Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » عباس کی دلہن ۔۔۔ زہرا تنویر

عباس کی دلہن ۔۔۔ زہرا تنویر

وہ تانگے کی اگلی سیٹ پر بیٹھا نجانے کن سوچوں میں گم تھا کہ پاس سے گزرتے راہ گیر نے کہا۔
“بھیا! کیوں وقت برباد کرتے ہو؟ تانگہ چھوڑو، کوئی اور دھندا کرو”۔
“بھیا تم بھی مفت مشورے دینا چھوڑ کر کوئی اور کام کرو”۔
وہ برا مناتے بولا۔
راہ گیر کندھے اچکاتا چلا گیا۔
وہ اپنے کالے گھوڑے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ جو اْس کو بہت پیارا تھا۔ اپنے بچوں سے بڑھ کر وہ اپنے گھوڑے کے لاڈ نخرے اٹھاتا۔ ایک گھوڑے کا پیار پانچ بچوں کے پیار پر حاوی تھا۔ اِس سے پہلے جو گھوڑا اْس کے پاس تھا۔ وہ سفید رنگ کا تھا۔ اس کی گردن کے بال بہت لمبے اور چمکدار تھے۔ سفید رنگ جلدی میلا ہو جاتا ہے۔ اس لیے وہ ہر روز اس کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھتا۔ لوگ اس کا مذاق اڑاتے۔ پاگل خبطی کہتے۔ جسے خود کی ہوش نہیں تھی۔ خود سے زیادہ وہ گھوڑوں کا خیال رکھتا۔ گھوڑوں کا دیوانہ نہیں تھا۔ یہ شوق مالک کا تھا۔ جس کو جانوروں سے محبت تھی۔ وہ اپنے گھوڑوں کے لیے دن رات فکر مند رہتا۔ اس لیے وہ عباس پر بھروسا کرتا۔ کیونکہ عباس بچپن سے اپنے مالک کا دیوانہ تھا اور مالک اپنے جانوروں کا۔ یوں مالک کی محبت عباس کی رگوں میں دوڑنے لگی۔ معلوم نہیں یہ لت کب اور کیسے لگی۔ وہ مالک کی محبت میں ایسا اندھا ہوا کہ اْس کے جانور بھی بیوی سے خوب صورت دکھائی دیتے۔ مالک عباس کی ہر بات مانتا اور عباس مالک کی۔
یوں دونوں کی اچھی گزر رہی تھی۔
پھر اچانک عباس کے گھر والوں کو اْس کی شادی کی فکر ستانے لگی۔عباس کو شادی کا خیال کبھی نہیں آیا۔ وہ اپنی زندگی سے مطمئن اور خوش باش تھا۔ جب مالک نے سمجھایا کہ شادی ضرور کرنی چاہیے تو وہ رضامند ہو گیا۔
عباس نے پہلی رات جب اپنی دلہن دیکھی تو بولا۔
“تم سے پیاری تو نازو ہے، جس کا چم چم کرتا وجود دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے”۔
دلہن پہ کیا بیتی وہی جانے۔
وہ دل ہی دل میں نازو کو کوسنے لگی۔ جو اس کے میاں کے دل پہ راج کرتی ہے۔
پھر جس دن دلہن کو نازو کا دیدار ہوا اْس دن جلتے دل کو کچھ قرار آیا۔ وہ میاں کی ذہنی حالت پر شک کرتی جو بیوی سے زیادہ گھوڑے گھوڑیوں کا دیوانہ تھا۔ جنہیں دیکھ کر اْس کی آنکھوں میں دیپ جلنے لگتے۔ وہ میاں کے مالک اور گھوڑوں سے حسد کرنے لگی۔ اْن کا گھر وہیں گھوڑوں کے اصطبل کی حدود میں بائیں جانب گلی کی طرف تھا۔ جو ایک کمرے اور چھوٹے سے برآمدے پر مشتمل تھا۔ جہاں وہ بیاہ کر آئی اور پانچ بچے بھی گھوڑوں کی ہنکاریں سنتے پیدا کیے۔ جب عباس باہر سے کوئی گھوڑا دوڑاتا ہوا اندر لاتا تو وہ چبھتی نظروں سے دیکھتی پاس رکھی کوئی چیز اٹھا کے زور سے دیوار سے مارتی۔ یہ منظر عباس دیکھتے ہوئے بھی مسکراتا ہوا آتا اور ہاتھ دھو کر کھانا کھانے بیٹھ جاتا۔ اْس کو اپنی دلہن کی ناراضی کی پرواہ نہ تھی۔ وہ مالک اور گھوڑوں کی محبت میں ایسا ڈوبا تھا کہ اْن کی خفگی کے ڈر سے کسی تیسرے کی ناراضی کی طرف دھیان نہیں دیا۔ وہ زیادہ تر آدھی رات باہر گزار کر جب گھر آتا تو بیوی بچے سو رہے ہوتے۔ جب بچے نہیں تھے۔ وہ ایک سال دلہن کا بہت مشکل گزرا۔ کبھی اِس دیوار جھانکتی، کبھی اْس دیوار جھانکتی دن گزارتی۔ رات انتظار کرتے آنکھ لگنے لگتی تو عباس آ جاتا۔ وہ گلہ شکوہ کرتی۔ تو عباس کام کا بہانہ بنا دیتا۔ اْس نے کبھی بیوی پر غصہ نہ کیا۔ ہمیشہ مزاج ٹھنڈا رکھا۔ یہ بھی مالک کی کرم فرمائی تھی۔ جس نے سمجھا رکھا تھا۔
“بیوی کے بگڑے مزاج پر غصہ نہیں کرنا”۔
وہ مالک کا حکم آنکھیں بند کیے مان لیتا۔
بچے ہوئے پھر بھی اْس کا وہی پرانا معمول رہا۔ آس پڑوس کے لوگ جب عباس کی بیوی کو “دلہن” کہہ کر پکارتے تو دلہن برا مان جاتی۔
دوپہر کا وقت تھا۔ سورج کی تمازت سے زمین جھلس رہی تھی۔ وہ اپنے بچے برآمدے میں بیزار شکل بنائے لیے بیٹھی تھی۔ اْس کی بیزار شکل دیکھ کر لگتا وہ کبھی مسکرائی نہیں تھی۔ حالاں کہ جس دن شادی ہو کے آئی تھی۔ اْس دن وہ مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ شادی کے لیے اتنا اتاؤلی ہے۔
سامنے سفید رنگ کا گھوڑا گیٹ سے باہر نکل رہا تھا۔ بچوں کی نظر پڑی تو شور مچانے لگی۔
“اماں وہ گھوڑا جا رہا ہے”۔
“ائے ہائے جانے دو کم بخت کو، میں تو کہتی ہوں رات کے اندھیرے میں سارا اصطبل ہی خالی ہو جائے”.
بچے ماں کا غصہ دیکھ وہیں بیٹھ گئے۔ وہ چھوٹے تھے ابھی گھوڑا پکڑ کر باندھنے کے قابل نہیں تھے۔
گھوڑا چلتا چلتا گیٹ کی حدود پار گیا۔ وہ کہاں گیا۔ کون لے گیا۔ کسی کو خبر نہ ہو سکی۔ عباس اور مالک نے گھوڑے کی تلاش میں دن رات ایک کر دی۔ لیکن کہیں سے گھوڑے کا سراغ نہیں ملا۔ کچھ دن بعد تھک ہار کر صبر کر کے بیٹھ گئے۔ اس دوران عباس کی دلہن خوب چہکتی پھرتی۔ جیسے اْس کے جلتے من کو قرار آ گیا ہو۔
جب عباس گھوڑے کی تلاش میں ناکام ہو کر رات کو گھر لوٹتا تو بیوی سے پوچھتا۔
“تم نے دیکھا نہیں وہ کب باہر نکلا۔ کہیں کوئی کھول کے نہ لے گیا ہو”۔
وہ لاعلمی کا اظہار کرتی عباس کی پریشان صورت دیکھتی اندر ہی اندر مسکراتی۔
گھوڑا نجانے کن راہوں کا مسافر ہوا۔ وہ واپسی کا رستہ بھول گیا مڑ کر اپنے مالکوں کے پاس نہیں آیا۔ مالک اس جدائی کا صدمہ مشکل سے برداشت کر پائے۔ کیونکہ ان کی جان اپنے گھوڑوں میں تھی۔ سب گھوڑوں میں وہ لاڈلا تھا۔ کسی خاص موقع پر نکالا جاتا۔ اس کا درد بھلانے کی خاطر اب ایک کالے گھوڑے کے ناز اٹھائے جانے لگے۔
لیکن جانے والے کا غم ابھی بھی تھا۔ وہ بھولنا مشکل تھا۔ اتنے سال کا ساتھ تھا۔ پھر وہ حسین بھی بہت تھا۔
آج صبح عباس کالے گھوڑے کو لیے مالک کے پاس جانے ہی والا تھا کہ ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔ اْس نے عباس کے قریب جا کر کچھ کہا۔ عباس سب کچھ چھوڑ کر اس آدمی کے ساتھ تیز تیز چلتا باہر نکل گیا۔
تھوڑی دیر بعد باہر سے شور کی آواز آنے لگی۔ بچے باہر گئے تو ماں کو آ کر بتانے لگے۔
“اماں! مالک مر گیا”۔
“سب رو رہے ہیں “۔
عباس کی دلہن کے سینے سے اتنے سال کا دھرا بوجھ سرکنے لگا۔ وہ سکون سے چارپائی پر بیٹھ گئی۔ وہ خود کا ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگی۔ جیسے رستے کی بہت بڑی رکاوٹ رستے سے ہٹ گئی ہو۔
تھوڑی دیر بعد پسینے میں شرابور عباس آیا۔ جس کا رو رو کے برا حال ہوا تھا۔ وہ آنکھوں پر بازو رکھے آرام سے لیٹی تھی۔
“کچھ خدا کا خوف کر، باہر مالک کی میت رکھی ہے اور تو سو رہی ہے”۔
“جنازے کے وقت چلی جاؤں گی”۔
وہ آنکھوں سے بازو ہٹاتے بولی۔
“عجیب سنگدل عورت ہے”۔
عباس افسوس کرتا پھر باہر چلا گیا۔
مالک کا جنازہ ہو گیا۔ قبر بھی بن گئی لیکن عباس گھر نہیں آیا۔ بیوی بچے انتظار کرتے رہے۔ رات دو بجے کھٹکا ہوا۔ وہ گرتا لڑھکتا آنسو پونچھتا لیٹ گیا۔ اْس کی دلہن کن اکھیوں سے اْس کی حالت دیکھتی رہی۔ لیکن اٹھ کر اس کے دکھ میں شریک نہ ہوئی۔
وہ جانتی تھی۔ یہ زخم مشکل سے بھرے گا۔ اْس کا تسلی دلاسہ کسی کام نہیں۔ وہ کروٹ لے کر سو گئی۔
مالک کو فوت ہوئے کافی دن گزر چکے تھے۔ پھر بھی عباس پہلے دن کی طرح غم منا رہا تھا۔ وہ پہلے سے زیادہ وقت اصطبل میں گزارتا۔ گھوڑوں کا خیال رکھ کر مالک کی روح کو راضی کرتا۔
کچھ دن بعد مالک کے دونوں بیٹے آئے ان کے ساتھ کچھ آدمی تھے جو سب گھوڑے لے گئے۔ عباس دیکھتا رہ گیا۔ اس کی جیب ساتھ دیتی تو وہ سبھی گھوڑے خرید کر پوجا کرتا۔ سو آنکھوں میں نمی لیے گھوڑے جاتے دیکھتا رہا۔ وہاں بس ایک کالا گھوڑا رہ گیا باقی سب چلے گئے۔
“یہ گھوڑا تم رکھ لو عباس”۔
مالک کے بیٹوں نے باپ کے ملازم کو اْس کی خدمت گزاری کے عوض ایک گھوڑا دے دیا۔
وہ سر جھکا کر اتنے میں خوش ہو گیا۔
یہ گھوڑا اْس کا کْل سرمایہ تھا۔ اْس نے ایک تانگہ لیا اور سواریاں لانے لیجانے لگا۔ گھر کا خرچ اچھا چلنے لگا۔ وہ گھر چھوڑے ایک سال ہو چکا تھا۔ لیکن وہاں کی یادیں عباس کا پیچھا نہ چھوڑتیں۔ وہ اپنی، مالک اور گھوڑوں کی یادوں میں گم رہتا۔ صبح کا گیا رات کو گھر لوٹتا۔ دن بھر کی کمائی بیوی کے ہاتھ رکھ کر سو جاتا۔
ایک دن وہ سو کر اٹھا تو ساتھ والی چارپائی خالی تھی۔ سب بچے سو رہے تھے۔ وہ اٹھ کر باہر نکلا جہاں خاموشی کا راج تھا۔ باہر کا دروازہ کھلا تھا۔ کافی دیر وہ انتظار کرتا رہا۔ بچے بھی اٹھ گئے۔ دوپہر ہونے تک بچے رونے لگے۔ وہ وہیں بیٹھا بچوں کو دیکھتا رہا۔ ساتھ والے دو تین گھروں سے پتا کر کے وہ کہیں اور نہ گیا۔ اْس کی تلاش یہیں تک تھی۔ اِس سے زیادہ دونوں کا رشتہ نہیں تھا۔ جتنی چاہ تھا اتنا تلاشا۔ پھر گھر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔
شام تک محلے میں یہ خبر گردش کرنے لگی۔
“عباس کی دلہن اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ گئی”۔
“یہ تو ہونا تھا، روز کا آنا جانا تھا”۔
“میاں کو گھر کی خبر نہ ہو پھر یہی ہوتا ہے”۔
“ماں تھی بچوں کا ہی سوچ لیتی”۔
عباس نے کسی سے کچھ نہ پوچھا۔ کون سا آشنا، کب آیا، کب گیا۔
وہ چپ کا روزہ رکھے اپنے آنگن میں بچے چھپائے بیٹھ گیا۔ پھر وہی گھوڑا اور تانگہ سنبھال لیا اور اپنے بچے پالنے لگا۔ اْس کی یادوں میں کہیں بھی بیوی کا عکس نہیں تھا۔ جب تنہائی میسر آتی تو وہ اپنے پیارے مالک کی یادوں میں کھو جاتا۔ جب کبھی زیادہ یاد ستاتی تو مالک کی قبر پر پھول لیے چلا جاتا۔ جہاں اب بھی مالک اْس کا منتظر ہوتا۔

Spread the love

Check Also

آنگن کا پیڑ ۔۔۔ شموئل احمد

دہشت گرد سامنے کا دروازہ توڑ کرگھسے تھے اور وہ عقبی دروازے کی طرف بھاگا ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *