Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » عورتوں کی تحریک  ۔۔۔ عابدہ رحمان

عورتوں کی تحریک  ۔۔۔ عابدہ رحمان

مصنف: ڈاکٹر شاہ محمد مری
صفحا ت : 105
قیمت : 160 روپے
مبصر : عابدہ رحمان

ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب نے جب بھی قلم اٹھایاایک بہت ہی اہم موضوع، اہم شخصیت پر ہی اٹھایا۔اس بار ان کی جو کتاب میرے ہاتھ میں ہے وہ ہے ؛’’ عورتوں کی تحریک‘‘۔ کتاب کی ابتدا انھوں نے عورتوں کی تحریک کی شروعات سے کی کہ جب انسان جنگلوں اور غاروں میں رہتا تھا ۔ جوں جوں کتاب آگے بڑھتی ہے تب تب ڈاکٹر صاحب کے اس موضوع پر تحقیق کا اندازہ ہوتا چلا جاتا ہے اور ہم سمجھ سکتے ہیں کہ انھیں اس کتاب کو تکمیل تک پہنچانے میں کن کن مراحل سے گزرنا پڑا ہوگا۔
وہ کہتے ہیں کہ ابتدا میں جب انسان جنگلوں اور غاروں میں رہتا تھاتو اپنے جنسِ مخالف کی بڑی قدر کیا کرتا تھا، جس کی شاہد قدیم غاروں کی دیواریں ہیں اور یہ ساری معاشرت پسندی عورت کی مرہونِ منت تھی کہ فصل کاشت کرنا، پانی بھرنا، برتن بنانا، جھگڑوں کا تصفیہ کرنا اور ذخیرہ کرنا۔ اور اس کام کے لیے ٹوکری،صندوق اور دیگچی بنانا عورت ہی کے کام ہیں۔
چوں کہ فطری طور پر ماں کا پتہ ہوتا تھا، اس لیے سلسلہء نسب ماں سے چلتا تھا اور اس کی حیثیت خاندان کے سربراہ کی سی ہوا کرتی تھی۔مذہبی عقائد میں دیوتاؤں کی بہ نسبت دیویوں کا درجہ بڑا ہونے کی وجہ بھی یہی مادرسری نظام تھا۔
زراعت میں مختلف بیجوں سے پھل سبزیاں ، غلہ اگانا ہو، جانوروں کو پالتو بنانا عورت ہی کا کمال ہے۔ لیکن چاک کے برتنوں،کیمیا سازی، آلات سازی نے عورت کی سماجی حیثیت میں تبدیلی کی جس سے طبقاتی تفریق کی ابتداہوئی اور عورت کو غلام کیا جانے لگا۔ رگِ وید جو3000سال پرانی ہے، کے مطابق بھی مادر سری نظام رائج تھا۔
ڈاکٹر صاحب آگے کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے ہل، اوزار اور دوسری ایجادات ہوتی گئیں عورت کی ذمہ داریاں بدلتی گئیں ۔ زمین پر قبضے،جانور مویشی پالنے اور انھیں ذریعہ پیداوار کے طور پر استعمال کرنے سے ذاتی ملکیت کا آغاز ہوا۔ اور اس آغاز کے ساتھ ہی یہ سوچا جانے لگا کہ آخر یہ ملکیت چھوڑی کس کے لیے جائے؟ لہٰذا یک زوجگی کی ابتدا ہوئی تاکہ اولاد معلوم ہو۔ لیکن مزے کی بات دیکھئے کہ اس مقصد کے لیے صرف عورت کو پابند کیا گیا۔ اور یوں پہلا طبقاتی ظلم یہ ہوا کہ عورت انسان کی حیثیت سے گر کر محض ایک چیز بن گئی۔ مویشیوں سے جس طرح دودھ، گوشت، زمین سے فصل کی مانندعورت سے اولاد حاصل کی جانے لگی۔
کاشت والی، پانی والی زمینوں کے حصول کے چکر میں زمینوں پر قبضہ ہوتا چلا گیا اور یوں غلامی آئی جو طبقاتی سماج کا موجب بنی۔ ذاتی ملکیت کا آغاز جو جانوروں، زمین سے ہوا لیکن بالآخر مادری نظام کے مکمل خاتمے پر منتج ہوا۔
کتاب کا اگلا باب فیوڈل ازم کی ابتدا کے بارے میں ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ غلام داری سماج کے بعدجاگیرداری سماج کا تحفہ جسم فروشی کی اندھیر نگری ہے۔ عورت سماجی طور پر گرتی چلی گئی اور چار دیواری تک محدود ہو گئی۔ یہودیت میں شوہر کو آقا سمجھ کر بات کرتی تھی۔ کلیسائیت میں بھی عورت کو نا پاک اور دنیا میں گناہ لانے والی کہا گیا اور ڈائن اور جادوگرنی کہہ کر زندہ آگ میں جھونکا گیا۔ عورت کوکسی ثبوت کی ضرورت نہیں تھی ،نہ ہی کسی دفاع یا جرح کا بس افواہوں کی بنیاد پر ملزم ٹھہرایا جاتا۔ عجیب عجیب سزائیں بھی عورت کو دینے کے لیے ایجاد کی گئی تھیں۔ فیوڈل ازم سے ذرا پہلے بلوچوں میں حانی، گوہر جنتڑیں اور مہناز جیسی خواتین بھی گزری تھیں جنھوں نے ایک بے انصاف معاشرے سے اپنے طور پر بھرپور ٹکر لی تھی۔مست اور سمو کا عشق اور پیرک گراں ناز کا عشق تو عورتوں کی تحریک کا اصل محرک ہے۔
آہستہ آہستہ فیوڈل ازم ، کیپٹل ازم میں بلنے لگا ۔ 1666-1660 کے برطانوی صنعتی انقلاب کے بعدبرطانیہ کے بعد کارخانوں اور معدنی کانوں میں عورتیں کام کرنے لگیں۔
1829میں روڈ آئرلینڈ میں عورتوں نے پہلی بار ہڑتال کی۔ 1825میں عورتوں کی پہلی درزی یونین بنی جس نے منصفانہ معاوضے کے حصول کے لیے ہڑتال کی۔
جلسے جلوسوں کے بعد1888 میں ووٹ کا حق دیا گیا۔
فرانس میں عورت کے حقوق کی ڈیکلیریشن ہوئی جس میں وہ سارے حقوق جو مرد کو دیے جاتے ہیں ،کا مطالبہ کیا گیا ۔ لیکن انقلابِ فرانس کے بعد سے اب تک عورت مرد کی نسبت کم معاضے پر کام کر رہی ہے۔ 1871میں فرانس میں یونیورسٹیوں میں داخلے کی اجازت، 1875 میں ڈاکٹر بننے کی اور1900 میں وکیل بننے کی اجازت ملی۔
ترکی میں1920 میں روشن فکر حکومت قائم ہوئی۔ رسم الخط بدلا، یورپی لباس رائج کیا گیا، سول میرج اور طلاق متعارف کرائے اور کثیر زوجگی پر پابندی لگا دی۔
جاگیرداری سے صنعت کاری کی طرف قدم سے عورت کی ذمہ داریاں دوہری ہوتی گئیں اور وہ گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ باہر کی کے کام بھی نمٹانے لگی۔ فیوڈل ازم میں تسکین پہنچانے والی عورت کے حسن و خوبصورتی کوکیپٹل ازم میں مارکیٹ پوائنٹ آف ویو سے کیش کیا جانے لگا۔
1917 کے انقلاب کے بعد سوویت عوامی حکومت نے عورتوں کو قانون کے تحت مکمل برابری عطا کی۔
بات ہندوستان کی کی جائے تو نہرو نے31 مارچ 1928 کی الہ آباد تقریر میں کہا تھا کہ ،’’ انڈیا اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا جب تک کہ انڈیا کی عورتیں انڈیا کے مردوں سے اپنی مکمل آزادی حاصل نہیں کرتیں۔‘‘ اسی طرح 1932, 1933کی آل انڈیا بلوچ کانفرنس میں بلوچ رہنماؤں کی طرف سے بھی خون بہا میں عورت ، لب و ،ولور کے خلاف اور عورت کی تعلیم کے حق میں قراردادیں پاس ہوئیں ۔
فیملی لاز آرڈیننس 1961میں منظور ہوا جس کی رو سے عورت کو یہ حق ملا کہ وہ زرعی زمین کی وراثت کی حق دار ہے۔طلاق کو مشکل بنایا گیا اور شادی کو رجسٹرڈ کرنے کا نظام قائم ہوا۔
ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن بھی امن، خوش حالی، ترقی، جمہوریت اور آزادی کے لیے کام کرتی رہی۔1970 کی دہائی میں بلوچستان میں یونیورسٹی اور بولان میڈیکل کالج بنا۔لیکن ضیاکا دور عورت کے حق میں بس ایک اندھیر نگری کے سوا کچھ نہیں تھا۔
بات پڑوس ممالک کے پاکستان پر اثرات کی کی جائے تو بلاشبہ افغانستان کے ثور انقلاب کے ہفتم نمبر فرمان اور خمینی انقلاب کے اثرات ہمارے ملک پر بھی پڑے۔
ضیا دور کو توعورت کے لحاظ سے تاریک دور کہا جائے تو بہتر ہوگا۔ کہ اس دور میں عورت کو گھر تک محدود کر کے اس کی سماجی زندگی کو بالکل ختم کر دیا گیا اور پردے کے اندھیروں میں اسے گم کر دیا گیا۔ اس کی تعلیم پر پابندی، بناؤ سنگھار پر پابندی۔ عورت کو بالکل ختم کر دیا گیا ۔ ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ ،’’ضیا الحق ملک کے اندر رجعتی نکتہ نظر کے علاوہ، ایرانی بنیاد پرست حکمرانوں اور افغانستان میں خلق پارٹی کی حکومت کے مخالف مولویوں سے خوراک لیا کرتا تھا۔‘‘ ضیانے اقوامِ متحدہ کے CEDAW کنونشن کے بھی پرخچے اڑا دیے، لیکن لاہور کی عورتوں کی ایک تنظیم WAFنے تعصب، فرقہ واریت،بنیاد پرستی اور لسانی جھگڑوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔
روایات، تواہمات اور ریاست کے باب میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ بلوچستان میں اور بلوچوں میں بھی عورت پیری فقیری، ہسٹیریا کی شکار، تشدد اور حیوانیت کا شکار رہی اور ہے۔ وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ ہمارا پورا سماج نفسیاتی مریض ہے۔
موجودہ حالت کو بیان کرتے ہوئے انھوں نے ’’ خواتین پینل‘‘کا حوالہ دیا ہے، جسے شکر بی بی نے بنایا اور جس نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لیے آواز بلند کی اور اس سلسلے میں ایک لانگ مارچ بھی کیا جو کوئٹہ سے کراچی، سندھ، ڈیرہ غازی خان ، پنجاب سے ہوتے ہوئے اسلام آباد میں ختم ہوا ،اور یہ خواتین کا طویل ترین لانگ مارچ ثابت ہوا۔
ڈاکٹر شاہ محمد مری کہتے ہیں کہ ،’’مست توکلی کی شروع کردہ اس تحریک کی خاطر اپنے راگ کا الاپنا تو فرض ہے، وہ بھی بلند آواز کے ساتھ۔‘‘
لہٰذا اپنی اس بات پر قائم رہتے ہوئے مست کی آواز کو آگے پہنچاتے ہوئے 8 مارچ 1916 کو’’سمو راجئے ونڈ تحریک‘‘ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔ ونڈ تحریک ، عورتوں کی ایک ایسی تنظیم ہے جو یہاں کی عمومی معاشی،ثقافتی، سماجی اور سیاسی جمہوری تحریک کا حصہ ہے۔ وہ گھر میں ، سماج میں اور سیاست میں عورت کی برابری، نجات اور نمائندگی یقینی بنانے کی جدوجہد کرے گی۔
SRVM فیوڈل اور پدر سری معاشرے کے خلاف سماج کے محکوم کردہ نسلوں ، طبقات اور جنسوں کو آزاد کرنے کے لیے کام کرے گی تاکہ ایک جمہوری، روادار اور پلورل معاشرہ پیدا ہو۔
گو کہ سموراج ونڈ تحریک کا پیراگراف اس کتاب کا حصہ نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ اس کتاب کی اگلی اشاعت میں اس تحریک کا ذکر ضرور آئے گا۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ پاکستان کی کسی بھی پارٹی کے منشور میں عورت کا ذکر نہیں ۔ بچیوں کی تعلیم، عورت کے روزگار پر خاموشی۔ لب ، تشدد، سیاہ کاری جیسے گھناؤنے رواجوں اور اور عورت کی سیاست میں شرکت پر ہر پارٹی کو ایک مکمل پیکیج دینے کی ضرورت ہے۔
تعلیم ، ہنر، سیاست میں شرکت، Industrialization عورت کی آزدی اور نجات کا راستہ ہے۔

Spread the love

Check Also

فلم بازار اور عورت کی منڈی۔۔۔ مریم ارشد

ہمیشہ سے یہی سْنتے آئے ہیں کہ زندگی مشکل ہے۔ لیکن زندگی مشکل نہیں ہے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *