شاعری

وئیرہاؤس

  پو پھٹی، جاگا سویرا، ڈوبتے تاروں کی زنجیریں ہلیں سوئیاں بھاگیں گھڑی کی، حاضری کے کارڈ لرزے، چھ بجے۔۔۔ چھ بجے اور ہائی وز پہنے قطاریں چل پڑیں بھاری بوٹوں میں چھپائے جھلملاتے نرم خواب موٹے دستانوں کے اندر چبھتی گانٹھوں اور گھنٹوں کا حساب چل پڑے ہیں وقت ...

مزید پڑھیں »

دوستی ختم نہیں ہو سکتی

  دوستی حُبّ خدا ہوتی ہے دوستی دستِ دعا ہوتی ہے دوستی صرف وفا ہوتی ہے دوستی سب سے جُدا ہوتی ہے دوستی کر کے بُھلانا مشکل دوستی کر کے نبھانا مشکل دوستی سارے زمانے سے کہاں دوستی ہاتھ ملانے سے کہاں دوستی صرف جَتانے سے کہاں یہ تو روحوں ...

مزید پڑھیں »

ہم جدا نہیں ہوتے

  کوئی زنجیر بے آواز نہیں ہوتی لیکن یہ صورت قابلِ یقین ضرور ہے کہ اسے سننے والا موجود نہیں ہوگا آوازوں کے شہر میں خاموشی کی حیثیت کسی بے گناہ قیدی کی بے بسی کے مترادف ہے ہمیں بھی بازگشت سنائی دیتی ہے ہمارے وصال کی اس کے بعد ...

مزید پڑھیں »

2020کا المیہ ۔تیسری دنیا میں

ا س سال کرونا نے ہر معیشت کو روند کے رکھ دیا ہے نہ کوئی ٹھیلے والا اور کہیں بار آباد ہے مجبوری میں گھر سے نکلنے کی آزادی ہے جب کوئی کام کار ہی نہیں یورپ میں لوگ بالکونی میں کھڑے گٹار بجا رہے ہیں جیسے ملکوں میں کیا ...

مزید پڑھیں »

*

یہ حُسن کم نہیں ہے جہاں کے کفیل کا کاسہ بھرا ہوا ہے یہاں ہر بخیل کا زندہ رہیں سدا مرے یارانِ باوفا احسان کیوں اٹھاؤں کسی بھی ذلیل کا ہم بھی سمٹ کے رہ گئے ہجراں کی قید میں کچھ قد بھی اور بڑھ گیا شب کی فصیل کا ...

مزید پڑھیں »

تورﺅ

  واجہ منی سرئے درُھین دَراز پُرّ اتنت ھمک شَم و دَرگ سُلور، کِرم و پَشَگا تﺅامین بَند وبوگ زَنگ اتنت زگانی توکا ھونئے جاھا سُھرین آپے ترَپَّل اَت تَھاریا مان سینگا چو بَرپ بستگ اَت۔ اَنا کَھا تﺅ کئیپسَنے بَلیت وڈیلَ دثور دات نی سرا سرا تا پادان آس ...

مزید پڑھیں »

خوشبو کے دمدار تارے

سنا ہے کہ خوشبو کے دمدار تارے بہت سے ستارے مری سمت بڑھتے چلے آ رہے ہیں اندھیرے خلا میں مجھے ڈھونڈنے مجھ کو پھر سے رجھانے بڑھے آ رہے ہیں یہ خوشیوں کے طوفاں نے کر دی خبر ہے مجھے پھر بتایا تھپیڑوں نے دیکھو یہ رنگوں میں ڈھل ...

مزید پڑھیں »

جی کی بات

مرے جی میں اک اور میں ہوں جسے میں نے دیکھا نہیں ہے مگر جب لرزتی ہوئی دھڑکنیں، ڈوبتی سانس، ہارے ہوئے دن سنبھلتے ہیں چپ چاپ بکھری ہوئی زندگی اینٹ در اینٹ تعمیر ہوتی ہے طوفاں پلٹتے ہیں تاریک منظر کی آنکھوں میں تارے چمکتے ہیں لگتا ہے مجھ ...

مزید پڑھیں »

تو آیا تھا

بھور کرن نوبت باجی تھی دھوپ شگن گھنگھرو چھنکے تھے انگنائی میں اسِ کو نے سے اسُ کونے تک پون کی پا ئل چہک رہی تھی تو آیا تھا تو آیا تو بھوبل میں دبکی چنگاری سرک کے تھو ڑا با ہر آئی ہم دونوں کے ہو نٹو ں پر ...

مزید پڑھیں »