھی، لانچ بھی اور ”ہوڑو“ بھی۔   ہمارا خیال تھا کہ ماہی گیری کی ہر کشتی کو بلوچی میں یکدار ”یا“ ”بوجیگ“ کہتے ہوں گے۔ مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ ادھر بوجیگ کا مطلب الگ ہے، یکدار کا الگ، ماہی کش باتیل، ہوڑی اور باتیل سے الگ معنی رکھتے ہیں۔ کشتی سازی کی  اصلی لکڑی  (دیار و غیرہ) بیرونِ ملک سے بھی آتی ہے اور کراچی سے بھی۔مگر بلوچستان کے ساحل کے اپنے کیکر سے بھی یہاں کشتیاں بنتی ہیں۔

یہاں جا کر دیکھتے تو کوئی کشتی ابھی محض ڈھانچے کے مرحلے میں ہوتی تھی، کہیں آ پ کو نئی زیر تعمیر لانچ کی تختیاں نظر آئیں گی، کہیں بڑھئی کا کام تکمیل تک نظر آ رہا ہوتاہے اور کہیں کوئی مکمل کردہ لانچ رنگ و روغن کے آخری مراحل میں ملتی ۔

ٹھکاٹھک، دھپا دھپ………… محنت کش کی مقد س محنت کا صوتی اظہار۔ سیٹیاں، گپ شپ، غل غپاڑہ۔ کوئی گاتے ہوئے کام کر رہا ہوتا، کسی نے اونچی آواز میں ٹیپ ریکارڈر آن کر رکھا ہے۔ کوئی کھانس رہا ہوتا۔ کوئی اپنے چھوٹو کو ڈانٹ پلا رہا ہے۔ زندگی بہر رنگ زندہ ہے یہاں۔ ان  محنت کشوں کے ساتھ مل کر انسان تصنع، ملاوٹ اور بناوٹ کی منحوس دنیا سے باہر آ جاتا ہے۔ اور بے تکلفی، دوستی اور بھائی چارے کی مقدس حکمرانی میں داخل ہو جاتا ہے۔ پان، چائے اور بوتل کی پیشکش اس بلوچ محنت کش کی گویا شناخت ہے۔ ان کے ساتھ گپ شپ میں بہت لطف آتا ہے۔ کیمرے کے سامنے تو یوں تن کر، پوز بنا کر کھڑ ا ہوتا ہے جیسے پانی پت کی جنگ میں دشمن کی تلوار کے سامنے تیار کھڑا ہو۔ اتنے غیر مصنوعی، اتنے فطری لوگ……فوٹو کھچوانے کے بعد ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ پانچہ چڑھائی شلوار کو سیدھا کرنا تو بھول گیا تھا!!۔

 

کشتیوں کی اقسام

                بوجیگ

یہ تقریباً سو فٹ لمبا،50فٹ چوڑا اور 12فٹ گہرا ہوتا تھا۔ بوجیگ سمندری تجارت کاتاریخی وسیلہ رہا ہے۔ یہ بلوچ ساحلوں سے انڈیا، عرب ممالک اور افریقی ساحلوں کے درمیان درآمد و برآمد کا بہت ہی اہم ذریعہ رہا ہے۔ یہ 100ٹن تک وزن لے جانے کے قابل تھا یعنی 100کلو گرام والے 1500سے 2000 بوری گندم۔ خالص لکڑی کی بنی ہوئی اس پہلوان کشتی میں انجن نہیں ہوتا تھا۔

یہ بوجیگ بہت طویل سفر طے کیا کرتے تھے جو تین سے چھ ماہ تک کے عرصے کے ہوتے تھے۔ اور کبھی کبھی تو اپنے گھر لوٹے بغیر ایک بندرگاہ سے دوسری بندرگاہ تک مال لانے لے جانے میں پورا سال لگا لیتے تھے۔

ساحلِ بلوچ، تاریخی طور پر بین الاقوامی تجارت کی شاہراہ رہا ہے۔ ماضی بعید میں بھی یہا

پندرہ میٹر لمبائی کی لانچ تقریباً آٹھ ماہ میں بنتی ہے۔ بڑا استاد روزانہ چار سو روپے لیتا تھا۔ باقی دستکار ڈھائی تین سو روپے لیتے تھے۔ لانچ پر کل لاگت تقریباً25سے 35لاکھ روپے آتی تھی۔ صرف لکڑی پر دس لاکھ روپے لگتے تھے۔ پانچ سلنڈر کا انجن آٹھ لاکھ کا پڑتا تھا۔ ایسی بڑی کشتی بنانے کے لیے با وقار اور قیمتی لکڑی ساگوان ہوتی ہے جسے بلوچی میں (ساگ) کہتے ہیں۔ اسی طرح Biauنامی لکڑی بھی درآمد ہوتی ہے۔ یہ قیمتی لکڑی کالی کٹ، برما اور انڈونیشیا سے منگوائی جاتی ہے۔ ساگوان کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ بہت پائیدار ہوتی ہے اور ایک بار تیار ہو جائے تو بہت عرصہ تک نہ یہ ٹیڑھی ہوتی ہے، نہ اس میں دراڑیں پڑتی ہیں اور نہ یہ گل سڑ جاتی ہے۔ بہت نرم لکڑی ہے اس لیے اسے تراشنے میں بہت مشقت نہیں کرنی پڑتی۔ بہت لچکدار اور طاقتور لکڑی ہوتی ہے۔ (آرامشین لگنے کے بعد اب کشتی سازی میں یہاں کی لکڑی بھی استعمال ہوتی ہے)۔

ایسی بڑی کشتی بنانے کے لیے ایک بڑے استاد (دستکار) کی ضرورت پڑتی ہے۔ آٹھ سے دس دوسرے دستکار اور پانچ سے سات شاگردوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی ایک کشتی بنانے کے لیے ایک پورا لشکر چاہیے ہوتا ہے۔ اور یہاں اس اوپن ائیر فیکٹری میں تو بہ یک وقت دس پندرہ لانچوں پر کام ہو رہا ہوتا ہے۔ لہٰذاایک میلہ لگا رہتا ہے۔ صرف پسنی میں 70سے 80”استاد“کشتی سازی میں مصروف ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پسنی میں ہر سال 50فٹ لمبائی کی بارہ لانچیں اور 30-20فٹ لمبائی کی اسّی لانچیں بنتی ہیں۔

لکڑی کے کام کے بعد اس کی بیرونی سطح پر Cod Liverآئل (کاڈ مچھلی کا تیل) لگائی جاتی ہے تا کہ یہ واٹر پروف بن جائے۔ پہلے یہ لوگ شارک مچھلی کے جگر سے نکالے گئے تیل کو کشتی پر لگاتے تھے۔

ایک تعمیر شدہ کشتی کی اوسط عمر بیس برس ہوتی ہے۔

ان کی اندرونی آرائش بلوچ ذوق کی مکمل نمائندہ ہوتی ہے۔ یہاں مغربی بلوچستان کے آخری سرے پر اگر کشتیوں کی رنگین گلکاری اور آرائش قابلِ دید ہوتی ہے تو بلوچستان کا مشرقی سر ا یعنی ڈیرہ غازی خان ٹرکوں کی آرائش کا مشہور اڈہ ہے…………بلوچ،ایک آرٹسٹ قوم ہے۔

محض چند ہی کشتیوں پر قطب نما اور وائر لیس ٹرانسمیشن سسٹم لگا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ہر سال کئی کشتیاں کھلے  سمندر میں گم ہوجاتی ہیں۔

 

                                                                         جیٹی

جیٹی، دو بڑی دنیاؤں کو ملانے والا پلیٹ فارم ہوتا ہے؛ دو مختلف ماحولیاتی ثقافتی اور معاشی دنیاوں کو ملانے والا پلیٹ فارم۔ ہفتوں تک سمندر میں در بدر رہنے کے بعد دو تین دن کے لیے جیٹی، ماہی گیر اور اس کی کشتی کو خشکی پر انسانی حیات کے کاروان میں شمولیت دلانے والی دلآویز جگہ ہوتی ہے۔ مگر دوسری طرف یہی وہ منحوس جگہ ہے جہاں انسانی معاشرہ کی سب سے بڑی برائی بھی شروع ہوتی ہے کہ یہیں پہ اس کی محنت کا نا ترس استحصال ہوتا ہے۔ کپٹلزم کے ڈریکولا ماہی گیر کی پیداوار کو سستے داموں ہتھیا کر اپنی چیزیں اس پر مہنگی فروخت کر دیتے ہیں۔ اور بھی ادائیں ہیں، ”اس ”بورژوازی“ کی جن کے ذریعے بلوچ ماہی گیر کے گھر کے چولہے کو سرد، اس کے کپڑے تار تار، اس کے بیٹے کی بے روزگار ی،ہیروئنی، اور اس کی کمیونٹی کی کلچرل سطح پست رکھنے کے سامان ہوتے ہیں۔

شہر گوادر کے جنوب مشرق کی جانب ”دیمی زر“ میں خشکی کی طرف سے، گہرے کھلے سمندر کے اندر65 میٹر چوڑا اور چار سو میٹر لمبا ایک مضبوط پلیٹ فارم تعمیر کیا گیا تھا، جسے جیٹی کہتے تھے۔ اس پلیٹ فارم کے تینوں اطراف چونکہ کھلا سمندر تھا اس لیے تینوں اطراف سے کشتیاں آکر کھڑی ہوسکتی تھیں۔ گوادر کی جیٹی ہزار ہزار ٹن کے تین جہازوں، ایک سو ساٹھGill- Knitters اور چار سو چھوٹی کشتیوں کو لنگر انداز ہونے کی سہولتیں دے سکتی تھی۔ یہ جہاز اور کشتیاں اپنی پکڑی ہوئی مچھلی اس پلیٹ فارم پر اتارتی تھیں۔ یہیں پر تین ہزار مربع میٹر کا ایک ہال بنا ہوا ہے۔ وہاں اس مچھلی کو وزن کرنے کی سہولت موجودہے۔ اس ہال میں دلال موجود ہوتے ہیں جو مچھلی خرید نے کی بولیاں دیتے ہیں اور ماہی گیر اپنی مچھلی فروخت کرتے ہیں۔ ماہی گیر شکار کی اپنی ضرورت کی چیزیں بھی یہاں سے حاصل کرتے ہیں۔ اسی پلیٹ فارم پر ایک ہزار مربع میٹر کا ایک شیڈ بھی ہے جس میں مچھلی سٹو رہوتی ہے۔ اس مصنوعی پلیٹ فارم کے اوپر ایک سرے سے دوسرے سرے تک ٹرک، جیپیں اور کاریں دوڑتی رہتی ہیں مگر میلوں گہرے سمندر پر بنا ہوا یہ مضبوط پلیٹ فارم نہ گرتا ہے نہ جھول کھاتا ہے ……سرکار کی مرضی ہو تو گہرے سمندر کے اوپر بغیر ستون کے جیٹی بنا لیتا ہے۔ اور اگر مرضی نہ ہو تو بیجی دریاپر ایک پل تک نہیں بن سکتا۔ سائنس کو ہمیشہ انسان دوست لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے!۔

پسنی میں بھی ایشین ڈو یلپمنٹ بنک کی طرف سے ایک فش ہاربر بنایا گیا ہے۔ یہ فش ہاربر اور فش ہینڈ لنگ سنٹر1989 کے وسط میں مکمل ہوگیا۔ اس کا رقبہ16ہیکٹرز ہے۔ اس پر ایک کار گو جیٹی ہے، تین برتھنگ جیٹی ہیں جن میں سے ہر ایک100 میٹر لمبی ہے۔ ساٹھ میٹر لمبی یک ڈھلوانی جیٹی اور سو میٹر لمبی ایک لوڈاتارنے والی گھاٹ ہے۔ اس میں نیلامی کا ہال ہے اور سٹور کرنے والے سردخانے کے چارکمرے ہیں۔

 

                              ماہی گیری میں طبقاتی تقسیم

اس استحصال کی تفصیل میں ہم ذرا دیر بعد جائیں گے۔ آیئے ذرا ماہی گیر کے لٹنے اور استحصال ہوجانے والے اولین مقام یعنی اس کی کشتی پر چلیں:

یہ ماہی گیری کی ایک لانچ ہے۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ لانچ ماہی گیری کی بڑی کشتی ہوتی ہے جو بہت مہنگی بنتی ہے۔ اور اس کا مالک بڑا سرمایہ دار ہوتا ہے۔ یہاں ایسے سرمایہ دار بھی ہیں جن کی پندرہ پندرہ، بیس بیس لانچیں ہیں (بلوچستان میں طبقات نہیں ہیں!!!!)۔

لانچ پر تیرہ افراد کا عملہ ہے (ہر لانچ پر ماہی گیروں کی تعداد لانچ کی سائز پر منحصر ہوتی ہے)۔ بڑی لانچوں پہ بیس سے پچیس افراد بھی کام کرتے ہیں۔ جبکہ ماہی گیر کی عام کشی پر چھ سے آٹھ افراد کام کرتے ہیں۔

مچھلی کے شکار کی مجموعی شکل ”سنگار“ کہلاتی ہے۔

***

لانچ پہ کام کرنے والے افراد کی تقسیم اس طرح ہے:۔

                 ناھدا(کپتان)

یہ تجربہ کار شخص ماہی گیری کے پورے آپریشن کا انچارج ہوتاہے۔ یہ بڑا دریا نوردشخص، ماہی گیری کے مشن کی منصوبہ بندی کرتا ہے، اس پہ عمل کی نگرانی کرتا ہے اور کشتی، اوزار، اور عملے کا حتمی ذمہ دارہوتا ہے۔ وہ موسم کے بارے میں انداز ہ کرسکتاہے اور طوفان وغیرہ جیسی مشکل صورتحال میں راہنمائی کرتا ہے۔ اُسے طوفان کی بہت پہچان ہوتی ہے۔ بہت حوصلہ مند یہ ناھدا طوفان میں لانچ کا سکّان(سٹیرنگ) خود سنبھالتا ہے۔ناھداماہی گیری کے فن میں طاق اور پختہ ہوتا ہے۔

 

                سارنگ(سرہنگ)

اسسٹنٹ کپتان ہوتاہے۔ آگے آگے ہوتا ہے اور جال پھنکوا دیتا ہے۔ بہ وقت ضرورت وہ ناھدا کا کام بھی سنبھالتاہے۔

 

                ڈرائیور

لانچ چلاتا ہے۔

 

                بانڈاری

یہ کشتی میں موجود محنت کشوں کے اِس کنبے کا مسلسل20-25 دن تک باورچی ہوتا ہے۔

 

                خلاصی

اسے ”جاں شو“ بھی کہتے ہیں اور ”ملاح“ کا لفظ بھی اس کے لیے استعمال ہوتاہے۔  لانچ میں کم از کم آٹھ نوخلاصی ہوتے ہیں۔ سمندر میں ماہی گیری کی ساری مشقت یہی لوگ کرتے ہیں۔ یہ جال پھینکتے ہیں، نکالتے ہیں، شکار کردہ مچھلی کو جال سے نکالتے ہیں۔ اس مچھلی کو نمک لگاتے ہیں، برف توڑتے ہیں اور مچھلی کو لانچ کے نچلے خانوں میں سٹور کرتے ہیں۔

’جاں شو“ بہت مشقت کرتے ہیں۔ جال ہر وقت مرمت مانگتاہے اس لیے کہ اس میں پھنسی ہوئی منہ زور مچھلیاں اپنی آزادی کی جدوجہد میں اسے پھاڑتی رہتی ہیں۔ پلاسٹک کے سرخ، سفید خوبصورت فٹ بال آپ کو اس کے جال پہ جگہ جگہ نظر آئیں گے۔ یہ بال سطح آب پر تیرتے رہتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وسیع سمندر میں جال ہے  کہاں؟۔

خلاصی بلوچ ساحلوں کی آبادی کا50 فیصد حصہ تشکیل دیتے ہیں۔ یہ لوگ شام چاربجے جال پھینکتے ہیں اور رات کے تین بجے نکالتے ہیں۔ پھر اپنا شکار جال سے نکال کر نمک و برف لگا کر سٹور والے تہہ خانوں میں رکھتے ہیں۔ وہ جنگ و جدل کا شکار ہوجانے والے اس جال کی مرمت کرتے ہیں اور شام چار بجے پھر جال سمندر میں پھینک دیتے ہیں۔ روز کا یہی معمول رہتا ہے:

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات!۔

ماہی گیر کے لیے بلوچی زبان میں عمومی لفظ ”مید“(Sea man) استعمال ہوتا ہے۔ یعنی مچھلی پکڑنے والا۔ اسی لفظ سے یہاں گوادر میں ایک محلہ آباد ہے جسے ”میدانی پاڑہ“ کہتے ہیں یعنی ماہی گیروں کی بستی۔ یہاں کے مقامی باشندوں کے دیگر محلوں کے نام ہیں؛ کمان وارڈ، کولگری وارڈ، ملا بندوارڈ، شادو بند وارڈ، کوبن وارڈ، بلوچ وارڈ، ملا کریم بخش وارڈ، شیخ عمر وارڈ، اور، گزروان وارڈ، وغیرہ۔

ہمارے ان بلوچ محنت کشوں کے پاس ماہی گیری کی کوئی جدید سہولت نہیں ہے۔ ہمارے یہ گونڈل عملاً بے تیغ ہیں۔ یہ لوگ سمندر کے نبض شناس ہوتے ہیں۔ محض ستاروں کی مد د سے اپنا پیداواری عمل بجا لاتے ہیں حتیٰ کہ یہ افریقہ کے ساحلوں تک انہی ستاروں کے سہارے آتے جاتے ہیں …… یہی ہیں ہمارے ماہر فلکیات، ہمارے علمائے نجوم…… انہیں اپنے سمندروں سے اس قدر واقفیت ہے کہ محض تجربے کی بنا پر ان کو معلوم ہوتاہے کہ سمندر کا کونسا علاقہ گہرا ہے، زیرِ زمین کہاں چٹا نیں چُھپی ہوئی ہیں جہاں ان کی کشتی ٹکرا کر ٹوٹ سکتی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ کیچڑ اور دلدل والا علاقہ کون سا ہے۔ اور وہ زیر آب مچھلیوں کی قسم اور متوقع شکار کی تعدادکا ٹھیک اندازہ کرکے جال ڈال دیتے ہیں۔(کتنا اچھا ہو، اگر انہی ماہی گیروں میں سے ایک پاکستان کا وزیر ماہی گیری ہو، ایک وزیر تجارت ہو، ایک بحریہ کا سربراہ ہو،اور ایک بلوچستان کا وزیر اعلیٰ)۔

جو ماہی گیر دوپہر کے بعد سے عصر کے وقت تک سمندر جاتے ہیں اس وقت کا نام”شب ریچ“ ہے۔

کانٹے ڈور کی مدد سے مچھلی پکڑنے کے کام کا نام ”چیران“ ہے۔ دستی جالوں کی مدد ے چھوٹی مچھلیوں کے شکار کا نام ”گند“ ہے۔ اسی طرح ”چیر آپ“، ”بندیگ“، ”جل“، ”برام“اور”کیگٹنا“شکار کے مختلف طریقوں کے نام ہیں۔ مدگ پکڑنے کا موسم سرما ہے، تاہم گرمیوں میں بھی اس کا شکار ہوتا ہے۔

لانچ ایک ٹرپ میں تین سے چار ہزار مچھلیاں پکڑتی ہے۔ واپسی پہ جب یہ مچھلی جیٹی پربولی کے ذریعے بکتی ہے تو حاصل شدہ رقم میں سے سفر کے سارے اخراجات نکالے جاتے ہیں۔ ان اخراجات میں ٹیکس، کمیشن، رشوت، جرمانہ، خوراک، مرمت اور ایندھن وغیرہ شامل ہیں۔ بقیہ جو  رقم  بچ جاتی ہے وہ آدھی آدھی بانٹ دی جا تی ہے۔ آدھا تو سید ھامالک لے جاتا ہے، بنا کسی محنت کے، بغیر ہاتھ پاؤں ہلائے۔ محض اس لیے کہ اس کے پاس حلال حرام کا پیسہ تھا جس سے اس نے آلاتِ پیداوار(لانچ، جال انجن، ونیچ) خرید رکھے تھے۔

بقیہ آدھے حصے میں چار حصے ناھدا کے، ڈیڑھ حصہ سارنگ(سرہنگ) کا، ایک ایک حصہ ہر خلاصی کا اور ایک حصہ ڈرائیور کا ہوجاتا ہے۔

اختیارات  کی بات کریں تومالک سب کا مختار ہے۔ وہ ساری اسمبلی، پوری کابینہ یا کسی بھی فرد کو بر طرف کرسکتا ہے۔

ناہدا کو مالک ہی نکال سکتا ہے۔ سارنگ کو نکال دینے کا اختیار  مالک کو بھی ہے اورناہدا کو بھی۔ اور خلاصی کو سب نکال سکتے ہیں بغیر وجہ بتائے، بغیر چارج شیٹ کے، بغیر جواب طلبی اور انکوائری کے۔ جنگل میں توچلتاہی جنگل کا قانون ہے، شہر میں بھی جنگل کا قانون اور اب سمندر میں بھی جنگل کا قانون…… حضرت ِ انسان، تجھے خدا عقل دے، حضرتِ بلوچ تجھے خدا سمجھائے۔حضرتِ سرمایہ دار تجھے محنت کش قومیالے!

عورتیں بحیرہ ِبلوچ کی بندرگاہوں میں کھلے سمندر میں باقاعدہ ماہی گیری کرتی ہیں۔ (بلوچ میں صنف ِنازک کابھونڈا تصور اب تک موجود نہیں ہے)۔

سمندر سے  لانچ بیس پچیس دن بعد  ساحل پہ واپس آتی ہے۔ دو چار دن مرمت، ایندھن، خوراک پانی لینے میں لگ جاتے ہیں اور یہی دو چار دن ماہی گیروں کی سوشل لائف کے ہوتے ہیں۔ ابھی بال بچوں سے ملنے بھی نہیں پاتے کہ پھر سمندر، پھر ماہی گیری، پھر مزدوری، مشقت۔ زمینی دنیا میں انسانوں کی بستی میں محض چار دن؟۔ کسی کی فاتحہ، کسی کی شادی، تیمارداری………… کیا کچھ ہوسکتاہے چار دنوں میں ؟۔نہ آپ تصور کرسکتے ہیں اور نہ میں بیان کرسکنے کا اہل ہوں۔

ہمارے ماہی گیروں کا بد ترین استحصال سرمایہ دار کے ہاتھوں ہوتا رہا ہے۔ ہمارے یہ خلاصی جو ناہدا کے بھی مقروض ہوتے ہیں اور مالک کے بھی، کشتی پر غلاموں کی طرح وابستہ رہتے ہیں۔ ایک کا قرضہ ادا کرنے اور وہاں سے جان چھڑانے کے لیے دوسرے کی کشتی پر خود کو بیچنا پڑتا ہے۔

”مید“ تو نچلے درجے کا شہری تصور ہوتارہا ہے۔ آپ تو یقین نہیں کریں گے مگر سچ یہ ہے کہ مید نچلے درجے کا آدمی ہوتا ہے۔ مید جو روزی رساں ہیں، مشرق کے مخصوص ملاح ہیں،بے پرواہ اور لا ابالے ہیں، مضبوط توانا، تڑنگے، اتھلیٹ جیسے ہٹے کٹے ہیں۔ ایسے اشراف المخلوق کو نچلی ذات کا سمجھا جاتا ہے جو سمندر میں بہت دیر تک رہنے کی قوت برداشت رکھتے ہیں، کسی بھی انسانی نسل سے زیادہ۔ ان کے ہاتھ پتھر جیسے سخت اور بلوچستان جیسے کھردرے ہوتے ہیں۔

مکران میں جن دوسرے لوگوں کو کم ذات سمجھا جاتارہا، ان میں درازدہ، لوڑی، اور غلاموں کی اولاد شامل ہیں۔ (بقول گزٹیر، مکران صفحہ نمبر106)۔دنیا کے ہر طبقاتی سماج کی طرح، بلوچ سماج میں بھی یہ بد ذات، کمی، کمینے، اور نچلی ذاتیں کوئی نہ کوئی محنت مشقت والا کام کرتے ہیں ………… مید، ماہی گیری کا پاک اور حلال محنت کرتے ہیں۔ درزادہ بے زمین کسان، مزارع اور کھیت مزدورہیں۔ لوڑی دستکار ہیں۔اور غلاموں کی اولاد زرعی مزدوری کرتے ہیں یا گھروں میں کام کرتے ہیں۔

دوسری نچلی ذاتوں میں کسان ہیں جنہیں درزادہ یا نکیب کہتے ہیں۔ یہ لوگ ساحلی علاقے میں بھی رہتے ہیں اور اندرون بھی۔

پھر موسیقار ہیں جنہیں لوڑی کہتے ہیں۔ یہ لوگ خانہ بدوش لوگ ہیں، پورے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے جو لوگ زمین پہ مستقل آباد ہیں انہیں سرمستانی (سرمست کی اولاد) اور زنگی شاہی کہا جاتا ہے۔ سارے لوڑی یا لوری یا تو ہینڈی کرافٹس میں مشغول ہیں (قالین باف، لوہار، سنار، موسیقار اور گلو کار، بڑھئی(دار تراش) لوہار(آسن کار)، سنار(زرگر)، ڈھول بجانے والے (دوھلی)، تاریخی کلاسیکی شاعری یاد رکھنے اور سنانے والا(پہلوان)۔

کل وقتی گھریلو کارکن جنہیں غلام کہا جاتا ہے۔ کھوجے بھی نچلی ذاتوں میں شمار ہوتے تھے۔ یہ ہول سیل سوداگر زیادہ تر ماہی کی تجارت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ چٹائی، کپاس، پشم، خوراک وغیرہ کی درآمد برآمد کرتے ہیں۔ آغا خان کے ماننے والے ہیں۔ ان کا مذہبی پیشوا”مُکھی“ کہلاتا ہے۔

ہندو بھی دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ یہاں وہ مسلمان کو ملیچھا قرار دینے کا نخرہ نہیں کرسکتے۔ وہ غلام عورتوں سے شادی بھی کرلیتے تھے۔

بلوچستان میں ان نچلی ذاتوں کے ساتھ سماجی نا انصافیوں کا حال گزیٹیئر نے یوں تحریر کیا ہے:

۔ یہ کسی عام بلوچ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں سکتے۔

۔ حقیر سے حقیر بلوچ کی موجودگی میں بھی یہ حال حوال دے یا لے نہیں سکتے۔

۔ عام بلوچوں کی لڑکی بیاہ نہیں سکتے۔

۔ ان کا خون بہا،یا تو سرے سے ہوتا ہی نہیں،یا بہت ہی معمولی ہوا کرتا تھا۔(3)

یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ دنیا بھر میں محنت کش لوگوں کو ہی کم ذات گردانا گیا ہے۔مفت خور طبقات میں کبھی بھی کم ذات پیدا نہیں ہوتے۔

ہم بلوچ بہت زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ غلط فہمیوں میں غرق ہوجاتے ہیں۔ ہماری ایک غلط فہمی یہ ہے کہ مکران میں سرداری نظام ختم ہوچکا ہے اور لوگ اس سے اگلے معاشی سماجی نظام میں داخل ہوچکے ہیں اس لیے وہ ہماری  سیاسی راہنمائی کریں گے (سب سے پہلے یہ غلط فہمی خود مجھے ہوئی تھی)۔ ایسا نہیں ہے۔ ایک تو ماضی بڑا خوفناک رہا ہے، وہاں کا۔مکران میں ایک اور بد ترین قسم کی برہمنی اور شو دری موجودرہی۔ برہمن کا مکران میں بلوچی نام گچکی تھا۔ میں کہیں یہ پڑھ کر حیران ہوا کہ جب گچکی رشتہ داریاں کرتے تھے تو دلہن کو جو چیزیں دیتے تھے انکی لسٹ یہ تھی؛ زمین اور پانی کے دو ہنگام کھجور کے درختوں کے ساتھ، پھر سونا۔ پھر اللہ آپ کا بھلا کرے ”بندگ“ یعنی غلام جن میں شامل ہیں چھ دانے مرد اور چھ عدد عورتیں۔…… گچکی گیری کے زوال کے بعد اب اہلِ مکران مشرقی اور وسطی بلوچستان سے سردار درآمد کرکے اپنا لیڈر بناتے ہیں۔

 

فیوڈل طبقاتی سماج پہ کیا فخر، کیا افتخار!۔

Spread the love

Check Also

بلوچستان میں محنت کشوں کی تحریک ۔۔۔ شاہ محمد مری

                مزدور کی حالت انتہائی دشوار ہے۔وہ بغیر وقفے کے کام کرتے ہیں، غربت جھیلتے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *