شاعری

بھوک

بھوک کے بیرحم موسم میں پیٹ سانس لینے کا ہنر سیکھ لیتا ہے یہ جینے کے واسطے آکٹوپس کی جون میں آ جاتا ہے جس کے کثیردست و پا فکر و خیال کے پودوں کو کشتِ ذہن سے اکھاڑ پھینکتے ہیں یہ احساس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں اور بینائی ...

مزید پڑھیں »

ایک کاغذ

  وہ ایک کاغذ ہی تو تھا کہ جس پر حقوق ِملکیت بدل گئے تھے وہ ایک کاغذ ہی تو تھا جس نے وراثت کی سند عطا کی تھی وہ ایک کاغذ ہی تو تھا جس نے تعارف ہی تبدیل کر دیا تھا اور تبدیلی ِنام سے تبدیلی پہچان تک ...

مزید پڑھیں »

غزل

کون کہتا ہے فقیروں کو خزانے دیجے دُور ہٹ جائیے، بس دھوپ کو آنے دیجے وقت کی شاخ سے ٹوٹے ہوئے گل برگ ہیں ہم دُور تک دوشِ ہوا پر ہمیں جانے دیجے سنگ بستہ تو نہیں منزلِ ماضی پہ یہ دل اور غم دیجے اسے اور زمانے دیجے دائمی ...

مزید پڑھیں »

غزل

کون کہتا ہے فقیروں کو خزانے دیجے دُور ہٹ جائیے، بس دھوپ کو آنے دیجے وقت کی شاخ سے ٹوٹے ہوئے گل برگ ہیں ہم دُور تک دوشِ ہوا پر ہمیں جانے دیجے سنگ بستہ تو نہیں منزلِ ماضی پہ یہ دل اور غم دیجے اسے اور زمانے دیجے دائمی ...

مزید پڑھیں »

اک بدصورت نظم

  لال سوہا جوڑا اسکے تن پہ تھا ماتھے کو سستے پیتل سے داغا گیا تو دھواں اٹھا آنسو بہہ رہے تھے حیرانی بھری انکھوں سے کومل گلے سے نکلتے تھے خوف میں لتھڑے ہوئے سُر نہ وہ کوی مہ وش تھی نہ اک حسین اپسرا ابھی تو وہ عورت ...

مزید پڑھیں »

لفظ رخصت ہوئے

(الزائمر سے لڑتے مریضوں کے نام)   خامشی ۔۔۔۔ خامشی۔۔۔۔ اب کسی لفظ کی نوک چبھتی نہیں اور کوئی بات ریشم سی لگتی نہیں توابھی تم نے جو بھی کہا ہے وہ مجھ تک پہنچتے پہنچتے ہواؤں میں گم ہو گیا ہے یہ حرفوں کی پیچیدہ قوسیں یہ تیس اور ...

مزید پڑھیں »

سرمدی آگ تھی

  سرمدی آگ تھی یا ابد کاکوئی استعارہ تھی، چکھی تھی جو کیسی لوتھی!۔ خنک سی تپک تھی تذبذب کے جتنے بھی چھینٹے دئے اوربڑھتی گئی دھڑکنوں میں دھڑکتی ہوئی سانس میں راگ اورسرْ سی بہتی ہوئی پھول سے جیسے جلتے توے پرہنسیں ننھے ننھے ستاروں کے وہ گل کھلا ...

مزید پڑھیں »

کاروکاری

  “چھوٹا ہِک معصوم بال ایاناں، دِل بدھ پیو دے نال الانا، ابا سئیں توں رنج نہ تھیویں، گال میڈی تے انج نہ تھیویں، میکوں ہِک وِسواس پیا کھاوے، مسئلہ میکوں سمجھ نہ آوے، بھیرو بھین کوں رل مِل ساریں، گِچھی گْھٹ تے کیوں چا ماریے، بیٹھی ہوئی او وان ...

مزید پڑھیں »

ایک اور نظم!

  آ بھی جاؤ کہ آج اکیلا ہوں آگئی ہو تو بیٹھ بھی جاؤ اور پھر بیٹھ بھی گئی ہو تم تو کوئی بات بھی کرو مجھ سے کھٹی اِملی سی بات ہو کوئی سندھڑی آم جیسی میٹھی بات تلخ کوئی شراب کی سی بات دودھ سی اْجلی اْجلی کوئی ...

مزید پڑھیں »

نا دریافتہ  کْل

قرن ہا قرن بیت گئے تمھاری تلاش کے ہاتھوں میں گوہرِ مقصود نہیں آیا اچھا بتاو کیا تم نے اسے وہاں تلاش کیا جہاں وہ تھی ہاں، وہ حواس کے جنگل میں تھی مگر اس جنگل سے باہر بھی تھی تم اپنے اپنے علاقوں میں اسے ڈھونڈتے رہے وہ کسی ...

مزید پڑھیں »