شاعری

فقط حرف تمنا کیا ہے

شام روشن تھی سنہری تھی مگر اتری چلی آتی تھی زینہ زینہ آ کے پھر رک سی گئی شب کی منڈیروں کے قریں اک ستارہ بھی کہیں ساتھ ہی جھک آیا تھا جیسے وہ چھونے کو تھا کانوں کے بالے اس کے گیسوؤں کو بھی کہ تھے رخ کے حوالے ...

مزید پڑھیں »

ایک آنچ کی کسر

رہ گئ پینٹنگ ادھوری سی جو ضروری تھے رنگ مل نہ سکے نظم اک اور نامکمل ھے لفظ ناراض ھو کے دور ھوے کام باقی مجسمے کا تھا بت تراشی سے جی اچاٹ ھوا دیکھ یہ دھن نہ بن سکی پوری نغمگی شورشوں کی نذر ھوئ خواب تعبیر بونے والے ...

مزید پڑھیں »

"میں ہوا کی صورت زندہ رہ سکتی ہوں”

میں تمہارے لیے نیم کا کڑوا پیڑ ہوں جس کا پھل تم چاہو بھی تو نہیں چکھ سکتے بس چھاؤں میں کچھ دیر آرام کر لو کہ رنگ میرا بھی سبز ہے کچھ دنوں پہلے مجھ پر ایک جن رہتا تھا لیکن ایک سفر کے بعد میں نے اسے جن ...

مزید پڑھیں »

اداسی

باغ کے ایک کونے میں ایک بوڑھا بینچ پر بیٹھا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جو پھولوں کے لبوں سے رس چراتی ہیں۔ ہوا میں تیرتی خنکی کی خوشبو جس میں باغ میں کھلتے ہر ایک پھول، پودے اور پتے کا لمس شامل ہے۔ وہ ...

مزید پڑھیں »

غزل

دیا جلایا اپنے آپ سے باتیں کی خاموشی میں کوئی نہ آیا اپنے آپ سے باتیں کی خاموشی میں آدھی رات کو جب قدموں کی چاپ یہ میرے ساتھ چلی تو گھبرایا اپنے آپ سے باتیں کی خاموشی میں تیرا غم تھا کس سے کہتے میں نے خالی کمرے کو ...

مزید پڑھیں »

دوست تو مر گئی

حسن مجتبی دوست تو مر گئی اور ہم زندہ ہیں زندہ لاشیں ہم زندہ لاشیں جو اب بدبو کررہی ہیں شور کررہی ہیں لاشیں جو کاندھے پر لاشیں اٹھائے چلی جا رہی ہیں کسی لاش کے کاندھے پہ انقلاب کا تابوت تو کسی کے کاندھے پہ خوابوں کا ناکام محبتوں ...

مزید پڑھیں »

یہ تو پرانی ریت ہے ساتھی!

جتنے ہادی رہبر آئے انسانوں نے خوب ستائے کَس کے شکنجہ آرا کھینچا ہڈّی، پسلی، گودا بھینچا آگ میں ڈالا، دیس نکالا جس نے خدا کا نام اچھالا پتھر کھائے، سولی پائی جس نے سیدھی راہ بتائی شاعر و مجنوں ان کو بولے جن کی زباں نے موتی رولے روڑے ...

مزید پڑھیں »

غزل

بدن کے زنگ کو پوروں کا مَس ضروری تھا حنا کی پیاس تھی ہاتھوں کو، پس ضروری تھا اب آ کے سوچتا ہوں میں نحیف ہونے پر یہاں تک آنے کو تگڑا نفس ضروری تھا زمیں کو پینٹ کیا اْس نے سات رنگوں سے خدا کو کتنا بڑا کینوس ضروری ...

مزید پڑھیں »

ڈیہی

پھلانی کیاری باں گڑدیث پذا باری اَولی ہماں یاری باں لہڑاف وہغّا بی مرگانی دِہ ٹولی باں پیغامے دیئغا بی مرگے کہ توارے کاں چمّاں شہ گوارِش بی سیرآف ڈغارے کاں کوہانی نذارغ باں تئی یاد جُڑی بنداں گوں گوئشتنا گوارغ باں بورانی سواری باں ناں سمّل چَہٛوائی ناں مست ...

مزید پڑھیں »

سچ

سچ بڑا مجرم ہے زنجیروں میں جکڑا گیا ہے روزِ ازل سے پکڑا گیا ہے پکڑ جکڑ کر مارا گیا ہے جھونکا گیا ہے جلتے تیل کڑھائی میں چوٹی پر سے پھینکا گیا ہے کولھو میں مسلا گیا ہے ہاں پر پھر بھی اس کی ریِت رہی وہی ابھاگی جس ...

مزید پڑھیں »