Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » مائیکروفکشن کیا ہے؟ ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

مائیکروفکشن کیا ہے؟ ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی

مائکرو فکشن جو کہ فلیش فکشن کی ذیلی شاخ سمجھی جاتی ہے  مغرب میں اس سے مراد وہ مختصرترین تخلیقی بیانیہ جو ایک صفحے سے کم پر مشتمل ہو مائیکرو فکشن کہلائے گا – فلیش فکشن یعنی ہزار  سے کم الفاظ پر مشتمل کہانیوں کی روایت کہاں سے آئی اگر ماضی میں جھانکا جائے تو معلوم ہو گا کہ ماقبل تاریخ سب سے مشھور یونانی قصہ گو  AESOP (ایسپ)کی مختصر کہانیاں ہیں جن میں ہمیشہ ایک سبق چھپا ہوتا تھا ننھی منی کہانیوں کا یہ  سلسلہ ملا نصیر الدین کے قصوں میں بھی جاری دکھائی دیتا ہے اور یہی نہیں ہندوستان میں گوتم بدھ کے قصوں پر مشتمل ایک ضخیم کتاب JATAKA ٹیلز  بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں –

انیسویں صدی کے آخر میں جرمن افسانہ نگار  فرانز کافکا کی مختصر کہانیوں کو جدید ادب میں فلیش فکشن کی صنف کی بنیاد کہا جاتا ہے۔ جبکہ  بیسویں صدی کے وسط میں انگریزی میں مشہور مصنف سمر سیٹ مام کا نام بھی  اس زمرے میں آتا ہے۔جاپان میں بھی دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فلیش فکشن کی تحریک نے کافی زور پکڑا اور کئی مشہور ادیبوں نے اس میں طبع آزمائی کی۔

حالیہ دور کے اکثر مغربی ادیبوں نے جن میں بکر پرائز یافتہ ادیب لیڈیا ڈیوس جو چالیس سال سے مختصر افسانے لکھ رہی ہیں جو مائیکرو فکشن لکھی وہ ایک پیراگراف پر مشتمل ہے۔اگرچہ یہ ننھی سی تخلیق بظاہر آسان معلوم ہوتی ہے لیکن اسے تخلیق کرنے کے لئے انہیں کئی ڈرافٹ تیار کرنے پڑے کیونکہ الفاظ کے چناؤ کا تاثر ہی اس کہانی کا اصل نچوڑ ہے جو پڑھنے والے کے ذہن میں ایک گونج پیدا کرے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دے۔

مختصر طور پر مائکرو فکشن ایک ایسی مشق ہے جو بہت عرق ریزی مانگتی ہے یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ یہ سمجھیں کہ اس میں ایک ناول کو خرد بین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے

لیڈیا ڈیوس کی اس مائیکرو فکشن کو بطور مثال پیش کرتی ہوں

اس مثال کو میں نے اردو میں بھی منتقل کیا تھا

”شورش زدہ  علاقے کے ایک گھر کے باورچی خانے میں پناہ لئے ہوئے جوڑے  نے ہلکے ہلکے دھماکوں کے شور کی آواز سنی تو عورت  نے اپنے خوف کو چھپاتے ہوئے کہا “ہوا ہے ”

مرد نے خوف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا “شکاری آگئے ”

عورت نے پھر ٹالا  ” شاید بارش ہے  ”

مرد نے اس بار سفاک لہجے میں سرگوشی کی “فوج کے سپاہی ہیں ”

عورت بہت اداس اور مایوس ہو گئی تھی وہ گھر جانا چاہتی تھی

لیکن وہ گھر میں ہی تو  تھے

اپنے ہی ملک میں

اپنوں کے  بیچ اپنے ہی گھر میں محصور

اگرچہ اردو ادب کی دیگر اصناف کی طرح یہ بھی مغرب سے درآمد شدہ ہے تو اس کی کئی اور مثالیں بھی جمع کی تھیں  تاکہ اس کی شکل واضح ہو کر سامنے آئے.

