مضامین

شہرسورج کا ہوں۔۔۔

شہرسورج کا ہوں بحرو برکی سبھی وسعتیں مجھ سے منسوب ہیں گوات کا در ہوں میں دور نزدیک ہراک کوازبرہوں میں مجھ کو اپنوں سے دوری کی دے کر سزا کبھی بیچاگیا پھرخریداگیا پر مری چاہتوں میں کوئی فرق آیا نہیں گیت گاتا رہاگنگناتا رہا ساحلوں،کشتیوں پانیوں پر صبح شام ...

مزید پڑھیں »

یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے

فلمی گیت   یہ زندگی کے میلے یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے افسوس ہم نہ ہوں گے یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے دنیا ہے موجِ دریا قطرے کی زندگی کیا پانی میں مل کے پانی، انجام یہ کہ فانی دم ...

مزید پڑھیں »

مادری قومی زبان

‘ہمیں اپنی عام روزمرہ گفتگو میں اس معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اج جو شخص بھی اس ملک کے کیے صرف "ایک قومی زبان ” یا ایک قومی ثقافت کا لفظ استعمال کرتا ہے، وہ دراصل ملک کی فیڈریٹنگ یونٹس کو ملیامیٹ کر رہا ہوتا ہے ۔پھر ایک ...

مزید پڑھیں »

چاند گرہن

’جنو‘ کوسیانی ہوئے برسوں بیت گئے تھے، اس کی سہیلیاں، ہم جولیاں پانچ پانچ بچوں کی مائیں بن چکی تھیں پچھلی بار جب ’حکو‘ اس سے ملنے آئی تو اس سے رہا نہ گیا اور اس سے پوچھا،”حکوتم جیسے جیسے عمر میں بڑی ہوتی جارہی ہو تمہارے چہرے پر خون ...

مزید پڑھیں »

شک کا فائدہ

(روسی کہانی) پلیگا ایک ان پڑھ عورت تھی۔ مگر اُس کا خاوند ایک خواندہ اور فہمیدہ کار ی گر تھا۔ اُسے اس بات پہ سخت افسوس تھا کہ اس کی بیوی ناخواندہ ہے۔ ایک روز باتوں باتوں میں اُس نے دیکھا کہ بیوی کا موڈ ٹھیک ہے اور چہرہ روشن ...

مزید پڑھیں »

گنگناتی خاموشی

میں کبھی کبھار اپنے کام سے فارغ ہو کر ایک سٹور پر جاتی تو باہر پارکنگ پر ایک بزرگ شخص بہ عمر ستر بتر کا بیٹھا ہوتا۔ غربت اور بھوک انسان کے ساتھ کیا کر سکتی ہے اور کہاں تک اس کا حوصلہ آزما سکتی ہے وہ اس کی زندہ ...

مزید پڑھیں »

عورت

سنسکرت زبان کا ایک قدیم ادیب اپنی ایک نظم میں بتاتا ہے کہ خدا نے عورت کو کس طرح بنایا۔ اس کے خیالات میں اپنی زبان میں یوں بیان کرسکتی ہوں: جس وقت خدا نے ایک عورت بنانے کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ سارا مصالہ مرد کے بنانے ...

مزید پڑھیں »

نیکی کرنے والا انسان

  ایک بلوچی شعر کا ترجمہ ہے کہ : میں نے زندگی ناپ کر دیکھی ہے ۔ اس کی کل لمبائی دو بالشت ہے ۔سی آر اسلم اپنی اسی دو بالشتی زندگانی بِتا کر وفات پاگیا ۔مگر وہ تاریک راہوں کی تاریکی میں کچھ کچھ روشنی گھول کر گیا۔ جاگیرداری ...

مزید پڑھیں »

مچ جیل سے سجادظہیر کا خط

سنٹرل جیل مچ بلوچستان میری پیاری!(رضیہ سجاد ظہیر) ۔18ستمبر کے بعد سے ابھی تک مجھے تمہارا کوئی خط نہیں ملا ہے۔ یعنی تین ہفتے سے اُمید کر رہا ہوں کہ اس ہفتے تمہارا خط ملے۔ جیسا میں نے تم کو اپنے آخری خط میں لکھا تھا کہ اب تم خط ...

مزید پڑھیں »

سمو بیلی۔ مستیں تؤکلی

بلوچستان وہ چوتھا کھونٹ ہے جس طرف جانے کی ممانعت ہے۔دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کے لیے تو شجر ممنوعہ ہے۔بلوچستان سے میری پہلی شناسائی مست تؤکلی کی شاعری پر لکھی گئی شاہ محمد مری کی کتاب “مستیں تؤکلی” کے طفیل ہوئی۔ جیسے دم گھٹنے کی کیفیت میں تنگ تاریک کمرے ...

مزید پڑھیں »