شاعری

دستخط

وہ ماضی کی اِک تصویر ہے ذہن جس میں ایسے اٹکا ہے کہ گرد و پیش کا سارا نظارا دُھندلا ہے سب کُچھ رُک گیا ہے گُمان ہے، تخیُّل ہے یا اس سے سوا کُچھ اور ہے؟ پُتلیوں میں بھی کوئی جُنبِش نہیں آنکھ شاہد ہے یہ دھوکا کھا نہیں ...

مزید پڑھیں »

غزل

لفظ جب اپنے معانی سے بچھڑ جاتے ہیں کتنے کردار کہانی سے بچھڑ جاتے ہیں اک تعلق کو نبھاتے ہوئے مشکیزے سے ہائے وہ ہونٹ جو پانی سے بچھڑ جاتے ہیں گھر مہکنے بھی نہیں پاتا ابھی پوری طرح اور ہم رات کی رانی سے بچھڑ جاتے ہیں کوزہ گر ...

مزید پڑھیں »

دل جب پتھر ہو جاتے ہیں

دھیرے دھیرے سرد ہوائیں کھَن کھَن کرتی ہنسی کا سونا دُور اڑا کر لے جاتی ہیں نرم رسیلی باتوں کے انبار پگھل کر بہہ جاتے ہیں روتے دھوتے لمحے آ کر شیلف پہ رکھی چہکاروں کا سارا شہد گرا دیتے ہیں لہجوں کے بَل کھولتے کھولتے دیواروں کی پَوریں نیلی ...

مزید پڑھیں »

تاج محل

تاج، تیرے لئے اک مظہرِ اُلفت ہی سہی تُجھ کو اس وادئ رنگیں‌سے عقیدت ہی سہی میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی؟ ثبت جس راہ پہ ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟ ...

مزید پڑھیں »

میری تختی کب سوکھے گی؟

میری حالت ٹھیک نہیں ہے میرے اندر سب آئینے ٹوٹ چکے ہیں دل دہلیز پہ دھول جمی ہے میرے پاﺅں کیوں زخمی ہیں ؟ میری تختی کب سوکھے گی؟ ابھی تو مجھ کو جانے کیا کیا لکھنا ہے لیکن اماں ! یوں لگتا ہے وقت نہیں ہے یہاں پہ برف ...

مزید پڑھیں »

**

پامالیِ تقدسِ زن ، وا مصیبتا دیکھا ؟ سلوکِ اہلِ وطن ، وا مصیبتا مر کے بھی گل زمین کے دکھ آ رہے ہیں یاد تربت میں بھی اداس ہے من ، وا مصیبتا کیسے لگائیں سینے سے ، پسماندگان کو مدفن میں جل رہا ہے بدن ، وا مصیبتا ...

مزید پڑھیں »

شئیر

امبرا ٹیپل الّغی بیثہ امبرا کوہاں رلّغی بیثہ دل پشیمانیں اے گشاں مڑدم کئے گشی اے دل پَلّغی بیثہ چوں شموشانی ناز اندازاں دل ہمے یاداں شہ ڈلغی بیثہ مہر سائے آ ہِیل استا دل آڑہیں آسا مارا بلغی بیثہ انڑز گل حونیں داشتغاں چھماں مئے نغاہاں را مرشی تھلغی ...

مزید پڑھیں »

9 مارچ

اے مرے ہم نشیں اے مرے ہم نفس ایک دن کے لئے کل تھا مہیلا دِوس ہر طرف شور تھا سب ہی خوش تھے عبث باغ میں جوں مگس جنگلوں میں فرس اور بس اور بس اب سے پورے برس آپ کے روزو شب آپ کے پیش و پس آپ ...

مزید پڑھیں »

~ میں پھر اُٹھوں گی ~ تم جو چاہو تو ایسی تاریخ لکھو جو صرف جھوٹ اور فریب ہو اور مِرے وجود کو خاک آلود کردو لیکن خاک کی مانند، میں پھر اٹھوں گی! کیا میری شوخیاں تمھیں مایوس کر گئی ہیں؟ اور سیاہ بادلوں نے تم پہ اُداس اندھیرا ...

مزید پڑھیں »

****

  مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی پیمبر کی امت، زلیخا کی بیٹی ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟ یہ کوچے یہ نیلام گھر دلکشی کے یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے کہاں ہیں کہاں ...

مزید پڑھیں »