مائکرو فکشن  کی  روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکہ کے  ’وائرڈ میگزین‘نے نومبر 2006ء کے شمارے میں ایک دلچسپ تجربہ کیا۔رسالے کے مدیروں نے امریکہ کے چوٹی کے ادیبوں کوصرف چھ الفاظ پر مشتمل کہانیاں لکھنے کی دعوت دی۔ رسالے کے پاس بطورِ رول ماڈل نوبل انعام یافتہ امریکی ادیب ارنسٹ ہیمنگوے کی مختصر کہانی موجود تھی:

”بچے کے غیر استعمال شدہ جوتے برائے فروخت“

انگریزی کے ان چہ الفاظ میں ہیمنگوے نے پوری داستان سمو دی۔ جوتے کون بیچ رہا ہے؟ شاید کسی بچے کے والدین۔ شاید بچہ پیدا ہوتے ہی مر گیا تھا یا مرا ہوا ہی پیدا ہوا تھا۔ والدین نے بڑے  چاؤ سے اس کے لیے جوتے خریدے ہوں گے۔ لیکن اب وہ اپنے مالی حالات کے ہاتھوں اتنے مجبور ہو گئے ہیں کہ مرے ہوئے بچے کے جوتے بیچنے کی نوبت آگئی ہے۔ غربت کا عفریت، معاشی ناہمواری، وسائل کی نامناسب تقسیم، انسان کی بے بسی، ذاتی المیے کے باوجود زندگی کی گاڑی کا چلتے رہنا۔ سب کچھ اس کہانی میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہیمنگوے نے اس کہانی کو اپنے کیریر کی اعلیٰ ترین کہانی قرار دیا ہے۔

اسی میگزین سے چند منتخب کہانیاں:

مارگریٹ ایٹ وْڈ

”اس کی حسرت تھی۔ مل گیا۔ لعنت۔“

سٹیفن بیکسٹر

”میں تمہارا مستقبل ہوں۔مت رو بچے۔“

فرینک ملر

”میں نے خون آلود ہاتھوں سے کہا، خداحافظ۔“

سٹیون میریٹسکی

”دن برباد، زندگی برباد۔ ذرامیٹھا بڑھانا۔“

ورنر ونج

”کتبہ: بے وقوف انسان، زمین سے بھاگ نہیں سکا۔“

بروس سٹرلنگ

”بہت مہنگا ہے، انسان رہنا۔“

اورسن سکاٹ کارڈ

”بچے کے خون کا گروپ؟ بالعموم، انسانی“

بین بووا

”انسانیت کو بچانے کے لیے اسے دوبارہ مرنا پڑا۔“

ہیری ہیریسن

”مشین مستقبل میں پہنچ گئی۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔“

رچرڈ پاورز

”جھوٹ پکڑنیوالی عینک کی ایجاد۔ انسانیت منہدم ہو گئی۔“

ہاورڈ چیکن

”میرا خیال تھا کہ وہ مجھ پر گولی نہیں چلائے گی۔“

سٹیفن ڈونالڈسن

”اس سے شادی مت کرو، گھر خرید لو۔“

رابرٹ جورڈن

”آسمان ٹوٹ پڑا۔ تفصیل گیارہ بجے۔“

کین میک لیوڈ

”کیا اتنا کافی ہے؟ کاہل ادیب نے پوچھا۔

 

ان کہانیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو جدید اردو ادب میں منٹو کے سیاہ حاشیے جنھیں افسانچے کہا جاتا ہے در اصل اسی فلیش فکشن کی صنف سے ہی متعلق ہیں –

اردو ادب میں مائیکرو فکشن کی  جو شکل سامنے آ رہی ہے وہ کم از کم چھ سو الفاظ پر مشتمل ایک مختصر کہانی  ہے جو کبھی چونکا تی ہے اور کبھی اداس جس میں پنچ لائن کی کوئی قید نہیں ہاں البتہ یہ  مختصر الفاظ میں بڑی کہانی ہے جس کی گونج دیر تک سنائی دیتی ہے جو کہ منٹو کے سیاہ حاشیے اور افسانچے کے مروجہ تصور سے مختلف ہے – میرا مائکرو فکشن گرمٹیہ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جو کہ برطانوی استعمار کے دور کی یاد دلاتی ہے جب ہندستان سے ہزاروں میل دور فی جی کے جزیرے پر سبز باغ دکھا کر لے جائے گئے مظلوم انسانوں کی جدوجہد کی دو صدیوں پر محیط داستان کو  چند الفاظ میں پیش کرتی ہے – اس مثال سے مائکرو فکشن کی موضوعاتی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے – اس کا مطلب یہ نہیں کہ مائکرو فکشن کہانی کا خلاصہ بیان کرتی ہے بلکہ یہ صنف دراصل طاقت ور الفاظ کے چناؤ کی مدد سے ایک بڑی کہانی کو اپنے اندر سمو نے کی قدرت رکھتی ہے۔

ہندوستان سے ہزاروں میل دور  فی جی کے جزیرے پر ہندوستانی نژاد  گرمٹیہ از  کیسے آباد ہوئے – یہ انیسویں صدی کے برطانوی استعمار کی ایک بھولی بسری کہانی ہے جس کے  بیشتر واقعات حقیقت پر مبنی ہیں –

گرمٹیہ

کانٹوں بھری باڑ کی چبھن کو دل میں لئے  عبدل نے  تاسف سے سوچا “کیا اسی دن کے لئے اس کے  بزرگ اپنی بسی بسائی دنیا چھوڑ کر اس انجان بستی میں چلے آئے تھے،یہاں کے اجاڑ جنگلوں کو  اپنے خون پسینے کی محنت  سے  سینچا ،……..آج جب ریتیلی مٹی سونا اگلنے لگی تو ……………ہم گرمٹیہ کی اولاد کہلائے ……

کندھے پر چھوٹا سا کپڑوں کا تھیلا اور پوٹلی میں دو تین دن کا کھانا لئے وہ اس خار دار تار کی باڑھ کے سامنے کھڑا تھا، جسے  پار کرنے کے بعد اس زمین کے لئے اجنبی قرار دیا جانے والا تھا-

وہ تو اسی بستی میں پیدا ہوا -اسی مٹی سے بنا تھا پھر کیوں وہ کھیت اس کے نہیں، بلکہ ان کے تھے جنہوں نے کوئی محنت نہ کی – مگر یہاں کے مقامی ہونے کی وجہ سے انہیں قانون اور معاشرے کی ہر حمایت حاصل تھی –  اس کے باپ دادا جنہوں نے اس دیس سے محبت کی حالانکہ وہ تو یہاں آنا بھی نہیں چاہتے تھے –

اس کی دادی زرینہ  بتاتی تھی،   جب وہ سات سال کی تھی -ٹاٹ کے پردے کے پیچھے سے گلی میں تماشا کرنے والوں کو دیکھتی تھی-

ان میں سے ایک جو بڑا چالاک دکھائی دیتا تھا، پیار سے اپنے پاس بلا کر بولا ” چلو ایک بڑی کشتی میں اس سے بھی اچھا تماشا لگا ہے”،

نئے تماشوں کے شوق میں وہ اس کے پیچھے چل پڑی اور بندرگاہ تک جا پہنچی،  سامنے ایک بڑی سی کشتی میں رسیوں کی سیڑھیاں لگی تھیں، وہ سب اس پر چڑھتے گئے –

