Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » کھڑکی ۔۔۔ سبین علی

کھڑکی ۔۔۔ سبین علی

خوف تمہارا پہلا استاد ہے- ایسا استاد جسے تم نے چوسر کے داؤ میں شکست سے بھی  دوچار کرنا ہے

سنو ننھی لڑکی!۔

تم یہ سیڑھیاں چڑھتی جانا مگر ڈرنا مت- ہاں یہ سب عفریت حقیقت ہیں ___ جو بھیس بدل بدل کر آئیں گے-

کہیں ہوکنے والے بھیڑیوں کی آواز میں تو کہیں ککھ لگانے والے پھنیر کی شکل میں – ان کی پیشانیوں پر ریت رواج کی شکنیں ہوں گی اور لہجوں میں گمراہ کن فتوؤں کی گونج – ان کے دانت نرم ماس ادھیڑنے کے حریص ہوں گے اور ان کی زبانیں تمہاری راہوں میں کانٹے بکھیرتی رہیں گی-

بوڑھے اور کھردرے ہاتھ کی گرفت اسے اپنے کندھے پر محسوس ہو رہی تھی – اس کے روئیں روئیں میں خوف سرایت کرنے لگا!

بڑھیا کی آواز پھر بلند ہوئی

اس راہ گزر سے آگے جھانکو گی تو  کائنات اتنی وسیع ہے کہ تم اس کی حدوں کا ادراک نہیں کر سکتی مگر آسمان اتنا تنگ کہ سانس لینے کو ہوا بھی کم محسوس ہو –  پہاڑ اتنے بلند کہ فلک کے ماتھے پر بوسہ دیں مگر ساتھ ہی کھائیاں اتنی عمیق کہ سر چکرانے لگے-  پیلے صحرا کی ریت گرم ہواؤں کے سنگ لہریں بناتی اتنی سحر انگیز کہ چاند بھی  حیران جھک کر  دیکھنے لگے لیکن اس میں نیلے پانیوں کے سراب  گھات لگائے ہر راہ مسدود کیے قافلہ سالاروں کو بھی بھٹکا دیں – یقین و بے یقینی کہ اس تنگ گھاٹی  میں خوف سے جیتی بازیاں ہی تمہاری ہمرکاب رہیں گی-

تمہیں بڑھتے جانا ہے ننھی لڑکی……..

تیز ہوا سے دیے کی لو بجھ چکی تھی اور کہانی سنانے والی  بڑھیا کا کوئی نشان نہ تھا- برسوں سے اْس بڑھیا کی آواز اس کی سماعتوں میں محفوظ تھی-

وہ  دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی  آگے بڑھتی طویل راہداری کے دونوں جانب  موجود کمروں کے دروازے ایک ایک کر کے کھولتی چلی جا رہی تھی  – مدتوں سے تازہ ہوا اور سورج کی روشنی سے محروم کمروں میں ننھی کرنیں جگمگانے لگیں _

اس نے اپنے لمبے بال کھول دیے اور بے داغ  آئینے کے سامنے جا کر بیٹھ گئی _ آئینے میں ابھرتا عکس ماضی کی مانند حسین نظر نہیں آ رہا تھا _ اس نے  آئینہ توڑ دیا اور اس کا عکس کانچ کی چھوٹی چھوٹی کئی شکستہ تکونوں میں ابھرنے لگا- وہ پیچھے ہٹی اور اپنے لمبے  بال سمیٹتی کھڑکیاں بند کرنے لگی _ کمرے کی فضا  باسی ہوا کی رطوبت سے بوجھل تھی _ فینائل کی تیز مہک اور ٹڈیوں کی بساند نیم تاریک کمرے کا مستقل جزو معلوم ہوتی تھی _

کھڑکی پر ایک دستک ہوئی؟ سنو سہیلی آؤ باہر آنکھ مچولی کھیلیں _ سیاہ بالوں میں سرخ ربن باندھے اور سفید فراک پہنے ایک ننھی سی لڑکی مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی-

کمرے میں نصب اندھے آئینے میں ایک موہوم سا عکس ابھرا اور چیختی ہوئی آواز آئی کھڑکی مت کھولنا یہ دوستی کے لبادے میں خنجر چھپائے ہوگی تمہیں یہاں سے باہر بلائے گی اور کسی عفریت کا روپ دھار لے گی-  ہو سکتا ہے اس کے سرخ ربن کھلیں اور اس کے سیاہ بال چاروں طرف پھیل جائیں – اس کے سیاہ بال کمروں کی دیواروں اور درختوں کی شاخوں کو ڈھانپتے آسمان کی طرف جانے لگیں گے – نہیں نہیں …… اگر  یہ سچ مچ کی  چڑیل بن گئی تو کیا ہوگا؟

کھڑکی بند ہو گئی –

مدتوں سے تراش خراش سے محروم  مکان سے باہر اگے پودوں نے جھاڑیوں کی شکل اختیار کر لی اور بیلیں پھیل کر کواڑوں پر نقش و نگار بناتی انہیں سر بمہر کرتی چلی گئیں – قفل زنگ آلود ہوئے،درزوں میں کائی جمی اور مدتوں کسی نے ادھر کا رخ نہ کیا- وہ کبھی کبھار گھر سے باہر نکلتی اور چند تھیلوں میں  سامان ساتھ لیے پھر سے گھر کو لوٹ آتی_

پت جھڑ کا موسم آیا درختوں  نے زرد  بھورے  کاسنی اور سرخ پیراہین اوڑھ لیے-  پھولوں سے لدی بیلیں ٹنڈ منڈ ہونے لگیں تو ٹہنیوں تلے چھپی کھڑکیوں کے آبنوسی پٹ نمایاں ہونے لگے.  ان کھڑکیوں نے  پھر سے باغ میں کھیلتے بچوں کو اس مکان  کی جانب متوجہ کیا _ بچوں میں اس گھر کے متعلق کئی کہانیاں گردش میں رہتیں – کوئی کہتا کہ یہاں آسیب کا سایہ ہے اور کوئی کہتا یہاں جن نے کسی پری کو مقید کر رکھا ہے –

ایک دن چند کھلنڈرے بچے آنکھ مچولی کھیلتے مکان کے پچھلے باغ  میں آن چھپے- کھیل ہی کھیل میں ان کی نظر  مکان کی چھت پر پڑی – جہاں ایک بڑی  ست رنگی پتنگ درخت کی ٹہنیوں کے ساتھ ڈور سے اٹکی لٹک رہی تھی- لان میں اگی گھاس گھٹنوں گھٹنوں تک بڑھ چکی تھی – زرد گھاس میں سے گزرتے ہوئے جب بچے  پچھلے دروازے تک پہنچے تو انہیں  گھر کے اندر ایک لڑکی کی جھلک دکھائی دی- بچے اسے دیکھ کر  حیران بھی ہوئے  اور خوش بھی۔پھر سب بچوں نے مل کر طے کیا کہ  اسے بھی  اپنے ساتھ کھیلنے کی دعوت دیں گے  _

ایک ننھے لڑکے نے دوسرے کے کندھے پر سوار ہو کر کھڑکی میں سے آواز دی

سنو!   باہر آؤ  تمہارے گھر کی چھت پر ست رنگی پتنگ اٹکی ہوئی ہے – آؤ اس پتنگ کو  اڑاتے ہیں –

کمرے کے اندر بدستور اندھیرے کا راج تھا_ کواڑ کھولنے ہی لگی تھی کہ اندھے آئینے سے پھر چلاتی ہوئی آواز آئی

خبردار!

یہ بچے بھتنے بھی ہو سکتے ہیں ان پر بھروسہ مت کرنا – تمہیں پتنگ  اڑانا نہیں آتا –  سیکھنا بھی مت تمہارے ہاتھ شیشہ لگی ڈور سے چھل جائیں گے – یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ڈور گردن پر پھر جائے؟  ان بچوں کو یہاں سے بھگا دو –

بھاگ جاؤ! تم سب بھاگ جاؤ اور دوبارہ کھیلنے کے لیے ادھر کا رخ مت کرنا _ وہ چلا رہی تھی……

بچے منہ لٹکائے واپس لوٹ گئے _

کچھ عرصے بعد سڑک کی آخری نکڑ  پر بنے گھر میں رہنے والی بڑھیا کو جب اس پرانے گھر اور لڑکی سے متعلق تمام کہانیوں کا علم ہوا تو اس نے طے کیا کہ اس لڑکی کو اس گھر سے نکال کر عام لوگوں میں لائے گی اس کا ڈر اور خوف ختم کرے گی –

جھریوں زدہ آنکھوں کو دروازے کی درز سے لگا کر اندر جھانکا تو سوائے نیم تاریکی میں ڈوبی لابی کے کچھ دکھائی نہ دیا-  سارے کھلنڈرے بچے بڑھیا کے پیچھے منتظر تھے گویا وہ کھل جا سم سم کہے گی اور وحشت زدہ  مکان کے سب دروازے اور کھڑکیاں ایک دم سے اپنے پٹ وا کر دیں گی-

سنو روشنی ……..  دروازہ کھولو …….

میں تمہاری دادی کی پرانی جاننے والی ہوں –  دروازہ کھولو……..

اس پکار میں اپنے نام کی سماعت اْسے ایک عجیب مسرت سے ہمکنار کرگئی-

اْس نے کھڑکی کھولی باہر جھانکا تو ایک ضعیف العمر بڑھیا کو سامنے پایا- بڑھیا کو دیکھ کر اسے اپنی دادی اور بچپن میں سنی کہانیاں پھر یاد آنے لگیں –

دروازہ کھولو روشنی…… گھر کے اندر بتی جلاؤ ……… اتنا اندھیرا کیوں کر رکھا ہے؟

آپ کون ہیں؟  اندر سے سوال آیا……  میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا ہوا –

تم بہت چھوٹی تھیں …… تمہیں بھلا کیا خاک یاد ہوگا لڑکی …… دروازہ کھولو  …… بڑھیا نے رعشہ زدہ ہاتھوں سے کواڑوں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا –

مگر میں آپ کو نہیں جانتی-

بیٹی سن اپنی حیاتی میں انسان بڑے دکھ اٹھاتا ہے، بڑے دھوکے کھاتا ہے مگر ان کا مدوا بھی کوئی انسان ہی  ہوا کرتا ہے پتھر چونے کی دیواریں نہیں – ہوسکتا ہے تو نے بھی دکھ اٹھائے ہوں پر جانے دے… باہر نکل دھی رانی کسی انسان پر تو بھروسہ کر کے دیکھ – بڑھیا نے نرمی سے کہا-

کیسے کروں بھروسہ؟ اگر دوستی کے پردے میں کوئی دشمن ہوا- انسان کی شکل میں کوئی عفریت ہوا تو کیا ہوگا؟

یہ ڈر یہ وہم سارے اُسی کا شکار کرتے ہیں جو انہیں پالتا ہے – باہر دیکھ ذرا یہ سورج کی دھوپ سب پر مہربان ہے۔یہ بادل شہروں اور ویرانوں دونوں جگہ برستے ہیں – یہ پرندے شکار ہو جانے کے ڈر سے اپنا سفر ترک نہیں کر دیتے بیٹی –

اور اگر آپ کوئی پھپھے کٹنی ہوئیں تو میں کیا کروں گی؟

پھپھے کْٹنی …… پھپھے کْٹنی……. پھپھے کْٹنی …… کمرے میں موجود اندھے آئینے میں آوازیں گونجنے  لگیں  –

 

میں دروازہ نہیں کھول رہی – آپ جا سکتی ہیں – اْس نے درشتی سے جواب دیا

بڑھیا اپنی لاٹھی کا سہارا لیے واپس لوٹ گئی-

چند دن بعد اسے روشندان میں ایک ننھی چڑیا نظر آئی جس کا ایک پر چوکھٹے پر پھیلی بیل کی شاخوں میں اٹکا ہوا تھا اور وہ بے چین ہو کر چوں چوں کر رہی تھی –  اس نے بڑی میز گھسیٹ کر روشن دان کے قریب کیا اور بغور دیکھنے لگی کہ چڑیا کا پر کہاں اٹکا ہے –

روشندان میں اس ننھی چڑیا کا گھونسلہ اور  دو چھوٹیچھوٹے انڈے بھی موجود تھے – کچھ دن قبل ہی تو  بڑھیا کے جانے کے بعد روشندان بند کیا تھا نجانے یہ چڑیا یہاں کب آن بسی؟ اس نے خودکلامی کرتے ہوئے کہا –

چڑیا کی چوں چوں اسے بہت تنگ کر رہی تھی اس نے فیصلہ کیا کہ باہر بالکونی میں جا کر وہ ان شاخوں کو کاٹ کر چڑیا کو آزاد کر دے گی- جب تاریک گھر سے باہر روشنی میں آئی تو بہت دیر تک اس کی آنکھیں کچھ دیکھنے کے قابل نہ رہیں – پھر دھیرے دھیرے اجالے سے مطابقت پیدا ہوئی تو اس نے کھڑکی کے اوپر بنے روشن دان پر سے سارا جھاڑ جھنکار صاف کیا پھر شیشہ کھول کر چڑیا کے لیے اندر آنے اور باہر جانے کا راہ بنا دیا-

گلابی جاڑے کی دھوپ اور  نیم خنک ہوا اسے بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی – اسے بڑھیا کی باتیں یاد آنے لگیں جسے اس نے کٹنی کہہ کر چلتا کیا تھا –

سورج کی اجلی کرنوں میں کوئی اندھا آئینہ نہیں تھا تو اس نے پہلی بار خود سے سوال کیے…

کیا میں یہاں کسی شہزادے کی منتظر تھی؟

کیا مجھ پر سحر کسی نے پھونکا تھا؟

نہیں ……. ۔

پھر آگے بڑھی اور ساری کھڑکیاں دروازے کھول دیے – مکان کے اندر مدتوں بعد کرنوں کو رسائی ملی تھی –

وہ آہستگی سے چلتی گھر کے سامنے باغ کی طرف بڑھی کئی لوگوں سے اس کا سامنا ہوا مگر کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی – وہ دھیرے دھیرے چلتی باغ میں موجود چھوٹے سے حوض تک جا پہنچی- اسے یاد آیا یہاں وہ اپنے والدین کے ہمراہ بھی آیا کرتی تھی – حوض کے کنارے بیٹھ کر وہ پانی میں کنکریاں پھینکنے لگی پھر جھک کرپانی میں دیکھا تو اسے اپنا عکس نظر آیا- ننھی لڑکی سے وہ ایک پختہ عمر کی عورت کا روپ دھار چکی تھی – اس کے چہرے کی رگوں میں تناؤ اور آنکھوں میں وحشت تھی-

وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی۔ پھر کچھ دیر بعد ہمت کر کے دوبارہ پانی میں اپنا عکس دیکھا – اس کے چہرے کے نقوش میں خوف  بدگمانیوں اور طویل تنہائی  کی تحریریں کھدی نظر آ رہی تھیں –  وہ  گہری سانس لے کر اٹھی اپنا لباس جھاڑا  اور  سڑک کے پرلے کنارے نئے راستے کی جانب چل دی –

Spread the love

Check Also

امریکی بھیڑیا اورغیر ملکی دشمن ۔۔۔ تھامس کنگ / نسیم سید

اچھی کہانی بھلا کس کو پسند نہیں ہوتی؟ بلکہ کہانی سننے کے شوق کوتو ہمار ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *