Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » خدا ترس ۔۔۔ عابد میر

خدا ترس ۔۔۔ عابد میر

نحیف اور پیرسن مزدور کی طبیعت اُس روز کسی صورت کام کرنے جیسی نہ تھی۔ بوڑھی ہڈیاں بوریوں کا بوجھ اٹھانے سے نالاں تھیں۔ کم زور کندھے احتجاج میں مزید جھک گئے تھے۔ ساتھیوں نے بھی اسے یہی مشورہ دیا کہ جا کر بڑے صاحب سے بات کر لے۔

ہانپتا کانپتا وہ صاحب کے کمرے تک تو چلا آیا……اب سمجھ نہ آتا تھا کہ کیا بولے۔

”ہاں بھئی اللہ بخش بولو، خیر ہے؟……طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟“

”نہیں، صاحب، کچھ کم زوری سی ہے……“

”ڈاکٹر کو دکھایا؟“

”جی صاحب، کچھ دوائیاں دی ہیں اور کہا ہے کچھ آرام کرو۔“

”اچھا……تو چھٹی کر لو آج۔“

”لیکن صاحب وہ ……آج کی دیہاڑی……“

”وہ تو ظاہر ہے نہیں ملے گی نا بھائی……جب کام نہیں ہو گا تو دیہاڑی کیسے ملے گی!“

”صاحب اگرکچھ ایڈوانس مل جاتا……“

”ارے بھائی یہ کوئی سرکاری دفتر تو ہے نہیں ……اور پھرایڈوانس تو پکے ملازمین کے لیے ہوتا ہے نا، دیہاڑی والے مزدور کوایڈوانس کیسے دے سکتے ہیں ……چھٹی دے سکتے ہیں، وہ کر لو بے شک……“

وہ چپ رہا تو کمپیوٹر پہ مصروف صاحب خود ہی بولے……

”دیکھو بھائی تمہاری جگہ کوئی اورمزدور تو کام کرے گا نا، اب اگر تمھیں ایڈوانس دے دیا جائے تو تمہارے ہی کسی مزدور بھائی کی دیہاڑی ماری جائے گی۔“ پھر کچھ سوچ کے بولے،”چلو دیکھ لو، آدھادن کام کر لو، پوری دیہاڑی لے لینا۔ میں منیجر سے کہہ دوں گا۔بس اتنا کر سکتا ہوں ……“

”جی اچھا صاحب……“

وہ ائیرکنڈیشنڈ کمرے سے کپکپاتا ہوا باہر نکل آیا۔ آدھے دن کی مزدوری کا مطلب کم ازکم دوشہ زور گاڑیوں سے بوریاں اتارنا پڑیں گی……ورنہ دن کی آٹھ، نو سوروپے کی مزدوری چلی جاتی……گھر کیا لے کے جاتا۔سو، بوریوں سے لدی گاڑیوں کی اَور بڑھ گیا۔

جوش، ولولے اور وسوسے میں پہلی گاڑی خالی ہونے کا تو پتہ ہی نہ چلا……لیکن ہڈیاں چٹخ چٹخ کر احتجاج کیے جاتی تھیں۔ سورج سوا نیزے آپہنچا تھا۔

دوسری گاڑی سے بوری اتارتے ہوئے کہیں اُس کا ہاتھ رپٹا اورگندم سے بھری بوریوں کا ملبہ اُس کے اوپر آرہا۔

مزدوروں میں ہاہاکار مچ گئی۔

درجنوں مزدور جمع ہو گئے۔ ایک دم بوریاں ہٹائی جانے لگیں۔ لیکن سب کوششوں کے باوجود دس سے پندرہ منٹ لگ گئے۔ تب تک سو کلو کی پچاس بوریوں کے نیچے بہ مشکل پچاس کلو کا اس کا ڈھانچہ بے روح ہو چکا تھا۔

مزدروں میں غم و الم کی فضا چھا گئی۔ اُس کے بعض قریبی دوست تو رو پڑے۔ فیکٹری میں سوگ چھا گیا۔

بڑے صاحب تک اطلاع پہنچی تو خود چل کے باہر آئے۔ مزدور کا چتھڑا ہوا بدن دیکھ کر اُن کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

ٹشو پیپر سے انھوں نے آنسو پونچھے۔ آفس آکر ایمبولینس کو فون کیا۔ مزدور کے گھر سے بھی کسی کو بلوا بھیجا۔

مزدور کا بڑا بیٹا کسی اور فیکٹری میں ہی کام کرتا تھا۔ روتا دھوتا باپ کی چتھڑی ہوئی لاش لینے پہنچا تو صاحب نے اسے آفس میں بلالیا۔

”مجھے بڑا افسوس ہے بیٹا، حالاں کہ صبح میں نے اُن سے کہا بھی اگر صحت اجازت نہیں دیتی تو چھٹی کر لیں، لیکن نہ مانے۔ جو خدا کو منظور……“ انھوں نے اپنی نم آنکھیں پونچھیں اور دراز سے ایک لفافہ نکال کر لڑکے کے سامنے رکھا،”یہ لو بیٹا یہ دس ہزار روپے ہیں، میری طرف سے کفن دفن کے لیے رکھ لینا۔ اور اپنا پتہ دے کے جانا، میں جنازے میں ضرور آؤں گا۔“

لڑکا تشکر آمیز نگاہوں سے سرجھکائے اٹھ آیا۔

فیکٹری میں جس کو پتہ چلا،صاحب کی فیاضی کی تعریفیں کرتا اور دعائیں دیتا تھا……۔

”خدا ترسی ہو تو ایسی بھائی، ورنہ آج دیہاڑی دار مزدور کو مالک پوچھتے ہی کہاں ہیں ……خدا صاحب کی عمر دراز کرے اور ان کی نیکی قبول فرمائے۔“

Spread the love

Check Also

مزدور ۔۔۔ سعادت حسن منٹو

لْوٹ کھسوٹ کا بازار گرم تھا۔ اس گرمی میں اِضافہ ہو گیا جب چاروں طرف ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *