Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ (page 30)

قصہ

July, 2015

  • 30 July

    گا ر یں جنگل ۔۔۔ جوہینز وی جینسن / مسر ور شا د

    کو را یک کشا رکا ریں مر دے ات کہ و ختے ھذ مت و واری آپد کمو از گا ر بو ت گڑا پہ غلا مے بہا زورگا شہر ا شت ۔شہ دلا لہ پیش داشتگیں غلا ما ں یکے ہم آئر ا دوست نہ بو ت ۔ درستیں غلا م نیمر وچہ سبباو اب اتنت۔ منی ہیالا تو ...

  • 30 July

    امیتانی بانک ۔۔۔ ضیاء شفیع

    ماما تو کجا نشتگے؟؟ من۔۔۔۔۔ من شاہی بازار مسقطا نا ۔۔۔ماما من تئی بنکی ھلکے جستایاں منی بنکی ھلک پیشکان ایں۔ پیشکان؟ او ۔ پیشکان، تو زانا پیشکا ن نہ دیستہ؟ منا یاد نہ ایں، بوت کن دیستہ۔۔۔ بلیں ترا چنکہ سال انت مسقطا؟ منا سی و نو سال ایں سی و نو سال۔۔۔۔ اررے ماما اے سی و نو ...

  • 5 July

    روشنی کی تلاش ۔۔۔ علی بابا/ننگر چنا

    دل بے چین ، نا ا’مید آنکھو ں میں امید کے ٹمٹما تے چراغ ، ٹا نگیں گھٹنو ں سے اکھڑی ہو ئیں ، ابھر ی ہو ئی جبڑوں کی ہڈیا ں ، ایک مسا فر ا ما وس کی اند ھیر ی رات میں لڑ کھڑ اتا ہو ا جا رہا ہے۔منزل کی تلا ش میں۔ اُکھڑی سا نسو ں ...

  • 5 July

    وہ بیچارہ ۔۔۔ محمد جمیل اختر

    اس کے پاوں کچھ عجیب سے تھے ایک پاوں بالکل ٹیڑھا اور گول تھا اور دوسراتھوڑا کم گول تھا۔ اتنی معذوری سے تو کچھ نہیں ہوتا۔وہ دوڑنہیں سکتا تھا لیکن چل لیتا تھا ، جو پاوں کم ٹیڑھا تھا اس پر وزن دے کر آگے بڑھتا تھا ، اس کو اس کے بھیا نے بچپن سے سمجھایا تھا کہ پاوں ...

June, 2015

  • 10 June

    میں کون؟ ۔۔۔ نیلم احمد بشیر

    میرے بیٹے علی نے ہمیشہ کی طرح اپنا سکول بیگ میری شاپ کے ایک کونے میں پٹخااورسٹول کھینچ کر میرے قریب بیٹھ گیا۔ میں نے بھی اپنا معمول کا سوال دہرایا۔’’ کھانا کھا لیا تھا ‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر ماں اپنے بچے کے کھانے پینے کے بار ے میں ہمیشہ متجسس اور فکر مند ہی رہتی ہے چاہے ...

  • 10 June

    یہ سنگرام ۔۔۔ علی بابا/ننگر چنا

    باہر گھور اندھیرا ہے، سیاہ رات ہے۔ تمام عالم نیند کی آغوش میں ہے۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ میں جاگ رہا ہوں۔ سرخ زیر و بلب کی روشنی میں مجلہ’’ مہران‘‘ سے تراشیدہ شمشیر الحیدری کی تصویر ’’ موت کے تجربات ‘‘ کو دیکھ رہا ہوں۔ آسمان سے ایک میزائل نے جھپٹا مارا ہے ۔ ہر چیز فنا ...

  • 10 June

    اللہ دتا حلوائی کا بیٹا ۔۔۔ اقبال خورشید

    میں نے ایک ایسے علاقے میں آنکھ کھولی، جس کی حدود کے اختتام پر بڑے شہر کی حدود کا آغاز ہوتا تھا۔ علاقہ، جہاں کے موسم پختہ اور مکان کچے تھے۔ اور جسے بڑے شہر والے پس ماندہ بستی تصور کرتے تھے۔ میرا باپ حلوائی تھا۔ اور اِس معاملے میں وہ قصوروار نہیں۔ اپنے باپ دادا کا دھندا سنبھالنا اُس ...

  • 10 June

    چادر ۔۔۔ امرت مراد

    اینٹوں والے آنگن کی اک مختصر سی کیاری میں یہ کھلتے پھول اُداسی پھیلانے کا باعث بن رہے تھے۔عجیب سی رُکی ہو ئی یکسانیت بھری زندگی ،ملنے،جُلنے والے لوگ اس کی کیاری میں کھلے ان ڈھیروں پُھولوں کو بے حد پسند کرتے اور اس کے باغبانی کے شوق کو سراہتے بھی تھے۔مگر وہ جو کہتے ہیں ناں،کہ موسم تو انسان ...

  • 10 June

    بھکاری ۔۔۔ آدم شیر

    وہ بھکاری نہیں تھا،کم از کم مجھے تو نہیں لگتا تھا۔ اس کی میلی چادر میں کئی راہ گیر بھیک ڈال دیتے لیکن وہ بھکاری نہیں تھا۔ میں روز اسے ایک موڑ پر جھولی پھیلائے بیٹھا دیکھتا ۔ وہ کوئی صدا نہیں لگاتا تھا۔ چپ چاپ بیٹھا رہتا ۔ اسی جگہ کئی بھکاری اشارے پر رکنے والی گاڑیوں کے گرد ...

  • 10 June

    سنگت ۔۔۔ گلزار گچکی

    من چہ ترسا گار اتوں۔ سرا بگر داں پاداں ہیدا جانشود اتوں او کترہ کترہ مرگہ بیما انچو دَرہگا اَتوں گشے گوئر ی تپا گپتگ اَت۔ باریں کدی منا بوکش اَنت او کڈے آ چگل بدی اَنت ،ڈونڈوار منی جون ءَ پر بہ لچنت او منی گوشت ءَ گوں وتی تینزیں پانچل ءُ تُسکیں سٹا ٹُگ بجن اَنت او بور ...