شاعری

قید تنہائی

میں اک ساعت نم گزیدہ کی کھونٹی پہ ٹانگی گئی ہوں خرابے کی صورت مرے آنکھ کے منعکس آئینوں میں گھری یک بہ یک بے تکاں رقص کرنے لگی ہے سوالی کتابیں، جوابی نگا ہیں مرے کتب خانے کے چپ کے دہانوں میں پاٹی گئی ہیں مرے ہم سبق. نطق ...

مزید پڑھیں »

محبت مار دیتی ہے

بہت پہلے سنا میں نے محبت مار دیتی ہے توکھل کے ہنس پڑی یک دم بھلا ایسا بھی ہوتا ہے؟؟ کبھی ایسا بھی ہوگا کیا؟ محبت مار سکتی ہے جو جینے کی اک آس ہوتی ہے وہ کیسے مار سکتی ہے؟ مگر جب پھر مدتوں بعد اک ایسا سانحہ گزرا ...

مزید پڑھیں »

غزل

نہ اٹھائو پیڑ سے روشنی ، نہ جھکائو شام کی بدلیاں ابھی ان فضائوں میں تیرتی ہیں گداز لہجے کی تتلیاں یہ گئے دنوں کی ہے داستاں کہ ستارے کھلتے تھے جھیل میں کسی شاہزادے کی راہ میں کھڑی خواب بُنتی تھیں لڑکیاں وہ عجیب شہرِ خیال تھا نہ ہوا ...

مزید پڑھیں »

ھانی

کوئل جو کُوکی رات کو بیدار مُجھ کو کر گئی باد از مُلیبار آ چلی دل کو کوئی یاد آگیا بابُل کی بھیڑوں کی قطار ہے دُھند سُوئے آسماں آئی فقیروں کی صدا تھا پیشتر میرا مرید ڈاڈر کی گلیاں پھانکتا ماضی کی یادیں ہانکتا میری نظر جب مِل گئی ...

مزید پڑھیں »

نظم

ہم نہیں جانتے کہاں سے آئیں ہیں۔۔۔ کیوں آئے ہیں کب لوٹائے جائیں گے۔۔۔ آنکھوں پہ اندھیرا باندھ کر کہاں بھاگ رہے ہیں۔۔۔ آگے کیا ہے۔۔۔ پیچھے کیا چھوڑ آئیں ہیں اس زندگی کے بعد کیا ایسی زندگی ہے۔۔۔ جس پہ ہمارا بھی اختیار ہو یا شاہکار کا یہی اختتام ...

مزید پڑھیں »

پو

میں گروی رکھی گئی آنکھوں میں بسا خواب ہوں لا محدود سمندر میں تیرتے جزیروں کا جہاں مہاجر پرندے گھڑی بھر بسیرا کرتے ہیں نیلگوں پانیوں کا ساحلوں کے کنارے چمکتی رہت کا وہ خواب جو بہہ نکلتا ہے نمکین قطرے کی صورت میں وہ آزاد روح ہوں جو غلام ...

مزید پڑھیں »

دیواروں کے پیچھے

پھرکل رات مری آنکھیں بے خواب رہیں کمرے کی ساکت دیواروں کے اس پار وہی گرجتا وحشی لہجہ گھٹی گھٹی سسکی کو کتنی بے رحمی سے نوچ رہا تھا ڈوبتی رات کے سنا ٹے میں اس کی مد د کو کسے پکاروں کون آئے گا ؟ اکثرمیری بے چینی نے ...

مزید پڑھیں »

آخری سدھارتھ (پروفیسر یوسف حسن کے لیے) مرا یوسف

مرا یوسف حسن الفاظ سے غزلیں بناتا ہے بدلنے کی نئی راہیں سُجھاتا اور بستر کے تلے سب پھینک دیتا ہے کہیں بیٹھا ہوا سگریٹ کے لمبے کش لگا لیتا ہے ٹھنڈی چائے سے حلقوم کڑوا کررہا ہے رضائی اوڑھ کر نیندوں میں جاتا ہڑبڑا کر جاگ اٹھتا دیکھتا ہے ...

مزید پڑھیں »

پرندے کچھ تو کہتے ہیں

پرندے اُجلے دن کی پہلی ساعت سے بھی پہلے جاگ جاتے ہیں رسیلی ، میٹھی تانیں چھیڑتے ، کھڑکی بجاتے ہیں پرندے نیند کی گاگر الٹ کر مسکراتے ہیں مرے گھر سے نکل کر دور جاتے راستے پر پھیلی تنہائی کی شاخیں توڑتے ہیں ۔۔۔ کھلکھلاتے ہیں ہوائوں کو جھُلاتے ...

مزید پڑھیں »

ہم اپنی اپنی خصلتوں پر جی رہے ہیں

تم خوف ایجاد کرتے ہو پھر پناہ گاہیں تعمیر کرتے ہو تم موت بانٹتے ہو پھر کفن بیچتے ہو زمین کی پر تیں ادھیڑ کے بارودی سرنگیں بچھا دیں شہر تاراج کرکے بی بیوں کی بیوگی اور بچوں کی یتیمی کے لئے طیاروں سے ہمدردی کے منا ظر کمبل اور ...

مزید پڑھیں »