شاعری

دریا

میں دیوتاؤں کے متعلق زیادہ نہی جانتا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دریا ایک طاقتور مٹیالا دیوتا ہے تند مزاج’ غصیلا اپنے موسمو‌ں اور اپنے غیظ و غضب کا مالک’ تباہ کن اور ان چیزوں کی یاد دلاتا رہتا ہے جنھیں انسان بھول جانا چاہتے ہیں خاتمہ کہاں ہے——- بے ...

مزید پڑھیں »

بیوہ سڑکیں انتظار کرتی ہیں

قرنوں سے قائم کشادہ سڑکیں کل کی بنی چند گلیوں سے سہم گئی ہیں مرے شہر میں اب یہ دستور نافذ ہے کوئی موڑ اور چوک پہ کھڑا نہ ہوا کرے گا مکان سے نکلتی بالکونی پر یا محلے کے تھڑے پہ کوئی نہ بیٹھا کرے گا گفتگو فقط معلوم ...

مزید پڑھیں »

شکست

  اپنے سینے سے لگائے ہوئے امید کی لاش مدتوں زیست کو ناشاد کیا ہے میں نے تو نے تو ایک ہی صدمے سے کیا تها دوچار دل کو ہر طرح سے برباد کیا ہے میں نے جب بهی راہوں میں نظر آئے حریری ملبوس سرد آہوں سے تجهے یاد ...

مزید پڑھیں »

پردیسی لڑکےکا خط

  اب میں تجھ کو کیا بتلاؤں ہونی اَن ہونی کے جتنے دھاگے جوڑوں جتن کروں یا ڈھونگ رچاؤں اس نگری سے جی نہیں جُڑتا لوگ تو یہ بھی اچھے ہوں گے لیکن ان کے دل اور سڑکیں ایک ہی جیسے ٹھنڈےہیں ہنستا بستا شہر ہے پھر بھی چاروں سمتیں ...

مزید پڑھیں »

پردیسی لڑکےکا خط

  اب میں تجھ کو کیا بتلاؤں ہونی اَن ہونی کے جتنے دھاگے جوڑوں جتن کروں یا ڈھونگ رچاؤں اس نگری سے جی نہیں جُڑتا لوگ تو یہ بھی اچھے ہوں گے لیکن ان کے دل اور سڑکیں ایک ہی جیسے ٹھنڈےہیں ہنستا بستا شہر ہے پھر بھی چاروں سمتیں ...

مزید پڑھیں »

بیوہ سڑکیں انتظار کرتی ہیں

  قرنوں سے قائم کشادہ سڑکیں کل کی بنی چند گلیوں سے سہم گئی ہیں مرے شہر میں اب یہ دستور نافذ ہے کوئی موڑ اور چوک پہ کھڑا نہ ہوا کرے گا مکان سے نکلتی بالکونی پر یا م±حلے کے تھڑے پہ کوئی نہ بیٹھا کرے گا گفتگو فقط ...

مزید پڑھیں »

نامکمل، غیر مختتم دائرے

معاشی، معاشرتی اور تہذیبی تضادات دائرے بناتے ہیں ہم تنگ دائروں میں گھومتے رہتے ہیں دائروں کا غیر مختتم سفر سوچ کی ہر سطح ایک دائرے کے مانند بھوک کے دائرے خوف کے دائرے انا اور تشہیر کے دائرے بے یقینی کے دائرے موت کی وحشت کے دائرے دائرے ، ...

مزید پڑھیں »

شئیر

  روچے کہ من تو یارتیں یک دومی آ گموارتیں مہرئے ذراَ گم گارتیں دل پہ دلاَ بے سارتیں ہر چے کہ تو واہارتیں بے مہتلی من بیارتیں۔ نوں آ دماناں تو شموش آ پیشی تراناں تو شموش عہد و کراراں تو شموش پلیں نیاداں تو شموش وھدےکہ دل پلگارتیں ...

مزید پڑھیں »

نظم

  عجب احساس ہے جو ساری دنیا کے دلوں میں پل رہا ہے اشارہ مل رہا ہے کہ دنیا ایک نکتے پر اکٹھی ہو رہی ہے مرے پوروں پہ دنیا کا بٹن ہے میں جب چاہوں اسے تو اپنی انگلی پر نچائوں ، میں چاہوں گھر میں بیٹھے ، جتنا ...

مزید پڑھیں »