Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » نیلم ۔۔۔ سعیدہ گزدر

نیلم ۔۔۔ سعیدہ گزدر

موسم خوشگوار تھا۔ کوٹ اتار کر سجاد نے کاندھے پر ڈال لیا  اور دور تک نظریں دوڑائیں۔ وہ ابھی تک نہیں آئی تھی۔ تین دن سے متواتر وہ اُسے اِس سڑک پر دیکھ رہا تھا۔ آج اُس نے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ ضرور اُس سے بات کروں گا۔ مگر وہ ابھی تک دکھائی کیوں نہیں دی؟۔

چلتے چلتے وہ ایک دو ا فروش کی دوکان کے سامنے رک گیا۔ اُسے یا د آیا اس کے پاس بالوں میں لگانے کی کریم ختم ہوگئی ہے۔ پیسے چُکا کر سجاد باہر نکلنے کے لیے پلٹا تو دوسرے کاؤنٹر پر وہ جھکی ہوئی کھڑی تھی۔ لڑکی نے گردن اٹھا کر یوں ہی سا اُسے دیکھا اور پھر اپنے سامنے رکھی ہوئی بہت سی لپ سٹکوں کو کھول کھول کر اُن کے رنگ آزمانے لگی۔ اُس کے گھنگھریا لے بال ایک رِبن سے بندھے تھے اور پیچھے سے پتلی سفید گردن کا خم بہت بھلا لگ رہا تھا۔ سجاد آہستہ آہستہ چلتا ہوا لڑکی کے قریب جا کر کھڑاہوگیا۔ وہ اپنی نازک انگلیوں میں ایک سُرخی پکڑے آئینے میں دیکھ رہی تھی۔

”یہ رنگ آپ پر بہت سجے گا“۔ لڑکی نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر منہ کھولا۔ سجاد کانوں تک سرخ ہوگیا اور جلدی سے باہر نکلنے لگا۔

”کیا واقعی یہ رنگ اچھا ہے؟“۔ لڑکی مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔ وہ دونوں کچھ دور تک ساتھ ساتھ چلتے رہے۔

”آپ کہاں جارہے ہیں؟“۔ لڑکی نے رُکتے ہوئے پوچھا۔

”پتہ نہیں، کئی دن سے آپ سے ملنے اور بات کرنے کی خواہش تھی۔ اب سوچ رہا ہوں کدھر جاؤں؟“

”یہاں سے قریب ہی چڑیا گھرہے“۔ لڑکی ہنس دی۔

سجاد نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔ لڑکی کے لہجے کی بے ساختگی اور کھنکتی ہوئی ہنسی اُسے بہت بھلی لگی۔ وہ یہی کوئی انیس بیس برس کی ہوگی۔ گہرے نیلے رنگ کے شلوار سوٹ میں اُسے کا دبلا پتلا جسم بہت نازک اور دلکش لگ رہا تھا۔ چھوٹے سے زرد چہرے پر دو بڑی بڑی سیاہ روشن آنکھیں سجاد کو اپنے وجود میں بستی معلوم ہوئیں۔ اُن میں ایک ساتھ بہت سے احساسات کروٹیں لے رہے تھے۔ کچھ تھکی ہوئی اور بوجھل سی حساس آنکھیں! جو لمحہ بھر شوخی سے مسکراتیں پھر اداس اور مدھم ہوجاتیں۔

سجاد کو محسوس ہوا کہ وہ اِس لڑکی کو ایک دم سے پسند کرنے لگا ہے۔ اس کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتا ہے۔

”مجھے وہاں کا راستہ نہیں معلوم“۔ اُسے موہوم سی امید تھی کہ شائد اِسی بہانے یہ ملاقات طویل ہوجائے۔

”اچھا میں راستہ دکھادیتی ہوں“۔ وہ سادگی سے بولی۔

سجاد کا دل خوشی سے اچھل کر حلق میں آگیا۔ اب وہ بارونق علاقے سے نکل  کر نسبتاً پُر سکون سڑک پر چل رہے تھے۔ جس کے دونوں جانب اونچے اونچے درخت تھے۔ پتوں کے درمیان سے کہیں کہیں دھوپ چھن کر آتی تو لڑکی کا گہرا نیلا سوٹ روشن آسمان کا ایک حصہ معلوم ہونے لگتا۔

”کتنی پاکیزہ اور شفاف لگتی ہے۔ جیسے۔۔ جیسے۔۔ سمندر کے جھاگ میں سے ایک لہر نکل کر خشکی پر آگئی ہو“۔

سجاد کے شاعرانہ ذہن نے سوچا۔ وہ لڑکی کے برابر میں چلتا ہوا اپنے آپ کو بہت مضبوط اور قد آور محسوس کر رہا تھا۔ کوئی راہ گیر انہیں دیکھتا ہوا قریب سے گزرتا تو سجاد کا سینہ فخر سے پھیل جاتا۔

لڑکی نے ایک لمحہ کے لیے سر اٹھا کر اُسے دیکھا اور پھر نظریں جھکالیں۔

سجاد کو ایک دم سے اُس پر بہت پیار آیا۔ پھر اُس نے سوچا میں نے ابھی تک باقاعدہ اپنا تعارف بھی نہیں کرایا ہے اور پھر بھی یوں لگتا ہے جیسے اسے برسوں سے جانتا ہوں۔ شاید ہمیشہ سے۔ چڑیا گھر کے پھاٹک پر پہنچ کر وہ رک گئے۔

”مجھے سجاد کہتے ہیں“۔ اُس نے جھک کر کہا۔

”میرا نام نیلم ہے“۔ لڑکی نے بالوں کی ایک لٹ آنکھوں سے ہٹاتے ہوئے کہا۔

”نیلم!“

وہ رَیرِ لب دُہراتے ہوئے سوچنے لگا“۔ کتنا پیارا نام ہے۔ نیلم۔نیلم۔۔

وہ دیر تک گھومتے رہے۔ اِس دوران انہوں نے بہت سی باتیں کیں۔ زیادہ وقت سجاد بولتا رہا۔ وہ نیلم کو اپنے گھر، اپنی تعلیمی زندگی، ماں باپ اور بھائی بہنوں کے بارے میں بتاتا رہا۔

”ہمارے گھر میں سب لوگ بہت سویرے جاگ اٹھتے ہیں۔ مجھے صبح صبح ٹہلنا بہت پسند ہے۔ میں تمہیں بھی لے کر صبح صبح۔۔۔“

وہ اپنی بد حواسی پر جھنیب گیا۔ ”ابھی تک کسی لڑکی کے ساتھ سلیقے سے گفتگو کرنی نہیں آئی“۔

اسے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا۔ مگر لگتا تھا نیلم نے اِس بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ وہ اپنی سوچ میں گم تھی۔ اور بظاہر سجا د کی باتیں بہت دلچسپی سے سن رہی تھی۔ سجاد کو اُس کا اتنی محبت اور اپنائیت سے باتیں سننا بہت اچھا لگا۔ جلد ہی اُس کی کوفت دور ہوگئی۔ وہ پھر اُسی طرح بے تکان بولنے لگا۔ وہ یوں محسوس کر رہا تھا جیسے پہلی مرتبہ کسی ہمراز، کسی دوست اور ہمدرد ساتھی سے مل رہا ہو۔ اُس نے آج تک کسی سے اپنے متعلق اتنی باتیں نہیں کی تھیں۔

”میں نے اپنے بارے میں اتنی باتیں کر ڈالیں اور تم نے کچھ بھی نہیں کہا“۔ وہ نیلم کے برابر گھاس پر بیٹھ گیا۔

”مجھے تمہاری باتیں بہت اچھی لگ رہی ہیں“۔ وہ دھمیے سے بولی۔“ تم بہت مختلف ہو“۔

”لیکن میں تمہارے بارے میں کچھ جاننا چاہتا ہوں“۔ سجاد نے محبت سے کہا۔

”میرے بارے میں؟“۔ نیلم کچھ چونک پڑی۔“ میری زندگی کچھ ایسی دلچسپ نہیں ہے“۔ اُس کا لہجہ پھیکا تھا۔

”اچھا کوئی اور بات کرتے ہیں“۔ سجاد نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔“ اوہو۔ دو بج گئے چلو کہیں کھانا کھائیں“۔

”جھے تو بالکل بھوک نہیں“۔ نیلم نے کہا۔

”مگر مجھے تو ہے“۔ سجاد نے بے تکلفی سے نیلم کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اٹھنے میں مدد دی پھر دونوں کپڑے جھاڑتے ہوئے پھاٹک کی سمت بڑھنے لگے۔

ریستوران میں زیادہ بھیڑ نہیں تھی۔ وہ ایک کونے والی میز پر بیٹھ گئے۔ مدّہم روشنی  اور ہلکی دلنواز موسیقی میں نیلم کے چہرے کا تناو کم ہونے لگا۔ اس کے ہونٹوں پر صبح والی دلفریب مسکراہٹ تیرنے لگی۔

”میں زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوں“۔ سوپ پیتے ہوئے نیلم نے پہلی مرتبہ اپنے بارے میں کوئی بات کی۔ ”میری ممّی نے مجھے گھر پر ہی پڑھایا تھا میں کبھی سکول کالج نہیں گئی“۔ وہ کہتے کہتے اداس ہوگئی۔

”اس میں رنجیدہ ہونے کی کیا بات ہے۔ تم اتنی مہذب اور پُر اعتماد لگتی ہو۔ تعلیم یافتہ لڑکیوں سے کہیں زیادہ“۔

نیلم نے لمحے بھر کو رُکھائی سے سجاد کو دیکھا مگر اس کی آنکھوں میں خلوص اور محبت کی چمک دیکھ کر نظریں جھکالیں۔

”دراصل میں ہمیشہ بیمار رہتی تھی اس لیے مجھے سکول میں داخل نہیں کرایا گیا“۔

سجاد نے اُس کے چھوٹے سے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ وہ سر جھکائے آہستہ آہستہ کھانا کھاتی رہی۔ کھاتے کھاتے وہ چونک کراِدھر اُدھر دیکھنے لگتی۔ جیسے یوں کسی اجنبی کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھ کر کوئی پہچان نہ لے۔

کھانا کھا کر وہ باہر نکلے تو سردی بڑھ گئی تھی۔ آسمان پربادل چھائے ہوئے تھے  اور ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہوچکی تھی۔ ٹھنڈے ہوا کے جھونکے نیلم کے چہرے سے ٹکرائے تو اس پر بھیگی بھیگی سی سرخی پھیل گئی۔ وہ سڑک کے کنارے کھڑے ہوگئے۔

”تم نے کوئی گرم کپڑا بھی نہیں پہنا ہے“۔ سجاد نے فکر مند ہو کر کہا۔

”صبح تو کچھ گرمی سی تھی اور میرا ارادہ اتنی دیر باہر رکنے کا ہیں تھا“۔ نیلم سردی سے کانپتے ہوئے بولی۔

سجاد نے اپنا کوٹ اتار کر اس کے کاندھوں پر ڈال دیا۔

نیلم نے سر اوپر اٹھایا۔ اُس کی سیاہ حساس آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔

”میرا گھر یہاں سے قریب ہے۔تم ساتھ چلو تو میں کوٹ واپس کردوں گی“۔

”بس“ سجاد نے شوخی سے کہا۔

”اور کافی بھی پلاؤں گی“۔ وہ  مسکرا دی۔

وہ ایک پرانا سا احاطہ تھا۔ جس میں چند فلیٹ بنے ہوئے تھے۔ احاطے میں ہر طرف کوڑا کرکٹ پھیلا ہوا تھا۔ جیسے وہاں مہینوں سے صفائی نہیں کی گئی ہو۔ باہر سے فلیٹ ایک جیسے تھے۔ سجاد نیلم کے پیچھے پیچھے زینہ چڑھنے لگا۔ سیڑھیاں اندھیری اور گیلی گیلی تھیں۔یوں لگتا تھا وہاں دھوپ کا کبھی گزر نہیں ہوتا۔ دوسری منزل پر پہنچ کر نیلم رک گئی۔ پرس میں سے چابی نکال کر دروازے میں لگائی اور وہ دونوں اندر داخل ہوگئے۔ اندر اندھیرا تھا۔ نیلم نے جلدی سے بتی روشن کردی۔

یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ کھڑکیوں پر سرخ پردے پڑے تھے۔ انہیں دیکھ کر کمرے کی زرد دیواروں میں آگ سی بھڑکتی معلوم ہوتی تھی۔ کھڑکیوں کے نیچے ایک چھوٹا سا پلنگ تھا۔ پلنگ پر صرف ستھرا بستر بچھا تھا اور سرہانے ایک اونچا سا پرانی وضع کا فرشی لیمپ رکھا تھا۔ فرش ایک سستے قسم کے بڑے بڑے سرخ اور سیاہ ڈیزائن والے قالین سے ڈھکا ہوا تھا۔ دیوار کے ساتھ ایک لمبا سا صوفہ تھا اور صوفے کے سامنے چھوٹی سی چائے کی میز۔ ایک کونے میں سنگھار دان پر آرائش کا بہت سا سامان سجا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ جُڑی ہوئی بڑی سی کپڑوں کی الماری تھی جس کی پالش کئی جگہ سے اکھڑ گئی تھی۔ کمرے کے ساتھ ایک چھوٹا سا دروازہ باورچی خانے میں کُھلتا تھا۔

”یہاں میں رہتی ہوں“۔ نیلم نے کمرے کے بیچ میں کھڑے ہو کر کہا۔ کوشش کے باوجود وہ اپنے لہجے کی تلخی کو نہیں چھپا سکی۔

”یہ جگہ تو بہت اچھی ہے“۔ سجاد نے اسے سہارا دیا۔ مگر اُسے بھی کچھ مایوس ہوئی تھی۔ نیلم کو دیکھ کر اور اُس سے باتیں کر کے اُس کے ذہن میں دوسرا ہی نقشہ تھا۔وہ سمجھتا تھا کہ نیلم اُسے کسی چھوٹے سے خوبصورت اور محفوظ بنگلے میں لے جائے گی۔ جہاں ڈرائنگ روم میں چائے کا سامان سجا ہوگا۔ ایک شفیق اور مہربان خاتون انہیں چائے بنا کر پیش کریں گی۔ ماحول میں ایک مخصوص گھریلو نرمی ہوگی۔ مگر یہ تنگ کمرہ بہت ہی نم اور ٹھنڈ تھا۔ اس میں ایک عجیب سا کاروباری پَن جھلکتا تھا۔ اِس تجارتی شہر میں خود بخود ہی اُگنے والے بہت سے کمروں کی طرح!۔ کمرے میں سامان کی زیادتی سے وہ اپنے آپ کو دبا دبا محسوس کرنے لگا۔

”میں ابھی ہیڑ جلاتی ہوں“۔ نیلم نے اُسے کوٹ دیتے ہوئے کہا۔

”یہ جگہ تم کو عجیب ہی لگی ہوگی؟۔ مگر تم بیٹھتے کیوں نہیں؟“۔اُس نے صوفے کی طرف اشارہ کیا اور الماری میں سے ایک سیاہ شال نکال کر لپیٹ لی۔ وہ خاموشی سے اُس کے زرد چہرے کو دیکھتا رہا۔

”ہماری ایک کوٹھی شہر کے باہر ہے مگر جب سے ممی کا انتقال ہوا ہے، ڈیڈی کو بڑا گھر کاٹنے کو دوڑتا ہے“۔

”اوہ۔ مگر یہ جگہ اچھی بھلی تو ہے“۔ سجاد نے اُسے تسلی دی۔

”نہیں میرا روز اسی بات پر ڈیڈی سے جھگڑا ہوتا ہے۔ اب تو میں تنگ آگئی ہوں۔ دراصل ممی اور ڈیڈی میں اتنی محبت تھی۔ اتنی محبت تھی کہ لوگ ان کے پیار کی مثال دیتے تھے۔ پھر ممی کو کینسر ہوگیا۔ ڈیڈی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اُن کی تیمارداری میں لگ گئے۔ یورپ، امریکہ ہر جگہ اُن کو علاج کے لیے لے گئے۔ مگر فائدہ نہیں ہوا۔کام کرنا تو پہلے ہی چھوڑ رکھا تھا۔ ممّی کے انتقال کے بعد تو ڈیڈی کا سارا کاروبار مہینوں میں چوپٹ ہوگیا اور وہ مقروض  بھی ہوگئے۔ اچھی خاصی جائیداد فروخت کردی۔“ وہ لمحہ بھر کور کی۔     سجاد کو محسوس ہوا کہ وہ سخت گھبراہٹ کے عالم میں جلدی جلدی بول رہی ہے جیسے سب کچھ فوراً ہی سنا دینا چاہتی ہو۔ اُسے نیلم پر رحم آنے لگا۔

”مجھے اپنا گھر بہت اچھا لگتا تھا۔اُس گھر کے کونے کونے سے مجھے اپنی ممّی کی خوشبو آتی تھی۔ میں وہاں سے کہیں جانا نہیں چاہتی تھی مگر آخر ہمیں وہ کوٹھی خالی کرنی پڑی اور اِس فلیٹ میں آنا پڑا“۔ وہ رک گئی اور سجاد کو اِس طرح دیکھنے لگی جیسے اپنی باتوں کی سچائی کا یقین دالانا چاہتی ہو۔

سجاد نے بڑھ کر نیلم کا ہاتھ تھام لیا۔

نیلم نے جلدی سے اپنا ہاتھ اُس کی گرفت سے چھڑا لیا۔ اُس کا چہرہ بے جان لگتا تھا۔

”کیا چائے نہیں پلاؤگی؟“۔ وہ بڑے پیار سے بولا۔

نیلم اچھل کر باورچی خانے میں جاکھڑی ہوئی اور جلدی جلدی چائے کا سامان الماری سے نکالنے لگی۔ وہ دروازے میں ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ اُسے نیلم کچھ بے بس سی لگ رہی تھی۔ مگر وہ بہت خوش تھا۔ چھوٹا سا فلیٹ محبت کی گرمی سے لبریز تھا۔ اُسے یہاں کی ہر چیز سے اپنائیت محسوس ہونے لگی۔

چائے کی پیالی تھماتے ہوئے نیلم کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

”تمہارے ڈیڈی ابھی تک نہیں آئے۔“

”ہاں! معلوم نہیں کہاں چلے گئے“۔ نیلم نے چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ اس کی گھبراہٹ بڑھتی جارہی تھی۔

”خیر میں اُن کا انتظار کرتا ہوں“۔ وہ اطمینان سے دونوں پاؤں آگے پھیلا کر بیٹھ گیا۔

”نہیں۔ نہیں۔۔۔۔ تم کب تک اُن کا انتظار کرو گے ؟پھر مل لینا“۔

”کیوں؟ کیا وہ مجھ سے مل کر ناراض ہوں گے۔ میں تو یہاں بڑی نیک نیتی سے آیا ہوں“۔

”اسی لیے تو میں کہہ رہی ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں معلوم“۔

”کیا نہیں معلوم؟۔ابھی تو تم نے مجھے سب کچھ بتایا ہے“۔ سجاد نے شوخی سے کہا۔

”کیا؟۔“ وہ یوں چونکی جیسے دہکتے انگارے پر ہاتھ پڑ گیا ہو۔

”تمہاری باتوں سے تو لگتا ہے کہ وہ بہت سیدھے ہیں اور مجھے دیکھ کر ناراض نہیں ہوں گے؟“۔

”اوہ۔“ نیلم نے گہرا سانس لیا۔ جیسے بہت لمبی دوڑ لگا کر آئی ہو۔

پھر انہیں وقت کا اندازہ نہیں رہا۔ باہر رات کا اندھیرا گہرا ہونے لگا۔

”اب تم جاؤ۔ڈیڈی بہت دیر میں آئیں گے“۔ نیلم نے کھڑکی کے پردے برابر کرتے ہوئے کہا۔

”اچھا تم کہتی ہو تو چلا جاتا ہوں۔مگر دیکھو ٹھنڈ کتنی بڑھ گئی ہے ایک پیالی کا فی تو پلادو“۔

نیلم باورچی خانے میں چلی گئی۔ سجاد تھوڑی دیر اُسے دیکھتا رہا پھر اس کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا۔

”نیلم!“

”ہوں!“

”یوں لگتا ہے میں تمہیں برسوں سے جانتا ہوں“۔ اُس نے کاندھوں سے پکڑ کر نیلم کا چہرہ سامنے کرتے ہوئے کہا۔ وہ خاموش کھڑی رہی۔

”تمہیں دیکھ کر زندگی میں پہلی مرتبہ“۔ اُس نے نیلم کا لرزتا جسم اپنے بازؤں میں سمیٹ لیا۔ اُسی لمحہ فلیٹ کا دروازہ کھلا اور ڈیڈی اندر آگئے۔ نیلم کے ہاتھوں سے شکر دان گر کر چکنا چور ہوگیا۔ سجاد گھبرا کر کمرے میں آگیا۔

ڈیڈی کا سر سفید گھنے بالوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ ان کی عمر پچاس پچپن کے بیچ میں ہوگی مگر بہت بوڑھے لگتے تے۔ کمر جھکی ہوئی جیسے برسوں سے سیدھا چلنا چھوڑ دیا ہو۔ چہرے پر بے بسی چھائی ہوئی تھی۔ گھنی پلکوں کے پیچھے دودھنسی دھنسی آنکھیں مدھم اور شرمندہ سی لگتی تھیں۔ ان کی گردن میں قدرتی ساخم تھا اور کسی ناکردہ گناہ کے بوجھ سے جھکی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ وہ ایک ڈھیلی ڈھالی پتلون اور پرانا سا کوٹ پہنے تھے۔ اُن کے جوتے کیچڑ اور مٹی میں اٹے ہوئے تھے۔

ڈیڈی کو دیکھ کر نیلم کا چہرہ لمحہ بھر کوفق ہوگیا پھر اُس پر نفرت سی چھا گئی۔مگر جلد ہی اُس نے اپنے آپ پر قابو پالیا۔ وہ سجاد کے پیچھے کمرے میں چلی آئی۔ ڈیڈی سر جھکائے صوفے پر بیٹھ گئے۔وہ سجاد سے نظر یں نہیں ملا رہے تھے۔ سجاد کو محسوس ہوا کہ شاید وہ ناراض ہیں۔ ایسے موقع پر اُن کے یوں اچانک آجانے سے وہ بڑی شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔

”آج میرے جسم میں سخت درد ہے۔ دراصل کل ساری رات باہر ٹھنڈ کھاتا رہا اُس سے بخار بھی بہت تیز ہوگیا ہے“۔ ڈیڈی نے سجاد سے نظریں ملائے بغیر کہا۔

”اور آج بارش بھی ہونے لگی۔۔۔“

”ڈیڈی!“۔۔ نیلم زور سے چیخی۔

اُس کی آنکھیں وحشت اور کسی خوف سے پھیل گئی تھیں۔ مگر ڈیڈی نے کوئی توجہ نہیں دی۔انہوں نے سجاد کو رحم طلب نظروں سے دیکھا۔ پھر اپنے چاروں طرف بے بسی سے نظریں دوڑاتے ہوئے بولے۔

”تم مت جاؤ!۔میں یہاں صوفے پر دیوار کی طرف منہ پھیر کر سو جاؤں گا“۔وہ کہتے کہتے جوتوں سمیت صوفے پر کروٹ لے کر لیٹ گئے جیسے عملی مظاہرہ کر کے سجاد کا اطمینان کرنا چاہتے ہوں۔

سجاد کی نظروں میں کمرہ لٹو کی طرح گھومنے لگا۔ نیلم اُس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑی تھی۔ وہ دروازے کی طرف بڑھا۔ اور اندھیرے زینے میں تیزی سے بھاگتے ہوئے سیڑھیاں اترنے لگا۔

Spread the love

Check Also

امریکی بھیڑیا اورغیر ملکی دشمن ۔۔۔ تھامس کنگ / نسیم سید

اچھی کہانی بھلا کس کو پسند نہیں ہوتی؟ بلکہ کہانی سننے کے شوق کوتو ہمار ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *