شاعری

پاگل

  اس کارنگ پیلا پڑ گیا تھا اور چہرا اڑا اڑا سا کوئی اس کو پتھر مارتا اور کوئی اس کا مذاق اڑاتا سب اس کو ستا کر لطف اٹھا رہے تھے پاگل اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش نہیں کر رہا تھا پتھر کے ہر وار پر وہ کہتا ...

مزید پڑھیں »

*

جاہ و جلال، دام و درم اور کتنی دیر ریگِ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر اب اور کتنی دیر یہ دہشت، یہ ڈر، یہ خوف گرد و غبار عہدِ ستم اور کتنی دیر حلقہ بگوشوں، عرض گزاروں کے درمیاں یہ تمکنت، یہ زعمِ کرم اور کتنی دیر پل ...

مزید پڑھیں »

غزل

مِلیں گے مجھ سے ہَستِ دائمی مِیں جو میرے ساتھ تھے پِچھلی صَدی مِیں روانی سوچ کی فالج زدہ ہے عجب سَکتہ پڑا ہے شاعری مِیں مُصّور سُولیوں پہ چڑھ گئے ہیں مناظر قید ہیں اِک کوٹھڑی مِیں کہیں آواز مِیں لَے مُنجمِد ہے کہیں سُر مرگئے ہیں نغمگی مِیں ...

مزید پڑھیں »

چادر اور چار دیواری

  حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گی یہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایت نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوں غم و الم خلق کو دکھاؤں نہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤں نہ میں گناہ گار ...

مزید پڑھیں »

چادر اور چار دیواری

  حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گی یہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایت نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوں غم و الم خلق کو دکھاؤں نہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤں نہ میں گناہ گار ...

مزید پڑھیں »

چلوتم ہی بتا ؤ

تم آخراس قدرناراض کیوں ہو بات تو سمجھو نہ جانے کیوں بگڑجاتے ہو ہم جب بھی کسی احساس محرومی کو مجبوری کو جبروظلم کو تصویر کرتے ہیں چلو تم ہی بتا ؤ تم نے جو تک ہمارے واسطے دستورلکھے ہیں میں ان کونسی شق ِ کونسے نہیں تو یہ کروجوتوں ...

مزید پڑھیں »

اداسی

  باغ کے ایک کونے میں ایک بوڑھا بینچ پر بیٹھا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جو پھولوں کے لبوں سے رس چراتی ہیں۔ ہوا میں تیرتی خنکی کی خوشبو جس میں باغ میں کھلتے ہر ایک پھول، پودے اور پتے کا لمس شامل ہے۔ ...

مزید پڑھیں »

ڈیڑھ گھنٹہ کی ملاقات

  جیسے اِک پارہِ سحاب آج کسی نے سورج کے ساتھ آویزاں کردیا ہے علیحدہ کرنے کی بہت کوشش کی بے سْود یوں لگتا ہے سورج کے سرخ لباس میں یہ بادل کسی نے بْن دیا ہے ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات آج سامنے چوک میں سنتری کی طرح استادہ میرے ...

مزید پڑھیں »