شاعری

زمین کا بچہ

جب وہ روئے گا اس کی آنکھوں میں آنسو ہوں گے اور ہونٹوں پر ہنسی اس کی پتنگ کی ڈور اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی ہوگی میں اس کے لئے نئی پتنگ نہیں بناﺅں گی اس نے ٹوٹے ہوئے شیشے کو تھام لیا ہوگا میں اس کے ہاتھوں سے ...

مزید پڑھیں »

آسیب

آسیب کہو تمہیں کس نے کہا ہم دشت کے باسی گور پرست ہیں ہم مسکونِ کوہ اندوہ پرست ہیں ہمیں جینے سے کوئی غرض نہیں ہم دشت کے باسی گور پرست ہیں یہ امر تمہیں کس نے ہے دیا ہر طفل ہمارا جی جان سے پیارا تم لوٹ لو اس ...

مزید پڑھیں »

*

کہیں  سے کوئی حرف معتبر شاید  نہ آئے مسافر لوٹ کر اب اپنے گھر شاید نہ آئے قفس میں آب و دانے کی فراوانی بہت ہے اسیروں کو  خیال  بال  و پر شاید  نہ  آئے کسے معلوم اہل ہجر  پر ایسے بھی  دن آئیں قیامت سر سے گزرے اور خبر ...

مزید پڑھیں »

میری تختی کب سوکھے گی؟

میری حالت ٹھیک نہیں ہے میرے اندر سب آئینے ٹوٹ چکے ہیں دل دہلیز پہ دھول جمی ہے میرے پاﺅں کیوں زخمی ہیں ؟ میری تختی کب سوکھے گی؟ ابھی تو مجھ کو جانے کیا کیا لکھنا ہے لیکن اماں ! یوں لگتا ہے وقت نہیں ہے یہاں پہ برف ...

مزید پڑھیں »

کئے زاں؟              

"سیٹ بیلٹ پلیز سیٹ بیلٹ پلیز” ہوسٹس گوئستغہ شیموشی سندھی لہجہ و دلدوری بھیرو داثئی اشتافی گڑہ، دگا جکثہ نیم راہی آتکئو ہٹکثہ مئیں دیما دیستئی تنسویں مئیں روحا ناکامیں دلہ آہری آ برشکندے کثو چو گوئشتئی ” مونجھ تہ کوڑوئے سینگھی ایں مونجھ تہ کوڑوئے بیلی ایں” مئیں چم ...

مزید پڑھیں »

غزل

(آج کی با شعور عورت کے نام) یوں تو دہلیز پہ لا کر بھی بٹھائی گئی میں دھول تھی راہ گزر کی ،سو اُڑائی گئی میں ایک تکیہ تھی کہ جی چاہا تو سرکایا گیا ایک چادر تھی کہ بستر پہ بچھائی گئی میں اصل تصویر مری تم بھی نہ ...

مزید پڑھیں »

دستخط

وہ ماضی کی اِک تصویر ہے ذہن جس میں ایسے اٹکا ہے کہ گرد و پیش کا سارا نظارا دُھندلا ہے سب کُچھ رُک گیا ہے گُمان ہے، تخیُّل ہے یا اس سے سوا کُچھ اور ہے؟ پُتلیوں میں بھی کوئی جُنبِش نہیں آنکھ شاہد ہے یہ دھوکا کھا نہیں ...

مزید پڑھیں »

غزل

لفظ جب اپنے معانی سے بچھڑ جاتے ہیں کتنے کردار کہانی سے بچھڑ جاتے ہیں اک تعلق کو نبھاتے ہوئے مشکیزے سے ہائے وہ ہونٹ جو پانی سے بچھڑ جاتے ہیں گھر مہکنے بھی نہیں پاتا ابھی پوری طرح اور ہم رات کی رانی سے بچھڑ جاتے ہیں کوزہ گر ...

مزید پڑھیں »

دل جب پتھر ہو جاتے ہیں

دھیرے دھیرے سرد ہوائیں کھَن کھَن کرتی ہنسی کا سونا دُور اڑا کر لے جاتی ہیں نرم رسیلی باتوں کے انبار پگھل کر بہہ جاتے ہیں روتے دھوتے لمحے آ کر شیلف پہ رکھی چہکاروں کا سارا شہد گرا دیتے ہیں لہجوں کے بَل کھولتے کھولتے دیواروں کی پَوریں نیلی ...

مزید پڑھیں »