شاعری

جی کی بات

مرے جی میں اک اور میں ہوں جسے میں نے دیکھا نہیں ہے مگر جب لرزتی ہوئی دھڑکنیں، ڈوبتی سانس، ہارے ہوئے دن سنبھلتے ہیں چپ چاپ بکھری ہوئی زندگی اینٹ در اینٹ تعمیر ہوتی ہے طوفاں پلٹتے ہیں تاریک منظر کی آنکھوں میں تارے چمکتے ہیں لگتا ہے مجھ ...

مزید پڑھیں »

تو آیا تھا

بھور کرن نوبت باجی تھی دھوپ شگن گھنگھرو چھنکے تھے انگنائی میں اسِ کو نے سے اسُ کونے تک پون کی پا ئل چہک رہی تھی تو آیا تھا تو آیا تو بھوبل میں دبکی چنگاری سرک کے تھو ڑا با ہر آئی ہم دونوں کے ہو نٹو ں پر ...

مزید پڑھیں »

نظم

  تم جانتی ہو کہ دنیا کے سب سے قدیم زرتشت مذہب میں بھی ہمارے ملنے کی کڑیاں موجود ہیں علم نجوم کے ماہر آج بھی ہمارے ملن کے دن کو اس کائنات کا عظیم ترین دن گردانتے ہیں، جس دن یونیورسٹی کے کوریڈور میں تم میرا ہاتھ تھام کر ...

مزید پڑھیں »

غزل

  ہجرِمْدام، بحرِہمیشہ سے پْھوٹ کر اِس دشتِ نامراد سے لپٹا ہے ٹْوٹ کر جانے اْداسیوں کو سمیٹے کدھر گئی بادِشمال، غم کے پرِستاں کو لْوٹ کر میں لاوْجودیت میں گِری ہوں بطورِ حرف اپنے کوی کے مہرباں ہاتھوں سے چْھوٹ کر اے تا ابد غریقِ سفر روشنی کی رَو ...

مزید پڑھیں »

*

  یار و! بس اتناکرم کرنا پسِ مرگ نہ مجھ پہ ستم کرنا مجھے کوئی سندنہ عطا کرنا دیند اری کی مت کہنا جو شِ خطا بت میں دراصل یہ عورت مومن تھی مت اُٹھنا ثابت کرنے کوملک وملت سے وفاداری مت کوشش کرنااپنالیں حکام کم ازکم نعش مری یا ...

مزید پڑھیں »

خَلِش

آنکھیں تو پاگل ہیں در بدر بھٹکتی رہتی ہیں لا حاصل کی تمنا میں لمبی سرد راتوں میں نہیں ہے کوئی چنگاری پھر بھی امید کی کھڑکی تو روز و شب ہی کُھلتی ہے ڈاک کا انتظار رہتا ہے کوئی نامہ، دو لفظ ہی شاید بس اِک جُمؤد ہے دِل ...

مزید پڑھیں »

تم بالکل ہم جیسے نکلے

  ( ہنوستانی رائٹسٹ پالیسیوں کے خلاف یہ زوردار نظم اس بہادر دانشور نے ہندوستان میں لکھی تھی اور وہیں سنائی تھی ) اب تک کہاں چھپے تھے بھائی وہ مْورکھتا، وہ گھامڑ پن جس میں ہم نے صدی گنوائی آخر پہنچی دوار تمہارے ارے بدھائی، بہت بدھائی پریت دھرم ...

مزید پڑھیں »

اس شہر میں

  اس شہر میں، میں اجنبی یوں تو نہ تھی میرے خدا اس کی زمیں ،اس کے فلک ، اس کی ہوا کو کیا ہوا؟ پہچان میں آتا نہیں، پہچان بھی پاتا نہیں مجھ کو کوئی بدلا ہوا سارا آسماں بے روشنی اتنی مگر کچھ بھی نظر آتا نہیں گھر ...

مزید پڑھیں »