مصنف کی تحاریر : حنا جمشید

چوکور دائرے

جس وقت اُس نے دیوار پھلانگی، تو اُس سڑک پر تاریکی کے ساتھ ساتھ ہو کا عالم تھا،جس پر ابھی کچھ دیر قبل، وہ اپنی پوری قوت جمع کر کے سر پٹ دوڑ رہا تھا،باوجود اس کے کہ اس کی ایک ٹانگ کسی سخت چیز کی شدید ضرب سے زخمی ...

مزید پڑھیں »

اے عورت

‎اگردنیا میں ایک ہزار مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہیں تو رسول حمزہ بھی ان میں سے ایک ہوگا! ‎اگر ایک سو مرد تم سے محبت کرتے ہیں تو ان میں رسول کو بھی شامل کرلو! ‎اگر دس مرد تم سے محبت کرتے ہیں، تو ان دس میں رسول حمزہ ...

مزید پڑھیں »

چوکور دائرے

جس وقت اُس نے دیوار پھلانگی، تو اُس سڑک پر تاریکی کے ساتھ ساتھ ہو کا عالم تھا،جس پر ابھی کچھ دیر قبل، وہ اپنی پوری قوت جمع کر کے سر پٹ دوڑ رہا تھا،باوجود اس کے کہ اس کی ایک ٹانگ کسی سخت چیز کی شدید ضرب سے زخمی ...

مزید پڑھیں »

بلوچستان کی ادبی تحریک ۔۔۔ ایک صدی کا قصہ

کتاب کا نام: بلوچستان کی ادبی تحریک مصنف: ڈاکٹر شاہ محمد مری صفحا ت: 335 قیمت: 400 روپے مبصر: عابدہ رحمان جی ہاں یہ دوچار برس کی بات ہر گز نہیں بلکہ سو سال کی کہانی ہے۔ ان سو سالوں میں موتیوں کی مالا بُنتے بُنتے کئی موتی بکھرتے چلے ...

مزید پڑھیں »

نوجوان اطالیہ

رات مخملی پوشاک میں ملبوس، ملائم ملائم قدموں سے مرغزار سے شہر کی طرف آرہی ہے اور شہر لاکھوں سنہری روشنیوں کے ساتھ اس کا سواگت کرتا ہے۔ دوعورتیں اور ایک نوجوان کھیتوں سے گزر رہے ہیں گویا وہ بھی رات کا استقبال کر رہے ہوں اور ان کے پیچھے ...

مزید پڑھیں »

کورونا ایک سال کا ہوگیا

کورونا ایک سال سے انسانیت کو اندھی کھائی میں دھکیل کرچاروں طرف سے اپنے ہلاکت خیز حملے جاری رکھے ہوئے ہے ۔ یہ صرف ایک بیماری نہیں ہے بلکہ معیشت کا فالج بھی ہے ۔ ایک عمومی عالمی بے روزگاری ہے ، سماجی تعلقات میں عالمگیر انطقاع ہے ، ایک ...

مزید پڑھیں »

۔

ایک جگہ میں بوریت میں بیٹھا تھا اور پرانی عادت کے مطابق رسالے کےصفحے الٹ پلٹ رہا تھا کہ ایک جدول پر نظر پڑی جیسے ہی میں نے دل میں کہا تین حرفی لفظ ایک پکارا زور سے بولو میں نے کہا ایک تین حرفی لفظ جو سب سے برتر ...

مزید پڑھیں »

انجلاء کے لئے ایک نظم

میرا دکھ میرا آبائی مکان ہے سو میری بیٹی جہاں سے تیرے جسم کی ایک بوند کو محفوظ رکھے ہوئے میں انجانے سفر پر نکلا اور زمین بھر کے تمام دکھوں میں عمر بھر سفر کرتا رہا میری بیٹی تو نے ان لالٹینوں کے ماضی کو نہیں دیکھا جن میں ...

مزید پڑھیں »

ایک انقلابی کی کتھا

وہ پہاڑوں کے پیچھے پڑا تھا کہیں جیسے سورج شفق میں نہایا ہوا سون میانی میں ڈبکی لگاتا ہوا وہ لہو رنگ تھا اور لڑا تھا وہیں وہ پہاڑوں کے پیچھے پڑا تھا کہیں وہ اونٹوں کے ٹلیوں میں بجتا ہوا ساربانوں کے ہونٹوں پہ سجتا ہوا وہ کئی گیت ...

مزید پڑھیں »

انسانیت کے سیاہ اور سرخ دائرے

نہ ہی یہ رسم نئی ہے نہ ہی یہ اَن لکھا دستور پُرانا ہوا ہے سینوں میں صدیوں کی منزلیں مارتا یہ سفر نسل در نسل منتقل ہوا ہے جیون دان کرنے والوں کو زندگی مانگنے کی اجازت نہیں ہے گھنے سبز پیڑوں کی چھاؤں میں گھاس اُگتی نہیں ہے ...

مزید پڑھیں »