شاعری

میری تختی کب سوکھے گی؟

میری حالت ٹھیک نہیں ہے میرے اندر سب آئینے ٹوٹ چکے ہیں دل دہلیز پہ دھول جمی ہے میرے پاﺅں کیوں زخمی ہیں ؟ میری تختی کب سوکھے گی؟ ابھی تو مجھ کو جانے کیا کیا لکھنا ہے لیکن اماں ! یوں لگتا ہے وقت نہیں ہے یہاں پہ برف ...

مزید پڑھیں »

کئے زاں؟              

"سیٹ بیلٹ پلیز سیٹ بیلٹ پلیز” ہوسٹس گوئستغہ شیموشی سندھی لہجہ و دلدوری بھیرو داثئی اشتافی گڑہ، دگا جکثہ نیم راہی آتکئو ہٹکثہ مئیں دیما دیستئی تنسویں مئیں روحا ناکامیں دلہ آہری آ برشکندے کثو چو گوئشتئی ” مونجھ تہ کوڑوئے سینگھی ایں مونجھ تہ کوڑوئے بیلی ایں” مئیں چم ...

مزید پڑھیں »

غزل

(آج کی با شعور عورت کے نام) یوں تو دہلیز پہ لا کر بھی بٹھائی گئی میں دھول تھی راہ گزر کی ،سو اُڑائی گئی میں ایک تکیہ تھی کہ جی چاہا تو سرکایا گیا ایک چادر تھی کہ بستر پہ بچھائی گئی میں اصل تصویر مری تم بھی نہ ...

مزید پڑھیں »

دستخط

وہ ماضی کی اِک تصویر ہے ذہن جس میں ایسے اٹکا ہے کہ گرد و پیش کا سارا نظارا دُھندلا ہے سب کُچھ رُک گیا ہے گُمان ہے، تخیُّل ہے یا اس سے سوا کُچھ اور ہے؟ پُتلیوں میں بھی کوئی جُنبِش نہیں آنکھ شاہد ہے یہ دھوکا کھا نہیں ...

مزید پڑھیں »

غزل

لفظ جب اپنے معانی سے بچھڑ جاتے ہیں کتنے کردار کہانی سے بچھڑ جاتے ہیں اک تعلق کو نبھاتے ہوئے مشکیزے سے ہائے وہ ہونٹ جو پانی سے بچھڑ جاتے ہیں گھر مہکنے بھی نہیں پاتا ابھی پوری طرح اور ہم رات کی رانی سے بچھڑ جاتے ہیں کوزہ گر ...

مزید پڑھیں »

دل جب پتھر ہو جاتے ہیں

دھیرے دھیرے سرد ہوائیں کھَن کھَن کرتی ہنسی کا سونا دُور اڑا کر لے جاتی ہیں نرم رسیلی باتوں کے انبار پگھل کر بہہ جاتے ہیں روتے دھوتے لمحے آ کر شیلف پہ رکھی چہکاروں کا سارا شہد گرا دیتے ہیں لہجوں کے بَل کھولتے کھولتے دیواروں کی پَوریں نیلی ...

مزید پڑھیں »

تاج محل

تاج، تیرے لئے اک مظہرِ اُلفت ہی سہی تُجھ کو اس وادئ رنگیں‌سے عقیدت ہی سہی میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی؟ ثبت جس راہ پہ ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟ ...

مزید پڑھیں »

میری تختی کب سوکھے گی؟

میری حالت ٹھیک نہیں ہے میرے اندر سب آئینے ٹوٹ چکے ہیں دل دہلیز پہ دھول جمی ہے میرے پاﺅں کیوں زخمی ہیں ؟ میری تختی کب سوکھے گی؟ ابھی تو مجھ کو جانے کیا کیا لکھنا ہے لیکن اماں ! یوں لگتا ہے وقت نہیں ہے یہاں پہ برف ...

مزید پڑھیں »

**

پامالیِ تقدسِ زن ، وا مصیبتا دیکھا ؟ سلوکِ اہلِ وطن ، وا مصیبتا مر کے بھی گل زمین کے دکھ آ رہے ہیں یاد تربت میں بھی اداس ہے من ، وا مصیبتا کیسے لگائیں سینے سے ، پسماندگان کو مدفن میں جل رہا ہے بدن ، وا مصیبتا ...

مزید پڑھیں »