Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » ہوچی منہہ ۔۔۔ رزاق شاہد

ہوچی منہہ ۔۔۔ رزاق شاہد

جب آپ پر قبضہ کر لیا جائے،۔

جب وطن خون میں نہلا دیا جائے،۔

جب دشمن چاروں طرف سے حملہ آور ہو جائے،۔

تب  لڑنا کیسے ہے؟

دشمن کو ہرانا کیسے؟

اور جیت کا جشن منانا کیسے ہے؟……۔

اس کے لئے ہوچی منہہ کے حضور جانا پڑتا ہے، اس کے لئے اس کی زندگی میں جھانکنا پڑتا ہے اس کے لئے ڈاکٹر مری کی لکھی سوانح پڑھنی ہوتی ہے.

آج ٹیکنالوجی کے زور پر کمزوروں کے خون پر پلنے والی تہذیب نے جنگ اور بیماری کو کاروبار بنا رکھا ہے…… ایسے میں پاک روحوں کی جدوجہد سے شکتی حاصل کرنا لازم ہے.

کمزور ناتواں “چھوٹے” لوگ کیسے لڑ گئے، کیسے جیت گئے…… اس کی داستان ہو پھر ڈاکٹر مری کی زبان ہو تو کون کافر نہیں پڑھے گا.

ہوچی کی سوانح ایک فرد، ایک خطے کی نہیں بلکہ انسانی جدوجہد کی داستان ہے… لٹیرا کیسے وار کرتا ہے ساد کیسے گھر بچاتا ہے…

“موت کو دور رکھنے کی تدابیر کرنے کے نام”.. یہ کتاب منسوب ہے…… اس لئے کہ موت تو حیات کی توہین ہے……

موت کیا ہے؟

تھکنے کا نام موت ہے.

ہارنے کا نام موت ہے.

جدوجہد نہ کرنے کا موت ہے.

زندگی نہ تھکتی ہے،

نہ ہارتی ہے،

نہ جدوجہد ترک کرتی ہے……

یہ کتاب تھکنے والوں کے لئے نہیں بلکہ سفر میں، زندگی کی راہ میں چلنے والوں کے لئے آکسیجن ہے.

اس کتاب میں سوال ہیں

حیرتیں ہیں،

یہ کتاب آئینہ ہے..

سوال پوچھتی ہے یہ کتاب کہ

“پتا نہیں سامراجیوں کو یہ بد بخت طریقہ کس نے سکھایا کہ ان کے فوجی واقعی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ دوسرے ملکوں پر حملہ اس لئے کر رہے ہیں کہ وہ انہیں تہذیب سکھانے کے لئے گویا آسمانوں کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں۔انگریز سے لے کر فرانسیسی،پرتگالی سے لیکر سپینی تک ہندوستانی سے لے کر پنجابی تک، سب تک  اسی خداداد مشن کے ہاتھوں مجبور ہو کر کمزور ملکوں اور قوموں پر چڑھ دوڑتے ہیں ”

یہ کتاب بتاتی ہے کہ آرٹ تہذیب انقلاب کی سرزمین بھی حرص اور جوعی الارضی کی لپیٹ میں آ جائے تو گالی بن جائے

آخر…… ہوچی منہہ کی سوانح کیوں لکھیں؟

کیوں پڑھیں ……؟

“اس لئے کہ

اس نے مستقل طور سے سامراج دشمنی جاری رکھی.

اس نے ایک عظیم الشان تنظیم بنائی جو گاؤں گاؤں منظم تھی.

اس نے قومی آزادی کی اس جدوجہد کو سوشلزم کے ساتھ خوبصورتی سے جوڑ دیا”

 

ارے یہ کیا سوانح نگار کیا لکھتا ہے کہ فرانسیسی سوداگروں کے منہ میں لالچ، حرص اور قبضے کی رال اس کے عیسائی ملاؤں نے ڈالی… واقعی ہر عقیدے کا ملا سرمائے دار کا سہولت کار ہوتا ہے…

ہوچی کی زندگی میں تیس کا ہندسہ… تیس سالہ جلاوطنی،

تیس سالہ جدوجہد،

تیس سالہ جنگ،

اور

تیس لاکھ جانوں کا خراج……

انقلاب کوئی فیس بک کی بٹ کڑاک کا نام نہیں دوستو…

جن کو ہو جان و دل عزیز اس گلی میں آئے کیوں

“اگر انقلابی ویت نام کی جدوجہد سے نہیں سیکھتے تو ان کا انقلابی ہونا مشکوک ہے”

جب مست کا وجود عشق کی خوشبو میں ڈھل کر  رسترانی سے پورے خطے میں پھیلا تب اپنی زندگی میں پچاس سے زائد ناموں سے پکارا جانے والا چھ سالہ ہوچی منہہ گاؤں کے مویشی چَرا رہا تھا……

پھر چھوٹے قد کا،

دبتلا پتلا… لیکن فولادی عزم والا،

آنے والے دنوں میں کبھی ویٹر بنا تو کبھی نانبائی کبھی کلرک تو کبھی معلم کبھی بیکری میں ملازمت کی تو کبھی بحری جہاز میں باورچی بنا کبھی فوٹو گرافر  تو ہیلپر……

اور پھر یہ سفر یہ پندھ اسے ہمارے بوڑھے مور کے حسین باغ میں لے آیا اور  مارکسزم سے روشناس کرایا…… پھر اسی باغ کی خوشبو نے اسے لینن سے روشناس کرایا.

لینن کو پڑھ کر، اس کی جدوجہد دیکھ کر اسے معلوم ہوا کہ “سامراج کی جمہوریت اور آزادی کے سارے نعرے محض دھوکہ ہوتے ہیں اور حقیقی آزادی کے لئے غلاموں کو خود اپنی قوت پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے”

ایک طرف چار سامراجی سور…… فرانس، جاپان، برطانیہ اور امریکہ تھے اور دوسری طرف اکیلا ہوچی منہہ… عوام اور جذبہ سوشلزم……

پچاس سال فرانس نے لوٹا

پانچ سال جاپان نے نچوڑا

کئی سال برطانیہ نے قتلِ عام کیا

28 سال اسی لاکھ بم امریکہ نے برسائے…۔

لیکن… قبضہ ہار گیا، بم دلوں کو نہ جلا سکے، سازشیں اپنی موت آپ مر گئیں…

اور عوام جیتی،

جذبہ سرخرو ہوا،

سوشلزم فاتح ٹھہرا……۔

 

ٹی بی سے لڑتا، شوگر کو پرے دھکیلتا… فتح کے یقین سے آگے بڑھتا…… اپنی آخری وصیت لکھوانے کے بعد تین ستمبر انیس سو انہتر کو رخصت ہوا…

“میری آخری خواہش ہے کہ ہماری پارٹی اور عوام جدوجہد میں متحرک رہ کر ایک پر امن، متحد، جمہوری اور خوش حال ویت نام تعمیر کریں اور عالمی انقلاب میں ایک حصہ ڈالیں.”

ہوچی منہہ کے انتقال کے چھ سال بعد جنوبی ویت نام پر انقلابیوں کے قبضے کے ساتھ ویت نام کا انقلاب کامران ٹھہرا… ہوچی منہہ سٹی میں مارچ کرتے ٹینکوں پر لکھا تھا کہ

انکل آپ ہمارے شانہ بشانہ مارچ کر رہے ہیں …….۔

ہوچی منہہ کی ساری جدوجہد خود کو بزدل کمزور سمجھنے والوں کے لئے واضح پیام ہے کہ ٹینک تیر تلوار بم بارود سے کامیابیاں نہیں ملتیں… جذبوں کے طوفان کے آگے کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی.

Spread the love

Check Also

دی بلوچ کلچرل ہیرٹیج ۔۔۔ ڈاکٹر اصغر دشتی

اس کتاب کے مصنف جناب جان محمد دشتی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب انگریزی میں ہے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *