شاعری

نظم

سوچنے سے بچنے کے بہت سے طریقے ہیں تم یوں اپنے قدم گن رہے ہو جیسے!۔ لوگ پیسے گنتے ہیں تم خوف سے بچنا چاہیے ہو تو سوچنا چھوڑ دو اور! سوچنے سے بچنے کے بہت سے طریقے ہیں تم زندگی گزارنے کے اصولوں کے بارے میں مت سوچو کیونکہ!۔ ...

مزید پڑھیں »

*

حانی اِک ویران کدہ میں آ نکلا ہوں ذرّہ ذرّہ میں ویرانی رقصں کناں ہے چَپّہ چَپّہ میں تنہائی بول رہی ہے دُھول میں لپٹے مست بگولے کوسوں کوسوں دِکھتے ہیں سیوی جذبوں کا مرقد ہے ڈھاڈر مست بگولوں کا گَنداوہ درس ِ عبرت ہے کُتّوں کی بھونکاروں میں ایک ...

مزید پڑھیں »

غزل

اپنے اپنے ضمیر کی آواز کون سنتا ہے ضمیر کی آواز   کون سنتا ہے آہ مسکین کی سُنتے سب ہیں امیر کی آواز   کوئی آواز قید ہے شاید وہ سنو تو اسیر کی آواز   ہر طرف نفرتیں ہی پلتی ہیں دو دلوں میں لکیر کی آواز   ...

مزید پڑھیں »

واشنگٹن کی کالی دیوار

  اپنی فیروز بختی پہ نازاں سیہ پوش دیوارپر آبِ زرسے لکھے نام پڑھتے ہوئے میری آنکھیں پھسلتی ہوئی نیہہ پرجاگریں الغِیاث! الاَماں!۔ ایک بستی کے جسموں کا گارا سیہ ماتمی مرمروں کے تلے اس کی بنیاد کا رزق تھے زائرین جوق در جوق اس غم زدہ دل گرفتہ کو ...

مزید پڑھیں »

بھوک

بھوک کے بیرحم موسم میں پیٹ سانس لینے کا ہنر سیکھ لیتا ہے یہ جینے کے واسطے آکٹوپس کی جون میں آ جاتا ہے جس کے کثیردست و پا فکر و خیال کے پودوں کو کشتِ ذہن سے اکھاڑ پھینکتے ہیں یہ احساس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں اور بینائی ...

مزید پڑھیں »

ایک کاغذ

  وہ ایک کاغذ ہی تو تھا کہ جس پر حقوق ِملکیت بدل گئے تھے وہ ایک کاغذ ہی تو تھا جس نے وراثت کی سند عطا کی تھی وہ ایک کاغذ ہی تو تھا جس نے تعارف ہی تبدیل کر دیا تھا اور تبدیلی ِنام سے تبدیلی پہچان تک ...

مزید پڑھیں »

غزل

کون کہتا ہے فقیروں کو خزانے دیجے دُور ہٹ جائیے، بس دھوپ کو آنے دیجے وقت کی شاخ سے ٹوٹے ہوئے گل برگ ہیں ہم دُور تک دوشِ ہوا پر ہمیں جانے دیجے سنگ بستہ تو نہیں منزلِ ماضی پہ یہ دل اور غم دیجے اسے اور زمانے دیجے دائمی ...

مزید پڑھیں »

غزل

کون کہتا ہے فقیروں کو خزانے دیجے دُور ہٹ جائیے، بس دھوپ کو آنے دیجے وقت کی شاخ سے ٹوٹے ہوئے گل برگ ہیں ہم دُور تک دوشِ ہوا پر ہمیں جانے دیجے سنگ بستہ تو نہیں منزلِ ماضی پہ یہ دل اور غم دیجے اسے اور زمانے دیجے دائمی ...

مزید پڑھیں »

اک بدصورت نظم

  لال سوہا جوڑا اسکے تن پہ تھا ماتھے کو سستے پیتل سے داغا گیا تو دھواں اٹھا آنسو بہہ رہے تھے حیرانی بھری انکھوں سے کومل گلے سے نکلتے تھے خوف میں لتھڑے ہوئے سُر نہ وہ کوی مہ وش تھی نہ اک حسین اپسرا ابھی تو وہ عورت ...

مزید پڑھیں »

لفظ رخصت ہوئے

(الزائمر سے لڑتے مریضوں کے نام)   خامشی ۔۔۔۔ خامشی۔۔۔۔ اب کسی لفظ کی نوک چبھتی نہیں اور کوئی بات ریشم سی لگتی نہیں توابھی تم نے جو بھی کہا ہے وہ مجھ تک پہنچتے پہنچتے ہواؤں میں گم ہو گیا ہے یہ حرفوں کی پیچیدہ قوسیں یہ تیس اور ...

مزید پڑھیں »