Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » بیکا ۔۔۔ نسیم سید

بیکا ۔۔۔ نسیم سید

وہ کب ایک چٹکی سے پکڑ کے اس چھوٹے سے سٹور نما کمرے میں ڈال دی گئی تھی اسے نہیں معلوم تھا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کتنے سال کی ہے۔ اسے صرف اتنا معلوم تھا کہ جیسے ہی دروازے پر بیل بجے اسے کمرے سے بھاگ کر سٹور میں چھپ جانا ہے  اور تب تک آواز کیا ایک سسکی بھی نہیں نکالنی جب تک اس کی ماں دروازے کے پاس آکے نہ کہے۔

”اب باہر آجا“

یہ باہر اس کمرے کی لمبائی اور چوڑائی بھر دنیا تھی جو اس کی ماں کا تھا۔ اسی کمرے سے ملحق ایک واش روم تھا  اور وہ بھی اس کائنات میں شامل تھا اس  کو وہاں جانے کی آزادی تھی اور بس۔ کمرے میں دو جڑواں مسہریاں تھیں جن کے سرہانے دائیں بائیں چھوٹی چھوٹی میزیں تھیں جن میں سے ایک پر اس کے ابا کی دواؤں کی شیشیاں، پنج سورہ اور تسبیح رکھی ہوتی تھی اور دوسری پر اماں کی دعاؤں کی کتاب، اور ان کی تسبیح اور بال پن اور بہت سی چھوٹی چھوٹی چیزیں۔

کمرے کے ایک کونے میں جائے نماز کے لیے ایک چٹائی بچھی تھی جس پر کھڑے ہو کے ابا سویرے سویرے زور سے اذان دیتا۔ وہ روز سنتی تھی اور اتنی بار سن چکی تھی کہ اسے بھی یاد ہوگئی تھی پوری اذان۔

جتنی دیر بچوں کا پروگرام ”بیکا“ آتا وہ اپنے وجود سے بے نیاز ہوجاتی اور یوں آہستہ آہستہ اس کے سارے معصوم خواب بیکا سے جڑتے چلے گئے۔ بیکا کب اس کے ٹھکرائے ہوئے وجود کا سہارا بن کے اس میں رچ بس گئی اس کا اسے پتہ بھی نہیں چلا مگر اب وہ خوش تھی کہ اس نے خود کو یقین دلایا تھا کہ وہ ہو بہو بیکا جیسی ہے۔ وہ بیکا کے ہر انداز کو اپنے اندر رچانے کی شعوری کوشش کرتی لہذا جب پروگرام ختم ہوتا تو وہ مسکرا کی اپنی گڑیا سے پوچھتی۔

”چھٹکی! میں بالکل بیکا جیسی ہوں نا؟“ اور پھر گڑیا کا سر پکڑ کے اقرار میں ہلاتی۔ اپنا وہ نام جس سے اس کی ماں اور بہن اسے پکارتی تھیں اس نے اپنی گڑیا کو دے دیا تھا اور اب اس کی گڑیا چھٹکی تھی اور وہ خود بیکا۔ٹی وی کا بچوں کا یہ پروگرام ختم ہوجاتا تو اسے ایسا لگتا جیسے اس کے اندر آباد  دنیا نے بھی اچانک ٹی وی کے سکرین جیسی خاموشی کی سیاہ چادر اوڑھ لی ہے۔ پہلے پہلے وہ پروگرام ختم ہونے کے بعد پنجر ے میں قید چڑیا کی طرح بالائی ہوئی سی اپنے قید خانے کا چکر کاٹتی تھی پھر اس نے اپنی اس تنہائی کو دور کرنے کا ایک طریقہ ایجاد کر لیا اب وہ ہر روز پروگرام ختم ہونے کے بعد اپنی کوٹھڑی میں جا کے اس کا دروازہ بند کرلیتی۔ اپنی گڑیا کو سامنے بیٹھا کے خود بیکا بن جاتی اور سارے پروگرام کو پھر سے گڑیا کے سامنے پیش کیا جاتا۔ اس طرح وہ بیکا کا ہر پروگرام اپنی یاداشت میں پوری طرح محفوظ کر لیتی تھی کہ اس کے سہارے وہ دوسرے دن تک جی سکے۔

باپ تو خیر کبھی اس سے مخاطب ہوا ہی نہیں مگر اس کی ماں اور بہن اسے ”چھٹکی“ کہتے تھے اس نے اپنی گڑیا کا نام چھٹکی رکھ دیا تھا اور وہ خود بیکا تھی۔“

وہ اپنے سارے سوال چھٹکی کی زبانی کرتی اور پھر سب کا جواب بیکا بن کے دیتی۔ پہلے وہ گڑیا کی زبانی چھٹکی بن کے سوال کرتی اور پھر بیکا بن کے سوالوں کے جواب دیتی۔

”بیکا آج پکنک پر کتنا مزا آیا نا“

”ہاں چھٹکی۔ اور میرے سارے دوستوں نے میرے گانے پر کتنی تالی بجائی دیکھا تھا“

”بیکا!! مجھے بھی چڑیا گھر جانا ہے اتنے سارے جانور دیکھنے“

”چھٹکی!! میں ایک دن تجھے ضرور چڑیا گھر لے جاؤں گی“

”بیکا!! یہ بچے کوڑے میں سے اٹھا کے روٹی کیوں کھا رہے تھے؟

”اس لیے چھٹکی! کہ ان کے ابا اور اماں ان سے محبت نہیں کرتے اور کھانا نہیں دیتے“

”بیکا آج تم نے اپنے پروگرام میں جو بچے دکھائے ان کو ان کے ابا اور اماں ایدھی کے ہاں کیوں چھوڑ گئے؟

”ان بیچاروں سے بھی ان کے اماں اور ابا محبت نہیں کرتے تھے چھٹکی، وہ ان کو کمرے میں بند رکھتے تھے اور بہت مارتے تھے اگر وہ باہر جانا چاہیں۔ پھر وہ ایک دن بھاگ کے ایدھی کے گھر چلے گئے“۔

”بیکا! یہ جو بچے تھے آج کے پروگرام میں کیا نام تھا ان کا؟

”ان کا نام نہیں معلوم چھٹکی مگر انکو“ پی جی آ ”والے نام کی بیماری ہے (Progeria)“

”مگر بیکا!! تم نے بتایا کہ یہ سمیا باجی جتنے بڑے تھے مگر یہ تو چھوٹے بچے لگ رہے تھے۔ اور ان کی شکل ایسی کیوں تھی؟ ایسی تو کسی کی بھی نہیں ہوتی، کتنے گندے لگ رہے تھے نا؟“

چھٹکی! میں نے کہا تھا نا کہ ایسے نہیں کہتے بہت بری بات ہے۔ سب کو اللہ میاں نے بنایا ہے نا، تو کسی کو گندا نہیں کہنا چاہیے“

”مگر اللہ میاں نے ان کو ایسا کیوں بنایا بیکاؔ؟

وہ دوبارہ سو میں ڈوب گئی، یہ سوال اس کے ذہن میں اُس وقت بھی آیا تھا جب وہ پروگرام دیکھ رہی تھی اور اس وقت پھر وہی سوال لاشعور سے نکل کے سامنے کھڑا تھا اور اس کی  گڑیا کی زبانی اس سے پوچھ رہا تھا۔ اس نے بہت دکھی لہجے میں اپنی تھوڑی سی زندگی کے تجربہ کو سمیٹا اور اپنی گڑیا چھٹکی کو سمجھایا۔

”اس لیے کہ اللہ میاں ان سے محبت نہیں کرتے“۔

اس نے سب کچھ ٹی وی کی دنیا میں ہی دیکھا تھا تو اور سب کچھ اس کے ہی کرداروں سے سمجھا اور سیکھا تھا۔ پھر بھی بہت سے سوال جو وہ ٹی وی والی بیکا سے کرنا چاہتی تھی وہ دل کے دل میں ہی رہ جاتے۔ تب وہ سوال اس کی گڑیا چھٹکی بن کے اس سے پوچھتی اور جتنا اس کو رشتوں، نفرتوں، اور محبتوں کے بارے میں معلوم تھا سب سوالوں کے جواب انہی کی روشنی میں اپنی گڑیا کو دے کے ایک طرح سے مطمئن کر دیتی تھی خود کو۔

کبھی کبھی بیکا کا پروگرام کسی ایک بچے یا بہت سے بچوں کے دکھ درد، غربت، جسمانی یاذہنی مجبوری، مزدوری، تشدد، تنہائی وغیرہ کے حوالے سے ہوتا تو اس دن وہ اپنی چھٹکی سے بھی بہت دیر بات نہیں کرتی اور اپنے چھوٹے سے بستر پر پڑی چپکے چپکے ان بچوں کو یاد کر کے روتی رہتی۔ اس کے علاوہ جب وہ کسی منظر میں بہت سے بچوں کو ایک ساتھ دیکھتی تو بھی اکثر وہ اپنے اندر مچل جاتی ایڑیاں رگڑتی اور بلاآنسوؤں کے دھاڑیں مار مار کے روتی۔ مگر اکثر وہ بیکا کی دنیا میں ہنستی اور قہقہے لگاتی سارے بچوں کے ساتھ چھلا نگیں لگاتی پھرتی تھی۔

اماں دو وقت کھانا بغیر کچھ کہے رکھ دیتی اور وہ کھا لیتی۔ اس کی ایک بڑی بہن تھی مگر اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ اس سے کتنی بڑی ہے کہ کوئی بھی اس سے تفصیل سے کبھی مخاطب ہی نہیں ہوتا تھا۔ اس کی بہن اس سے کبھی کبھار کوئی بات کر لیتی تھی اس کے پاس جو گڑیا تھی وہ بھی اس کی بہن نے ہی اسے دی تھی ”آج تمہاری سالگرہ ہے یہ لو گڑیا“ تب اس نے جانا کہ وہ جو نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والی اس کی بہن کی جیسی ایک چھوٹی سی بے جان چیز تھی اسے گڑیا کہتے ہیں۔

چھٹکی کا گھرانہ ہندوستان سے تقسیم کے وقت آکر سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر خیر پور کے محلے بھر گڑھی میں آباد ہوگیا تھا۔ بھر گڑھی اتنا چھوٹا محلہ تھا کہ مشکل سے بیس خاندان آباد ہوں گے وہاں اور وہ سب کے سب ہندوستان سے آنے والے غریب لوگ تھے۔ چھٹکی کو چھپا کے رکھنے کے لیے اس کے باپ کو یہ محلہ خوب راس آیا۔ اسے حالانکہ ایک گھنٹہ پیدل چل کے شہر اپنے کام پر جانا پڑتا تھا وہ شہر کی سلک مل میں الیکٹریشن کے طور پرکام کرتا تھا مگر اسے ایک گھنٹے پیدل چلنا گوارہ تھا کہ بیس پچیس گھرانوں کی آبادی ایک تو دور دور  بنے مکانوں کی تھی دوسرے اب سب کو یقین تھا کہ ان کی صرف ایک ہی بیٹی ہے۔ اس لیے اس نے اپنے دروازے پر ”بیل“ بھی خود ہی لگالی تھی اور پورے محلے پر اس بات کی بڑی دھاک تھی کہ ان کے دروازے پر بجلی وال گھنٹی لگی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ محلے والوں پر چھٹکی کی گوری چٹی ماں اور نیلی آنکھوں والی بہن کے حسن کی بھی بڑی دھاک تھی کہ ان کو وہ کسی نواب گھرانے کے وہ افراد لگتے تھے جن بیچاروں پر برا وقت آپڑا تھا۔ملگجے سوتی لباس میں بھی اس کی بہن ٹی وی والی خوبصورت لڑکیوں جیسی ہی لگتی تھی اس لیے چھٹکی کو بھی اپنی بہن اور بیکا جیسا خوبصورت ہونے پر کوئی شک نہیں تھا۔

جس دن چھٹکی کو اس کی بہن نے گڑیا دی اُس دن اس کے دل میں خوشی کی عجب لہر اٹھی تھی۔ اسے لگا کوئی اس کا بہت اپنا ہے جو صرف اس کا ہے۔ پھر ان دونوں میں خاموشی کی زبان کا ایسا رشتہ بنا کہ وہ اپنی گڑیا کے بغیر ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتی تھی اور ہر وقت اس کو سینے سے لگا ئے رہتی تھی۔

اماں کے اس کمرے کی باہر سے ہمیشہ کنڈی لگی رہتی جس میں وہ رہتی تھی۔ جو کھڑکی تھی اس میں وہ اس تک پہنچ نہیں پاتی تھی کہ اس سے باہر جھانک سکے۔ دروازہ کھلتا تو روشنی کا ایک جھما کا سا ہوتا تھا اور اس کا جی کرتا تھا کہ دوڑ کے اس روشنی کو دبوچ لے ۔

ماں کی آواز دن بھر کان میں پڑتی تھی۔ وہ کسی سے باتیں کر رہی ہے، ہنس رہی ہے۔ ابا شاید مار رہا ہے اسے،وہ زور زور سے رو رہی ہے۔ بہن کسی سے باتیں کر رہی ہے اور وہ آواز اس کی بہن کی آواز کی ہم عمر ہے۔ اپنوں کی آوازیں، غیر آوازیں روتی اور ہنستی ہوئی آوازیں اس کی زندگی کا اثاثہ تھیں۔ وہ ترس ترس کے ان کو سنتی ”کاش میں ان آوازوں کو دیکھ سکوں، انہیں چھو سکوں، ان سے مل سکوں۔ اس کے وجود میں ہر روز یہ خواہش سسکیوں سے روتی۔ اندر کے سناٹے میں ہر آواز دیر تک گونجتی اور پھر بس جاتی اس میں۔

کسی مدرسہ میں خواہشیں، آرزو ئیں، خوشیاں، غم اور سوال کہاں پڑھائے جاتے ہیں وہ تو وجود میں آپ ہی آپ اگ آتے ہیں۔ سو اس کے وجود میں بھی ان کے کھیت کھلیان آپ ہی آپ اگتے اور پھیلتے چلے جارہے تھے۔

”کیسی ہوگی وہ دنیا جہاں اماں، آپا اور ابادن بھر رہتے ہیں؟

”کیسی ہو گی وہ دنیا جہاں بیکا رہتی ہے، جہاں سب رہتے ہیں؟“

”باہر کی آوازیں آزاد کیوں ہیں؟“

”میں باہر کیوں نہیں جاسکتی؟“

”کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟“

سات سال کی ہو رہی تھی وہ اب اور تقریباً تین سال سے اس کے اندر ”کیوں“ کی تکرار تھوڑی تھوڑی دیر پر کسی بپھری ہوئی موج کی طرح اٹھتی اور اسے اس کے کناروں سے باہر اچھال جاتی۔ مگر اس کے اندر کا خوف اسے بٹور کے پھر اس میں قید کردیتا۔

کئی بار ایسا ہوا کہ وہ ہمت کر کے ماں کے پیروں سے لپٹ گئی۔

”مجھے باہر جانا ہے“

مگر اس کی ماں اسے اس ضد پر اس کے چھوٹے سے کمرے میں بند کردیتی اور وہ ٹی وی دیکھنے سے بھی جاتی۔ اس نے کئی بار بہن کی خوشامد کی مگر وہ سنی ان سنی کردیتی۔ باپ کا اس کا سامنا شاید ہی کبھی ہوتا تھا اس کی ایک بار کی ایسی ہی ضد پر اس نے چھڑی سے اس بری طرح پیٹا تھا کہ پھر اس کی ہمت ہی چھوٹ گئی۔ دو دن چھٹی کے وہ سارا دن کمرے میں اپنے بستر پر پڑا سوتے جاگتے اور نمازیں پڑھنے گزار دیتا۔ اور اسے یہ دو دن بغیر ٹی وی کے کاٹنے مشکل ہوجاتے تھے۔ اس کی ماں نے کہہ رکھا تھا کہ جب ابا گھر ہو تو کمرے سے نہ نکلے۔

”تیرے ابا کا دماغ گھوم جاتا ہے تجھے دیکھ کے اور وہ مجھے مارتا ہے کہ تجھے بتایا کیوں نہیں کہ جب وہ گھر ہو تو کمرے سے نہ نکلے“

وہ بہت سے خوف میں اس طرح منجمد تھی جیسے کوئی تنکا برف کی سل میں۔ اپنے اندر وہ بلک بلک کے روتی اور  ٹوٹ ٹوٹ کے بکھرتی مگر ہمت نہیں رہتی تھی اس میں اب تو اس خواہش کے اظہار کی بھی۔ بلکہ اب تو وہ عادی ہو گئی تھی اپنے معمولات کی۔ ناشتہ کے بعد ٹی وی کھانا کھانے کے بعد پھر ٹی وی اور پھر باپ کی آواز کے ساتھ ہی بھاگ کے اپنے چھوٹے سے سیل نما کمرے میں چھپ جانا اور گڑیا کو دن بھر کی ٹی وی پر دیکھی ہوئی داستان سنانا۔ اور پھر سونے سے پہلے اپنی گڑیا سے روز ایک ہی سوال پوچھنا ”میں بیکا ؔ جیسی ہوں نا“ گڑیا کو سر پکڑ کے اقرار میں ہلاتی اور پھر اسے سینے سے لگا کے سو جاتی۔

آج صبح بھی ناشتہ دے کے اس کی ماں نے اس کے لیے وہی مخصوص چینل لگا دیا اس کو دیکھنے کی اجازت تھی۔ آج ان سارے بچوں کا انٹرویو آرہا تھا جو اس پروگرام میں شریک تھے۔بیکاؔ بھی موجود تھی اس کی باری آئی تو اسے لگا اب بیکا کی باری نہیں ہے بلکہ اس سے اس کے بارے میں سوالات پوچھے جانے کی باری ہے۔ بیکا اپنے بارے میں بتا رہی تھی۔ بہت سے سوالوں کا جواب دیا بیکاؔ نے اور وہ اس طرح خوش ہوتی رہی جیسے وہ سب سوالوں کے جواب دے رہی ہو۔ پھر اس سے سوال کیا گیا ”کیا گھر میں یا خاندان میں کسی نے مخالفت کی آپ کے چھوٹی سی عمرمیں ٹی وی پر آنے پر“ اور بیکا نے مسکراتے ہوئے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔

”نہیں، بلکہ میری امی ابو اور سارے گھر والے تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور میرے سارے دوست، میری ٹیچرز اور خاندان والے بھی خوش ہوتے ہیں، میرے ابو کہتے ہیں لڑکیوں کو بچپن سے ہی اپنے اوپر اعتماد کرنا سیکھنا چاہیے“۔

”چھٹکی میری بات سنی تو نے؟۔ تو بھی میرے جیسی بن جا۔ نڈر اور بہادر۔ سب سے تو اتنا ڈرتی کیوں ہے“۔

اس نے اپنی گڑیا کو سینے سے لگا کے سمجھایا۔ مگر یہ کہتے ہیں اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کے اس کی چھٹکی پر گر رہے تھے۔ وہ پروگرام ختم ہوتے ہی اپنی کوٹھڑی میں جا کے بستر پر گڑپڑی اور بہت دیر تک پھوٹ پھوٹ کے روتی رہی۔ چھٹکی کو اٹھا کے اس نے ایک طرف پھینک دیا۔ مجھے باہر جانا ہے وہ اندر گھٹ گھٹ کے فریاد کرری تہی اور پھر چیخ چیخ کے رونے لگی۔

دروازے کو اپنے چھوتے چھوٹے ہاتھوں سے توڑنے کی کوشش کی۔

”مجھے باہر آنا ہے‘ وہ چلا رہی تھی،رو رہی تھی، گڑ گڑا رہی تھی۔ اماں نے اندر آ کے خوب پیٹا مگر وہ پھر بھی اس طرح چیخ چیخ کر روتی رہی۔وقفہ وقفہ سے  جب تھک جاتی تو کچھ دیر کو خاموش ہوجاتی اور پھر حلق پھاڑ کے چلانا شروع کر دیتی۔

”مجھے باہر آنا ہے“

اماں نے ایک بار اور کٹائی کی۔

”ارے چپ ہوجا کمبخت، بدنصیب میں کہتی ہوں چپ ہو جا۔ اگر تیر ا باپ گھر آگیا تو تیرے حلق پر انگلی رکھ کے ہمیشہ کے لیے تجھے چپ کرا دیگا“۔

مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے آج اس قید خانے سے نکلنا تھا۔ اس لیے اماں جتنا مارتی گئی اس کی آواز اتنی ہی تیز ہوتی گئی۔ نہ جانے اسے کیا ہوا تھا کہ اماں کے بے تحاشہ مار کا بھی کوئی اثر نہیں ہورہا تھا جبکہ وہ تو ایک جھڑ کی سے لرز جاتی تھی۔ بہن کالج سے گھر آئی تو اماں اس کے آگے رو پڑی۔

”جاؤ کسی طرح اپنی بہن کو قابو کرو تمہارا باپ آتا ہوگا اور وہ چٹکی سے مسل کے اس کو پھینک دیگا۔ کمبخت صبح سے باہر آنے کے لیے زمیں پر لوٹ رہی ہے، ڈکرارہی ہے پوری طاقت سے۔میں تو مار مار کے بھی تھک گئی مگر کسی طرح قابو میں نہیں آرہی ہے۔ کہاں پھینک آؤں اپنی اس شرمندگی کو لے جاکے سمجھ میں نہیں آتا“

بہن نے پہلی بار محبت سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تو اس نے اس کا ہاتھ دبوچ کے اپنے دانت گاڑ دئے اس کے ہاتھ پہ۔ بہن نے بھی زنا ٹے دار تھپڑ لگایا اس کے گال پر اور چاہا کہ گھسیٹ کے اس کے چھوٹے سے قید خانے میں ڈال دے مگر اس کے وجود میں سات سال کی محرومی جیسے ایکدم سے کسی ستائیس سالہ لڑکی کی طاقت میں بدل گئی تھی اور وہ اس کی ٹانگوں سے ایسی لپٹی اور اس طرح دانٹ گاڑتی گئی جگہ جگہ بہن کی ٹانگوں پر کہ اس نے اس کو اکیلا چھوڑ دینے میں ہی عافیت جانی۔

”چھوڑ دو اس کو اس کے حال پر، ابھی تمہارا باپ آتا ہوگا۔ اس کی موت ہونی ہے آج اور اچھا ہے (اس نے اپنے آنسو پوچھے اور ٹھنڈی سانس لی) زندگی بھر کی قید سے تو رہائی ملے اسے اور ہمیں“۔

چھٹکی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس طرح وہ باہر نکل کر اس گھر سے کہیں دور بھاگ جائے، رو کے چلا کے دروازہ پیٹ کے زمیں پر لوٹ کے حالانکہ اب وہ نڈھال ہوچکی تھی مگر اس کا باہر نکلنے کا جنون اپنی جگہ اٹل تھا۔اس نے ادھر ادھر دیکھا یہ سوچتے ہوئے کہ دروازے کو کیسے توڑا جائے اس کی نظر ایک ڈنڈے کے ساتھ کھسی ہوئی جھاڑو (بروم) پر پڑی اور وہ بھاگ کے اسے اٹھا لائی اب وہ اس کے ڈنڈے سے دروازے کو پیٹ رہی تھی اور چلا رہی تھی۔

”مجھے باہر نکالو“

شام ہوگئی مگر وہ اسی طرح وقفہ وقفہ سے پوری آواز سے چیختی رہی۔

”مجھے باہر نکالو“

باپ نے دروازہ کھول کے قدم اندر رکھا اور پھر اس کے قدم جہاں تھے وہیں پر جم گئے۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے بیوی کی طرف دیکھا اور اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا

”میں تو مار مار کے تھک گئی ہوں صبح سے  وہ قابو میں ہی نہیں آرہی ہے“

اچھا؟؟ وہ چو کی پر بیٹھ گیا۔ خاموش اور سوچ میں ڈوبا ہوا۔ ماں بیٹی حیران تھیں کہ چھٹکی کے کمرے میں جا کے اس کو کوٹنے کے بجائے وہ چو کی پر بیٹھا کس سوچ میں غرق ہے۔

”شاید ترس آرہا ہے اس کی عمر قید پر آج اسے“چھٹکی کی ماں نے آنسو پوچھتے ہوئے سوچا۔

تھوڑی دیر میں اس نے فیصلہ کن انداز میں سراٹھایا اور بیٹی سے مخاطب ہوا۔

”تمہارے کمرے میں بڑا آئینہ ہے؟ وہ لے کے آؤ“

ماں بیٹی نے ایک دوسرے کو دیکھا وہ حیران تھیں کہ بجائے چھڑی کے آئینہ کیوں مانگ رہا ہے ۔

پھر وہ خود ہی تیزی سے بیٹی کے کمرے کی طرف گیا اور دیوار کے ساتھ لگا قد آدم آئینہ اٹھا ئے لمبے لمبے ڈگ بھرتا بند دروازے تک پہنچا، ایک جھٹکے سے کنڈی کھولی اور اتنی زور کی ٹھو کر ماری دروازے کو کہ اس سے لپٹی چھٹکی دور گری جاکے۔ اس نے چھٹکی کے گلے کو انگوٹھے اور انگلیوں کے درمیان دبوچا اور آئینے کے سامنے کھڑا کردیا۔

”دیکھ!!! دیکھ خود کو، غور سے دیکھ، اپنا چار بالشت کا قد دیکھ، بند ریا جیسی شکل دیکھ، تیری منحوس ماں نے کس شرمندگی کو جنا ہے دیکھ۔ تجھے باہر نکال کے ہم اپنا تماشا بنالیں؟“

وہ دیوانوں کی طرح چیخ رہا تھا۔

”ڈاکٹروں نے کہا تھا تیری زندگی تین چار سال سے زیادہ نہیں ہوگی مگر تجھے تو موت بھی گلے لگاتے شرمندہ ہوتی ہے تجھے نہیں آنی موت“۔

وہ گرج رہا تھا برس رہا تھا بڑ بڑا رہا تھا۔ اپنی اس مری ماں کو گالیاں دے رہا آج اپنے غصہ کی دیوانگی میں جس کی زندگی میں نہ کبھی اس نے سر اٹھا کے جواب دیا تھا نہ مرنے کے بعد اس کے احترام میں کوئی فرق آنے دیا تھا۔ اسی احترام کے سبب وہ خاموش رہ گیا تھا جب چھٹکی کے چو ہیا جیسے جسم کو اپنے بازؤں میں سمیٹ کے وہ شیرنی بن کے بیٹے کے سامنے ڈٹ گئی تھی۔

”کوئی ہاتھ لگا کے دکھائے اپنی جان دے دوں گی۔ جب موت آئے گی تو مر جائے گی مگر جب تک اس کی سانس چل رہی ہے میں پالوں گی اسے“۔

بڑھیا نے اس کے گلہری کے برابر جسم کو تیل میں بھگو کے اور روئی کی تہوں میں لپیٹ کے بچا لیا۔ چار سال تک وہ اس کو دن رات ایک کر کے پالتی رہی۔ وہ اس سے دن رات باتیں کرتی اس کی ٹانگوں پر دن میں دو بار مارلش کرتی کیلا مسل مسل کے کھلاتی۔ اور پیار سے تاکید کرتی۔

”چھٹکی!! کمرے سے باہر نہیں جانا“

وہ اُسے روز یاد دلاتی کہ اس کے بیٹے کا حکم تھا کہ جب تک وہ زندہ ہے چھپا کے رکھی جائے پانچ سال میں اس کی چھٹکی جب چلنے لگی بولنے لگی تو اچانک بڑھیا کا بلاوا آگیا اور چل دی وہ بھی اسے اکیلا چھوڑ کے۔

اس کا باپ بڑ بڑا رہا تھا۔

”اگر سر پھری بڑھیا بیچ میں نہ آتی تو میں نے اُسے اسی وقت کوڑے کے ڈبے میں ڈال دینا تھا مار کے“ وہ معلوم نہیں کیا کچھ کہہ رہا تھا مگر چھٹکی کچھ نہیں سن رہی تھی۔ وہ ایک ٹک اپنے بہت چھوٹے سے بے ہنگم وجود کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا چہرہ خوبصورت بیکاؔ جیسا نہیں تھا نہ ہی اس کی نیلی آنکھوں والی بہن جیسا تھا بلکہ وہ تو ان بچوں جیسا تھا بیکا کے پروگرام کے جنکی گول گول آنکھیں تھیں، سر پر چھد رے چھدرے بال تھے۔

اس کے جسم سے بہت چھوٹی چھوٹی کھپچیاں جیسی جڑی تھیں یہ کھپچیاں اس کی ٹانگیں تھیں اور بازو بہت چھوٹی سوکھی سی لکڑی کے جیسے تھے۔  اس کے باپ نے ایک ہاتھ سے آئینہ اٹھایا دوسرے سے اُسے گھسیٹا اور اس کی گوٹھڑی میں آئینے کے سامنے اسے ڈال کے دروازہ بند کر کے کنڈی چڑھا دی  چھٹکی رونا بھول گئی تھی۔ وہ ایک ٹک خود کو دیکھ رہی تھی۔ پھر اس نے دھیرے سے اپنی شبینہ پر ہاتھ رکھ کے اس کو مٹانا چاہا۔ چادر گھسیٹ کے اپنے بستر کی اس سے آئینے کو رگڑا۔ اپنے آپ کو مٹانے کی ساری ترکیبیں کر کے وہ تھک گئی مگر اس کا عجیب الخلقت وجود آئینے سے نہیں مٹا۔ بیکا نے سامنے پڑے ہینگر سے اپنے عکس کو خوب پیٹا پھر کو نے میں پڑا ایک چھوٹا سے پتھر جو دروازے کو کھول کے اٹکانے کے لیے دھرا تھا وہ اٹھایا اور زور سے مارا آئینے پر۔ اس کے وجود میں دراڑیں پڑ گئیں مگر اب بھی وہ آئینے کے سامنے ویسی کی ویسی ہی موجود تھی۔ چھٹکی تھک کے ایک کونے میں کمرے کے دبک کے بیٹھ گئی۔ روتے روتے ایک بار اس نے ہمت کر کے پھر آئینہ دیکھنا چاہا۔ مگر اسے لگا جیسے اس کی ٹانگوں میں دم نہیں تھا اس کا بوجھ اٹھانے کا۔ وہ گھسٹ کے آئینے کے سامنے گئی اور ایک ٹک اپنی دھند لاتی ہوئی آنکھوں سے خود کو دیکھ رہی تھی۔ گول سوکھا ہوا جھریوں بھرا چہرہ ہے۔ گول گول آنکھیں ہیں۔ سوکھی لکڑی جیسے ہاتھ پیر۔

”میں ایسی کیوں ہوں“۔اس سوال نے اور ایسا ہونے کی شرمندگی نے اس کی سانسوں کو مٹھی میں جکڑ لیا تھا اور پوری قوت سے ان سانسوں کو بھینچ رہا تھا۔ اس کا جسم پسینے سے شرابو رتھا۔ اسے لگا اس کی کھپچی جیسی ٹانگیں سوکھی ہوئی شاخ کی طرح ٹوٹ کے اس کے جسم سے الگ ہوگئی ہیں۔ پھر اسے لگا جیسے اس کا جسم ٹھیکریوں میں تبدیل ہورہا ہے۔۔وہ اپنی دھندلی ہوتی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ بیکا ؔ ان ٹھیکریوں کو اکھٹا کر کے پٹھوکھیل رہی ہے، بیکا کی گیند لگی اور ٹھیکریاں بکھر گئیں۔ اس نے غصہ سے اپنی گڑیا کے ہاتھ پیر سب کو توڑ توڑ کے آئینے سے دے مارے۔ زمین پر پڑی مٹی کے ڈھیر جیسی چھٹکی کے جسم میں مٹی کی ٹھنڈا تر رہی تھی، ایک بار پھر اس کا دل بیتاب ہوا اپنی گڑیا کو سینے سے لگانے کے لیے۔ بڑی مشکل سے وہ گھسٹ کے گڑیا کے ٹوٹے ہوئے سر تک پہنچی اور اسے سینے سے لگا کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔

”چھٹکی میں بیکا جیسی نہیں ہوں۔ میں تو کسی بھی بچے جیسی نہیں ہوں۔ چھٹکی بیکاؔ میری ٹھیکریوں سے پٹھو کھیل رہی دیکھا تو نے“۔

اس کی آواز بجھ رہی تھی۔ اور کانوں میں سائیں سائیں ہو رہی تھی۔ ابا کی آواز وہ صاف سن رہی تھی۔

”تیری ماں نے شرمندگی کوجنا ہے“

اس کے اندر یہ آواز چھری کی تیز دھار جیسی اس کی شریا نوں کوکاٹ رہی تھی اور اس کے اب صرف ہونٹ ہل رہے۔

”بیکااااااا!!

آدھی رات کو اس کے باپ کے سوجانے کے بعد ماں نے ایک پلیٹ میں کھانا ڈالا اور دبے پاؤں اس کے کمرے کا دروازہ کھولا۔

بیکاؔ کی چھٹکی کی ٹانگیں، ہاتھ، سر الگ الگ ٹوٹے ہوئے آئینے کے ٹکڑوں میں دبے پڑے تھے اور چھٹکی کی بیکاؔ ایک ٹھیکری جیسی فرش پر پڑی تھی۔

Spread the love

Check Also

آنگن کا پیڑ ۔۔۔ شموئل احمد

دہشت گرد سامنے کا دروازہ توڑ کرگھسے تھے اور وہ عقبی دروازے کی طرف بھاگا ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *