Home » قصہ » گنگناتی خاموشی ۔۔۔ نبیلہ کیانی

گنگناتی خاموشی ۔۔۔ نبیلہ کیانی

میں کبھی کبھار اپنے کام سے فارغ ہو کر ایک سٹور پر جاتی تو باہر پارکنگ پر ایک بزرگ شخص بہ عمر ستر بتر کا بیٹھا ہوتا۔ غربت اور بھوک انسان کے ساتھ کیا کر سکتی ہے اور کہاں تک اس کا حوصلہ آزما سکتی ہے وہ اس کی زندہ تصویر تھا۔ شاید زندگی نے کبھی اُس کی حوصلہ  افزائی بھی کی ہو۔ اُسے پھلنے پھولنے کا موقع بھی ملا ہو۔ اُس نے کبھی حسن اور کبھی حسن افزا تجربے بھی کیے ہوں۔ شاید اس کو محبت کا تجربہ ہوا ہو۔ شاید وہ حسن اور محبت کے تجربوں سے گزرا ہو مسکرایا ہو۔ میں جب اُس کے قریب سے گزرتی یہی سوچتے ہوئے گزرتی۔

آنے جانے والے گاہکوں میں سے چند ایک کا رویہ اس کی طرف دوستانہ تھا۔ سٹور سے اُس کے لیے سگریٹ خرید کر اس کے پاس رکھ جاتے۔ کچھ بیئر کی بوتلیں خرید کر اس کے پاس دھر جاتے۔ کچھ ایک بڑا سا سینڈ وچ خرید کر اُس کے قریب رکھ جاتے۔ لیکن وہ ان مہربانیوں کے اثر سے لا تعلق تھا۔ کچھ اس کے پاس بیٹھ جاتے۔ کچھ وقت گزارتے دو بول محبت کے بولتے۔ لیکن وہ شاید صرف سنتا تھا۔

وہ اس طرح اپنا وقت گزار رہا تھا۔ سخت سردی میں ایک اور کوٹ میں بیٹھا  ہوتا۔ اور گرمی میں کچھ کپڑے کم ہوتے۔ لیکن وہ انیٹوں سے بنے ایک بغیر کسی پشت کے بے آرام سے بینج پر بیٹھا اپنی ٹانگ ہلا رہا ہوتا۔ آتی جاتی تیز رفتار ٹریفک کو دیکھ رہا ہوتا۔ کبھی دور آسمان میں کچھ تلاش کر رہا ہوتا اور کبھی اپنی بغلوں میں ہاتھ دیے سر نیچا کیے کسی گہری سوچ میں  گم ہوتا۔ وہ بس اپنے آپ میں گم تھا۔ اظہار کی احساس کی سب راہیں اس نے بند کر رکھی تھیں۔

اس نے زندگی کیسے رجائی تھی کیسے بسر کی تھی اس کا جواب چند لوگ جو اس کو جاننے کا دعویٰ رکھتے تھے ان کے پاس تھا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ خوشحال تھا۔ خوش لباس تھا۔ خوش مزاج تھا۔ خوش بیان تھا۔ خوش طبع تھا۔ اور خوش نصیب تھا۔

زندگی کو حسین بنانے کے سب ڈھنگ جانتا تھا۔

لیکن اب تو اس نے اپنے اوپر خاموشی تان لی ہے۔ اظہار کی سب اشکال پر سے اس کا اعتماد اُٹھ چکا تھا۔ زندگی اظہار کی بغیر موت ہی کی ہم ذات ہوجاتی ہے۔ وہ شاید صرف سانس لے رہا تھا اور سانس بھی یوں لے رہا تھا کہ سانس نہ بھی آئے تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شدید بھوک میں آکر کسی کی فیاضی کا عطا کردہ سینڈ وچ نہیں ہے تو نہ سہی۔ سگریٹ نہیں ہیں تو نہ ہوں۔ اگر بیئر نہیں ہے تو بھی ٹھیک ہے۔ اگر یہ سب میسر ہے تو بھی ٹھیک ہے۔ زندگی سے نہ اس کا تقاضا کوئی تھا اور نہ ہی وہ زندگی کو اجازت دے رہا تھاکہ وہ اس سے کوئی تقاضا کرے۔

میں نے زندگی کا اظہار صرف اس کی ہلتی ہوئی ٹانگ میں ہی دیکھا۔

ایک دن میں حسبِ معمول اس کے پاس سے گزری تو میرے کانوں نے بہت مدہم سروں میں اُسے گنگناتے سنا۔ کچھ گنگناتے لفظ بول رہا تھا۔ زبان کا استعمال کرتے ہوئے میں نے اُسے ایک برس کے بعد دیکھا۔ شاید میں اس کے پاس سے اس لمحے گزری جب وہ گنگنارہا تھا۔شاید وہ ویسے بھی گنگناتا ہو لیکن میں نے کبھی نہ سنا ہو۔ میری عقل زندگی کی قوت اظہار کو سمجھنے کے لیے ناکافی تھی۔

لیکن اس دن Billyکو گنگناتے سن کر میں بہت خوش ہوئی۔خوش تھی کہ Billyنے تھوڑا سا اظہار کیا نہ صرف اظہار کیا بلکہ موسیقی کو اپنے اظہار کے لیے چنا۔ خاموشی اور موسیقی ہمیشہ سے ہم آہنگ رہی ہیں۔ میرا انسان کے زوقِ جمال اور ذوقِ اظہار پر ایمان قائم رہا۔

اس دن کے بعد میں نے اُسے کبھی گنگنانے نہ سنا۔ وہ ایک ٹانگ ہلاتا بُت تھا۔ اور وہاں ہی نصب تھا جیسے وہاں چند درخت نصب تھے۔ایک کچرے کا ڈرم پڑا تھا۔ اس سٹور کی چھت اور دروازے مہندی رنگ کے پینٹ سے پینٹ کیے ہوئے تھے۔

عورتیں مرد وہاں اپنی اپنی گاڑیاں پارک  کرتے،خریداری کرتے اور لوٹ جاتے۔ کبھی کبھار اُن کے ساتھ چہچہاتے بچے بھی ہوتے۔درختوں پر بہت خوبصورت رنگوں کے پرندے کھیل رہے ہوتے۔ چہک رہے ہوتے۔

لیکن Billyسب سے بے نیاز اپنے آپ میں گم رہتا۔ ہر انسان سے لاتعلق۔ انسان کے ہر جذبے سے لاتعلق، کوئی بت تراش چاہے کہ وہ لاتعلقی کو مجسم کرے تو Billyسے بہتر ماڈل اسے شاید ہی میسر آئے۔

میں کبھی کبھی سوچتی تھی کہ Billyکی زندگی میں بھی کوئی موڑ کوئی لمحہ، کوئی حسرت، کوئی حیرت ضرور ہو گزری ہوگی۔ Billyکبھی کبھار گنگنا اُٹھتا تھا۔ یونہی سوچتے ہوئے میں نے اس کے بارے میں کچھ لکھنے کی ٹھانی۔ چند صفحے لکھے اور چھوڑ دیے Billyایک پہیلی بن گیا تھا۔

ایک دن میری ایک شاگرد اور دوست مجھ سے ملنے Louisvilleآئی۔ Ohio دریا کے کنارے بسا ایک خوبصورت شہر جس میں دیہات کی سر سبز وسعتوں کا حسن بھی شامل ہے۔  ہم دونوں شہر میں گھوم پھر رہے تھے۔ گھومتے پھر تے ہم دونوں میرے پسندیدہ سٹور پر آگئے۔ مجھے اس سٹور پر آئے ہوئے کافی دن ہوگئے تھے۔ سوچا لا تعلقی کے بت پر بھی ایک نظر ڈال لوں گی۔ جونہی ہم پارکنگ لاٹ میں پہنچے دور بیٹھاBillyلپک کر اٹھا اور میرے پاس آکر میرا حال چال پوچھا۔  وہ مسکرا بھی رہا  تھا اور شاید مجھ سے یہ بھی پوچھ رہا تھا کہ میں اتنے دن کہاں رہی۔ نظر کیوں نہیں آئی۔ میں نے شاید کا لفظ اس لیے لکھا کہ اُس کی انگریزی مجھے پوری طرح سمجھ نہیں آئی۔ جو لفظ مجھے سمجھ آئے اُن سے میں نے اندازہ لگایا۔

کو مل حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی۔ شاید انسانی رشتوں کے رنگا رنگ امکانات پر حیران ہو رہی تھی۔ میں نے اس کی حیرت میں یہ کہہ کر مزید اضافہ کر دیا کہ لاتعلقی کے اس شاہکار پر کچھ دن پہلے بھی میں نے کچھ لکھنے کی سمجھنے کی کوشش کی تھی۔

۔Billyواپس اپنی جگہ پر بیٹھ چکا تھا اور ٹانگ ہلا ہلا کر کچھ گنگنا بھی رہا تھا۔

Spread the love

Check Also

کون گلی گئیو شیام ۔۔۔  مصباح نوید

اندھوں کے شہر میں تصویروں کی نمائش ہے، آشوب زدہ چشم ہے۔۔۔۔ ہے تو سہی! ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *