شاعری

امن کا نوحہ

  اُداس نظمیں اُداس غزلیں اُداس مطلعے ُُاُداس مقطعے اداس لوگوں کی داستانیں سُنا رہے ہیں….. کہ کس گلی میں ہے کس کو مارا کہاں ہوا کون کون زخمی یہ میری سادہ سی نظم جس کا ہر ایک مصرع سس ک سس ک کر بتا رہا ہے…..۔ کہ نظمِ انسان ...

مزید پڑھیں »

چادر کی گواہی

وہ ۔۔۔ اپنے ہاتھوں میں بے داغ چا درلیے چیختا بھونکتا اورگرجتا ہوا گھرکے سارے بزرگوں کوجتلا رہا تھا اسے دیکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہانی جوچادر پہ لکھی ہے پڑھیے اسے جا ئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرخ جوڑے میں لپٹی ہوئ اس غلاظت بھری پوٹ کو چو میے پوچھیے اس سے کس ...

مزید پڑھیں »

بوڑھے شاعر کا ہزیان

  1 مار دے گا مجھے عمرِ فانی کا دکھ۔۔۔ یہ مرے دل میں کروٹ بدلتا ہوا رائگانی کا دکھ۔۔۔ کون ہے تو! تو کیا کہہ رہا تھا میں؟؟؟ ہاں! آسماں راکھ ہے۔۔۔ ہے دراڑیں زمیں اور زماں راکھ ہے ایش ٹرے میں پڑے میرے سگریٹ دھواں ہیں، دھواں راکھ ...

مزید پڑھیں »

شہر والو سنو

شہر والو سنو ………!! اس بریدہ زباں شہر میں قصہ گو خوش بیاں آئے ہیں شہر والو سنو! اس سرائے میں ہم قصہ خواں آئے ہیں شہرِ معصوم کے ساکنو! کچھ فسانے ہمارے سنو دُور دیسوں میں ہوتا ہے کیا،ماجرے آج سارے سنو وہ سیہ چشم،پستہ دہن،سیم تن، نازنیں عورتیں ...

مزید پڑھیں »

اَجنبی ہمسفر

اے ذرا دیر کے اجنبی ہمسفر ہم سے نہ ڈر چند لمحوں کا یہ ساتھ ہے اِس رات کی جانے کب ہو سحر ہمیں راس آیا نہ کوئی شہر اور کچھ دیر میں موڑ مُڑ جائیں گے ذرا دیر تو ساتھ چل پھر ہم مسافر چلے جائیں گے راستے جب ...

مزید پڑھیں »

فہمیدہ ریاض

تاریخ کی خونی گلی تھی، اور فہمیدہ ریاض ٹارچر سیلوں میں تھے کڑیل جوان گمشدہ جن کی جوانی گمشدہ تاریخ کی خونی گلی تھی اور فہمہدہ ریاض عورتیں سنگسار تھیں اورُگناہگارُمحبت آدمی اورانکاری جبیں انسان کی وقت کے سارے خدائوں کے قہر کے سامنے سینہ سپر ایک فہمیدہ ریا ض۔ ...

مزید پڑھیں »

مٹی سے

احمد شہریار مٹی سے اے ری مٹی تو کیوں جلتی آگ اگلتی، روتی روکر چشمہ ہوتی اڑتی آگے بڑھتی، مڑتی رہتی ہے!۔ ایسا مت کر میری مٹی!۔ اے ری مٹی!۔ آگ تجھے کندن کردے گی لہر تجھے روشن کردے گی تجھ پر بیٹھی دھول اڑا کر تیز ہوا تجھ کو ...

مزید پڑھیں »

کھول دو

سماج اِک ہوس زدہ جسم ہے اس کی ٹانگوں کے درمییاں جھولتے پنڈولم کا گندا پانی ہر گلی اور ہر قریہ میں بکھر گیا ہے پھولوں سے کانٹے چمٹ کر نازُک پتیاں چھید ڈالتے ہیں کانچ کے ٹُوٹے کھلونے ہر طرف بکھرے پکڑے ہیں پاپ کی نجاست سے گٹر اُبل ...

مزید پڑھیں »

کبھی یوں تھا ۔۔۔!۔

کبھی یوں تھا ہمارے تھے زمانے گگن پر چاند سورج اور تارے تھے ہمارے زمیں پر لہلہاتے کھیت سارے تھے ہمارے تبّسم خیز نظارے تھے اپنے ترَنم ریز جھرنے تھے ہمارے مچلتی کھلکھلاتی نوجوانی تھی ہماری ندی میں جو روانی تھی روانی تھی ہماری دھڑکتی سانس لیتی مسکراتی گیت گاتی ...

مزید پڑھیں »