Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » پارچہ باف ۔۔۔ علی زیوف

پارچہ باف ۔۔۔ علی زیوف

بوسیدگی کی دیواروں سے بنا گھر،
جس کی چھت کبھی موہوم
تو کبھی
مفلسی کے جالوں سے اٹی رہتی ہے۔
اسی چھت کی منڈیر پر
ببرا دن بھر کی تھکن دور کرنے کیلئے
سرِ شام وشرام کو آتا ہے۔
اس کی نظریں شفیق جولاہے پر پڑتی ہیں۔
جو رنگوں میں امتیاز کر کے
سینہ و بازو کے زور سے
دھاگوں کے ریشوں کو
چرخاِ ندرت سے کاتتا ہے۔
چرخے کی دھنیں ببرا ترتیب سے یاد کر جاتا ہے۔
مدھر آواز میں انہیں گا کر
ببری کو اگلے دن جا سناتا ہے۔

جولاہا کڑی مشقت سے پیٹ کا رزق کماتا ہے۔
گلی کوچوں میں صدائیں لگا کر
کاندھوں پر لادے ہوئے
رات کی اوٹ سے کمائے گئے
رنگیلے خواب
کوڑیوں کے بھاؤ بیچ جاتا ہے۔
خریدار خوابوں کے نرخ پورے کب دیتے ہیں۔
تھکن سے چور واپس گھر کو
آدھی جیب کے ساتھ لوٹ آتا ہے۔
فاقہ کشی کو روبرو رکھ کر
جوکتا سے چرخا کاتتا ہے۔
رنگیلے خوابوں کا کارخانہ لالٹین سے چلاتا ہے۔
ببرا پھر
اسی وقت منڈیر پر متوالے گیت سننے آتا ہے۔
” ببرا جولاہے کی خیر میں ہْو ہْو کی صدائیں لگاتا
منڈیر پر بھید بھری نیند سو جاتا ہے”۔

Spread the love

Check Also

اُڑن کھٹولہ ۔۔۔ سیمیں درانی

میں تو تنہا سوچوں میں غلطاں ہوتی ہوں کہ اچانک اک اڑن کھٹولہ آتا ہے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *