شاعری

توکلی آ بریخت نیست

  مزائیں مڑد گیلیلیو مناں حدا ژہ زیات دوستئے اے خاطرا نہ کہ تہ دوربین ٹاہینتہ نئیں پہ اے سببا کہ تہ ٹیڑدیثغنت ماہا اے دہ نئیں کہ او مرشد ڈغار تہ چرغادیثہ اوروش ثابت کثئے ساکت پر جوآئیں مڑد ،او فہمیندغ مناں دوستئے پہ اے خاطر کہ وختے آ ...

مزید پڑھیں »

وقت کی دھوپ

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے خلا کے اندر ہی سب کچھ ہے سناٹوں کی اپنی ہی آوازیں ہوتی ہیں اور ان آوازوں کا سننا مشکل ہوتا ہے آنے والے لمحے خوف دلاتے ہیں ماضی مستقبل تک پیچھا کرتا ہے کچھ نہ نظر آنے کا خوف بہت ہوتا ہے لیکن بینائی ...

مزید پڑھیں »

ہیلگا!

ہیلگا! مجھے یقین ہے کہ تم نے ہٹلر کے زمانے کی سیاہ رات کو چھوڑ کر، اس زمین میں اپنے محبوب کے ساتھ آنا پسند کیا یہاں تم اپنے وجود، اپنے ملاپ کی طمانیت کو، اپنی شگفتہ بیانی کے ساتھ، ہر طرح کی سردی اور گرمی میں غربت اوڑھے، معصوم ...

مزید پڑھیں »

اُڑن کھٹولہ

میں تو تنہا سوچوں میں غلطاں ہوتی ہوں کہ اچانک اک اڑن کھٹولہ آتا ہے جس کا رسہ ابو جی نے تھاما ہوتا ہے اور امی جی دعاؤں سے بھرپور لوریاں گنگنا رہی ہوتی ہے۔ ہم تینوں کہکشاں کی سیر پہ نکلتے ہیں۔ اور میری سگھڑ امی جی وہیں سے ...

مزید پڑھیں »

غزل

ستارہ وار جلے پھر بجھا دیئے گئے ہم پھر اس کے بعد نظر سے گرا دیئے گئے ہم عزیز تھے ہمیں نوواردان کوچۂ عشق سو پیچھے ہٹتے گئے راستہ دیئے گئے ہم شکست و فتح کے سب فیصلے ہوئے کہیں اور مثالِ مالِ غنیمت لُٹا دئیے گئے ہم زمینِ فرش ...

مزید پڑھیں »

بیاتئی دستاں رژاں

  توشہ لوغا درابیا کہ مں نشتغا راہ چاراں تئی، مں دِہ یاراں تئی توکہ بھِتانی پُشتا وثا دارغئے بھِتاں نیستیں زواں گونتہ ٹوکے کننت نئیں کہ ساہ مان نِش کہ تئی دستا گِرنت نئیں کہ گوشے پہ آواز دار نت ہمے نئیں کہ پاذے ہمیشاں کہ سِرنت گُرے گونتہ ...

مزید پڑھیں »

آنسووْں سے بنے

  آنسووْں سے بنے ہوےْ ہم لوگ ٹھیس لگ جائے تو ندی کی طرح پہروں بہتے ہیں اپنی آنکھوں میں !۔ کوئی چھیڑے تو کچھ نہیں کہتے صورتِ گل ہوا سے کیا شکوہ شام کی آنچ سے الجھنا کیا ہاں مگر سانس میں کوئی لرزش مدتوں ساتھ ساتھ رہتی ہے ...

مزید پڑھیں »

"ہوا باسی نہیں ہوتی” ہوا باسی نہیں ہوتی تری خواہش کی خوشبو،تیری یادوں کی فضا باسی نہیں ہوتی کبھی تپتے بگولوں میں ترا، رقص رواں دیکھوں کبھی برسات کی بوندوں میں عکس جاوداں دیکھوں یہ خاک دشت ہے آب آشنا، باسی نہیں۔ ہوتی کبھی مہتاب کی صورت، مری سانسوں کو ...

مزید پڑھیں »

خاموش رہو

  کون مسافربرسوں سے سنسان پڑی خاموش گلی سے گزرا آنکھیں ملتی رات کی اوک میں شام گلابی گاگر خالی کرتے کرتے چونک اٹھی کب ریشم سے ریشم الجھا اور بجتی ہوئی سرگم سے ٹوٹ کے سانس گری کس آہٹ نے دل میں پھیلی اک ویرانی پر پاؤں دھرا کب ...

مزید پڑھیں »

نظم

بچپن کی طرح لگتا ہے اب بھی وہ میرے دل کو چونی کی طرح پیر سے دبائے …..رستا روکے کھڑا ہے میں تصور میں بھولے سے ہاتھ جھٹک کر کہتی ہوں ہٹ جاؤ رستے سے .. لیکن وہ تو کانٹآ بن کر اب تک دل میں گڑا ہے

مزید پڑھیں »