شاعری

Hallucination

  ہمارے جسم کوہ ہسار و دشت سے دھتکارے جانے کے بعد بلا جواز دربدر بھٹکتے رہے۔ ہمارے سینے کوہِ آتش فشاں کی مانند دہکے۔ ہماری نرمل پوریں ہجرستانی کوچوں پر سفید رت سے ہمارے بوسیدہ خال و خد تراشنے لگیں۔ ہمارے نرم قدم بےمٹل چلتے رہے، عہدِ تجدید نے ...

مزید پڑھیں »

ادھورا لمس

  تمہارا وہ ادھورا لمس آج بھی کنوارہ ہے کہ جس کی تکمیل کی جستجو میں ، نہ جانے کتنے اتصال کر چکی مگر ایک کنواری پاکیزگی لیے ، یہ ازلی کنوارہ پن، قدیم مندروں میں، دیوتاوں سے بیاہے  جانے کی آس میں، کنواری مر مٹنے والی داسیوں کی مانند ...

مزید پڑھیں »

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

  آوازیں آتی ہیں اَن جانی سمتوں سے اَن جان آوازیں آتی ہیں روشنیوں کے دائرے ٹوٹتے رہتے ہیں کہنے کو تو کتنا کچھ انسان کے دستِ بیش بہا میں ہے کتنے سیّاروں کی روشنیاں اِ ن آنکھوں کی قید میں ہیں کتنی دنیاو¿ں کی آوازیں اِن کانوں کے قفل ...

مزید پڑھیں »

حُور وَش

  خَلوت کے کینوس پر مُزین سبزۂِ نوخیز پہ ہم چاہت کی اوٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ اوندھے امبر کے سائے تلے امرت ندی بہتی ہے۔ جس میں سنہری شگوفوں کے رَگ و رَیشے اے میری حُور وَش!! تمہاری مسکان کے توسط سے کھلتے ہیں۔ ہم مقامِ ہُو میں رہ کر ...

مزید پڑھیں »

اندھا کباڑی

  شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئے پا شکستہ سر بریدہ خواب جن سے شہر والے بے خبر! گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شب کہ ان کو جمع کر لوں دل کی بھٹی میں تپاؤں جس سے چھٹ جائے پرانا میل ان کے دست و پا ...

مزید پڑھیں »

دریا

میں دیوتاؤں کے متعلق زیادہ نہی جانتا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دریا ایک طاقتور مٹیالا دیوتا ہے تند مزاج’ غصیلا اپنے موسمو‌ں اور اپنے غیظ و غضب کا مالک’ تباہ کن اور ان چیزوں کی یاد دلاتا رہتا ہے جنھیں انسان بھول جانا چاہتے ہیں خاتمہ کہاں ہے——- بے ...

مزید پڑھیں »

بیوہ سڑکیں انتظار کرتی ہیں

قرنوں سے قائم کشادہ سڑکیں کل کی بنی چند گلیوں سے سہم گئی ہیں مرے شہر میں اب یہ دستور نافذ ہے کوئی موڑ اور چوک پہ کھڑا نہ ہوا کرے گا مکان سے نکلتی بالکونی پر یا محلے کے تھڑے پہ کوئی نہ بیٹھا کرے گا گفتگو فقط معلوم ...

مزید پڑھیں »

شکست

  اپنے سینے سے لگائے ہوئے امید کی لاش مدتوں زیست کو ناشاد کیا ہے میں نے تو نے تو ایک ہی صدمے سے کیا تها دوچار دل کو ہر طرح سے برباد کیا ہے میں نے جب بهی راہوں میں نظر آئے حریری ملبوس سرد آہوں سے تجهے یاد ...

مزید پڑھیں »

پردیسی لڑکےکا خط

  اب میں تجھ کو کیا بتلاؤں ہونی اَن ہونی کے جتنے دھاگے جوڑوں جتن کروں یا ڈھونگ رچاؤں اس نگری سے جی نہیں جُڑتا لوگ تو یہ بھی اچھے ہوں گے لیکن ان کے دل اور سڑکیں ایک ہی جیسے ٹھنڈےہیں ہنستا بستا شہر ہے پھر بھی چاروں سمتیں ...

مزید پڑھیں »

پردیسی لڑکےکا خط

  اب میں تجھ کو کیا بتلاؤں ہونی اَن ہونی کے جتنے دھاگے جوڑوں جتن کروں یا ڈھونگ رچاؤں اس نگری سے جی نہیں جُڑتا لوگ تو یہ بھی اچھے ہوں گے لیکن ان کے دل اور سڑکیں ایک ہی جیسے ٹھنڈےہیں ہنستا بستا شہر ہے پھر بھی چاروں سمتیں ...

مزید پڑھیں »