کشتی میں اور بھی بہت سے لوگ تھے جو اپنی کہانیاں سنا رہے تھے –

کوئی اس کی طرح تماشا دیکھنے آیا تھا کوئی اجنبی زمینوں پر کھیتوں میں کام کرنے جا رہا تھا جہاں اسے  بہت سی پگھار ملنے والی تھی –

باتوں میں پتا نہ چلا کہ کشتی آہستہ آہستہ کھلے سمندر میں بڑھنے لگی تھی – اس نے دیکھا کنارہ کہیں دور رہ گیا تھا –

اب اسے اندازہ ہوا کہ ان سب کے ساتھ کوئی بڑا دھوکہ ہو گیا ہے –

وہ رونے اور چلانے لگی …… مگر ساتھ کھڑے ہوئے ہنٹر والے تماشا دکھانے کے بجائے ان سب پر بے دریغ ہنٹر برسانے لگے –

ان میں سے ایک جوشیلا لڑکا تو کھلے سمندر میں کود گیا —

سہمے ہوئے  لوگوں نے دیکھا وہ تھوڑی دور پانی کی منہ زور لہروں سے لڑتا رہا پھر گہرے پانیوں میں مدغم ہو گیا –

جہاز میں موجود روزینہ اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا

وہ اب ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہتے تھے- وہ ماضی جہاں کبھی ان کا سب کچھ تھا –

مگر  وقت کی بے رحم گرد میں دفن ہو چکا تھا –

وہ نئی بستیاں بسانے میں کامیاب تو ہو گئے، مگر اپنی شناخت پیچھے ہی چھوڑ آئے –

اب وہ صرف گرمٹیہ پناہ گزیں تھے، جو روز  بیلوں کی جگہ ھل میں جوتے جاتے، سخت پتھریلی زمین کو نرم بھربھری مٹی میں تبدیل کرتے، اس میں کبھی گنا اگاتے ، کبھی دوسرے اناج اگاتے مگر افسوس اس زمین کے مالک کبھی نہ بن سکے –

مقامی ھتیارے  آتے اور سارا اناج چھین کر لے جاتے –

عبدل نے باپ کو ہمیشہ بیماری سے لڑتے دیکھا… دادی زرینہ کو جو گھر الاٹ ہوا تھا وہ بھی اس کے علاج کی نذر ہو گیا –

اور یوں گزرتے وقت کے ساتھ ان کے قدم زمین میں جمنے کی بجائے اکھڑتے ہی  گئے-

آج تو حد ہی ہو گئی –

عبدل کے ہاتھ میں چند ڈالر  پکڑا کر اسے زمین سے بے دخل کر دیا گیا-

گھر سے اس کا سامان نکال کر سڑک پر پھینک دیا اور قیمتی چیزیں اپنے قبضے میں لے لی گئی تھیں –

وہ اپنے خوابوں کے بکھرے ہوئے ملبہ پر بے بسی سے اکڑوں بیٹھ گیا کچھ دیر زمین کو خالی نظروں سے تکتا رہا –

پھر اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا جو  کچی مٹی میں جذب ہو گیا یہ اس کی طرف سے  اپنے پرکھوں کی محنت کو خراج عقیدت تھا -اس نے جھک کر اپنے قدموں تلے سے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور ہوا میں اچھال دی،اور  تھکے ہوئے قدموں سے پہاڑی کے دوسری طرف جانے والی پگڈنڈی پر چل پڑا تاکہ اپنا پیارے گاؤں پر دوبارہ اس کی نظر نہ پڑے

خار دار تاروں کی باڑھ کے پیچھے، گنے کے کھیت کی طرف سے آنے والی ہوا میں اس کی سسکیاں بھی شامل ہو گئی تھیں –

Spread the love

Check Also

امریکی بھیڑیا اورغیر ملکی دشمن ۔۔۔ تھامس کنگ / نسیم سید

اچھی کہانی بھلا کس کو پسند نہیں ہوتی؟ بلکہ کہانی سننے کے شوق کوتو ہمار ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *