شاعری

ہم اپنی اپنی خصلتوں پر جی رہے ہیں

تم خوف ایجاد کرتے ہو پھر پناہ گاہیں تعمیر کرتے ہو تم موت بانٹتے ہو پھر کفن بیچتے ہو زمین کی پر تیں ادھیڑ کے بارودی سرنگیں بچھا دیں شہر تاراج کرکے بی بیوں کی بیوگی اور بچوں کی یتیمی کے لئے طیاروں سے ہمدردی کے منا ظر کمبل اور ...

مزید پڑھیں »

محراب

دیوتابپھرے چنگھاڑتے پھرتے ہیں کالی جبینیں،ناتریشیدا بال اپنے اپنے شبدوں کی تسبیحاں کرتے دندناتے چوڑی چھاتیاں لیے تکبر کے خمیر میں گندھے فتووں کی تلاش میں کوشاں ادھر تو جبیں موحد ہے دل جھکتا نہیں روح تڑپتی نہیں قدم مستقیم ہیں ہتھیلیاں سلی ہوئی۔ مگر وہ دیوتا اپنی بدبوگار غلیظ ...

مزید پڑھیں »

ایک نثری نظم

کیسی لگے گی یہ دُنیا کرونا کے بعد ، یہ عقدہ کون کھولے گا ؟ پھیلتی جارہی ہے وبا کی دہشت صدی کی سب سے بڑی آفت نے اچانک ہی ہمیں آلیا قدموں تلے زمین سرکتی جارہی ہے ہوائیں مغرب سے مشرق کی طرف چل پڑیں دیکھو! عظیم قومیں ،کس ...

مزید پڑھیں »

نظم

بے پر کی تیتری کی بوڑھی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انتظار کی دہلیز پر پڑی یہ بوڑھی آنکھیں برسوں سے انتظار میں ہیں انتظار! جو خود بھی بوڑھا ہو چُکا ہے اِک ایسی کل کے انتظار میں جو اب تک نہیں آئی! اور اسی کل کے انتظار نے بچپن کے ہاتھوں سے ...

مزید پڑھیں »

اک پھل موتیے دا

تانی تنی ہے وسیب اپنے کی، دل میں رونق جمی ہے ماہیوں کی،ٹپوں کی لے ہے دوہڑوں کی،ہاڑوں کی تانیں روحیں پگھلتی ہیں،کھنچتی ہیں جانیں "بازار( دے وچ) وکاندی نیں چھریاں” "(ماہی وے)عشقے دی چوٹاں نیں بریاں” "بازار( دے وچ)وکاندی اے لوئی” "ترے باجھ( ماہی او) دردی نہ کوئی” میں ...

مزید پڑھیں »

غزل

اے تحیّرِ عشق سُن میری طرح سے خواب بُن یہ جو دماغِ ہست ہے اس کو لگ نہ جائے گُھن جا تُو بھی کچھ سمیٹ لے تُجھ پہ برس رہا ہے ہہن توڑ دیا ہر آئنہ کسکی لگی ہوئی ہے دُھن شب تو اپنا جواب دے صبح تو اپنا سوال ...

مزید پڑھیں »

سطور

انگلیوں کی پوریں لمس کو پہچانتی ہیں وبا کو نہیں محبت آسمان سے بارش کی مانند نازل ہوتی ہے ہر خشک و تر پہ اور مٹی اپنی اپنی تاثیر کے مطابق گل بوٹے اگاتی ہے یا کیچڑ بنتی ہے محبت کے قرطاس پر سات سطریں ہوتی ہیں پانچ جو روح ...

مزید پڑھیں »

غزل

روگ ایسے بھی غمِ یار سے لگ جاتے ہیں در سے اُٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے بعد میں سینکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے پھر تو بازار کے بازار سے لگ ...

مزید پڑھیں »

خود کلامی

عارفہ نے مجھ اگا ہے پیڑ نیا ایک خودکلامی کا نموپذیر ہیں شاخیں بدن کو چیرتی ہیں کٹار کونپلیں ہیں چھیدتی رگ وجاں کو نہ کوئی دھن ہے نہ ہی ساز اور نہ آوازیں بدن رکھیل ہے پوروں کا ناچ جاری ہے گڑے ہیں پاوں مرے،ریت سے نکلتے نہیں کسی ...

مزید پڑھیں »