شاعری

غزل

شہر نو اطوار تیری خامشی بھی ہاؤ ہؤ خواہشوں کا رقص جاری، لمحہ لمحہ چارسو اک مسلسل جنگ ہے جو لڑ رہے ہیں خاکزاد لفظ لفظ اور گیت گیت اور، دور دور اور دوبدو جو بھی سوچا اور چاہا اسکو کرتی ہے بیاں چشم و لب کی خامشی اور چشم ...

مزید پڑھیں »

کونسا ہے یہ میرے بھیترکا تجھ سے پیمان

بھور سمے کا گیان ہے تو یا شام کی گھپ خاموشی کا بھید بھرا وجدان انتم سر ہے سات سروں کا یا پھر عشق کے آٹھویں سرُکی تورانجھے پہچان کون ہے؟ کیا ہے؟ کونسا ہے یہ میرے بھیترکا تجھ سے پیمان؟ صحراؤں سی خاک اڑاتی تنہائی میں دھوپ بھری دکھ ...

مزید پڑھیں »

وہ ہمیں رلاسکتا ہے

دس سال کے صاف ستھرے بلّو کو کوئی نہیں دیکھتا مگر وہ کبھی کبھی ہمیں رلا سکتا ہے ایک روپے میں ایک روپیہ اب کچھ خریدنے کے قابل نہیں رہا اور کاغذ کے نوٹ سے پیتل کے سکّوں میں تبدیل ہو رہا ہے سات ارب ڈالر کا نیا امریکی خلائی ...

مزید پڑھیں »

آؤ ہم مل کے خواب دیکھتے ہیں

آؤ ہم مل کے خواب دیکھتے ہیں خواب جو بادلوں پہ رقصاں ہوں خواب جو زندگی کا ساماں ہوں خواب جو مثلِ اک گلستاں ہوں خواب جو روشنی بکھیرتے ہیں خواب جو سورجوں کو گھیرتے ہیں خواب جو قسمتوں کو پھیرتے ہیں خواب جو آرزو ہیں جینے کی خواب جو ...

مزید پڑھیں »

دو آتشہ

  (تضمین ِ حافظ) از سرابی رَمیدہ ام کہ مپرس محشری برگزیدہ ام کہ مپرس من بطوری طپیدہ ام کہ مپرس داغ حِرمانی دیدہ ام کہ مپرس ”دردِ عشقی کشیدام کہ مپرس زہرِ ہجری چشیدام کہ مپرس“ دووست اِنت ماہ دیمیں قُدرتے شہکار وَش تَب و وَش خیالے وش گُپتار ...

مزید پڑھیں »

وادی میں گم گشتہ ۔۔۔

اک اداس وادی تھی چار سو فضا اس کی سرمئی نقابوں سے دل کو لبھاتی تھی دل بھی غضب کا تھا ٹوہ میں یہ رہتا تھا سرمئی نقابوں میں کیا چھپا ہے کہتا تھا دن کے اجالے میں رات چاندنی والی چار چار موسم میں تانک جھانک رہتی تھی سرمئی ...

مزید پڑھیں »

غربت

تم نہیں ہونا چاہتی ہو تم مفلس ہونے سے ہراساں ہو تمھیں یہ پسند نہیں کہ گھسے ہوئے تلووں والے جوتے پہن کر بازار میں جاو اور جب واپس آو تو کسی بوسیدہ لباس میں میری جان ہمیں کوئی شوق نہیں فلاکت وغربت کا جس طرح کہ امرا کی خواہش ...

مزید پڑھیں »

آگ اور برف کے درمیاں

  دھواں ہے یا بادل یہاں سر کے پچھلی طرف کوئی شے پھیلتی ہی چلی جا رہی ہے تناؤ۔۔۔۔ مسلسل تناؤ۔۔۔ ہٹاؤ مرے سامنے سے یہ لوگوں کا لشکر۔۔ یہاں بھیڑ کتنی ہے۔۔۔۔ ہنستا ہے کوئی۔۔۔ مرا غم تماشا نہیں میں اگر چیخ دوں تو زمیں اپنی باہیں مرے واسطے ...

مزید پڑھیں »

ایک کُتا جو مر چُکا ہے

  میرا کُتا مرچکا ہے اور اپنے باغیچے میں زنگ زدہ مشین کے پہلو میں اُسے دفن کر چُکا ہوں ایک دن میں بھی اس کے ساتھ وہیں جا ملوں گا وہ تو اپنے کھردرے بالوں ، بدتمیز رویوں اور بہتی ناک کے ساتھ چلا گیا اور مادہ پرست میں، ...

مزید پڑھیں »

انتساب

آج کے نام اور آج کے غم کے نام آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا زرد پتوں کا بن زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے درد کی انجمن جو مرا دیس ہے کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام کرم خوردہ دلوں اور زبانوں ...

مزید پڑھیں »